Sunday, 24 November 2019

یااللہ ، یا رسول ۔۔۔۔۔ بے نظیر بے قصور ، یہ نعرہ ہے کسں کا ؟ آرٹیکل # 45


Article # 45

یا اللہ ، یا رسول ۔۔۔ بے نظیر بے قصور

یہ دعائیہ نعرہ پہلی دفعہ کس کے لئے لگایا گیا؟



تحریر: اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)
پاکستانی سیاست نعروں سے بھری ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کہ جہاں سیاست شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ اس لئے عموما نعروں میں شخصیات ہی نمایاں ہوتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں خاص طور پر انتخابات کے موقع پر ایک حکمت عملی وضع کرنے کے بعد سلوگنز (نعرے) دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اب کسی حد تک اس طرف دھیان دیا جا رہا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔
ہمارے نعروں میں معنویت سے زیادہ عوامیت کا پہلو ہوتا ہے اور اسی لئے اکثر نعرے بہت زیادہ بامعنی نہیں ہوتے ہیں مگر عوامی جذبات کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نعروں کی بھی اپنی ایک پوری تاریخ ہے جس کا احاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں۔ میں چند ایک چنیدہ چنئدہ نعروں کے بعد نفس مضمون پر آجاوں گا جو کہ اس مضمون کی سرخی سے آشکار ہے۔
نعرے کبھی کبھی خود ہی بن جاتے ہیں، زبان زد عام ہو جاتے ہیں۔ عوامیت کسی بھی نعرے کا حسن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے عوام کے دل کو چھو جاتے ہیں، دلوں کو گرما جاتے ہیں۔ کبھی نظم کا کوئی مصرعہ نعرہ بن جاتا ہے تو کبھی روانی میں کسی کے منہ سے نکلی کوئی بات۔ حبیب جالب کے کتنے مصرعے نعروں کے قالب میں ڈھل چکے ہیں جیسے:
ایسے دستور کو صبح بے نور
میں نہیں جانتا میں نہیں مانتا
لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو
گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طبقہ کے خلاف انہوں نے لکھا آج وہی اشعار اور نعرے ان کی مائیک توڑ تقریروں کا لازمی جزو ہیں۔
جس طرح فلم میں کبھی گانے ہی کامیابی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی سیاست میں نعرے گانوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے لیڈر ایک اچھے نعرے کو ترستے ہیں۔ بڑی کوششیں ہوتی ہیں جیسے کہ میاں نواز شریف کو اپنی پوری زندگی میں عوامی مقبولیت کا صرف ایک نعرہ مل سکا:
قدم بڑھاو! نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں
جس پر میاں صاحب نے ایک بار ازراہ تفنن کہا تھا کہ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نعرے کا مخالفین کی طرف سے جوابی نعرہ بھی آیا۔ رقم لگاو! نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ خیر سیاست میں یہ چھیڑ چھاڑ کوئی نئی نہیں۔
1970 میں پیپلز پارٹی نے جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر اس نعرے میں بھپتی کسی تھی:
تھک گئی گردن کٹ گیا بازو، ہائے ترازو ہائے ترازو
جس پر جماعت اسلامی نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا تھا:
لاو ترازو تول کے دیکھو، ساڈا پلہ بھاری ہے۔
1965 کے انتخابات میں جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لا لٹین اور ایوب خان کا پھول تھا تو ان دنوں دیواروں پر یہ لکھا دیکھا گیا:
ایک شمع جلی جل جانے کو ، ایک پھول کھلا مر جانے کو
ایوب خان کے لئے یہ نعرے لگایا گیا۔
ملت کا محبوب، ایوب ایوب —– صدر ہوگا کون ؟ ایوب ایوب
1977 کے انتخابات میں نعرے ذاتیات پر اتر آئے:
گنجے کے سر پر ہم چلے گا —– گنجا سر کے بل چلے گا
خیر اس سے پہلے ایوب خان کی روانگی کے وقت بھی ایک چارلفظی نعرہ بہت مشہور ہوا تھا جس کے آخری دو لفظ ہائے ہائے تھے۔
جنرل ضیا کے لئے مرد مومن، مرد حق کا نعرہ آیا۔ جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو صاحب کو فارع کیا تو ان کی تلوار کٹ مونچھوں کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ بھی سنا گیا:
ہل آیا نہ آئی تلوار —– آگئی مونچھوں والی سرکار
جنرل ضیا کی امریکا نواز پا لیسیوں پر یہ نعرہ مقبول ہوا
امریکا کا جو یار ہے۔ ۔ غدار ہے غدار ہے۔
اس کے علاوہ جنرل ضیا الحق کو سرمہ والی سرکار اور بینڈ ماسٹر بھی کہا گیا۔ ان ہی کے زمانے میں ایک ملی نغمہ کو سیاسی کارکنوں نے تبدیل کردیا:
تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے —- یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے
پیپلز پارٹی نے ضیا دور میں اپنی سیاسی بقا کے لئے طویل جد و جہد کی اور نہایت جذباتی نعروں کی فراوانی ہوئی۔ ان میں ایک نے بہت شہرت پائی:
تیرے قاتل زندہ ہیں —- بھٹو ہم شرمندہ ہیں
جب تک بھٹو کے قاتل زندہ رہے تو یہ نعرہ سنائی نہ دیا:
کل بھی بھٹو زندہ تھا —- آج بھی بھٹو زندہ ہے
بھٹو کے قاتل نہ رہے تو پیپلز پارٹی نے آج اور کل میں بھٹو کے زندہ ہونے کا نعرہ لگا دیا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومتی کارکردگی نے پیپلز پارٹی کی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا ہو وہ اپنی جگہ لیکن مخالفین نے بالخصوص سوشل میڈیا پر جس طرح اس نعرے کو بطور طنز استعمال کیا ہے، وہ خود اس نعرے پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
جنرل ضیا الحق نے انتخابات نہ کرانے کے لئے سو سو بہانے تراشے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتا اور قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا۔ ایک زمانے میں پہلے “احتساب پھر انتخاب” کی پھلجڑی چھوڑی گئی۔ ان کا نام تو ضیا تھا مگر ان کا دور جمہوریت کا تاریک ترین دور تھا۔ اس دور میں پیپلز پارٹی نے وہ کچھ سہا کہ تپ کر کندن بن گئی مگر افسوس کہ بعد میں یہ کندن صرف اقتدار کی غلام گردشوں میں اقتدار طلبی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا اور دام بھی انہوں نے وصولے جو اس وقت شریک سفر نہ تھے اور یوں ذوالفقار علی بھٹو کے تمام نعرے زمیں بوس کر دئیے گئے۔
1988 میں مسلم لیگ نواز نے پہلی بار اعلانیہ صوبائیت کا نعرہ دیا:
جاگ پنجابی جاگ
تیری پگ نوں لگ گئی آگ
1986 میں شریف النفس اور جمہوریت پسند وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے جنرل ضیا الحق کی تمام تر چابک دستیوں کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان آنے کی اجازت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کرا دی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جونیجو کا یہ جرات مندانہ فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے رہنماوں کی قربانیوں سے کہیں زیادہ اہمیت اور دور رس نتائج کا حامل رہا۔ وجہ کچھ بھی ہو پیپلز پارٹی کی سیاست واپسی کی راہ جونیجو کے اس فیصلے سے جڑی ہے۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے لاہور میں قدم رکھا تو تاریخ بن گئی۔ شہر لاہور کیا پورا ملک اس نعرے سے گونج اٹھا۔
جب تک سورج چاند رہے گا —- بھٹو تیرا نام رہے گا
جنرل ضیا الحق ایک حادثے میں راہی ملک عدم ہوئے اور یکم دسمبر 1988 کو بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا لیکن وہ عہدے پر مقررہ مدت تک فائز نہ رہ سکیں اور صدر غلام اسحق خان کے ایک دستخط سے جاری ہونے والے پروانے نے ان کی حکومت کو برطرف کر دیا اور پھر پاکستان کی تاریخ کا پہلا دعائیہ اور التجائیہ نعرہ سامنے آیا:
یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور
میں اب اس نعرے سے آگے جانا نہیں چاھوں گا کیونکہ یہ نعرہ ہی میرے حاصل مضمون ہے۔
یہ نعرہ سب سے پہلے کہاں اور کس کے لئے لگایا گیا؟
جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت آئی تو محترمہ اپنے آبائی شہر لاڑکانہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئیں۔ اس وقت سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن دو حصوں میں تقسیم تھی جس میں ایک کی قیادت امیر بخش عمرانی کر رہے تھے۔ تقریب میں ان کے گروپ کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر امیر بخش عمرانی گروپ کے اسٹوڈنٹس اسٹیج پر چڑھ دوڑے اور انہوں نے یہ نعرہ لگایا:
یا اللہ یا رسول، عمرانی بے قصور
کسی کو کیا پتہ تھا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت نہ رہے گی تو یہ پاکستانی کی سیاسی تاریخ کا پہلا نعرہ ہوگا جس میں خدا اور رسول (ص) سے فریاد، التجا اور انصاف کی دھائی دی جائے گی۔ محترمہ اسلام آباد سے گھر لوٹیں تو یہ نعرہ اب ایک نام کے رد و بدل سے دلوں میں گھر کرتا چلا گیا
یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور
نعرے میں عجیب پکار تھی جو اس سے پہلے کسی نعرے میں نظر آئی نہ محسوس ہوئی۔ پیپلز پارٹی پر ہونے والے تمام مظالم کی ترجمانی اس نعرے میں سمٹ آئی تھی۔
پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد محترمہ عوامی رابطہ مہم ہر نکلیں اور اباڑو، رحیم یار خان سے ہوتی ہوئی ملتان پہنچیں جہاں ایک جلسہ میں مشہور شاعر محسن نقوی نے دعا کے نام سے اپنی ایک نظم پڑھی جس کا آخری شعر یہ نعرہ تھا۔
اے عظیم کبریا
سن غریب کی دعا
سازشوں میں گھر گئی
بنت ارض ایشیا
لشکر یزید میں
ایک کنیز کربلا
فیصلے کی منتظر
ایک یتیم، بے خطا
ٹال سب مصیبتیں
ہے دعا تیرے حضور
واسطہ حسین ع کا
توڑ ظلم کا غرور
یا اللہ – یا رسول
بے نظیر بے قصور
اب یہ نعرہ محض بے نظیر بھٹو کا ہی نہیں بلکہ بھٹو خاندان کی سیاست میں قربانیوں کا عکاس ہے۔

