Wednesday, 16 October 2019

بڑا بھائی ۔۔۔ کچھ دکھ اس کے بھی ہیں ۔ آرٹیکل # 43


Article # 43


بڑا بھائی ۔۔۔ کچھ دکھ اس کے بھی ہیں


دیکھیں کہیں یہ آپ ہی تو نہیں

اظہر عزمی

(ایک اشتہاری کی باتیں)
پہلے کم کم ملتا تھا۔ اب بار بار ملنے لگا ہے۔ کبھی دوستوں میں کھڑا باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ مجھے دور سے آتا دیکھتا ہے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ میں اسے نہ دیکھوں۔ یہ اس کا حق ہے دوستوں سے ملے، ہنسی مذاق کرے۔ میں جانتا ہوں وہ ڈرتا ہے کہیں اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو میں اس کے والد سے کہہ دوں۔ اصل میں اس کے والد نے مجھ سے کہہ رکھا ہے کہ میں اس پر نظر رکھوں۔اب اسے یہ کون بتائے کہ میں اس پر پولیس والی تفتیشی نظر تھوڑی رکھتا ہوں۔ کبھی گھر کا سودا سلف لارہا ہوتا ہے تو نظروں ہی نظروں میں مودبانہ سلام کرتا ہے۔
ایک دن صبح آفس جاتے ہوئے بس اسٹاپ پر مل گیا۔ اسکول یونیفارم پہنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے بڑا غصہ آیا کہ اس نے آج اسکول کی چھٹی کر لی۔ دل چاھا ایک تھپڑ رسید کردوں۔ میں نے پوچھا تو بولا “دیر سے آنکھ کھلی۔ ساری بسیں بھری ہوئی آرہی تھیں۔ گیٹ پر لٹکنے کی بھی جگہ نہ تھی۔میں غصہ میں تھا،بولا:
جب دیر سے اٹھو گے تو یہی ہوگا؟
کہنے لگا : رات چھوٹے بھائی کو بخار تھا۔ میں بھی جاگتا رہا۔یہ کہہ کر وہ گھر کی جانب چل دیا۔
میں چاھتا ہوں کہ وہ مجھے نظر نہ آئے۔ کبھی غصہ آتا ہے تو کبھی بہت جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ اس کی سنے بغیر خوب ہی سناتا ہوں۔ سوچتا ہوں ہر وقت کی ڈانٹ پھٹکار اچھی بات نہیں۔ کسی دن اس نے جواب دے دیا تو کیا عزت رہ جائے گی؟ مگر نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ وہ بدتمیزی نہیں کرے گا۔
گذری عید میں بھی دیر سے مسجد پہنچا۔ وہ مجھے مسجد کے باہر کھڑا نظر آگیا۔ اندر نمازِ عید ہو رہی تھی۔ مجھ سے نہ رہا گیا:
شرم کرو، عید کی نماز پڑھنے میں بھی جان جا رہی ہے کیا؟
کچھ دیر نظریں جھکائے خاموش کھڑا رہاپھر بولا: پاپا کو مت بتا دیجئے گا۔غصہ ہوں گے۔

