Showing posts with label Advertising. Show all posts
Showing posts with label Advertising. Show all posts

Monday, 29 November 2021

ڈاکیا ڈاک لایا ۔۔۔ گزرے زمانے کے پوسٹ میں پر ایک دلچسپ تحرہر ۔ An article on Postman. Article # 90


Article # 90


ڈاکیا ڈاک لایا
ہمارے محلے کے ڈاکیا ۔۔۔ انصار بھائی

تحریر : اظہر عزمی


ہمارے بچپن کے کراچی میں بھی کیا کیا زمانے گزرے ہیں ۔ ایک زمانہ وہ بھی گزرا ہے جب لڑکی کے رشتے کے وقت لڑکے والے پوچھ لیا کرتے کہ لڑکی خط لکھ اور پڑھ لیتی ہے ۔ جواب ہاں میں ہوتا تو سمجھیں لڑکی پڑھی لکھی ہے ۔ اب جب خط کی بات ہو گئی تو ڈاکیا کا ذکر بھی آئے گا ۔

ڈاکیہ کو قاصد اور نامہ بر بھی کہا جاتا تھا اور اردو شاعری میں شاعروں نے کیا کیا مضمون نہ باندھے ۔
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
مرزا غالب

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا
یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں
امیر مینائی

اردو ادب میں خطوط ایک صنف شمار ہوتی ہے ۔ خطوط غالب سے کون واقف نہیں ۔ اسی طرح صحرا نورد کے
خطوط ( میرزا ادیب ) ، مکاتیب اکبر ( اکبر الہ آبادی ) ، منٹو کے نادر خطوط وغیرہ وغیرہ۔
کہتے ہیں زمانہ قدیم میں اونٹوں اور گھوڑوں کے ذریعے ڈاک ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائی جاتی تھی۔ برصغیر پہلا ڈاک خانہ 1837 میں قائم ہوا اور یوں انگریزی کا پوسٹ میں ہمارے لیے ڈاکیا کہلایا ۔ زیادہ پیار آتا تو ڈاک بابو بھی کہہ دیا جاتا ۔

سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرام میں مونا سسٹرز کا گایا یہ گانا آج بھی بہت سے ذہنوں میں محفوظ ہوگا :
ڈاک بابو ، ڈاک بابو
میرا خط لے جاو
نانی اماں کو دے آو
پرسوں میری گڑیا کی سالگرہ ہے

ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمارے لیے سب سے بڑا ڈاکا ڈاک اور ڈاکیے پر ڈالا ۔ یہ کردار معدوم ہوتا گیا اور اب تو ڈاکیے کو دیکھے دن گزر جاتے ہیں ورنہ اولڈ کراچی میں ڈاکیے کا روزانہ آنا لازم تھا ۔ ڈاکیا خط کے علاوہ ٹیلی گرام اور منی آرڈر بھی لاتا ۔ ٹیلی گرام کا بے وقت چلا آنا چہرے اتار دیا کرتا کہ اللہ جانے کیا خبر آئی ہے ۔ منی آرڈر آتا تو لوگوں کے چہرے کھل اٹھتے ۔ عید آتی تو عید کارڈ بھی اسی ذریعے سے ملتے ۔ غرض ڈاکیا زندگی میں لازم و ملزوم تھا ۔ گھر کے بڑے گھر آتے تو یہ ضرور پوچھا کرتے : کوئی خط تو نہیں آیا ۔

ہمارے محلے میں انصار بھائی ڈاکیا دوپہر میں ایک مخصوص وقت پر ڈاک لایا کرتے ۔ ہم اسکول سے آنے کے بعد اکثر گلی میں کھڑے ہوتے کہ انصار بھائی سائیکل کی ٹڑنگ تڑنگ کے ساتھ خاکی وردی میں ملبوس گلی میں داخل ہوتے ۔ ادھیڑ عمر کے میانہ قامت ، دبلے پتلے انصار بھائی کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی سنجیدگی ۔ بردباری اور خودداری لکھی تھی جسے میں لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے ۔

انصار بھائی ایک مخصوص ٹھیلے میں ڈاک لاتے لیکن گلی کی ڈاک ان کے ہاتھ میں ہوتی ۔ شاید وہ ہر گلی میں آنے سے پہلے ڈاک نکال لیا کرتے تھے ۔ گرمیوں میں سائیکل پر آتے تو وردی اور چہرے پر پسینہ نمایاں ہوتا ۔ کبھی کسی سے ایک گلاس پانی کا نہ مانگا ۔ جس گھر جاتے ہلکے سے گیٹ کھٹکھٹاتے اور ڈاکیا کی آواز لگاتے ۔ عام طور پر جن کو اپنے خط کا انتظار ہوتا وہ پہلے سے گلی میں موجود ہوتے ۔ گلی کی وہ عورتیں جنہیں خط کا انتظار ہوتا ۔ دو تین بار گیٹ جھانکتیں اور پوچھ لیتیں : انصار بھائی تو نہیں آئے ۔

جس کسی کو اپنے انٹرویو لیٹر یا ملازمت کے پروانے کا انتظار ہوتا ۔ اس کی حالت دیدنی ہوتی ۔ پہلے سے گلی میں موجود ہوتا ۔ انصار بھائی اگر اس کے پوچھنے سے پہلے نہیں کا اشارہ کر دیتے تو اس کا منہ اتر جاتا اور اگر ہاں کہہ دیتے تو چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا ۔ ایسے موقع پر ڈاکیا حضرات " خط کا مضموں بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر " کے مصداق منہ میٹھا کرنے کے لئے رقم کا تقاضا کیا کرتے تھے مگر انصار بھائی نے کبھی ایسا نہ کیا ۔ اگر کچھ دے دیا تو خاموشی سے رکھ لیا مگر خود سے سے کوئی تقاضا نہ کیا ۔ برسوں سے انصار بھائی کا آنا جانا اتھا اس لئے گلی والے ایسے خطوط اور عید تہوار پر ان کا بڑا خیال کیا کرتے ۔
ڈاک سے عید کارڈ اور شادی کارڈ بھی آیا کرتے ۔ جب کسی کا بے وقت ٹیلی گرام لاتے تو انصار بھائی کے چہرے کی سنجیدگی اور بڑھ جاتی ۔ بیرنگ خطوط ( جس میں رقم کی ادائیگی جط وصول کرنے والے کو کرنا ہوتی ) کے معاملے میں انصار بھائی کا اصول بڑا پکا تھا ۔ رقم وصول کیے بنا خط نہ دیتے ۔