Sunday, 17 November 2019

مرتضی بھٹو کی جلاوطنی سے واپسی اور ایک پوسٹر ۔۔۔آرٹیکل # 44


Article # 44

 مرتضی بھٹو کی جلاوطنی سے واپسی
 اور ایک پوسٹر

متعلقہ تصویر
رات گئے شہر بھر میں پوسٹرز چسپاں کر دیئے گئ

تحریر:اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)
بڑے لوگوں کی زندگیاں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ کتنے عام لوگ نہ چاھتے ہوئے بھی وقتی طور پر سہی ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور بڑے لوگوں کو اس کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔بلا وجہ کا خوف اورخطرات گھیرے رہتے ہیں۔ہم خود ایک رات اس طرح گذار چکے ہیں۔
یہ1993کی بات ہے۔تاریخ انٹرنیٹ پر تلاش کر نے باوجود ڈھونڈ نہ پایا۔میں اپنی کُل وقتی جائے ملازمت (ایڈورٹائزنگ ایجنسی) پر تھا۔ اس زمانے میں موبائل فون عام نہ تھے۔ ٹیلی فون آپریٹر نے بتایا کہ آپ کے لئے کال ہے۔ لائن ٹرانسفر ہوئی۔ دوسری طرف سے جو آواز آئی میں اس وقت اس کی قطعاً توقع نہیں کر رہا تھا۔ یہ کال اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے تھی کہ جہاں میں شام میں فری لانس کرنے جایا کرتا تھا۔ “کب تک آسکتے ہو؟”۔ میں نے جواباًکہا کہ شام میں۔ تاکید سے کہا گیا کہ وقت پرآجائیں۔ دیر نہ کریں، بہت ضروری کام ہے۔میں نے سوچا کوئی روٹین کا کام ہوگا اور کلائنٹ نے بے وجہ کی جلدی مچا دی ہوگی۔
شام آفس سے فارغ ہو کر میں سیدھا اپنی فری لانس والی ایجنسی پہنچا اور جاتے ہی کہا کہ بتائیں کیا کام ہے۔ کلائنٹ سروس کے بندے نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی کام نہیں لیکن باس کو بہت ضروری کام ہے۔ ایک دو بار تمہارا پوچھ چکے ہیں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد میں باس کے کمرے میں داخل ہوا۔بولے بیٹھو، میں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد وہ کمرے میں موجود آفس کے ایک صاحب سے باتوں میں مصروف ہوگئے جیسے انہوں نے میرے آنے کو کوئی اہمیت ہی نہ دی ہو۔ عجیب کوفت کا شکار تھا۔ سوچ رہا تھا کہ جب اتنی جلدی ہے تو کام کا بتا کیوں نہیں رہے؟ خاموش رہا کیونکہ ہر ماہ باقاعدگی سے ایک معقول رقم ملتی تھی جس کی اس زمانے میں مجھے اشد ضرورت تھی۔ کمرے سے جیسے ہی آفس کے صاحب نکلے۔ باس نے ان کے دروازہ بند کرتے ہی میری طرف توجہ کی اور بولے کہ آج تمھیں بہت اہم کام کرنا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ بتائیں؟ بولے لیکن اب صبح جائو گے۔ میں نے کہا کہ صبح کیوں؟ جیسے ہی کام ختم کروں گا۔ چلا جائوں گا۔ کہنے لگے کہ
یہ کام جو اب تمھیں کرنا ہے۔ یہ بہت رازداری کا کام ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کام کی کسی کو کانوں کان خبر ہو۔ میں چونک گیا کہ ایسا کون سا کام ہے کہ جس کی کسی خبر ہی نہ ہو۔میں نے کہا ہمارا کام تو اشتہار بنانا ہے تو اس کی خبر تو سب کو ہونی ہی ہے۔ اب جو انہوں نے مجھے کام کا بتایا تو کچھ دیر کے لئے میں اندر سے ڈرا سہما بیٹھا رہا۔ باس نے بتایا کہ کل صبح ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ زمانہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے اقتدار کا ہے اور اس زمانے میں عوامی طور پر یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ محترمہ نہیں چاہتیں کہ مرتضیٰ پاکستان آئیں۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی سیاست میں زمین آسمان کا فرق تھا اور اسی وجہ سے دونوں میں اختلاف رائے پایا جاتا تھا جس کا بعد میں کھل کر اظہار بھی ہوا۔ قصہ مختصر تفصیلات سننے کے بعد میں نے سوچا کہ اگر مرتضیٰ بھٹو کراچی ائیر پورٹ پر اترتے بھی ہیں تو عین ممکن ہے کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے۔ مرتضیٰ بھٹو قریباً 16سال بعد وطن لوٹ رہے تھے۔ اس دوران ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد الذوالفقار کے قیام اور پھر جہاز کے اغوا اور سیاسی قیدیوں کو چھڑانے جیسی کارروائیوں و دیگر پر مرتضیٰ بھٹو کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج تھی گو کہ یہ مقدمات جنرل ضیاء الحق کے زمانے کے تھے۔
اس زمانے میں یہ بات بھی بہت عام تھی کہ محترمہ نصرت بھٹو مرتضیٰ بھٹو کو قومی سیاست میںداخل کرنا چاھتی ہیں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو ماضی کے واقعات یاکسی اور وجہ سے مرتضیٰ بھٹو کی سیاست میں انٹری نہیں چاہتی ہیں۔خیر میں نے پوچھا کہ مجھے کیا کام کرنا ہے۔ بولے کہ تمھیں پوسٹرکی کاپی لکھنی ہے۔ approval کے بعد اس کا ڈیزائن بنے گا۔ اس کے بعد یہ پوسٹر پرنٹ ہونے جائے گا اور پھر رات میں شہر بھر میں لگا دیا جائے گا۔ باس نے کہا کہ کیپشن catchy ہونا چاہیئے۔ اس زمانے میں ایک سیاسی حلقے کی جانب سے یہ بات موضوع بحث تھی کہ بھٹو کا وارث بھٹو ہی ہونا چاہیئے۔ یاد رہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوچکی تھی۔ اس لئے ان دنوں محترمہ کے نام کے ساتھ زرداری لکھنے پر بھی اخبارات اور عوامی حلقوں میں اس موضوع پر دھواں دار بحث و مباحثہ ہوا کرتا تھا۔سندھ میں موروثیت کے حوالے سے پگ دار کا لفظ اس دنوں اخبارات میں بہت آیا کرتا تھا۔ باس نے کہا کہ کوئی ایسا کیپشن لکھو جس میں مرتضیٰ بھٹو کی کراچی آمد، تلوار (پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان) اور پگ دار کے الفاظ آجائیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے یہ کیپشن لکھا:
چمکی حیدر کی تلوار، آیا بھٹو کاپگ دار
اور پھر کراچی آمد کے حوالے سے مختصر سی باڈی کاپی اور غالباً نیچے پنچ لائن کے طور پر “بھٹو کا وارث بھٹوــ” لکھا۔ اب یہ میرے علم میں نہیں کہ اس کی approval لی گئی تو کس سے؟ بہرحال کاپی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس پر پوسٹر کی ڈیزائننگ کا کام شروع ہوا جس میں یقیناً دیر لگنی تھی۔ بڑی مشکلوں سے یہ یقین دلانے کے بعد کہ میں اس بارے میں کسی کو بھی کچھ نہیں بتائوں گا رات بارہ بجے کے بعدمیری گلو خلاصی ہوئی۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے راستے بھر مجھے ہلکا ہلکا سا خوف رہا۔ گھر آیا اور کسی کو ایک لفظ بتائے بغیر سو گیا۔
صبح پھر وہی وقت پر آفس پہنچنے کی جلدی تھی۔ کراچی میں نئی نئی کوچ سروس شروع ہوئی تھی۔ راستے میں تو میری نظر نہیں پڑی لیکن میں جیسے ہی اپنے آفس کے اسٹاپ پر اترا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جگہ جگہ مرتضیٰ بھٹو کی آمد کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں جن پر جلی حروف میں مرتضیٰ بھٹو کی پگ والی تصویر کے ساتھ “چمکی حیدر کی تلوار، آیا بھٹو کا پگ دار” لکھا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ کسی کو اب بھی بتائوں یا خاموش ہی رہوں۔ آفس آیا۔ حسبِ عادت میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں جا کر اخبارارت دیکھے تو کراچی کے سب سے کثیر الاشاعت اخبار ایک کالمی خبر چھپی ہوئی تھی کہ رات گئے کراچی میں مرتضیٰ بھٹو کی آمد پر خیر مقدمی پوسٹر لگا دیئے گئے۔ مرتضیٰ بھٹو تو خیر کراچی آگئے مگر ہمیں خوف نے کئی دنوں تک گھیرے رکھا۔