ایک دن اس کی والدہ کے پاس گیا تو بولیں:
میں نے کہاکہ ہاں تم عید کی نمازنہ پڑھو اور وہ کچھ بھی نہ کہیں۔ بتانے لگا کہ وہ میرا کرتا چھوٹا تھا۔ صبح پہنا تو پتہ چلا۔ میں بھی تلا بیٹھا تھا “تمہاری کاہلی کی عادت جائے گی نہیں؟”۔ ایک دن امتحان کے دنوں میں ملا، گھبرایا لگا، بولا کہ کل انگلش کا پیپر ہے، پڑھا دیں گے۔ اب جو میں لے کر بیٹھا تو اسے تو Tenses تک نہ آتے تھے۔ Essay اور Active Passive تو بہت دور کی بات ہے۔جب میں نے اس کی کلاس لی تو بولا “اتنا تو کردیں کہ پاس ہو جائوں”۔ وہ اوسط درجے کا ذہین ہے مگر گھبرایا گھبرایا رہتا ہے۔ احساسَ کمتری کا شکار لگتا ہے۔دیکھنے میں بھی ذرا عجیب سا ہے۔ قد لمبا ہے اوراس پر دُبلا بھی ہے۔بولتا بھی تیز تیز ہے۔لوگ شارٹ ہینڈ میں لکھتے ہیں۔یہ شارٹ ہینڈ میں بولتا ہے۔
ذرا اسے سمجھائو۔ ہر وقت گھر میں چھوٹے بھائیوں سے ہنسی مذاق کرتا رہتا ہے۔ بڑا بھائی ہے، باپ کی جگہ ہے۔
میں اُن کی بات سن کر تو آگیا مگر سوچنے لگا کیا سمجھائوں اس کو۔ ابھی تو وہ خود اتنا چھوٹا ہے۔ باپ کی جگہ والی بات کہوں گا تو کہے گاـ:
کیا ہو گیا آپ کو۔۔۔ابھی سے میں پاپا کے برابر کہاں سے ہوگیا؟
اب میں اسے کیا بتائوں کہ ہمارے معاشرے میں پہلا بیٹا پیدا ہی باپ جتنا ہوتا ہے اور پھر ساری زندگی اسی میں گذار دیتا ہے۔بچپن میں ہی بزرگی کی چادر پہنا کر بچپن چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کے لئے اس نے کوئی محنت نہیں کی ہوتی ہے۔پیدا ہوتے ہی یہ اعزاز اس کی گردن میں ڈال دیا جاتا ہے جو وہ چاھے بھی تو نہیں اتار سکتا۔ باپ کی یہ وراثت مرتے دم تک اس سے کوئی نہیں چھین سکتا اور نہ ہی کوئی اس کا دعویٰ دار سامنے آتا ہے۔ہر قربانی کے جواب میں صرف ایک جملہ سنائی دیتا ہے”تو کیا ہوا۔بڑا بھائی ہے۔ باپ کی جگہ ہے، کوئی احسان تھوڑی کیا ہے؟”۔ بچپن میں بھی اس کی اپنی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔ چھوٹوں کا حق اس کی ہر چیز پر ہوتا ہے۔جب اسے دنیا سے اپنا حق لینے کی تربیت دینی چاہیئے۔ ہم اسے قربانی کے نام پر پیچھے ہٹنے کا عظیم درس دے رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس کچے ذہن سے بنیادی طور پر آگے بڑھنے کی طلب بھی تو چھین رہے ہیں۔ ہم اسے اپنی خواہشات میں ڈھال کرچھوٹوں کے لئے سیکیورٹی چاھتے ہیں لیکن دوسری جانب ہم ایک انسان کو قربان گاہ میں لے آتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آنا تو ہر ایک کی ذمہ داری ہے لیکن کسی ایک کو اس پوسٹ پر “ملازمت” دے دینا کہاں کا انصاف ہے؟
ایک دن وہ مجھے کرکٹ کھیلتے بچوں سے الگ تھلگ بیٹھا ملا، اداس تھا۔ میں خود ہی اس کے پاس چلا گیا۔ مجھے دیکھ کر وہ احترام میں اٹھ جایا کرتا تھا لیکن آج ایسا نہیں ہوا۔ میں نے بھی برا نہیں مانا اور خود ہی بات شروع کردی “امتحان ہونے والے ہیں۔ تیاری نہیں کی ہوگی؟”۔ بولا “اس میں میرا کیا قصور؟”۔ میں نے کہا “سارا قصور تمہارا ہے”۔ اس نے پہلی بار مجھے غصہ سے دیکھا “آپ کو بھی ناں، بس میں ہی نظر آتا ہوں۔ اس میں میری کیا غلطی ہے۔ مجھ سے پوچھتے تو صاف صاف منع کر دیتا”۔ مجھ سے بھی رہا نہ گیا، کہہ دیا”پڑھو گئے نہیں تو بڑے آدمی کیسے بنو گے؟”۔ آج وہ ہر بات کا جواب دینے کو تیار بیٹھا تھا “میں نے کوئی بڑا آدمی نہیں بننا۔ بڑا آدمی بن کر کیا کروں گا؟ سب کہتے ہیں تم پاپا کی جگہ ہو۔ پاپا کا کیا ہے اتنی محنت کرتے ہیں۔ ہم ہیں پھر اس کے بعد ہمارے چاچا ہیں، پھوپھی ہیں۔ سب کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاپا کے اپنے پاس کیا ہے دو پینٹوں اور شرٹوں کے علاوہ؟”۔ میں نے اسے بتانے کی کوشش کی کہ تمہارے پاپا بہت اچھے ہیں۔ سب کے کام آنے والے انسان ہیں۔ تمھیں ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ نقشِ قدم کا مطلب نہیں سمجھے گا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ بولا “چھوڑیں، نقشِ قدم کیا بننے ہیں۔ ایک ہی شوز ہیں ان کے پاس جو نیچے سے دو مرتبہ اتنا گھس چکے ہیں کہ پاپا کی جرابیں پھٹ جاتی ہیں۔ موچی نے بھی کہہ دیا کہ اپنے ابا کو بولو، نیا خرید لے۔ اب یہ لے کر مت آنا”۔ آج تو وہ مجھے حیران کئے جارہا تھا۔ میں نے اسے سمجھانا چاھا مگر وہ میری سننے کے موڈ میں ہی نہ تھا۔ کہنے لگا “آپ گھر میں سب سے بڑے ہوتے تو آپ کو پتہ چلتا۔۔۔ بڑا بھائی ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے”۔
میں خاموشی سے اٹھ کر چلا آیا۔ اب اسے کیا بتاتا کہ میں بھی گھر میں سب سے بڑا ہوں۔

Sunday, 13 October 2019

آئیں ! افواہ پھیلانا سیکھیں ۔ آرٹیکل # 42

Article # 42 


آئیں ! افواہ پھیلانا سیکھیں 

تحریر : اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)



یہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ کوئی بات پھیلانا منٹوں کی بات ہے۔ جتنی انسانی تاریخ پرانی ہے ، افواہ کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے ۔ افواہ کا مقصد ،تعین ، تانا بانا ، پھیلانے کا طریقہ کار اور ذرائع کااستعمال ۔افواہ ا نفرادی ہے یا اجتماعی ، ملکی نوعیت کی ہے یا عالمی ۔اس سب کی ایک سائنس ہے۔ 

افواہ عربی کا لفظ ہے ۔یہ عربی میں مذکر اور اردو میں مونث ہے۔ ہم اس کو خواتین سے معذرت کے ساتھ  مونث ہی لے لیتے ہیں۔ ہماری ہاں افواہ اڑائی جاتی ہے ۔ اردو میں اسے ہوائی بھی کہا جاتا ہے۔ شعر عرض ہے :

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی
یہ ہوائی  کسی  دشمن  نے  اڑائی  ہوگی 

آج کی مہذب دنیا افواہ کو پروپیگنڈا  کا نام بھی دیتی ہے۔ جسے سیاسی جماعتیں اور حکومتیں بھرپور طریقہ سے استعمال کرتی ہیں ۔ عالمی سیاست میں پروپیگنڈا جنگوں سے زیادہ کار گر ہتھیار ہے جس پر بے تحاشا پیسہ لگایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ پروپیگنڈے کے ہتھیار کو سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا گیا اور وہیں سے اس کی افادیت اور حاکمیت کا اندازہ ہوا۔