انصار بھائی سے متعلق ایک واقعہ پوری گلی میں مشہور تھا ۔ جب کبھی ہم اس کا تذکرہ کرتے تو مسکرا دیا کرتے ۔ بس ہم نے ان کے چہرے پر یہی ایک مسکراہٹ دیکھی تھی ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ انصار بھائی نئے نئے ہماری علاقے میں پوسٹ ہوئے ۔ ہماری پڑوسن جنہیں ہم سب خالہ کہا کرتے تھے ( یہ وہ زمانہ تھا جب محلے میں بڑوں کو خالہ خالو کہنے کا رواج تھا ۔ انکل آنٹی سے کوئی واقف نہ تھا ) کی آواز ذرا بھاری تھی ۔ انصار بھائی نے گیٹ کھٹکھٹایا اور ڈاکیہ کہا ۔ خالہ شاید دوسری طرف تھیں ۔ انصار بھائی نے دوبارہ گیٹ کھٹکھٹایا ۔ خالہ نے اپنی بھاری بھرکم آواز میں پوچھا : کون ؟ ۔ انصار بھائی نے آواز سے اندازہ لگاتے ہوئے کہا : خالو باہر تو آئیں ۔ خط آیا ہے ۔
انصار بھائی جو سب کو خط لا کر دیا کرتے تھے ۔ ایک دن بہت خاموشی سے ہماری زندگی سے نکل گئے ۔ ریٹائرڈ جو
ہو گئے تھے ۔ ان کی جگہ پھر ایک نوجوان ڈاکیا نے لے لی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی جگہ کوئی نہ لے پایا ۔  

(تصویر بطور ریفرنس لگائی گئی ہے)

Monday, 6 September 2021

Karachi ki chowrangian aur nukar. Article 86

 

Article 86


کراچی کی چورنگیاں ، چوک اور نکڑ 
کہیں کھو گئے ، ہم بڑے یو گئے 

تحریر : اظہر عزمی 



کوئی مانے نہ مانے مگر میرا بچپن یہ کہتا یے کہ کراچی چورنگیوں کا شہر تھا ۔ کتنے بس اسٹاپ ان سے منسوب تھے ۔ ہر دو تین کلو میٹر کے فاصلے ہر سرسبز ، ماحول دوست چورنگیاں کراچی والوں کے لئے شام کو پارک ہوا کرتی تھیں ۔ والد صاحب یر دوسرے تیسرے روز ہمیں سر شام ناظم آباد پہلی چورنگی لے جایا کرتے جہاں ہم گھنٹوں کھیلتے ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک کے بے لگام گھوڑے نے ان چورنگیوں کو روندھ ڈالا ۔ پہلے چورنگیاں چھوٹی ہوئیں اور پھر چورنگی کراچی کی زندگی سے نکل گئیں ۔ اب جو چورنگیاں بچی ہیں وہاں کراچی والوں کے لئے ماضی کی یادیں رہ گئی ہیں ۔

چورنگی کے علاوہ بازاروں اور محلوں میں جہاں دو سڑکیں ایک دوسرے کو کراس کریں یا چار راستے آکر ملیں اسے چوک کہا جاتا ہے ۔ چوک ہر چھوٹا سا چبوترا بنا یو تو محلے کے بے فکرے یہاں بیٹھ جاتے ہیں ۔ گلی کے کونے کو نکڑ کہا جاتا ہے ۔  کچھ نکڑوں ہر دکان بھی ہوتی جہاں شام کو محلے کے بزرگ  بھی آکر کھڑے ہوجایا کرتے  ۔ دکان والا اپنی دو ایک کرسیاں باہر ڈال دیا کرتا جس میں ایک کرسی کے چوتھے پائے کو کیلیں  ٹھونک کر قابل بیٹھ بنایا جاتا جو بھی بیٹھتا اپنا وزن محفوظ حصے پر ڈالے رکھتا ۔ دوسری کرسی کی حالت بھی نا گفتہ با ہوتی   ایک نہ ایک کیل بیٹھنے والے کو احساس دلاتی رہتی کہ ذرا ادھر ادھر ہوئے تو ایسے چبھوں گی کہ کسی کو بتا بھی نہ پاو گے ۔ اب حالت و واقعات پر گفتگو بگھاری جاتی ۔
 پہلے کونے والے گھر پر ذرا سنجیدہ طبع اور لئے دیئے رہنے والے نکڑ ہر کرسیاں بچھا کر بھی بیٹھا کرتے تھے ۔ نکڑ تو آج بھی ہیں لیکن کچھ حالات اور کچھ اسٹیٹس کے باعث یہ نکڑ چند ایک علاقوں میں رہ گئے ہیں ۔ ان تمام نکڑوں کے کردار بھی بہت دلچسپ یوتے تھے 
ّّّّ__________________________________________________________________________
اگر آگے پڑھنا چاھیں تو ۔۔۔۔

نکڑ والے خالو اور منوں بھائی کی درخواست
 
یہ ہمارے بچپن کے دن تھے ۔ سکون کا زمانہ تھا لوگوں کو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا جنون نہ تھا نہ یی ایک دوسرے سے حسد اور کینہ تھا ۔ سب اپنے اپنے حال میں خوش تھے اور کھا کما رہے تھے ۔ آپا دھاپی  نہ تھی ۔ پرانے محلے میں جب ھوش سنبھالا تو گلی کے ایک نکڑ کو سر شام آباد دیکھا ۔ پہلے گلی گلی سڑکیں نہ تھیں ۔ گلیاں کچی ہوا کرتی تھیں ۔ شام کو پہلے نکڑ پر ہلکی سی جھاڑو دینے کے بعد پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تو ایک سوندھی خوشبو فضا کو مہکا دیتی ۔

اس کے بعد لکڑی کی کھٹ کھٹ کر کے بند ہونے والی تین کرسیاں آتیں اور پھر ایک مخصوص وقت پر نکڑ والے خالو ہاتھ منہ دھو کر ، بیچ کی مانگ نکالے کرتے پائجامے میں آکر بیٹھتے اور کچھ دیر بعد گلی کے مصور میاں اور شکور پھوپھا ان دو کرسیوں پر براجمان ہوجاتے ۔ لیجئے ! نکڑ والے خالو ایک تین کرسی والا  دربار سج گیا ۔ دروازے ہر خس کی ٹٹی پڑی ہوتی جس پر ایک مخصوص وقت پر ٹرے میں سجے چائے کے تین کپ آجاتے ۔