Wednesday, 16 October 2019

بڑا بھائی ۔۔۔ کچھ دکھ اس کے بھی ہیں ۔ آرٹیکل # 43


Article # 43


بڑا بھائی ۔۔۔ کچھ دکھ اس کے بھی ہیں


دیکھیں کہیں یہ آپ ہی تو نہیں

اظہر عزمی

(ایک اشتہاری کی باتیں)
پہلے کم کم ملتا تھا۔ اب بار بار ملنے لگا ہے۔ کبھی دوستوں میں کھڑا باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ مجھے دور سے آتا دیکھتا ہے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ میں اسے نہ دیکھوں۔ یہ اس کا حق ہے دوستوں سے ملے، ہنسی مذاق کرے۔ میں جانتا ہوں وہ ڈرتا ہے کہیں اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو میں اس کے والد سے کہہ دوں۔ اصل میں اس کے والد نے مجھ سے کہہ رکھا ہے کہ میں اس پر نظر رکھوں۔اب اسے یہ کون بتائے کہ میں اس پر پولیس والی تفتیشی نظر تھوڑی رکھتا ہوں۔ کبھی گھر کا سودا سلف لارہا ہوتا ہے تو نظروں ہی نظروں میں مودبانہ سلام کرتا ہے۔
ایک دن صبح آفس جاتے ہوئے بس اسٹاپ پر مل گیا۔ اسکول یونیفارم پہنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے بڑا غصہ آیا کہ اس نے آج اسکول کی چھٹی کر لی۔ دل چاھا ایک تھپڑ رسید کردوں۔ میں نے پوچھا تو بولا “دیر سے آنکھ کھلی۔ ساری بسیں بھری ہوئی آرہی تھیں۔ گیٹ پر لٹکنے کی بھی جگہ نہ تھی۔میں غصہ میں تھا،بولا:
جب دیر سے اٹھو گے تو یہی ہوگا؟
کہنے لگا : رات چھوٹے بھائی کو بخار تھا۔ میں بھی جاگتا رہا۔یہ کہہ کر وہ گھر کی جانب چل دیا۔
میں چاھتا ہوں کہ وہ مجھے نظر نہ آئے۔ کبھی غصہ آتا ہے تو کبھی بہت جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ اس کی سنے بغیر خوب ہی سناتا ہوں۔ سوچتا ہوں ہر وقت کی ڈانٹ پھٹکار اچھی بات نہیں۔ کسی دن اس نے جواب دے دیا تو کیا عزت رہ جائے گی؟ مگر نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ وہ بدتمیزی نہیں کرے گا۔
گذری عید میں بھی دیر سے مسجد پہنچا۔ وہ مجھے مسجد کے باہر کھڑا نظر آگیا۔ اندر نمازِ عید ہو رہی تھی۔ مجھ سے نہ رہا گیا:
شرم کرو، عید کی نماز پڑھنے میں بھی جان جا رہی ہے کیا؟
کچھ دیر نظریں جھکائے خاموش کھڑا رہاپھر بولا: پاپا کو مت بتا دیجئے گا۔غصہ ہوں گے۔