روزمرہ زبان میں اسے بے پر کی اڑانا بھی کہتے ہیں ۔ آپ لاکھ کہیں کہ میں کبھی کسی افواہ ، ہوائی یا بے پر کا حصہ نہیں بنا تو صاحب جس معاشرے میں قیام پذیر ہیں یہاں اگر یہ سب نہ تو زندگی میں مزہ ہی کیا ہے۔ ہمارے ہاں تو لوگ سچ کو چھپانے اور افواہ کو سچ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ شعور کا نہ ہونا اور وقت کی فراوانی افواہوں کی سب سے زرخیز زمین ہے۔ میں نے بڑے بڑے معقول لوگوں کو افواہ جیسے سستے شغل سے لطف اندوز ہوتے اور اسے یقین سے آگے بڑھاتے دیکھا ہے۔ افواہ سازی اور افواہ فروغی ہمارا قومی مزاج کا حصہ ہے ۔ 

افواہوں سے ہماری  تاریخ کا چہرہ بڑی طرح مسخ ہے۔ کوئی تردید و تصدیق کا پیمانہ نہیں ۔ شخصیت پرستی کے عذاب میں افواہیں حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں جس پر ہمارے کج فہم لوگ مرنے مارنے پر تیار ہوتے ہیں ۔ بادشاہوں تو خیر کرائے کے مورخوں سے نہ جانے کیا کیا کچھ لکھواتے رہے ہیں۔  ادب کافی حد تک اس سے محفوظ رہا ہے۔

ادب   کا  مظلوموں  کا  سرمایہ  ہے
اور تاریخ شہنشاہوں نے لکھوائی ہے

افواہ سازی اب ہمارے ملک میں منافع بخش  انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں زیر زبر پیش کے ساتھ ٹی وی چینلز ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ افواہ ساز بھی ہیں اور اپنے ہروگرامز کی ریٹنگ بڑھانے اور اس سے ٹی وی اشتہارات لینے کے لئے افواہ فروشی ہی کرتے  ییں۔
  
پہلے جب میں میڈیا اس حد طاقتور  نہیں تھا یا یوں کہہ لیں کہ تھا ہی نہیں تو یہ افواہیں سینہ بہ سینہ پھیلتیں جو کہ سینہ گزٹ بھی کہلاتیں ۔آئیں میں آپ  کو اپنے لڑکپن کے زمانے میں لے چلتا ہوں جب پہلی مرتبہ مجھے ایک افواہ ساز سے ملنے کا انتخاب ہوا۔  یہ کوئی اور نہیں میرا اسکول کا ہم جماعت تھا۔ جنرل ضیا الحق کا زمانہ تھا ۔ ایک دن وہ اور میں مارکیٹ گوشت لینے گئے۔ قصائی کے پاس بہت رش تھا۔ ہم دونوں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہوئے بولا:

 بھائی لالو کھیت (لیاقت آباد) میں ہنگامہ شروع ہو چکا ہے۔ پولس شیلنگ کر رہی ہے۔ 

 میں حیران کہ یہ اسے کیا ہوا ؟ میں نے حیرت کا اظہار کیا اور قویب تھا کہ کچھ بولتا ۔ اس نے میرا ہاتھ دبا دیا ۔ میں نے محسوس کیا کہ دکان پر کھڑے افراد اور قصائی بظاہر میرے دوست کی طرف نہیں دیکھ رہے لیکن سب کے کان اسی طرف لگے ہیں ۔ دوست نے ہنگامہ سے متعلق زیادہ تفصیلی گفتگو نہیں کی۔ 

اب ذرا تماشا دیکھیں ۔ ایک خاتون جو گوشت لینے میں بہت مین میخ کر رہی تھیں :

بالکل روکھا گوشت دو۔ چھیچھڑے نہیں لوں گی 

جیسا کہ عام طور مین میخیے گاہک  کرتے ہیں۔ ایک دو بار تو قصائی نے اس کی فرمائش پوری کی۔ آخر چڑ کر بولا : اماں جیادہ نخرے نہ کر ۔ جلدی لے لے جو لینا ہے۔ لالو کھیت میں بڑی جوروں کا ہنگامہ چل ریا ہے"۔ اس پر ساتھ کھڑے گاھک نے جو اس عورت کے فرمائشوں سے تنگ تھا، بول پڑا  ۔ خاتون نے جو یہ ماحول دیکھا تو خاموشی سے گوشت لے کر چلی گئیں ۔ باقی گاہک بھی زیادہ بحث میں نہیں پڑے اور ہم بہت جلد گوشت لے کر وہاں سے آگئے۔ میں نے افواہ ساز دوست سے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ ۔بولا دکان پر رش دیکھا تھا ۔ اگر یہ سب نہ کرتا تو گھنٹہ تو لگنا ہی لگنا تھا ۔ میں نے کہا : 

کیا فرق پڑتا ؟ 

بولا : اب تم دیکھنا کیسا فرق پڑتا ہے۔ یہ قصائی ہر گاہک کو الٹا سیدھا گوشت دے گا اور کہے گا " بھیا جلدی جلدی گوشت لے لو ۔ پتہ نہیں شام تک ہنگامہ پھیل نہ جائے۔ اللہ جانے کل دکان کھلے بھی کہ نہیں "۔اسی طرح ہر گاہک گھر اور محلے میں یہ افواہ ایسے  سنائے گا کہ جیسے خود ہنگامہ دیکھ کر آرہا ہے۔"۔