نکڑ والے خالو کی ملازمت اس وقت ایک باہر کی کمپنی میں تھی ۔ کلرک سے اوپر کی ہوسٹ تھی ۔ آمدن نسبتا اچھی تھی ۔ گھر والے بتاتے ہیں ایک زمانے میں ٹائی کوٹ آور ہیٹ لگا کر سائیکل پر دفتر جایا کرتے تھے ۔ سائیکل کا ہونا اس وقت آج کی مہنگی گاڑی جیسا تھا ۔ پڑھے لکھے نفیس آدمی تھے لیکن تھے سیدھے اور اس پر غصے کے تیز ۔ انگریزی اس وقت تک صرف ان ہی کو آتی تھی ۔ کوئی تار آجائے تو نکڑ والے خالو کے آنے کا انتظار ۔۔۔ اور اس وقت تک جس گھر میں تار آیا ہوتا وہ سوچ سوچ کے ہلکان ہوئے جاتے ، اللہ جانے کیا لکھا ہے ؟ سو سو طرح کے وسوسے آتے ۔ خاندان کے تمام بوڑھے بوڑھیوں کو بند آنکھوں کے ساتھ  کہیں جاتے دیکھا جاتا ۔ نکڑ والے خالو کے انتظار میں اس گھر کا ایک فرد پہلے ہی نکڑ پر کھڑا ہوتا ۔ ابھی خالو گھر میں بھی نہ گھستے  کہ تار سے خوشیوں کی جلترنگ یا غم کی شہنائی بجتی اٹھتی ۔

ہم بڑے ہوتے گئے اور خالو جوانی سے ادھیڑ عمری میں قدم رکھتے گئے ۔ خالو نکڑ والے سیاست کے رسیا تھے اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھتے ۔ اس زمانے میں ڈان اخبار پڑھا کرتے تھے ۔ روزانہ کی بنیاد ہر عالمی حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد خالو کی سرکردگی میں قائم تین رکنی بہت دور رس فیصلے کرتی جس میں فیصلہ سازی کے لیے فیصلہ کن کردار خالو کا ہوتا ۔ اگر مصور میاں اور شکور پھوپھا کہیں اپنا پلڑا بھاری کرنا چاھتے تو خالو ڈان کی مار مارتے اور دوران گفتگو ایک دو لائنیں انگریزی کی بول کر بات کی ختم کر دیا کرتے ۔

سب سے دلچسپ مرحلہ اس وقت آتا جب محلے کا کوئی شخص ان سے انگریزی میں درخواست لکھوانے آتا ۔ جب کوئی درخواست لکھوانے آتا تو خالو کے چہرے پر تفاخر کا ایک ہی الگ ہی رنگ آتا ۔ پہلے  کسی بڑے وکیل کی طرح آنکھیں بند کر کے کیس سنتے پھر اس کے بھید جاننے کے لیے اعتراضات کے نکات اٹھاتے ۔ جب مکمل تسلی و تشفی ہو جاتی تو قلم چل پڑتا ۔ 

روشنائی (Ink) والے اپنے مخصوص پین سے درخواست لکھتے ۔ اس وقت ایسا سناٹا یوتا جیسے جج صاحب کسی قتل کے ملزم کا فیصلہ لکھ رہے ہوں ۔ سب کی نظریں پیپر پر ہوتیں ۔ خالو جب ان کی طرف دیکھتے تو سب پیچھے ہو جاتے ۔ خالو کو جب اردو کا مدعا انگریزی  میں لکھتے ہوئے صحیح الفاظ کے چناو میں دقت ( میرا خیال ہے ) پیش آتی تو وہ پین کو جھٹکتے جس کے چھینٹے دائیں جانب  بیٹھے درخواست گزار کے کپڑوں ہر آتے مگر اس وقت کس میں بولنے کی تاب تھی ۔
 
 خالو بڑی عرق ریزی سے پیپر ہرانگریزی اور درخواست گزار کے کپڑوں پرانک ریزی کے دریا بہا دیتے ۔ کوئی بھی زخص
 شخص کپڑوں ہر چھینٹے دیکھ کر با آسانی بتا سکتا تھا کہ درخواست کس قدر مشکل تھی جسے خالو نے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا ۔ جس طرح آج ڈاکٹر مہنگی لکھ دے تو مریض کو یقین آجاتا ہے اب علاج یقینی ہے ۔ اسی طرح لوگ کپڑوں پر چھینٹے دیکھ کر درخواست کی قبولیت کا اندازہ لگا لیا کرتے ۔ اگر درخواست گزار کے کپڑوں پر چھینٹے کم ہوتے تو لوگ کہتے تھے کہ خالو انگلیاں قلم کر کے لکھتے ہیں ۔ درخواست میں جھوٹ کا کھوٹ ہے بھائی ۔ دیکھ لینا اب اس کے چھینٹے بعد میں پڑیں گے ۔ یوں سمجھ لیں وہ درخواست نہ ہوتی درخواست گزار کا کریکٹر سرٹیفیکٹ ہوتا ۔

ہم نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد خالو کو ایک درخواست لکھتے دیکھا ۔ پہلے درخواست گزار منوں بھائی کی ہوری بپتا سنی ۔ اس میں چند قابل پکڑ باتیں پکڑیں ۔اس کے بعد درخواست لکھنا شروع کر دیا ۔ خالو نے درخواست لکھنے اور منوں بھائی کے کپڑوں پر پڑے چھینٹے دیکھنے کے بعد منوں بھائی سے نیچے دستخط کرنے کو کہا ۔ منوں بھائی ذرا حجتی قسم کے آدمی تھے ۔ آنکھیں پھاڑ کر ہونقوں کی طرح ہوچھ بیٹھے : کیا لکھا ہے ؟ ۔خالو نے بڑے اطمینان سے کہا : ریاض شاہد کی فلم زرقا دیکھی ہے ؟ منوں بھائی نے ناں میں سر ہلایا ۔ خالو بولے : وہ لکھی ہے ۔ منوں بھائی نے حیرت سے دیکھا ۔ خالو نے تنک کر کہا : میاں کیا ہو گیا ہے جو تم نے کہا وہی لکھدیا ہے ۔