ایک دن اس کی والدہ کے پاس گیا تو بولیں:
میں نے کہاکہ ہاں تم عید کی نمازنہ پڑھو اور وہ کچھ بھی نہ کہیں۔ بتانے لگا کہ وہ میرا کرتا چھوٹا تھا۔ صبح پہنا تو پتہ چلا۔ میں بھی تلا بیٹھا تھا “تمہاری کاہلی کی عادت جائے گی نہیں؟”۔ ایک دن امتحان کے دنوں میں ملا، گھبرایا لگا، بولا کہ کل انگلش کا پیپر ہے، پڑھا دیں گے۔ اب جو میں لے کر بیٹھا تو اسے تو Tenses تک نہ آتے تھے۔ Essay اور Active Passive تو بہت دور کی بات ہے۔جب میں نے اس کی کلاس لی تو بولا “اتنا تو کردیں کہ پاس ہو جائوں”۔ وہ اوسط درجے کا ذہین ہے مگر گھبرایا گھبرایا رہتا ہے۔ احساسَ کمتری کا شکار لگتا ہے۔دیکھنے میں بھی ذرا عجیب سا ہے۔ قد لمبا ہے اوراس پر دُبلا بھی ہے۔بولتا بھی تیز تیز ہے۔لوگ شارٹ ہینڈ میں لکھتے ہیں۔یہ شارٹ ہینڈ میں بولتا ہے۔
ذرا اسے سمجھائو۔ ہر وقت گھر میں چھوٹے بھائیوں سے ہنسی مذاق کرتا رہتا ہے۔ بڑا بھائی ہے، باپ کی جگہ ہے۔
میں اُن کی بات سن کر تو آگیا مگر سوچنے لگا کیا سمجھائوں اس کو۔ ابھی تو وہ خود اتنا چھوٹا ہے۔ باپ کی جگہ والی بات کہوں گا تو کہے گاـ:
کیا ہو گیا آپ کو۔۔۔ابھی سے میں پاپا کے برابر کہاں سے ہوگیا؟
اب میں اسے کیا بتائوں کہ ہمارے معاشرے میں پہلا بیٹا پیدا ہی باپ جتنا ہوتا ہے اور پھر ساری زندگی اسی میں گذار دیتا ہے۔بچپن میں ہی بزرگی کی چادر پہنا کر بچپن چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کے لئے اس نے کوئی محنت نہیں کی ہوتی ہے۔پیدا ہوتے ہی یہ اعزاز اس کی گردن میں ڈال دیا جاتا ہے جو وہ چاھے بھی تو نہیں اتار سکتا۔ باپ کی یہ وراثت مرتے دم تک اس سے کوئی نہیں چھین سکتا اور نہ ہی کوئی اس کا دعویٰ دار سامنے آتا ہے۔ہر قربانی کے جواب میں صرف ایک جملہ سنائی دیتا ہے”تو کیا ہوا۔بڑا بھائی ہے۔ باپ کی جگہ ہے، کوئی احسان تھوڑی کیا ہے؟”۔ بچپن میں بھی اس کی اپنی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔ چھوٹوں کا حق اس کی ہر چیز پر ہوتا ہے۔جب اسے دنیا سے اپنا حق لینے کی تربیت دینی چاہیئے۔ ہم اسے قربانی کے نام پر پیچھے ہٹنے کا عظیم درس دے رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس کچے ذہن سے بنیادی طور پر آگے بڑھنے کی طلب بھی تو چھین رہے ہیں۔ ہم اسے اپنی خواہشات میں ڈھال کرچھوٹوں کے لئے سیکیورٹی چاھتے ہیں لیکن دوسری جانب ہم ایک انسان کو قربان گاہ میں لے آتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آنا تو ہر ایک کی ذمہ داری ہے لیکن کسی ایک کو اس پوسٹ پر “ملازمت” دے دینا کہاں کا انصاف ہے؟
ایک دن وہ مجھے کرکٹ کھیلتے بچوں سے الگ تھلگ بیٹھا ملا، اداس تھا۔ میں خود ہی اس کے پاس چلا گیا۔ مجھے دیکھ کر وہ احترام میں اٹھ جایا کرتا تھا لیکن آج ایسا نہیں ہوا۔ میں نے بھی برا نہیں مانا اور خود ہی بات شروع کردی “امتحان ہونے والے ہیں۔ تیاری نہیں کی ہوگی؟”۔ بولا “اس میں میرا کیا قصور؟”۔ میں نے کہا “سارا قصور تمہارا ہے”۔ اس نے پہلی بار مجھے غصہ سے دیکھا “آپ کو بھی ناں، بس میں ہی نظر آتا ہوں۔ اس میں میری کیا غلطی ہے۔ مجھ سے پوچھتے تو صاف صاف منع کر دیتا”۔ مجھ سے بھی رہا نہ گیا، کہہ دیا”پڑھو گئے نہیں تو بڑے آدمی کیسے بنو گے؟”۔ آج وہ ہر بات کا جواب دینے کو تیار بیٹھا تھا “میں نے کوئی بڑا آدمی نہیں بننا۔ بڑا آدمی بن کر کیا کروں گا؟ سب کہتے ہیں تم پاپا کی جگہ ہو۔ پاپا کا کیا ہے اتنی محنت کرتے ہیں۔ ہم ہیں پھر اس کے بعد ہمارے چاچا ہیں، پھوپھی ہیں۔ سب کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاپا کے اپنے پاس کیا ہے دو پینٹوں اور شرٹوں کے علاوہ؟”۔ میں نے اسے بتانے کی کوشش کی کہ تمہارے پاپا بہت اچھے ہیں۔ سب کے کام آنے والے انسان ہیں۔ تمھیں ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ نقشِ قدم کا مطلب نہیں سمجھے گا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ بولا “چھوڑیں، نقشِ قدم کیا بننے ہیں۔ ایک ہی شوز ہیں ان کے پاس جو نیچے سے دو مرتبہ اتنا گھس چکے ہیں کہ پاپا کی جرابیں پھٹ جاتی ہیں۔ موچی نے بھی کہہ دیا کہ اپنے ابا کو بولو، نیا خرید لے۔ اب یہ لے کر مت آنا”۔ آج تو وہ مجھے حیران کئے جارہا تھا۔ میں نے اسے سمجھانا چاھا مگر وہ میری سننے کے موڈ میں ہی نہ تھا۔ کہنے لگا “آپ گھر میں سب سے بڑے ہوتے تو آپ کو پتہ چلتا۔۔۔ بڑا بھائی ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے”۔
میں خاموشی سے اٹھ کر چلا آیا۔ اب اسے کیا بتاتا کہ میں بھی گھر میں سب سے بڑا ہوں۔

Sunday, 13 October 2019

آئیں ! افواہ پھیلانا سیکھیں ۔ آرٹیکل # 42

Article # 42 


آئیں ! افواہ پھیلانا سیکھیں 

تحریر : اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)



یہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ کوئی بات پھیلانا منٹوں کی بات ہے۔ جتنی انسانی تاریخ پرانی ہے ، افواہ کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے ۔ افواہ کا مقصد ،تعین ، تانا بانا ، پھیلانے کا طریقہ کار اور ذرائع کااستعمال ۔افواہ ا نفرادی ہے یا اجتماعی ، ملکی نوعیت کی ہے یا عالمی ۔اس سب کی ایک سائنس ہے۔ 

افواہ عربی کا لفظ ہے ۔یہ عربی میں مذکر اور اردو میں مونث ہے۔ ہم اس کو خواتین سے معذرت کے ساتھ  مونث ہی لے لیتے ہیں۔ ہماری ہاں افواہ اڑائی جاتی ہے ۔ اردو میں اسے ہوائی بھی کہا جاتا ہے۔ شعر عرض ہے :

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی
یہ ہوائی  کسی  دشمن  نے  اڑائی  ہوگی 

آج کی مہذب دنیا افواہ کو پروپیگنڈا  کا نام بھی دیتی ہے۔ جسے سیاسی جماعتیں اور حکومتیں بھرپور طریقہ سے استعمال کرتی ہیں ۔ عالمی سیاست میں پروپیگنڈا جنگوں سے زیادہ کار گر ہتھیار ہے جس پر بے تحاشا پیسہ لگایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ پروپیگنڈے کے ہتھیار کو سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا گیا اور وہیں سے اس کی افادیت اور حاکمیت کا اندازہ ہوا۔

روزمرہ زبان میں اسے بے پر کی اڑانا بھی کہتے ہیں ۔ آپ لاکھ کہیں کہ میں کبھی کسی افواہ ، ہوائی یا بے پر کا حصہ نہیں بنا تو صاحب جس معاشرے میں قیام پذیر ہیں یہاں اگر یہ سب نہ تو زندگی میں مزہ ہی کیا ہے۔ ہمارے ہاں تو لوگ سچ کو چھپانے اور افواہ کو سچ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ شعور کا نہ ہونا اور وقت کی فراوانی افواہوں کی سب سے زرخیز زمین ہے۔ میں نے بڑے بڑے معقول لوگوں کو افواہ جیسے سستے شغل سے لطف اندوز ہوتے اور اسے یقین سے آگے بڑھاتے دیکھا ہے۔ افواہ سازی اور افواہ فروغی ہمارا قومی مزاج کا حصہ ہے ۔ 

افواہوں سے ہماری  تاریخ کا چہرہ بڑی طرح مسخ ہے۔ کوئی تردید و تصدیق کا پیمانہ نہیں ۔ شخصیت پرستی کے عذاب میں افواہیں حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں جس پر ہمارے کج فہم لوگ مرنے مارنے پر تیار ہوتے ہیں ۔ بادشاہوں تو خیر کرائے کے مورخوں سے نہ جانے کیا کیا کچھ لکھواتے رہے ہیں۔  ادب کافی حد تک اس سے محفوظ رہا ہے۔

ادب   کا  مظلوموں  کا  سرمایہ  ہے
اور تاریخ شہنشاہوں نے لکھوائی ہے

افواہ سازی اب ہمارے ملک میں منافع بخش  انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں زیر زبر پیش کے ساتھ ٹی وی چینلز ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ افواہ ساز بھی ہیں اور اپنے ہروگرامز کی ریٹنگ بڑھانے اور اس سے ٹی وی اشتہارات لینے کے لئے افواہ فروشی ہی کرتے  ییں۔
  
پہلے جب میں میڈیا اس حد طاقتور  نہیں تھا یا یوں کہہ لیں کہ تھا ہی نہیں تو یہ افواہیں سینہ بہ سینہ پھیلتیں جو کہ سینہ گزٹ بھی کہلاتیں ۔آئیں میں آپ  کو اپنے لڑکپن کے زمانے میں لے چلتا ہوں جب پہلی مرتبہ مجھے ایک افواہ ساز سے ملنے کا انتخاب ہوا۔  یہ کوئی اور نہیں میرا اسکول کا ہم جماعت تھا۔ جنرل ضیا الحق کا زمانہ تھا ۔ ایک دن وہ اور میں مارکیٹ گوشت لینے گئے۔ قصائی کے پاس بہت رش تھا۔ ہم دونوں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہوئے بولا:

 بھائی لالو کھیت (لیاقت آباد) میں ہنگامہ شروع ہو چکا ہے۔ پولس شیلنگ کر رہی ہے۔ 

 میں حیران کہ یہ اسے کیا ہوا ؟ میں نے حیرت کا اظہار کیا اور قویب تھا کہ کچھ بولتا ۔ اس نے میرا ہاتھ دبا دیا ۔ میں نے محسوس کیا کہ دکان پر کھڑے افراد اور قصائی بظاہر میرے دوست کی طرف نہیں دیکھ رہے لیکن سب کے کان اسی طرف لگے ہیں ۔ دوست نے ہنگامہ سے متعلق زیادہ تفصیلی گفتگو نہیں کی۔ 