جب ہم کالج پہنچے تو اس وقت بھی جنرل ضیا ملک پر مسلط تھے۔ سیاست پر پابندی تھی۔ اخبارات سخت سنسر شپ کا شکار تھے۔ آدھے اخبارات خالی شائع ہوا کرتے۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد ان کی صاحبزادی صنم بھٹو کی شادی ہوئی تو اخبار میں سر شاہنواز بھٹو کی پوتی کی شادی کی مختصر سی خبر  شائع ہوئی۔

یہ بات تو خیر ضمننا آگئی۔ سیاسی جماعتیں جنرل ضیا زمانے میں بھی سینہ گزٹ خبروں اور افواہوں کے لئے عوامی مقامات استعمال کیا کرتے گو کہ اس میں بھی کافی خطرہ ہوتا ۔ ہمارے محلے میں ایک صاحب ہواکرتے تھے۔ عمر کوئی 60 سے اوپر ہوگی۔ ایک سیاسی جماعت کے سکہ بند کارکن تھے۔ ہمارے 2D سے کالج جانے اور ان کا کام پر جانے کا ایک ہی وقت تھا۔ بس سمجھ لیں جس کے ساتھ وہ بیٹھ گئے اس کی جان مصیبت میں ہوتی ۔پہلے برابر والے سے سلام دعا کرتے اور پھر اونچی آواز میں عوامی مسائل کا سہارا لے کر حکومت پر لعن طعن شروع کردیتے اور اس کے بعد جو افواہ اڑانا یا ان کی دانست میں پیغام دینا ہوتا دے دیتے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان کی کوئل جیسی آواز بہت اونچی تھی جو پوری بس میں گونجتی۔ یہ لوگ ان کو جانتے تھے ذرا ہٹ کر رہتے۔ میں تو جہاں ان کو دیکھتا بس کی دوسری طرف چلا جاتا ۔

افواہ پھیلانے اور اس کو سمجھنے کی بھی ایک سائنس ہے۔ بہتر ہے کہ آپ اس باخبر ہوجائیں اور اب آپ کی مرضی کہ آپ اس کی تشہیر میں ملوث ہوں یا  نہ ہوں ۔

افواہ کیا ہے ؟ بازای خبر جس کا کوئی سر پیر نہہں ہوتا ۔ لوگوں کو ارادی یا غیر ارادی طور پر دھوکا دینے کے لئے جھوٹ بولنا۔ افواہ کی کئی اقسام ہیں اس لئے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف اور فوائد بھی بڑھتے جاتے ہیں۔  

مقصد اور ہدف کے تعین کے بعد افواہ ایسی ہو جو کہ سنسنی پھیلا دے اور سننے والا بلا سوال و جواب اور تصدیق آگے سنانے کے لئے دوڑ پڑے۔ افواہ عوامی امنگوں کی آئینہ دار ہونی چاہیئے ۔اس میں نفع نقصان  دونوں کا پہلو ہو سکتا ہے۔ ہماری عوام دونوں افواہوں کو ایک ہی انداز سے لیتی ہے۔ افواہ بہت زیادہ بے پر کہ نہیں ہونی چاہیئے اس میں کسی حد تک یقینیت ہونا امر ضروری ہے۔ افواہ کو کبھی تفصیل سے نہ بیان نہ کریں ۔ افواہ جتنی سادہ ہوگی اتنی ہی تیزی سے جنگل کی آگ کی طرح پھیل گی۔ زیادہ پھندنے بازی کی تو افواہ اپنی موت آپ کو جائے گی۔

افواہ پھیلانے کے لئے لوگوں کا انتخاب بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بہت زیادہ  کھوجی اور پرتجسس لوگ افواہ سے متعلق سوال جواب شروع کردیتے ہیں جو کہ افواہ کے لئے زہر قاتل ہے۔ افواہ کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک تنہائی میں بتائی جائے اور تاکید کردی جائے کہ کسی کو ہرگز ہرگز نہ بتانا۔ افواہ کی برق رفتاری اور  یقینییت چیک کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس اپنے قریبی حلقہ احباب میں پھیلائیں اور دیکھیں یہ کب تک اور کتنی بدلی ہوئی شکل میں آپ تک پہنچتی ہے۔  افواہ میں جو اضافت ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ آپ نے عوامی خواہشات کا کتنا خیال نہیں رکھا۔ آئندہ  افواہ پر اس بات کا پوری طرح خیال رکھیں۔


Friday, 4 October 2019

کیا ہم ردعمل کی قوم ہیں ؟ آرٹیکل # 41

Article # 41




کیا ہم ردِ عمل کی قوم ہیں؟ 


ہنری ایک سوال چھوڑ گیا ہے


اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)


ایڈورٹائزنگ کی دنیا بھی عجیب ہے۔ آپ کو ملک و بیرون ملک سے بھانت بھانت کے لوگ ملتے ہیں۔ ان کے سوال آپ کو نئی راہ دکھاتے ہیں، متفکر کر دیتے ہیں۔ جن باتوں پر آپ کا دھیان بھی نہیں جاتا ہے وہ ان سے متعلق سوال پوچھ کرکچھ لمحوں کے لئے آپ کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ سوالوں کا جواب بن پڑتا ہے۔ کچھ کا آپ جواب تو دے دیتے ہیں۔ سوال کنندہ کو ممکن ہے مطمئن بھی کر دیتے ہوں مگر کہیں بے اطمینانی چھپی رہتی ہے۔