منوں بھائی نے سکھ کا سانس لیا ، اصرار کیا : پھر بھی کچھ تو بتا دیں ۔ خالو نے لحاظ میں گنگنائے کے انداز میں ہوں ہوں کرتے انگریزی پڑھی اور پھر بتا دیا ۔ منوں بھائی نے کہا : میں نے یہ کب کہا تھا ؟ اب گویا آپ نے خالو چھیڑ دیا : نہیں اپنے گھر سے لایا یوں ۔ میرے دماغ میں کیڑا کلبلا رہا تھا ۔ اسے کاغذ پر منتقل کردیا ہے ۔ کہنے اور لکھنے میں فرق ہوتا ہے ۔ 
منوں بھائی چٹے ان پڑھ اور کوڑے مغز تھے : یہ تو کوئی نہ بات ہوئی ؟  خالو نے درخواست منوں بھائی کو تھمائی : یہ لو اور اب میرے پاس درخواست لکھوانے نہ آنا ۔
 
منوں بھائی نے درخواست لی اور چل دیئے ۔ ابھی دو قدم گئے تھے کہ خالو نے آواز دی : سنو ۔ ہم سمجھے کہ خالو درخواست میں تبدیلی کے لئے تیار ہو گئے ہیں ۔ منوں بھائی آئے تو ہین ان کی طرف بڑھایا : یہ ہیں اپنے ساتھ لے جاو  جب دماغ نام کرنے لگے تو اسی پیج ہر جہاں میں نے بتایا ہے وہاں دستخط کردینا ۔ کسی اور رنگ کے پین  سے دستخط کئے تو یہ اصول کے خلاف بات ہے ۔ منوں بھائی نے ہین لیا ۔ خیال تھا کہ وہ چلے جائیں گے لیکن نہ جانے ان کی عقل میں کیا آئی کہ انہوں نے وھیں دستخط کئے اور ہین واپس کر کے چل دیئے ۔ خالو سے ہاتھ ملاتے ہوئے منوں بھائی کی آنکھوں میں لکھی معذرت اور شکریہ دونوں صاف پڑھے جا رہے تھے ۔

Maan ko awal rakhein .Article 85

 

Article 85


ماں کو اول رکھیں ورنہ آپ نامکمل ہیں
" میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے "

تحریر : اظہر عزمی 



حج بیت اللہ اور عمرے میں سعی کا ذکر آئے تو مسلمانوں کے ذہنوں میں فورا دو چھوٹی پہاڑیوں "صفا" اور "مروہ" کا نام آتا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سیّدہ ہاجرہ اور ننھے اسماعیل کو کھانے پینے کی کچھ چیزوں کے ساتھ مکہ مکرمہ کے ریگستان میں چھوڑ دیا تھا ۔

کچھ وقت کے بعد ماں بیٹے کے پاس موجود اشیاء ختم ہو گئیں ۔ ننھے اسماعیل کو بلا کی پیاس تھی ۔ اس پر سیدہ حاجرہ صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئیں کہ شاید اپنے اور اپنے بیٹے کو بھوک اور پیاس سے بچانے کے لیے کچھ مل جائے ۔ سیدہ ہاجرہ وہاں سے اُتریں اور پھر مروہ کی پہاڑی پر چڑھ دوڑیں ۔ اسی طرح سات مرتبہ کیا ۔ یہ ماں کی مامتا تھی جو پرودگار عالم کو اتنی پسند آئی کہ اسے حج اور عمرے کا رکن بنا دیا ۔۔   __________________________________________________________________________________
ماں تو اول و آخر ماں یے ۔ اولاد کے لیے سعی ( کوشش ) اس کی سرشت میں ہے ۔ ماں جیسا کوئی ہے نہ ہو سکتا ہے ۔ پروردگار عالم نے اپنے کتنے ہی اوصاف ماں کو عطا کر دیئے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ مخلوق سے اپنی محبت کا پیمانہ بھی ماں کو بنایا ہے ۔ پروردگار عالم ستر ماوں سے زیادہ ہم سے پیار کرتے ہیں ۔
 
انسان کے تمام اعمال کے نتیجے میں ملنے والے صلے " جنت " کو ماں کے پیروں تلے رکھ دیا ۔ وہ چاھتا تو پیروں کے اوہر رکھ دیتا ۔ ہاتھ یا ماتھے پر رکھ دیتا ۔  پرودگار نے اولاد کو ماں کا مقام بتا دیا ۔ وہ جنت جس کے لئے تم لاکھ جتن کرتے ہو ۔ وہ ماں کے پیروں کے نیچے ہے ۔ جنت حاصل کرنا کتنا مشکل تھا اگر ماں نہ ہوتی ۔

ماں پر بہت لکھا گیا ہے اور جتنا لکھا گیا ہے اتنا ہی کم لکھا گیا ہے ۔ ماں پر بڑھاپا آجائے تو اس کا مزاج بچوں جیسا ہو جاتا ہے ۔ ایک ایک بات کو بار بار دھرانا ۔ کسی ایک بات ہر بتائے بغیر خفا ہوجانا ۔ ہر بات میں جلدی کرنا ۔ بیٹھے بیٹھے اداس یا خوش ہوجانا ، اپنی کہی بات کہہ کر بھول جانا اور اس ہر یہ کہنا کہ میں بھولتی کچھ نہیں ، ہزار بار کے سنائے قصے سنانا ۔ خاندان اور محلے میں کسی کا انتقال یو جائے تو اس غمگین کیفیت کے ساتھ بتانا جیسے اللہ نہ کرے گھر میں کچھ ہو گیا ہو ۔ بڑھاپا جسم و دماغ پر آتا مگر یہ بھی کتنی عجیب ہے اس کی محبت کا جذبہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا جاتا ہے ۔
کبھی کہیں نہ جانے پر اصرار اور کبھی ایسا کہ کسی کے ہاں جانا ہو تو وقت سے پہلے تیار ۔ ایک دن ماں کے پاس نہ بیٹھو اور اگر دور رہتے ہو اور ان سے ملنے نہ جاو تو رقت آمیز گلے شکوے ۔

ماں : بیٹا تم تو ہمیں بھول ہی گئے ۔ کب سے شکل نہیں دکھائی ۔ میں نے عدیل ( چھوٹا بیٹا ) سے کہا تھا ذرا فون تو کرو ۔ وہ
نہیں آتے نہ آئیں مگر ہم تو پوچھ لیں ۔۔۔ کیسے ہیں ؟ 