اب ذرا تماشا دیکھیں ۔ ایک خاتون جو گوشت لینے میں بہت مین میخ کر رہی تھیں :

بالکل روکھا گوشت دو۔ چھیچھڑے نہیں لوں گی 

جیسا کہ عام طور مین میخیے گاہک  کرتے ہیں۔ ایک دو بار تو قصائی نے اس کی فرمائش پوری کی۔ آخر چڑ کر بولا : اماں جیادہ نخرے نہ کر ۔ جلدی لے لے جو لینا ہے۔ لالو کھیت میں بڑی جوروں کا ہنگامہ چل ریا ہے"۔ اس پر ساتھ کھڑے گاھک نے جو اس عورت کے فرمائشوں سے تنگ تھا، بول پڑا  ۔ خاتون نے جو یہ ماحول دیکھا تو خاموشی سے گوشت لے کر چلی گئیں ۔ باقی گاہک بھی زیادہ بحث میں نہیں پڑے اور ہم بہت جلد گوشت لے کر وہاں سے آگئے۔ میں نے افواہ ساز دوست سے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ ۔بولا دکان پر رش دیکھا تھا ۔ اگر یہ سب نہ کرتا تو گھنٹہ تو لگنا ہی لگنا تھا ۔ میں نے کہا : 

کیا فرق پڑتا ؟ 

بولا : اب تم دیکھنا کیسا فرق پڑتا ہے۔ یہ قصائی ہر گاہک کو الٹا سیدھا گوشت دے گا اور کہے گا " بھیا جلدی جلدی گوشت لے لو ۔ پتہ نہیں شام تک ہنگامہ پھیل نہ جائے۔ اللہ جانے کل دکان کھلے بھی کہ نہیں "۔اسی طرح ہر گاہک گھر اور محلے میں یہ افواہ ایسے  سنائے گا کہ جیسے خود ہنگامہ دیکھ کر آرہا ہے۔"۔

جب ہم کالج پہنچے تو اس وقت بھی جنرل ضیا ملک پر مسلط تھے۔ سیاست پر پابندی تھی۔ اخبارات سخت سنسر شپ کا شکار تھے۔ آدھے اخبارات خالی شائع ہوا کرتے۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد ان کی صاحبزادی صنم بھٹو کی شادی ہوئی تو اخبار میں سر شاہنواز بھٹو کی پوتی کی شادی کی مختصر سی خبر  شائع ہوئی۔

یہ بات تو خیر ضمننا آگئی۔ سیاسی جماعتیں جنرل ضیا زمانے میں بھی سینہ گزٹ خبروں اور افواہوں کے لئے عوامی مقامات استعمال کیا کرتے گو کہ اس میں بھی کافی خطرہ ہوتا ۔ ہمارے محلے میں ایک صاحب ہواکرتے تھے۔ عمر کوئی 60 سے اوپر ہوگی۔ ایک سیاسی جماعت کے سکہ بند کارکن تھے۔ ہمارے 2D سے کالج جانے اور ان کا کام پر جانے کا ایک ہی وقت تھا۔ بس سمجھ لیں جس کے ساتھ وہ بیٹھ گئے اس کی جان مصیبت میں ہوتی ۔پہلے برابر والے سے سلام دعا کرتے اور پھر اونچی آواز میں عوامی مسائل کا سہارا لے کر حکومت پر لعن طعن شروع کردیتے اور اس کے بعد جو افواہ اڑانا یا ان کی دانست میں پیغام دینا ہوتا دے دیتے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان کی کوئل جیسی آواز بہت اونچی تھی جو پوری بس میں گونجتی۔ یہ لوگ ان کو جانتے تھے ذرا ہٹ کر رہتے۔ میں تو جہاں ان کو دیکھتا بس کی دوسری طرف چلا جاتا ۔

افواہ پھیلانے اور اس کو سمجھنے کی بھی ایک سائنس ہے۔ بہتر ہے کہ آپ اس باخبر ہوجائیں اور اب آپ کی مرضی کہ آپ اس کی تشہیر میں ملوث ہوں یا  نہ ہوں ۔

افواہ کیا ہے ؟ بازای خبر جس کا کوئی سر پیر نہہں ہوتا ۔ لوگوں کو ارادی یا غیر ارادی طور پر دھوکا دینے کے لئے جھوٹ بولنا۔ افواہ کی کئی اقسام ہیں اس لئے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف اور فوائد بھی بڑھتے جاتے ہیں۔  

مقصد اور ہدف کے تعین کے بعد افواہ ایسی ہو جو کہ سنسنی پھیلا دے اور سننے والا بلا سوال و جواب اور تصدیق آگے سنانے کے لئے دوڑ پڑے۔ افواہ عوامی امنگوں کی آئینہ دار ہونی چاہیئے ۔اس میں نفع نقصان  دونوں کا پہلو ہو سکتا ہے۔ ہماری عوام دونوں افواہوں کو ایک ہی انداز سے لیتی ہے۔ افواہ بہت زیادہ بے پر کہ نہیں ہونی چاہیئے اس میں کسی حد تک یقینیت ہونا امر ضروری ہے۔ افواہ کو کبھی تفصیل سے نہ بیان نہ کریں ۔ افواہ جتنی سادہ ہوگی اتنی ہی تیزی سے جنگل کی آگ کی طرح پھیل گی۔ زیادہ پھندنے بازی کی تو افواہ اپنی موت آپ کو جائے گی۔

افواہ پھیلانے کے لئے لوگوں کا انتخاب بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بہت زیادہ  کھوجی اور پرتجسس لوگ افواہ سے متعلق سوال جواب شروع کردیتے ہیں جو کہ افواہ کے لئے زہر قاتل ہے۔ افواہ کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک تنہائی میں بتائی جائے اور تاکید کردی جائے کہ کسی کو ہرگز ہرگز نہ بتانا۔ افواہ کی برق رفتاری اور  یقینییت چیک کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس اپنے قریبی حلقہ احباب میں پھیلائیں اور دیکھیں یہ کب تک اور کتنی بدلی ہوئی شکل میں آپ تک پہنچتی ہے۔  افواہ میں جو اضافت ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ آپ نے عوامی خواہشات کا کتنا خیال نہیں رکھا۔ آئندہ  افواہ پر اس بات کا پوری طرح خیال رکھیں۔


Friday, 4 October 2019

کیا ہم ردعمل کی قوم ہیں ؟ آرٹیکل # 41

Article # 41




کیا ہم ردِ عمل کی قوم ہیں؟ 


ہنری ایک سوال چھوڑ گیا ہے


اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)


ایڈورٹائزنگ کی دنیا بھی عجیب ہے۔ آپ کو ملک و بیرون ملک سے بھانت بھانت کے لوگ ملتے ہیں۔ ان کے سوال آپ کو نئی راہ دکھاتے ہیں، متفکر کر دیتے ہیں۔ جن باتوں پر آپ کا دھیان بھی نہیں جاتا ہے وہ ان سے متعلق سوال پوچھ کرکچھ لمحوں کے لئے آپ کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ سوالوں کا جواب بن پڑتا ہے۔ کچھ کا آپ جواب تو دے دیتے ہیں۔ سوال کنندہ کو ممکن ہے مطمئن بھی کر دیتے ہوں مگر کہیں بے اطمینانی چھپی رہتی ہے۔