یہ 90 کی دھائی کا نصف تھا۔ ایک بڑے مشہور ملٹی نیشنل سگریٹ برانڈ کی کمرشل کی شوٹنگ کے لئے ڈائریکٹر ہنری کو آسٹریلیا سے اور کیمرہ مین اور اس سے متعلقہ افراد کو بنکاک سے بلایا گیا۔ ہنری مکمل طور پر ایک پروفیشنل ڈائریکٹر تھا۔ ٹی وی کمرشل کے اسکیچ کردہ فریمز اس کو پہلے پہنچا دیئے گئے تھے۔ صبح ہنری اور کیمرہ مین سے میٹنگ ہوئی۔ شام کو میوزک ڈائریکٹر کے پاس گئے تو ہمیں پہلی بار پتہ چلا کہ ٹی وی کمرشل کی پسِ پردہ موسیقی کے لئے گراف کے ذریعے بریف دی جاتی ہے جس میں ایک ایک سیکنڈ کا حساب ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہم لوگ میوزک ڈائریکٹر کو لوکل طریقے سے منہ زبانی بتا دیا کرتے تھے اور کام چل جاتا تھا۔
شوٹنگ پہلے کراچی اور پھر لاہور میں تھی۔ کراچی کے ایک مشہور کالج جو کہ قیام پاکستان سے قبل تعمیر ہوا تھا اس کے مین گیٹ کے سامنے پہلا سین تھا تاکہ پس منظر میں کالج کی پُرشکوہ عمارت نظر آسکے۔ پہلے ہی دن احساس ہو گیا کہ 45 سے 50 سال کی عمر کا حامل ہنری تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے ساتھ ایک محنتی ڈائریکٹر تھا۔ دوسری بات یہ کہ اسے کوئی بات پوچھنے میں کسی قسم کا عار نہیں تھا۔ ہنری کم گو ضرور تھا لیکن مشاہدے اور تجزیہ کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔ دراز قد ہونے کے ساتھ مضبوط جسامت رکھتا تھا۔
ٹی وی کمرشل تین حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلے حصّہ میں باپ اپنے بیٹے کے اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر بہت خوش ہے۔ شوٹنگ فریمز کے مطابق جاری تھی لیکن وہ مطمئن نہیں ہورہا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا کہ آپ کے کلچر میں باپ بیٹے سے اپنی انتہائی خوشی کا اظہار کس طرح کرتا ہے؟ آیا پیٹ تھپتھپاتا ہے، کاندھے پر ہاتھ رکھتا ہے یا سینے سے لگا لیتا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں ایسا کچھ ہی کرتا ہے۔ بولا کہ یہ سب کچھ تو ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے۔ کوئی ایسا Gesture بتائو جو تمھارے کلچر می ںبے ساختگی کے ساتھ ہوتا ہو؟۔ اب اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔
کچھ دیر بعد میرے ذہن میں وہ خیال آہی گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ محبت کے اظہار کا انتہائی طریقہ یہ ہے کہ باپ وارفتگی کے ساتھ بیٹے کا ماتھا چوم لیتا ہے۔ یہ آئیڈیا اس کو اچھا لگا۔ کہنے لگا کہ تم مجھے پرفارم ر کے بتائو۔ میں نے کیا۔ اس کو بہت پسند آیا اور بولا کہ ہم یہ بھی شوٹ کریں گے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لکیر کا فقیر نہ تھا۔ سوچتا تھا کہ بہتر سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔ ہم نے جس Company کو اس ٹی وی کرشل کے تمام تر انتظامات کے لئے Hire کیا تھا۔ ان کا بھی یہ پہلا بڑا کام تھا۔ تجربے کی کمی تھی اور کچھ مزاجاّ آنا کانی کی عادت تھی۔ شوٹنگ کے دوران شوٹنگ سے متعلق چیزیں، ڈائریکٹر کی شوٹنگ کے وقت کی ضروریات غرض کمپنی کو پوری شوٹنگ میں ایک پیر پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ کوئی بھی ایمرجنسی آسکتی ہے۔ نج سے تج سب کچھ انہیں کرنا ہوتا ہے جس کا انہیں بھاری معاوضہ دیا جاتا ہے۔
کراچی کے بعد ہم لاہور پریس کلب اور پھر کینو کے باغات میں شوٹنگ کے لئے لاہور سے قریب ایک بڑے باغ لاہور میں شوٹنگ کرتے رہے۔ انتظامات سنبھالنے والی کمپنی کی جانب سے ہمیں ایک ہی روش کا سامنا رہا۔ ہم اکثر اوقات غصے میں آجاتے اور انہیں خوب ہی برا بھلا کہتے مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس سستی اور کاہلی کا اصل وصول کنندہ ہنری تھا مگر وہ خاموش رہتا جس پر ہم اس کے صبر کی داد دیتے اور کبھی اس صبر کو پرفیشنل ازم کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ہنری اپنے کام سے کام رکھنے والا آدمی تھا۔ لاہور میں شوٹنگ کے آخری دن اس نے یہ ثابت بھی کردیااور ہم سب کے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیئے۔ سب ہوٹل آگئے لیکن ہنری نہ آیا۔ ہم سب پریشان کہ ہنری کہاں چلا گیا۔ کافی دیر بعد ہنری آیا تو اس کے ہاتھ میں لکڑی کے مختلف چھوٹے بڑے ٹکٹرے تھے۔ ہم حیران کہ یہ کیا اٹھا لایا۔ پوچھا تو بتایا کہ وہ فری لانس ڈائریکٹر ہے۔ سال میں ہر وقت تو کام ہوتا نہیں اس لئے اپنے فارغ وقت میں وہ فرنیچر ڈیزائن کر کے خود ہی بناتا اور فروخت کرتا ہے۔ اس لئے وہ ڈرائیور کو لے کر اکیلا ہی لاہور کی ٹمبر مارکیٹ گیا تھا۔ ممکن ہے کہ وہ کچھ لکڑی پاکستان سے خرید بھی لے۔
ہم واپس کراچی آگئے۔ کراچی میں ایک اسپورٹس کمپلیکس میں شوٹنگ کا آخری دن تھا۔ اس نے انتظامات سنبھالنے والی کمپنی سے کسی آدمی سے کچھ لانے کو کہا۔ وہ نہ لایا۔ شوٹنگ رکی رہی۔ اب ہنری کا صبر جواب دے گیااور اس نے انگریزی کی بہت عام سے گالی بک ہی دی۔
اس کے بعد بہت دیر تک معذرت کرتا رہا۔ اب اسے کیا پتہ کہ شوٹنگ کے دوران کس طرح بے حساب مغلظات بکی گئی ہیں۔ اخلاقیات کے دریا بہائے گئے ہیں۔ زبانوں کو کس کس طرح پوتر کیا گیا ہے۔
شوٹنگ ختم ہوئی تو سب Relax کر گئے۔ شام ہوچلی تھی۔ گرم گرم چائے تھکن اتارنے میں مصروف تھی کہ ہنری نے ایک سوال داغ دیا:

initiate آپ لوگ کسی کام کو خود سے کیوں نہیں کرتے؟

میں نے کہا : کیا مطلب؟

کہنے لگا:
پوری شوٹ میں جب تک کہا نہ گیا کسی نے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ کب کس کام کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی چیز مانگی گئی۔ پہلے تو کوئی آیا ہی نہیں اور جب کوئی ایک آیا تو اس کی دیکھا دیکھی دس لوگ دوڑ پڑے۔
میں خاموش رہا کیونکہ پوری شوٹ میں، میں خود اس کا گواہ تھا۔ ہنری نے کسی دانشور کی طرح میرے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں ایسی قوموں کو ردِ عمل کی قومیں کہا جاتا ہے۔ ایسی قومیں کبھی پہل نہیں کرتی ہیں۔ جو کچھ بھی کرتی ہیں کسی دوسرے کے عمل کے ردِ عمل میں کرتی ہیں۔ اس لئے ان کی ترقی کی رفتار سست ہوتی ہے یا پھر ہوتی ہی نہیں۔
میں نے اپنے طور پر وہ تمام دلائل دیئے جو اس بات کو ثابت کرتے کہ ہم ردِ عمل کی قوم نہیں ہیں۔ ممکن ہے ہنری مطمئن ہوگیا ہو لیکن میں نہیں۔ ماضی کے جھرونکے میں جھانکوں تو لگتا ہے کہ اس نے صحیح کہا ہے لیکن پھر پاکستانی دل کہتا ہے کہ کسی بہکاوے میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ تم ایک بے مثال، باکمال قوم کے فرد ہو۔ مطمئن ہونے کی کوشش تو کرتا ہوں لیکن جب ملک کی حالت ِزار دیکھتا ہوں تو پھر ہنری کا سوال میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر کسی کے پاس کوئی واضح جواب ہے تو بتائے؟