آپ  : امی پرسوں رات ہی تو آیا تھا ۔ 

ماں : ہاں تم گئے ہو اور رات ایسی طبیعت خراب ہوئی ہے کہ پوچھو مت ۔ وہی ٹانگوں کا درد ۔ جب سے بستر پر پڑی ہوں اور اٹھی نہیں ۔

آپ : دوا تو کھا رہی ہیں آپ ؟

ماں : ارے یہ دوا شوا اب کسی کام کی نہیں ۔ بس تم آجایا کرو ۔ میں سمجھوں گی دوا کھا لی ۔

آپ : وہ اصل میں کل آجاتا ۔ شاہ زیب کو رات سے بہت تیز بخار ہے ۔ دفتر سے آٹے ہی اسے ڈاکٹر کے لے گیا تھا ۔ 

ماں : میرے شزو کو بخار یے اور مجھے پتہ ہی نہیں ۔ بہو نے بھی فون نہ کیا ۔ ذرا میری بات کراو ۔
آپ کال ملا کر دیتے ہیں ۔

ماں : ہللو ۔۔۔ میں بات کر رہی ہوں ۔ ہاں وہ شزو کیسا ہے ؟ بخار آ گیا ہے ۔ تم نے بتایا ہی نہیں ۔

بہو : وہ امی ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ بس گلا ٹھسا ہوا یے ۔ ہورے سینے میں جکڑن ہے اسی لیے بخار آگیا ۔ ڈاکٹر کو دکھا دیا ہے ۔

ماں : اچھا ذرا میری اس سے بات تو کراو ۔

ماں : ہللو ۔۔۔ میرے شزو کو بخار آگیا ۔
 
ہوتا : دددا ۔۔۔ امی مجھے ناں ۔ کھانا نہیں دے رہی ہیں ۔ آپ آجائیں ۔

ماں : بخار میں کھانا نہیں کھاتے ۔ جب بخار اترے گا تو جو کہے گا کھا لینا ۔ میں تجھے خود بنا کر دوں گی ۔

پوتا : نہیں ناں ۔ مجھے ابھی کھانا ہے ۔۔۔ زنگر برگر

ماں : یہ نگوڑ مارا زنگر ٹنگر نہ نکلے تیرے دماغ سے
 
پوتا : دددا آپ آجائیں ناں ۔
 
ماں : بس سمجھ میں ابھی آئی پر زنگر ٹنگر نہ دینے کی 

موبائل بیٹے کو دیتے ہی دوسری بہو کو آواز دی جاتی ہے : ارے  شہناز ذرا میری چادر تو لے آئے ۔

آپ : ( حیرت سے ) چادر کیوں ؟
 
ماں : تیرے ساتھ تیرے گھر جو چل رہی ہوں ۔

آپ : کیا ہو گیا ہے ؟ چلا آپ سے جا نہیں رہا ۔ دوسری منزل تک سیڑھیاں کیسے چڑھیں گی ۔

شہناز چادر لے آتی ہے ۔ بیٹھے بیٹھے چادر اوڑھتی ہیں ۔ شہناز بھی حیران ہے اور جیٹھ سے پوچھتی ہے  : بھائی امی کہاں جارہی ہیں ۔ ان سے تو واش روم جانا دوبھر ہے ۔

آپ : ارے میں نے کب کہا ۔ بس انہوں نے شاہ زیب سے بات کی ہے ۔ ہلکا سا بخار ہے ۔ گھر جانے کا کہہ رہی ہیں ۔

ماں کا رعب سامنے آ گیا : ارے تیرے کہنے سے کیا ہوتا ہے ۔ اب تو مجھے بتائے گا کہ مجھے شزو کے پاس جانا ہے کہ نہیں ۔

آپ : امی ۔۔۔ وہ ۔۔۔ آپ ۔۔۔ سمجھ نہیں رہی ہیں ۔

ماں : سب سمجھ رہی ہوں ۔ چڑھ جاوں گی تیری سیڑھیاں ۔ کیا پہلے نہیں چڑھی ۔۔۔ چل!
اور کسی ایک نہ چلی ۔ ماں چل دی ۔

ماں یونہی تو ماں نہیں ہوتی ۔ وہ اس عمر میں پوتے کی ایک آواز پر جا رہی ہے اور ہم ہیں کہ کوئی معمولی سا کام پڑ جائے تو سوچتے ہیں ماں سے کل مل لیں گے ۔ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ وہ آپ کے آنے کے وقت سے بہت پہلے آپ کا انتظار شروع کر دیتی ہے ۔ آپ نہیں آتے تو اس پر کیا گزرتی ہے ۔ ماں کو اول رکھیں کیونکہ اس کے بغیر آپ نہ مکمل ہیں ۔ 

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی یے 
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی یے   ( منور رانا)

اور جب ماں دنیا میں نہیں ہوتی یے تو آپ سب کے ہوتے ہوئے بھی اکیلے ہوتے ہیں ۔ ایک ایسا اکیلا پن جس کو رات کی تنہا سسکیاں اور آنکھوں میں نوحہ کناں نمی محسوس کرتی ہے ۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے نظروں سے صدقے اتارتی اور زیر لب دعائیں کرتی ماں کا حصار نہ جانے دن بھر آپ کو کتنی مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا ہے ۔

ماں  تیرے  بعد  بتا ، کون  لبوں  سے  اپنے 
وقت رخصت میرے ماتھے پہ دعا لکھے گا

حضرت موسی علیہ السلام کلیم اللہ تھے ۔ کوہ طور پر خدائے بزرگ و برتر سے ہم کلام یوتے تھے ۔ جب آپ والدہ کی رحلت کے بعد کوہ طور گئے تو غیب سے آواز آئی : اے موسی ( علیہ السلام ) ذرا سنبھل کر اب تمھارے لیے دعا کرنے والے لب خاموش ہوچکے ہیں ۔

" ماں سے ملیں کیونکہ ماں دوبارہ نہیں ملے گی "