یہ 90 کی دھائی کا نصف تھا۔ ایک بڑے مشہور ملٹی نیشنل سگریٹ برانڈ کی کمرشل کی شوٹنگ کے لئے ڈائریکٹر ہنری کو آسٹریلیا سے اور کیمرہ مین اور اس سے متعلقہ افراد کو بنکاک سے بلایا گیا۔ ہنری مکمل طور پر ایک پروفیشنل ڈائریکٹر تھا۔ ٹی وی کمرشل کے اسکیچ کردہ فریمز اس کو پہلے پہنچا دیئے گئے تھے۔ صبح ہنری اور کیمرہ مین سے میٹنگ ہوئی۔ شام کو میوزک ڈائریکٹر کے پاس گئے تو ہمیں پہلی بار پتہ چلا کہ ٹی وی کمرشل کی پسِ پردہ موسیقی کے لئے گراف کے ذریعے بریف دی جاتی ہے جس میں ایک ایک سیکنڈ کا حساب ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہم لوگ میوزک ڈائریکٹر کو لوکل طریقے سے منہ زبانی بتا دیا کرتے تھے اور کام چل جاتا تھا۔
شوٹنگ پہلے کراچی اور پھر لاہور میں تھی۔ کراچی کے ایک مشہور کالج جو کہ قیام پاکستان سے قبل تعمیر ہوا تھا اس کے مین گیٹ کے سامنے پہلا سین تھا تاکہ پس منظر میں کالج کی پُرشکوہ عمارت نظر آسکے۔ پہلے ہی دن احساس ہو گیا کہ 45 سے 50 سال کی عمر کا حامل ہنری تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے ساتھ ایک محنتی ڈائریکٹر تھا۔ دوسری بات یہ کہ اسے کوئی بات پوچھنے میں کسی قسم کا عار نہیں تھا۔ ہنری کم گو ضرور تھا لیکن مشاہدے اور تجزیہ کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔ دراز قد ہونے کے ساتھ مضبوط جسامت رکھتا تھا۔
ٹی وی کمرشل تین حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلے حصّہ میں باپ اپنے بیٹے کے اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر بہت خوش ہے۔ شوٹنگ فریمز کے مطابق جاری تھی لیکن وہ مطمئن نہیں ہورہا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا کہ آپ کے کلچر میں باپ بیٹے سے اپنی انتہائی خوشی کا اظہار کس طرح کرتا ہے؟ آیا پیٹ تھپتھپاتا ہے، کاندھے پر ہاتھ رکھتا ہے یا سینے سے لگا لیتا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں ایسا کچھ ہی کرتا ہے۔ بولا کہ یہ سب کچھ تو ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے۔ کوئی ایسا Gesture بتائو جو تمھارے کلچر می ںبے ساختگی کے ساتھ ہوتا ہو؟۔ اب اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔
کچھ دیر بعد میرے ذہن میں وہ خیال آہی گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ محبت کے اظہار کا انتہائی طریقہ یہ ہے کہ باپ وارفتگی کے ساتھ بیٹے کا ماتھا چوم لیتا ہے۔ یہ آئیڈیا اس کو اچھا لگا۔ کہنے لگا کہ تم مجھے پرفارم ر کے بتائو۔ میں نے کیا۔ اس کو بہت پسند آیا اور بولا کہ ہم یہ بھی شوٹ کریں گے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لکیر کا فقیر نہ تھا۔ سوچتا تھا کہ بہتر سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔ ہم نے جس Company کو اس ٹی وی کرشل کے تمام تر انتظامات کے لئے Hire کیا تھا۔ ان کا بھی یہ پہلا بڑا کام تھا۔ تجربے کی کمی تھی اور کچھ مزاجاّ آنا کانی کی عادت تھی۔ شوٹنگ کے دوران شوٹنگ سے متعلق چیزیں، ڈائریکٹر کی شوٹنگ کے وقت کی ضروریات غرض کمپنی کو پوری شوٹنگ میں ایک پیر پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ کوئی بھی ایمرجنسی آسکتی ہے۔ نج سے تج سب کچھ انہیں کرنا ہوتا ہے جس کا انہیں بھاری معاوضہ دیا جاتا ہے۔
کراچی کے بعد ہم لاہور پریس کلب اور پھر کینو کے باغات میں شوٹنگ کے لئے لاہور سے قریب ایک بڑے باغ لاہور میں شوٹنگ کرتے رہے۔ انتظامات سنبھالنے والی کمپنی کی جانب سے ہمیں ایک ہی روش کا سامنا رہا۔ ہم اکثر اوقات غصے میں آجاتے اور انہیں خوب ہی برا بھلا کہتے مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس سستی اور کاہلی کا اصل وصول کنندہ ہنری تھا مگر وہ خاموش رہتا جس پر ہم اس کے صبر کی داد دیتے اور کبھی اس صبر کو پرفیشنل ازم کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ہنری اپنے کام سے کام رکھنے والا آدمی تھا۔ لاہور میں شوٹنگ کے آخری دن اس نے یہ ثابت بھی کردیااور ہم سب کے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیئے۔ سب ہوٹل آگئے لیکن ہنری نہ آیا۔ ہم سب پریشان کہ ہنری کہاں چلا گیا۔ کافی دیر بعد ہنری آیا تو اس کے ہاتھ میں لکڑی کے مختلف چھوٹے بڑے ٹکٹرے تھے۔ ہم حیران کہ یہ کیا اٹھا لایا۔ پوچھا تو بتایا کہ وہ فری لانس ڈائریکٹر ہے۔ سال میں ہر وقت تو کام ہوتا نہیں اس لئے اپنے فارغ وقت میں وہ فرنیچر ڈیزائن کر کے خود ہی بناتا اور فروخت کرتا ہے۔ اس لئے وہ ڈرائیور کو لے کر اکیلا ہی لاہور کی ٹمبر مارکیٹ گیا تھا۔ ممکن ہے کہ وہ کچھ لکڑی پاکستان سے خرید بھی لے۔
ہم واپس کراچی آگئے۔ کراچی میں ایک اسپورٹس کمپلیکس میں شوٹنگ کا آخری دن تھا۔ اس نے انتظامات سنبھالنے والی کمپنی سے کسی آدمی سے کچھ لانے کو کہا۔ وہ نہ لایا۔ شوٹنگ رکی رہی۔ اب ہنری کا صبر جواب دے گیااور اس نے انگریزی کی بہت عام سے گالی بک ہی دی۔
اس کے بعد بہت دیر تک معذرت کرتا رہا۔ اب اسے کیا پتہ کہ شوٹنگ کے دوران کس طرح بے حساب مغلظات بکی گئی ہیں۔ اخلاقیات کے دریا بہائے گئے ہیں۔ زبانوں کو کس کس طرح پوتر کیا گیا ہے۔
شوٹنگ ختم ہوئی تو سب Relax کر گئے۔ شام ہوچلی تھی۔ گرم گرم چائے تھکن اتارنے میں مصروف تھی کہ ہنری نے ایک سوال داغ دیا:

initiate آپ لوگ کسی کام کو خود سے کیوں نہیں کرتے؟

میں نے کہا : کیا مطلب؟

کہنے لگا:
پوری شوٹ میں جب تک کہا نہ گیا کسی نے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ کب کس کام کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی چیز مانگی گئی۔ پہلے تو کوئی آیا ہی نہیں اور جب کوئی ایک آیا تو اس کی دیکھا دیکھی دس لوگ دوڑ پڑے۔
میں خاموش رہا کیونکہ پوری شوٹ میں، میں خود اس کا گواہ تھا۔ ہنری نے کسی دانشور کی طرح میرے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں ایسی قوموں کو ردِ عمل کی قومیں کہا جاتا ہے۔ ایسی قومیں کبھی پہل نہیں کرتی ہیں۔ جو کچھ بھی کرتی ہیں کسی دوسرے کے عمل کے ردِ عمل میں کرتی ہیں۔ اس لئے ان کی ترقی کی رفتار سست ہوتی ہے یا پھر ہوتی ہی نہیں۔
میں نے اپنے طور پر وہ تمام دلائل دیئے جو اس بات کو ثابت کرتے کہ ہم ردِ عمل کی قوم نہیں ہیں۔ ممکن ہے ہنری مطمئن ہوگیا ہو لیکن میں نہیں۔ ماضی کے جھرونکے میں جھانکوں تو لگتا ہے کہ اس نے صحیح کہا ہے لیکن پھر پاکستانی دل کہتا ہے کہ کسی بہکاوے میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ تم ایک بے مثال، باکمال قوم کے فرد ہو۔ مطمئن ہونے کی کوشش تو کرتا ہوں لیکن جب ملک کی حالت ِزار دیکھتا ہوں تو پھر ہنری کا سوال میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر کسی کے پاس کوئی واضح جواب ہے تو بتائے؟