Monday, 30 September 2019

قصہ ایک سیاسی پوسٹر کا جس نے ہمیں "شہر بدر" کردیا۔ آرٹیکل نمبر 40



Article # 40



قصہ ایک سیاسی پوسٹر کا 

جس نے ہمیں ’’شہر بدر‘‘ کر دیا



 اظہر عزمی

ایک اشتہاری کی باتیں


ہمارے کالج کے دن تھے اور دن رات ملک میں جنرل ضیا الحق کی حکمرانی تھی۔ سیاست پر پابندی اور “میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند” والے سیاست دان اور ورکرز پابند سلاسل تھے۔ پیپلز پارٹی حکومت کی خاص “مصلوب نظر ” تھی۔ ملک میں جو اصل جیالے تھے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔ باقی خاموش تھے یا اندرون خانہ جنرل ضیا کے پیچھے تھے۔ ان میں کچھ اپنی حلف برداری کی شیروانیاں سلوانے کے لئے درزی ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ یہ درزی اقتدار کی غلام گردشوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔
ابتلا کے اس دور میں بھٹو کے اصل جیالے جانوں کی پروا کئے بغیر حکومت کے سامنے سینہ سپر تھے۔ ان میں ایک نام کراچی کے مسرور احسن کا تھا۔ ہماری ان سے واقفیت تو دور کی بات کبھی دور کی سلام دعا بھی نہ رہی البتہ ان کے ایک رفیق اور پارٹی ورکر اسد نقوی ہمارے چھوٹے بھائی وجاہت عباس (بزمی) کے قریبی دوست تھے۔ اسد کو ہم بچپن سے دیکھ رہے تھے۔ سیدھا سادا لڑکا، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے سیاست آ لپٹے گی۔
مسرور احسن جیل چلے گئے۔ اسد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مسرور بھائی کی رہائی کے لئے ایک پوسٹر لکھنا ہے۔ خیال رہے کہ ابھی ہم خود کالج میں پڑھ رہے ہیں۔ ۔ سیاست کا ہمیں بچپن سے شوق تھا مگر سیاست دانوں سے قربت یا سیاست میں عملی طور پر حصہ کبھی نہیں لیا۔ اسد نے کہا اور ہم نے پوسٹر لکھ دیا۔ ہمارا خیال تھا کہ اسد کا یہ جذباتی رویہ ہے جو کہ وقتی ہے اور نہ ہی پوسٹر نے چھپنا ہے۔ پوسٹر کے لئے پہلے رہا کرو کا روایتی نعرہ لکھا اور اس کے بعد دو شعر داغ دیئے جو اللہ جانے کس کے تھے:
جذبات کے اظہار پہ پہرے نہ بٹھاو
خاموش رہو گے تو گھٹن اور پڑھے گی
گو منزل مقصود ابھی دور ہے لیکن
رک جائے مسافر تو تھکن اور بڑھے گی
ایک دن کیا دیکھتے ہیں کہ یہ پوسٹر دیواروں پر چسپاں ہو چکا ہے۔ ہم تو ڈر گئے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ والد صاحب کے علم میں اگر ہماری یہ کارروائی آگئی تو پہلے “چھترول” یہیں ہوجائے گی۔ وہ تو خیر جو ہونی تھی سو ہونی تھی (یہ بات کبھی والد صاحب کے علم میں ہی نہیں آئی)۔ اصل جان یہ نکلی جارہی تھی کہ اگر پوسٹر کی چھان بین ہوئی تو صاحب السطور کا نام بھی آئے گا۔ ہم کوئی حبیب جالب تو نہ تھے جو کہہ اٹھتے:
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
سوچا کیا کریں؟ پہلے اپنے آپ کو خوب ہی برا بھلا کہا کہ ضرورت کیا تھی یہ سب کرنے کی۔ محلے میں تعزیتی اشتہارات لکھ کر اپنا شوق پورا کر لیا کرو۔ علاقہ میں مختلف تنظیموں کے مجلے چھپتے رہتے ہیں وہاں اپنے فن کے جوہر دکھا دیا کرو۔ اتنا ڈرتے ہو تو پھر یہ سب لکھتے کیوں ہو۔ بڑا دماغ لڑایا۔ دوستوں نے بھی مشورہ دیا کہ کارزار سیاست کی تم دھوپ بھی نہیں سہہ سکتے چے جائیکہ کہ قید و بند۔ جن سے مشورہ لیا وہ ہم سے چار ہاتھ زیادہ ڈرپوک نکلے۔
ذہن میں میں آیا کہ خیر چاھتے ہو تو خیرپور چلو۔ والدہ کو کہا کہ بہت دنوں سے ماموں سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ والدہ خوش ہوگئیں کہ پہلی دفعہ بھانجے کو ماموں کی یاد ستائی اور یوں ہمیں خیرپور میرس جانے کے لئے کرایہ و دیگر اخراجات کی مد میں چند روپے دے دیئے گئے۔ اب ہماری منزل مقصود ہمارے ماموں کا گھر خیرپور میرس تھا۔

کچھ دن وہاں رہے لیکن چھوٹے شہر میں تو دن کاٹے نہیں کٹتا۔ طبیعت بھر گئی۔ کراچی کا خیرپور میرس سے کوئی موازنہ ہی نہیں گو کہ یہاں کہ لوگ بہت مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ ماموں کا گھر شہر کے بیچوں بیچ شاھئ بازار میں تھا۔ دو قدم بھرے اور شہر کے مرکز اور سب سے با رونق مقام پنج گلہ پہنچ گئے۔ بس یہی وجہ ہے کہ چھوٹے شہروں میں کوئی فاصلہ فاصلہ ہی نہیں ہوتا اسی لئے وقت رکا رہتا ہے۔ کراچی میں ہوں اور ایک چکر ٹاور کا بس میں لگا لیں۔ پھر دیکھیں وقت کیسے پر لگا کر اڑتا ہے اور آپ کہیں آنے جانے کے قابل نہیں رہتے۔
چلیں واپس چلتے ہیں اپنے مسئلے کی طرف، کراچی سے باہر نکلے تو ڈر کم ہوا اور یہ احساس ہوا کہ جتنا ڈر رہے ہیں۔ اس ڈر کے ساتھ کراچی میں بہ حفاظت رہ سکتے ہیں۔ اب خیرپور کاٹنے کو دوڑنے لگا۔ ہم پندرہ دن رہنے کے لئے گئے تھے جب ہم نے پانچویں دن صبح ناشتے پر رات سکھر ایکسپریس سے واپس کراچی جانے کا مژدہ سنایا تو ماموں ممانی منہ دیکھتے رہ گئے۔ ماموں کم گو تھے۔ بس اتنا ہی بولے:
’’کچھ دن اور رک جاتے تو اچھا تھا‘‘
ممانی بولیں:
’’اے بھیا، ہم نے تو سنا تھا ماموں کی محبت میں تڑپے جا رہے تھے۔ یہ پانچواں سورج کیا چڑھا۔ ماموں کی ساری محبت دھری کی دھری رہ گئی۔‘‘
اب کسی جذباتی تقریر کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ رات افضال رکشہ والے کے ساتھ اسٹیشن آئے اور اگلی صبح کراچی پہنچ کر اپنی خود ساختہ “شہر بدری” کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

Friday, 20 September 2019

ہم سب ثی بیگ ہی تو ہیں ۔ آرٹیکل نمبر 39

Article # 39



ہم سب ٹی بیگ ہی تو ہیں۔
تلخ تجربات ، مشکل حالات آپ کو بنا دیتے ہیں ۔

تحریر : اظہر عزمی 
(ایک اشتہاری کی باتیں)