Wednesday, 28 July 2021

Yousuf khan se Dilip Kumar . Shaks se shaksiat ka safar.۔ Article # 83


Article # 83

یوسف خان سے دلیپ کمار

شخص سے شخصیت کا سفر

تحریر : اظہر عزمی


اب تو فلم دیکھے ایک زمانہ ہو گیا ۔ جب لڑکپن سے نوجوانی میں قدم رکھ رہے تھے تو وہ زمانہ بلا شرکت غیر امیتابھ بچن کا تھا ۔ ان کی شخصیت کا جادو واقعتاًسر چڑھ کر بول رہا تھا جس کو دیکھو بیچ کی مانگ نکالے امیتابھ بچن بنا پھرتا ۔ بس ایک میرے چچا تھے جو ایک ہی بات کہتے کہ امیتابھ اچھا اداکار ہے مگر دلیپ کمار کو follow کرتا ہے ۔ اینگری ینگ مین کا کانسپٹ دلیپ کمار نے دیا ہے ۔ اداکاری کی ابجد سے اس وقت تو بالکل بھی واقف نہ تھے ۔ امیتابھ کے بال ، آواز ، لمبا قد اور ڈریسنگ کے ساتھ قیامت کی ڈائیلاگ

ڈلیوری کے آگے ہمیں اپنے چچا کی بات سمجھ میں نہ آتی ۔
جب ذرا عمر کے سال بڑھے اور دلیپ کمار کی فلمیں بالخصوص گنگا جمنا ، دیوداس اور مغل اعظم دیکھیں تو دلیپ کمار ذہن میں آنے شروع ہو گئے ۔ اس کے بعد کرانتی اور سودا گر دیکھی ۔ امیتابھ کے مقابل تو دلیپ کمار کبھی کسی فلم میں نہ آئے تھے اس لیے ہمارا ذہن تقابل نہیں کر پارہا تھا ۔

رمیش سپی کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم شکتی میں دلیپ کمار اور امیتابھ آمنے سامنے تھے ۔ فلم بہت غور اور احتیاط سے دیکھی ۔ اداکاری کی تو خیر کیا سمجھ میں آتی لیکن انسانی نفسیات اور رشتے کی پہچان ہو چکی تھی ۔ اس فلم میں دلیپ کمار اور امیتابھ بچن باپ بیٹے بنے ۔ دلیپ کمار پولیس آفیسر اور امیتابھ بچن اینگری ینگ سن بنے ۔

شکتی میں دلیپ کمار اور امیتابھ کی اداکاری کا موازنہ تو ناقدین یا فن اداکاری کے ماہرین کی کر سکتے ہیں لیکن فلم کے ایک سین میں جب دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کے درمیان گھر پر ایک جذباتی سین تھا ۔ امیتابھ کے بھرپور طویل مکالمہ کے جواب میں دلیپ کمار نے اپنے ماتھے پر انگلی کو پھیر ( ایسا عموما ہم سوچتے ہوئے کرتے ہیں ) کر بطور والد چہرے کے جو جامع ترین تاثرات دیئے تھے وہ امیتابھ پر بازی لے گئے تھے ۔ اسی فلم کے لیے فلم فیئر ایوارڈ بھی دلیپ کمار کے حصے میں آیا تھا ۔

عام طور پر اداکار اسکرپٹ کے علاوہ اجھا بول نہیں پاتے ۔ چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر کا مطالعہ بہت واجبی سا ہوتا ۔ دلیپ کمار ایک وسیع المطالعہ شخص تھے ۔ ان کی گفتگو سن کر ایسا لگتا کہ آپ کسی اداکار سے نہیں بلکہ دانشور کی باتیں سن رہے ہیں ۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ عموما ہیرو کا کردار کرنے والے اداکار اپنی جاذبیت اور مقبولیت قائم نہیں رکھ پاتے ۔ دلیپ کمار عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اور بھی قدآور ہوتے چلے گئے ۔ امیتابھ بھارت کے دوسرے ایسے اداکار ہیں ۔

میں آج بھی امیتابھ کا مداح ہوں لیکن دلیپ کمار کی اداکاری اور شخصیت کا دیوانہ ہوں ۔ چہرے پر ایک عجیب سا اجلا پن تھا ، گفتگو کرتے تو لفظ موتی بن کر نکلتے اور شخصیت کو جگمگا دیتے ۔ شخص سے شخصیت بننے کی اگر کوئی کامیاب مثال ہے تو وہ دلیپ کمار کی ہے ۔ دلیپ کمار نے بے ہنگم اچھل کود ، غیر شائستہ مکالموں اور نازیبا حرکات و سکنات کے بجائے رموز اداکاری کو سمجھا اور اسے اعتبار و معیار بخشا ۔ اداکاری میں جو عزت و احترام دلیپ کمار نے کمایا ہے ۔ آج اور آنے والے دور کا بڑے سے بڑا اداکار اس کی آرزو کرے گا ۔

نہ جانے کیوں ، کانوں میں یہ گیت گونجنے لگا

سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

Thursday, 17 June 2021

Real Story " The Fighting Train " .Article 82





سچے واقعے ہر مبنی " دی فائٹنگ ٹرین "
دو باراتیں آمنے سامنے اور میں بطور مہمان اداکار


تحریر : اظہر عزمی


دی برننگ ٹرین فلم ہمارے زمانے کی ایک مشہور فلم تھی لیکن یہ خبر نہ تھی ک دی فائٹنگ ٹرین بھی بنے گی جس میں ، ہم بھی بطور مہمان اداکار شریک ہوں گے ۔ فلم کی شوٹنگ کسی سیٹ پر نہیں بلکہ اصل ٹرین میں ایک رات میں بغیر کسی ری ٹیک کے مکمل ہو جائے گی ۔ فلم کی اسٹوری خود بخود بنے گی اور وہ وہ ٹرننگ پوائنٹ آئیں گے کہ بڑے سے بڑے اسٹوری رائٹر کا ذہن بھی ان بلندیوں ، باریکیوں اور تاریکیوں کو چھو نہ سکے گا ۔ برجستہ ڈائیلاگ اور ان کی بے ساختہ ادائیگی کسی ڈائریکٹر کی محتاج نہ ہو گی ۔ فائٹنگ سین مکمل اوریجنل