Monday, 30 September 2019

قصہ ایک سیاسی پوسٹر کا جس نے ہمیں "شہر بدر" کردیا۔ آرٹیکل نمبر 40



Article # 40



قصہ ایک سیاسی پوسٹر کا 

جس نے ہمیں ’’شہر بدر‘‘ کر دیا



 اظہر عزمی

ایک اشتہاری کی باتیں


ہمارے کالج کے دن تھے اور دن رات ملک میں جنرل ضیا الحق کی حکمرانی تھی۔ سیاست پر پابندی اور “میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند” والے سیاست دان اور ورکرز پابند سلاسل تھے۔ پیپلز پارٹی حکومت کی خاص “مصلوب نظر ” تھی۔ ملک میں جو اصل جیالے تھے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔ باقی خاموش تھے یا اندرون خانہ جنرل ضیا کے پیچھے تھے۔ ان میں کچھ اپنی حلف برداری کی شیروانیاں سلوانے کے لئے درزی ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ یہ درزی اقتدار کی غلام گردشوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔
ابتلا کے اس دور میں بھٹو کے اصل جیالے جانوں کی پروا کئے بغیر حکومت کے سامنے سینہ سپر تھے۔ ان میں ایک نام کراچی کے مسرور احسن کا تھا۔ ہماری ان سے واقفیت تو دور کی بات کبھی دور کی سلام دعا بھی نہ رہی البتہ ان کے ایک رفیق اور پارٹی ورکر اسد نقوی ہمارے چھوٹے بھائی وجاہت عباس (بزمی) کے قریبی دوست تھے۔ اسد کو ہم بچپن سے دیکھ رہے تھے۔ سیدھا سادا لڑکا، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے سیاست آ لپٹے گی۔
مسرور احسن جیل چلے گئے۔ اسد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مسرور بھائی کی رہائی کے لئے ایک پوسٹر لکھنا ہے۔ خیال رہے کہ ابھی ہم خود کالج میں پڑھ رہے ہیں۔ ۔ سیاست کا ہمیں بچپن سے شوق تھا مگر سیاست دانوں سے قربت یا سیاست میں عملی طور پر حصہ کبھی نہیں لیا۔ اسد نے کہا اور ہم نے پوسٹر لکھ دیا۔ ہمارا خیال تھا کہ اسد کا یہ جذباتی رویہ ہے جو کہ وقتی ہے اور نہ ہی پوسٹر نے چھپنا ہے۔ پوسٹر کے لئے پہلے رہا کرو کا روایتی نعرہ لکھا اور اس کے بعد دو شعر داغ دیئے جو اللہ جانے کس کے تھے:
جذبات کے اظہار پہ پہرے نہ بٹھاو
خاموش رہو گے تو گھٹن اور پڑھے گی
گو منزل مقصود ابھی دور ہے لیکن
رک جائے مسافر تو تھکن اور بڑھے گی
ایک دن کیا دیکھتے ہیں کہ یہ پوسٹر دیواروں پر چسپاں ہو چکا ہے۔ ہم تو ڈر گئے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ والد صاحب کے علم میں اگر ہماری یہ کارروائی آگئی تو پہلے “چھترول” یہیں ہوجائے گی۔ وہ تو خیر جو ہونی تھی سو ہونی تھی (یہ بات کبھی والد صاحب کے علم میں ہی نہیں آئی)۔ اصل جان یہ نکلی جارہی تھی کہ اگر پوسٹر کی چھان بین ہوئی تو صاحب السطور کا نام بھی آئے گا۔ ہم کوئی حبیب جالب تو نہ تھے جو کہہ اٹھتے:
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
سوچا کیا کریں؟ پہلے اپنے آپ کو خوب ہی برا بھلا کہا کہ ضرورت کیا تھی یہ سب کرنے کی۔ محلے میں تعزیتی اشتہارات لکھ کر اپنا شوق پورا کر لیا کرو۔ علاقہ میں مختلف تنظیموں کے مجلے چھپتے رہتے ہیں وہاں اپنے فن کے جوہر دکھا دیا کرو۔ اتنا ڈرتے ہو تو پھر یہ سب لکھتے کیوں ہو۔ بڑا دماغ لڑایا۔ دوستوں نے بھی مشورہ دیا کہ کارزار سیاست کی تم دھوپ بھی نہیں سہہ سکتے چے جائیکہ کہ قید و بند۔ جن سے مشورہ لیا وہ ہم سے چار ہاتھ زیادہ ڈرپوک نکلے۔
ذہن میں میں آیا کہ خیر چاھتے ہو تو خیرپور چلو۔ والدہ کو کہا کہ بہت دنوں سے ماموں سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ والدہ خوش ہوگئیں کہ پہلی دفعہ بھانجے کو ماموں کی یاد ستائی اور یوں ہمیں خیرپور میرس جانے کے لئے کرایہ و دیگر اخراجات کی مد میں چند روپے دے دیئے گئے۔ اب ہماری منزل مقصود ہمارے ماموں کا گھر خیرپور میرس تھا۔

کچھ دن وہاں رہے لیکن چھوٹے شہر میں تو دن کاٹے نہیں کٹتا۔ طبیعت بھر گئی۔ کراچی کا خیرپور میرس سے کوئی موازنہ ہی نہیں گو کہ یہاں کہ لوگ بہت مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ ماموں کا گھر شہر کے بیچوں بیچ شاھئ بازار میں تھا۔ دو قدم بھرے اور شہر کے مرکز اور سب سے با رونق مقام پنج گلہ پہنچ گئے۔ بس یہی وجہ ہے کہ چھوٹے شہروں میں کوئی فاصلہ فاصلہ ہی نہیں ہوتا اسی لئے وقت رکا رہتا ہے۔ کراچی میں ہوں اور ایک چکر ٹاور کا بس میں لگا لیں۔ پھر دیکھیں وقت کیسے پر لگا کر اڑتا ہے اور آپ کہیں آنے جانے کے قابل نہیں رہتے۔
چلیں واپس چلتے ہیں اپنے مسئلے کی طرف، کراچی سے باہر نکلے تو ڈر کم ہوا اور یہ احساس ہوا کہ جتنا ڈر رہے ہیں۔ اس ڈر کے ساتھ کراچی میں بہ حفاظت رہ سکتے ہیں۔ اب خیرپور کاٹنے کو دوڑنے لگا۔ ہم پندرہ دن رہنے کے لئے گئے تھے جب ہم نے پانچویں دن صبح ناشتے پر رات سکھر ایکسپریس سے واپس کراچی جانے کا مژدہ سنایا تو ماموں ممانی منہ دیکھتے رہ گئے۔ ماموں کم گو تھے۔ بس اتنا ہی بولے:
’’کچھ دن اور رک جاتے تو اچھا تھا‘‘
ممانی بولیں:
’’اے بھیا، ہم نے تو سنا تھا ماموں کی محبت میں تڑپے جا رہے تھے۔ یہ پانچواں سورج کیا چڑھا۔ ماموں کی ساری محبت دھری کی دھری رہ گئی۔‘‘
اب کسی جذباتی تقریر کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ رات افضال رکشہ والے کے ساتھ اسٹیشن آئے اور اگلی صبح کراچی پہنچ کر اپنی خود ساختہ “شہر بدری” کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

Friday, 20 September 2019

ہم سب ثی بیگ ہی تو ہیں ۔ آرٹیکل نمبر 39

Article # 39



ہم سب ٹی بیگ ہی تو ہیں۔
تلخ تجربات ، مشکل حالات آپ کو بنا دیتے ہیں ۔

تحریر : اظہر عزمی 
(ایک اشتہاری کی باتیں)




کچھ عرصہ سے مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی ٹی بیگ والی چائے کا رواج چل پڑا ہے جسے عرف عام میں لوگ تعویز والی چائے بھی کہتے ہیں ۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک جگہ جانے کا اتفاق ہوا توٹبیگ والی چائے میرے سامنے رکھ دی گئی ۔ میے ٹی بیگ سے رنگ ،خوشبو اور ذائقہ کشید کرنے کے لئے اسے بار بار  گرم پانی میں ذبکیاں دینے لگا ۔ اس کا رنگ کھلتا چلا گیا اور خوشبو نے بھی اپنا رنگ جما دیا ۔ پہلے ہی گھونٹ میں ذائقہ بھی بہتر لگا ۔  ایک دم خیال آیا کہ ہم سب بھی تو ٹی بیگ ہی ہیں ۔ انگریزی میں Hot Water سے مراد مشکل حالات ہوتے ہیں ۔ اگر آپ  اردو میں اسی معنی کے ساتھ بات سمجھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب تک آپ مشکل حالات کا سامنا نہیں کریں گے آپ خود کو پرکھ نہیں پائیں گے۔ اپنے آپ کو دریافت نہیں کر پائیں گے ۔ 

بات تو دل کو لگی مگر پھر ذہن میں آیا کہ میرے اپنے پاس اس کے لئے کوئی حوالہ بھی ہے ۔ ذہن کو ٹٹولا۔ تو پھر وہی 1988 نکل کر سامنے آگیا ۔ پھر میں سوچنے لگا کہ اس سال نے میرے سوچ کے زاوئیے بدل دیئے ۔ زندگی کو بند گلی سے نکال کر عملیت پسندی کی شاہراہ کا مسافر بنا دیا۔ جذباتیت کی جگہ عملیت نے لے لی۔ عزت کے نام پر قائم نام نہاد خیالات  اپنی موت آپ مرنے لگے ۔ پھر اور بھی بہت کچھ سمجھ میں آنے لگا ۔ منافقت اور مصلحت ، سیاست اور حکمت ، قناعت اور کاہلی ، انا اور عزت نفس کے درمیان کا بال برابر کا فرق  شعور کے Magnifying Glass لگا کر بہت بڑا لگنے لگا۔

 آئیے ! ٹی بیگ کے حوالے کے لئے چلتے ہیں ایک ہفتے چلنے والی اپنی پہلی ملازمت کے بعد اپنی دوسری جائے ملازمت پر ۔ابھی تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا سب سے بڑا کلائنٹ چلا گیا ۔ اب پتہ نہیں یہ ہمارے نیک قدموں کا کیا دھرا تھا یا ایجنسی کا برا وقت ہی شروع ہوچکا تھا۔ایک بڑے کلائنٹ پر چلنے والی ایجنسیز ایک دم ہی نیچے آتی ہیں ۔ کاسٹ کٹنگ کی باتیں شروع ہوتی ہیں ۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مشورہ وہ ملازمین دیتے ہیں کہ جو بڑی بڑی تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں ۔ چھری چلتی ہے تو کم تنخواہ والے نئے ملازمین یا نچلے درجے کے اسٹاف پر  جو کئی سالوں سے کم آمدن پر گھر کا راشن پورا کر رہے ہوتے ہیں ۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ زندگی میں پہلی مرتبہ ہم یہاں پہلے نمبر پر آگئے۔ تذلیل کا سنہرا موقع ہاتھ دکھانے کو تیار تھا ۔ مسئلہ یہ رہا کہ جو صاحب لائے تھے ان کی وجہ سے براہ راست تو کچھ نہ کہا گیا لیکن اوچھے ہتھکنڈے کا استعمال کیا گیا  یعنی کہ ہمیں گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ٹین والی چھت کے استقبالیہ (ریسیپشن) پر  ریسیشنسٹ کم ٹیلی فون آپریٹر کی جگہ پر بیٹھنے کا کہہ دیا گیا گو کہ اس کام کے لئے پہلے سے خاتون  موجود تھیں  ۔ اب اللہ جانے اس خاتون کو حالات کا اندازہ ہوگیا تھا ۔اس نے تنخواہ لی اور پھر آفس کا منہ نہ دیکھا اور ہمیں اس عہدہ جلیلہ پر ہونق افروز کر دیا گیا ۔ مانا کہ ہم شعبہ تخلیق میں نووارد تھے مگر اس تکلیف کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ تخلیق کاری میں ہمارے لیے یہ تخریب کاری چھپی ہو گی کبھی نہ سوچا تھا ۔ سوچتے بھی کیسے ؟ ہمیں تو تخلیق میں سوچ کے نئے دروازے وا کرنے کے لئے رکھا گیا تھا ۔

اب تک تو لکھتے ہوئے مجھے بھی لطف آرہا ہے ۔ قلم اپنا ہی مذاق اڑاتے ہوئے بہت چہچہا رہا ہے لیکن اس کے بعد اذیت ، شرمندگی ، خجالت اور نہ جانے کون کون سے لفظوں نے دماغ کو ماوف کرنا شروع کردیا ۔ 8 گھنٹے کی ملازمت کیا تھی کوئے ملامت تھی ۔ اب افتخار عارف کا مصرعہ یاد آرہا ہے۔

رزق واجب ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

ہم محفل گریز ، تنہائی پسند اور اکھڑ پیدائشی ہیں اس لئے اس کام کے لئے  انتہائی ناموزوں تھے۔ آفس کے لوگ آتے جاتے عجیب نظروں سے دیکھتے تو خود سے بڑی شرمندگی ہوتی ۔ وزیٹرز کا آنا زہر لگتا ۔ بھائی جب ایجنسی میں کام نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے تو آتے کیوں ہو ؟ مگر ہماری سنتا کون؟

میں دو تین دن میں ہی  اس صورت حال سے بہت کبیدہ خاطر ہو گیا ۔ ہمت جواب دینے لگی۔  ایک دن مصمم ارادہ کیا کہ بس آج آخری دن ہے ۔کل سے پھر گھر گھسنے ہوجائیں گے۔ میرے پاس ملازمت چھوڑنے کی بہت واضح وجہ موجود تھی ۔ گھر والوں کو بتاتا اور اپنی اور اپنے خاندان کی اعلی نسبی کا رونا روتا تو والدین کہتے کہ کل سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔یہ تو سیدھی سیدھی بے عزتی ہے ۔ سب کچھ میری موافقت میں تھا لیکن پھر ذہن نے پلٹ کھایا۔ یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ جب میں نے حالات اور مستقبل کا دور رس جائزہ لیا اور یہ طے کیا کہ یہاں سے بھاگ جانا اس وقت فرار پسندی سے زیادہ کچھ نہیں ۔اگر میں آج بھاگ گیا تو زندگی بھر نامساعد حالات دیکھنے ہی راہ فرار اختیار کروں گا ۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے زندگی بھر کے لئے تو ریسپشن کی سیٹ پر نہیں بٹھایا گیا ۔ یہ صورت حال وقتی ہے مگر یہی کل وقتی تجربہ بھی دے رہی ہے جو زندگی میں میرے بہت کام آئے گا ۔ اب میں اسی سیٹ پر ایک بالکل بدلا ہوا انسان تھا۔

میں نے طے کر لیا تھا کہ اس سیٹ پر نئی ملازمت تلاش کرنا آسان رہے گا ۔ اس زمانے میں (1988) میں ٹیلی فون ہی سب کچھ تھا ۔ کون تھا مجھے روکنے والا  اب میں  فارغ وقت میں ٹیلی فون ڈائریکٹری  میں سے مختلف ایڈورٹائزنگ ایجنسیز میں بے دھڑک فون ملا دیا کرتا اور وہاں  ملازمت سے متعلق پوچھتا ۔موقع ملتا تو وہاں کے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں بھی کسی سے بات کر لیا کرتا ۔ ملازمت ملے نہ ملے مگر ان کے ذہن میں کہیں نہ کہیں میرا نام پڑا رہ جاتا ۔فریڈرک صاحب سے بھی رابطہ اسی طرح ہوا تھا۔ انڈسٹری میں کافی افراد ایسے ہیں جن سے بعد میں میری بہت اچھی رفاقت رہی اور آج بھی ہے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ میری ان سے پہلے بات ٹیلی فون پر ہوئی جب میں ملازمت کی تلاش میں تھا ۔ 

خیر ایک دن ندیم فاروق پراچہ کو  فون ملا دیا ۔ اس کہا کہ تم نے بڑے موقع سے فون کیا ۔ ہمارے ہاں جگہ خالی ہے ۔ کل سیکنڈ ہاف میں آباد ۔میں تمہارا انٹرویو کرا دیتا ہوں ۔ اندھا کیا چائے دو آنکھیں ۔ہم دوسرے دن وہاں پہنچے ، انٹرویو ہوا اور اسی وقت چھ سو روپے اوپر ملازمت کی پیشکش کر دی گئی مگر شرط یہ رکھی گئی کہ فورا آنا ہے ۔

انکار کی گنجائش کہاں سے ہوتی ۔پہلی والی ایجنسی میں تو ہمارے بیٹھنے کی جگہ نہیں بن رہی تھی ۔ انٹرویو 14 تاریخ کو ہوا اور 15 سے ہم نے نئی ایجنسی جوان کر لی ۔ پرانی ایجنسی سے 14 دن کی تنخواہ لینے بھی نہیں گئے ۔ نہ انہوں نے پلٹ کر پوچھا اور نہ ہی ہم نے کبھی کوئی رابطہ کیا ۔ 

اگر میں حالات کے زیر اثر آکر فرار اختیار کرتا تو ممکن ہے یہ سب نہ لکھ رہا ہوتا ۔ واقعی ہم سب ٹی بیگ ہیں جنہیں ایک نہ ایک دن زندگی کے گرم پانی میں ٹی بیگ کی طرح اتر کر ڈبکیاں کھانی ہوتی ہیں ۔ میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ جو شخص زندگی میں برا وقت نہیں دیکھتا وہ اچھا وقت بھی نہیں دیکھتے ۔زندگی بس روٹین میں ہی چلتی رہتی ہے۔

عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91

Article # 91 رنج و مزاح  عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں  تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...