ہوں گے اور بیک گراونڈ سے ڈھشوں ڈھشوں کی آواز نہ آئے گی ۔

میں اتنی کہانیاں کیوں کر رہا ہوں ۔ سیدھے سیدھے فلم کے اسکرپٹ پر کیوں نہیں آجاتا ۔
فلم کا ایک مہمان اداکار اظہر عزمی ایک چہلم میں شرکت کے لئے رات کی ٹرین سکھر ایکسپریس سے خیرپور میرس جا رہا ہے ۔ دسمبر کی کڑکتی سردی ہے ۔ کمپارٹمنٹ کھچا کھچ بھرا ہے ۔ گیٹ کے ساتھ ایک دیگ رکھی یے ۔ کمپارٹمنٹ میں ایک بارات بھی جا رہی یے ۔ ٹرین وقت مقررہ سے آدھے گھنٹے لیٹ چلتی ہے ۔ کمپارٹمنٹ کے مسافروں کو سردی نے خاموش کردیا ہے ۔ بس بارات کے لڑکوں کی چہکتی آوازیں ٹرین میں زندگی کا احساس دلا رہی ہیں ۔ سیٹوں والے سیٹوں پر باقی ٹرین کے فرش ہر لپیٹے لپاٹے پڑے ہیں ۔

ابھی جنگ شاھی آیا تھا کہ ٹرین میں کچھ گہما گہمی محسوس ہوئی ۔ یہ سوچ کر کہ ٹرین رکنے والی ہو گی مگر نہیں ٹرین تو پٹریوں پر زناٹے کے ساتھ ہوا کا سینہ چیرتی رواں دواں یے ۔ آوازیں بڑھ رہی ہیں جن میں گالیوں کی گرماہٹ محسوس ہورہی ہے ۔ نیچے کے مسافر ایک دم ہڑبھڑا کر اٹھ بیٹھے جیسے کوئی کتا ان کے برابر آکر لیٹ گیا ہو ۔ میں ( مہمان اداکار ) بھی برتھ سے ٹرین کی ارتھ پر آگیا ۔ اندازہ ہوا کہ ابھی کچھ دیر پہلے فائٹنگ سین ہوا ہے اور جو مار نہ پایا اب وہ گالیوں کی مار دے رہا ہے ۔ کمپارٹمنٹ میں ہر طرف سراسیمگی ہے ۔ آدھ کھلی آنکھوں کے مسافر حیران و پریشان ہیں ۔ اتنی دیر میں ایک لڑکے کی آواز آتی : چھوڑنا نہیں کسی کو ۔ جانتے نہیں ہیں کن سے پنگا لیا ہے ۔

میں نے ساتھ کھڑے ایک نامعلوم نوجوان مسافر سے معلومات لیں تو پتہ چلا کہ ہمارے کمپارٹمنٹ کی بارات سکھر جا رہی ہے اور دوسرے کمپارٹمنٹ کی بارات کراچی سے لڑکی وداع کر کے سکھر واپس جا رہی ہے ۔ نامعلوم نوجوان مسافر بھی سکھر کا ہے ۔ اس نے بتایا کہ اس بارات کے لڑکے ٹرین میں ادھر ادھر گھوم رہے تھے ۔ برابر والے کمپارٹمنٹ سے گزرے تو برتھ پر سوئی لڑکی سے ایک دو بار کاندھا لگ گیا ۔ کمپارٹمنٹ کے لڑکوں کو یہ کاندھے بازی اچھی نہ لگی اور ہمارے کمپارٹمنٹ کی بارات کے لڑکوں کو کوٹ دیا بلکہ اچھا خاصا دھو دیا ۔

واقعے کی گرمی نے سردی کو موٹا لحاف آوڑھا دیا تھا ۔ شدت کم ہوگئی تھی ابھی جھگڑا تھما نہیں تھا ۔ میں دوسرے کمپارٹمنٹ گیا تو عجب تماشا دیکھا ۔ ایک بزرگ ایک نوجوان لڑکے کو دھبا دھب مار رہے تھے اور اسے مارتے مارتے ہمارے کمپارٹمنٹ میں لے آئے ۔ پتہ چلا کہ یہ ہمارے کمپارٹمنٹ کا دولھا ہے ۔ " دولھگی " کے جوش میں لڑنے گیا تھا ابھی لڑکوں نے سلامی دینا شروع کی تھی کہ باپ نے وہاں آکر دھنائی کر دی ۔ لڑکے پیچھے ہٹ گئے کہ جب گھر کا آدمی یہ کام کر رہا ہے تو ہم اپنے ہاتھ کیوں گندے کریں ۔ ویسے بھی اس سے قبل دوسرے کمپارٹمنٹ والے ہمارے لڑکوں کی توقع سے زیادہ منہ تک خاطر و مدارت کر چکے تھے ۔ اس لئے ہمارے لڑکوں کے سینوں میں انتقام کے شعلے دھک رہے تھے ۔ دولھا کا سوکھا سڑا بھائی آپے سے باھر ہورہا تھا ۔ بلیوں اچھل رہا تھا ۔ جب بھی چھوڑو تو سیدھا کھڑا ہو جاتا ۔ میں نے دولھا کی حالت دیکھی تو کہا :
سہرا باندھے بنا سالوں سے سلامی لینا اچھا شگون نہیں ۔ جو منہ کی حالت ہے آر سی مصحف ہوا تو بیوی نے چیخ مار کر اٹھ جانا یے ۔

تازہ تازہ پٹے دولھا کی چوٹوں کا درد ابھی ٹھاٹے مار رہا تھا۔ اس لئے میری بات کو چھوٹی سی لہر سمجھ کر محسوس ہی نہ کر پایا ۔

اسی دوران میرا نامعلوم نوجوان مسافر میرے پاس آیا اور بولا : ابھی دیکھو اتنی رات ہو گئی ۔ سارے غریب مسافر جاگ گئے ہیں ۔ ان کو بھوک لگی ہوگی ۔ یہ سب لوگ پھڈے میں لگے ہیں ۔ اتنی مار کھانے کے بعد کھانا کیا کھائیں گے ۔ آپ کو بولو تو یہ بریانی مسافروں میں بانٹ دوں ۔ میں نے اسے بڑی حیرت سے دیکھا : تو کیا مجھے دولھا کا چاچا سمجھ رہا ہے ۔ بول : آپ سمجھدار لگ رہے یو ۔ اس لئے پوچھ لیا ۔ میں نے کہا : تیری مرضی ۔ بڑا ہوشیار تھا ، بولا: اصل میں مجھے دیگ چاھیئے ۔ خالی ہو گی تو اٹھانے میں آسانی ہو گی ۔ میں اسے دیکھتا رہ گیا ۔ ہنسا ، کہنے لگا : یہ فائٹ سکھر تک جائے گی اور میں دیگ لے کر فلائٹ ہو جاوں گا ۔
سکھر والی بارات اس لئے بھی بھاری تھی کہ وہ اپنے شہر جا رہی تھی ۔ دوسرا یہ کہ ان کے بقول بدتمیزی کا قرض مع سود اتارنا لازم تھا ۔ بزرگ ان کے ساتھ نہیں تھے ۔ اس لیے انہیں اوپن گراونڈ ملا ہوا تھا ۔ انہوں نے اپنا حساب تو چکتا کر دیا تھا لیکن پھر بھی دل بھرا نہیں تھا ۔ ہمارے کمپارٹمنٹ والے تو خوردہ ریٹ پر زخم خوردہ تھے ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ٹرین میں ریسلنگ کی جگہ بالکل بھی نہ تھی اور اکثر لاتیں گھونسے ان کو پڑے جو کسی بارات میں شامل ہی نہیں تھے ۔ بیگانے کی شادی میں عبد اللہ دیوانے تو سنا تھا مگر بیگانے کی لڑائی میں عبد اللہ مار کھائے پہلی بار دیکھا تھا ۔ لوگ ٹکٹ لے کر تماشا دیکھتے ہیں مگر انہوں نے تو ٹکٹ دے کر مار کھائی تھی ۔
جانے کا جرم کی کھائی ہیں لاتیں یاد نہیں

اب صورت حال یہ بنی کہ جب رات کی خاموشی کو توڑتی سیٹی بجاتی ٹرین کسی اسٹیشن پر رکتی تو دونوں گروپ نیچے اترتے تاکہ باقاعدہ لڑائی کا آغاز ہو سکے ۔ ابھی گریبانوں تک ہاتھ پہنچے ہوتے کہ سیٹی بج جاتی اور متحارب گروپ سوار ہو جاتے ۔ ہم اپنے کمپارٹمنٹ تھے لیکن برابر والے کمپارٹمنٹ کی طرف بھی آ جا رہے تھے ( ہمیں تو اپنی رات گزارنی تھی ) ۔ غیر جانبدار مسافروں نے حالات کی سنگینی اور لڑائی کے بعد ہونے والی رنگینی کو دیکھتے ہوئے دونوں گروپس کو یہ صائب مشورہ دیا کہ لڑائی آپ کا پیدائشی حق ہے مگر ٹرین کی کم وسعتی اس کار خیر کو انجام دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے فی الوقت کوئی بیچ کی راہ نکل لی جائے ۔
دونوں گروپوں سے مذاکرات کے لیے ایک تین رکنی مصالحتی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ہم بھی شامل تھے ۔ دونوں طرف سے نمائندہ افراد کو طلب کیا گیا لیکن یہاں بھی کشیدگی برقرار رہی ۔ بارہا ایسا لگا کہ مذکرات کا ڈول ڈالا نہ جا سکے گا ۔ الزامات اور جوابی الزامات لگائے جاتے رہے ۔ کچھ گفتگو آپ بھی سن لیں ۔
سکھر : ایک باری کاندھا مارا ۔ برداشت کر لیا ۔ ناں اشٹاپ تو نہیں چلتا ناں ۔
کراچی: ہاں تو اس کے پیر برتھ سے باہر کیوں جا رہے تھے
سکھر : ابے تو کیا تیری بہن کی بارات جا رہی تھی جو تم لوگ بار بار چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔ ہیں
کراچی : اوئے بہن تک نہ پہنچیو ۔ یہیں گاڑ دوں گا ۔
سکھر : تو گاڑے گا ۔۔۔ تو ۔۔۔ شکل دیکھ آئینے ۔ دیکھ تیرا حلیہ کیسے ٹائٹ کر دیا ہے ۔ سکھر پہنچ پھر تیری مرہم بٹی کا خرچہ اور بڑھاتا ہوں ۔
مصالحتی کمیٹی کے ایک صاحب نے دوسرے گروپ سے کہا :
بھائی یہ آپ کے شہر مہمان ہو کر جارہے ہیں ۔ آپ کے شہر کی لڑکی ان کی بہو بنے گی ۔ کیا اچھا لگے کہ آپ مہمانوں کے ساتھ یہ برتاو کریں ۔ گفتگو اثر کر گئی لیکن ایک لڑکا آگ ٹھنڈی کرنے کے موڈ میں نہیں تھا :
چچا کیا ایسے لوگوں کو منہ لگا لیں ۔ ہم تو اپنے شہر کی لڑکی ایسوں کو تو مر کر نہ دیں ۔ چھچھورے ہیں سارے کے سارے
دولھا کا سوکھا سڑا بھائی اکڑ گیا : چھچھورا ہو گا تو
وہ لڑکا بھی اکڑ کر کھڑا ہو گیا ، بولا : ویسے تو سب چھچھورے ہیں لیکن تو چھیچھڑا ہے ۔
دوسرا بولا : یہ تو چھیچھڑے کا بھی چھیچھڑا ہےب۔ اسے تو کوئی بلی بھی منہ نہ لگائے ۔

سب زیر لب مسکرا دیئے ۔ دونوں گروپ پھر منہ ڈر منہ آگئے ۔ بات پھر بگڑ رہی تھی ۔ صاف لگا کہ دونوں پارٹیاں صلح کے موڈ میں نہیں ۔ بہرحال اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ مقابلہ سکھر میں ہو گا ۔ دونوں گروپ ایک دوسرے کے کمپارٹمنٹ میں نہ آئیں گے ۔

جب وقتی سیز فائر ہوا تو کمپارٹمنٹ کے باراتیوں کو بھوک لگی ۔ اب جو دیگ کھولی تو آدھی دیگ خالی تھی اور ایک بھی بوٹی نہ تھی ۔ ایک آواز آئی : ابا آدھی بریانی گئی ۔
میں چپ چاپ بیٹھا رہا ۔ نامعلوم نوجوان سافر مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔ اب میں انہیں کیا بتاتا کہ سکھر پر پوری دیگ بھی غائب ہو سکتی ہے ۔ میں تو صبح سات بجے خیر سے خیرپور میرس اتر گیا ۔ اب پتہ نہیں سکھر کس طرح باراتیں اتری ہوں گی اور کس کس کے کاندھے اترے ہوں گے ۔

( یہ تصویر بطور ریفرنس لگائی ہے ) 

عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91

Article # 91 رنج و مزاح  عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں  تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...