کچھ عرصہ سے مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی ٹی بیگ والی چائے کا رواج چل پڑا ہے جسے عرف عام میں لوگ تعویز والی چائے بھی کہتے ہیں ۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک جگہ جانے کا اتفاق ہوا توٹبیگ والی چائے میرے سامنے رکھ دی گئی ۔ میے ٹی بیگ سے رنگ ،خوشبو اور ذائقہ کشید کرنے کے لئے اسے بار بار  گرم پانی میں ذبکیاں دینے لگا ۔ اس کا رنگ کھلتا چلا گیا اور خوشبو نے بھی اپنا رنگ جما دیا ۔ پہلے ہی گھونٹ میں ذائقہ بھی بہتر لگا ۔  ایک دم خیال آیا کہ ہم سب بھی تو ٹی بیگ ہی ہیں ۔ انگریزی میں Hot Water سے مراد مشکل حالات ہوتے ہیں ۔ اگر آپ  اردو میں اسی معنی کے ساتھ بات سمجھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب تک آپ مشکل حالات کا سامنا نہیں کریں گے آپ خود کو پرکھ نہیں پائیں گے۔ اپنے آپ کو دریافت نہیں کر پائیں گے ۔ 

بات تو دل کو لگی مگر پھر ذہن میں آیا کہ میرے اپنے پاس اس کے لئے کوئی حوالہ بھی ہے ۔ ذہن کو ٹٹولا۔ تو پھر وہی 1988 نکل کر سامنے آگیا ۔ پھر میں سوچنے لگا کہ اس سال نے میرے سوچ کے زاوئیے بدل دیئے ۔ زندگی کو بند گلی سے نکال کر عملیت پسندی کی شاہراہ کا مسافر بنا دیا۔ جذباتیت کی جگہ عملیت نے لے لی۔ عزت کے نام پر قائم نام نہاد خیالات  اپنی موت آپ مرنے لگے ۔ پھر اور بھی بہت کچھ سمجھ میں آنے لگا ۔ منافقت اور مصلحت ، سیاست اور حکمت ، قناعت اور کاہلی ، انا اور عزت نفس کے درمیان کا بال برابر کا فرق  شعور کے Magnifying Glass لگا کر بہت بڑا لگنے لگا۔

 آئیے ! ٹی بیگ کے حوالے کے لئے چلتے ہیں ایک ہفتے چلنے والی اپنی پہلی ملازمت کے بعد اپنی دوسری جائے ملازمت پر ۔ابھی تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا سب سے بڑا کلائنٹ چلا گیا ۔ اب پتہ نہیں یہ ہمارے نیک قدموں کا کیا دھرا تھا یا ایجنسی کا برا وقت ہی شروع ہوچکا تھا۔ایک بڑے کلائنٹ پر چلنے والی ایجنسیز ایک دم ہی نیچے آتی ہیں ۔ کاسٹ کٹنگ کی باتیں شروع ہوتی ہیں ۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مشورہ وہ ملازمین دیتے ہیں کہ جو بڑی بڑی تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں ۔ چھری چلتی ہے تو کم تنخواہ والے نئے ملازمین یا نچلے درجے کے اسٹاف پر  جو کئی سالوں سے کم آمدن پر گھر کا راشن پورا کر رہے ہوتے ہیں ۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ زندگی میں پہلی مرتبہ ہم یہاں پہلے نمبر پر آگئے۔ تذلیل کا سنہرا موقع ہاتھ دکھانے کو تیار تھا ۔ مسئلہ یہ رہا کہ جو صاحب لائے تھے ان کی وجہ سے براہ راست تو کچھ نہ کہا گیا لیکن اوچھے ہتھکنڈے کا استعمال کیا گیا  یعنی کہ ہمیں گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ٹین والی چھت کے استقبالیہ (ریسیپشن) پر  ریسیشنسٹ کم ٹیلی فون آپریٹر کی جگہ پر بیٹھنے کا کہہ دیا گیا گو کہ اس کام کے لئے پہلے سے خاتون  موجود تھیں  ۔ اب اللہ جانے اس خاتون کو حالات کا اندازہ ہوگیا تھا ۔اس نے تنخواہ لی اور پھر آفس کا منہ نہ دیکھا اور ہمیں اس عہدہ جلیلہ پر ہونق افروز کر دیا گیا ۔ مانا کہ ہم شعبہ تخلیق میں نووارد تھے مگر اس تکلیف کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ تخلیق کاری میں ہمارے لیے یہ تخریب کاری چھپی ہو گی کبھی نہ سوچا تھا ۔ سوچتے بھی کیسے ؟ ہمیں تو تخلیق میں سوچ کے نئے دروازے وا کرنے کے لئے رکھا گیا تھا ۔

اب تک تو لکھتے ہوئے مجھے بھی لطف آرہا ہے ۔ قلم اپنا ہی مذاق اڑاتے ہوئے بہت چہچہا رہا ہے لیکن اس کے بعد اذیت ، شرمندگی ، خجالت اور نہ جانے کون کون سے لفظوں نے دماغ کو ماوف کرنا شروع کردیا ۔ 8 گھنٹے کی ملازمت کیا تھی کوئے ملامت تھی ۔ اب افتخار عارف کا مصرعہ یاد آرہا ہے۔

رزق واجب ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

ہم محفل گریز ، تنہائی پسند اور اکھڑ پیدائشی ہیں اس لئے اس کام کے لئے  انتہائی ناموزوں تھے۔ آفس کے لوگ آتے جاتے عجیب نظروں سے دیکھتے تو خود سے بڑی شرمندگی ہوتی ۔ وزیٹرز کا آنا زہر لگتا ۔ بھائی جب ایجنسی میں کام نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے تو آتے کیوں ہو ؟ مگر ہماری سنتا کون؟

میں دو تین دن میں ہی  اس صورت حال سے بہت کبیدہ خاطر ہو گیا ۔ ہمت جواب دینے لگی۔  ایک دن مصمم ارادہ کیا کہ بس آج آخری دن ہے ۔کل سے پھر گھر گھسنے ہوجائیں گے۔ میرے پاس ملازمت چھوڑنے کی بہت واضح وجہ موجود تھی ۔ گھر والوں کو بتاتا اور اپنی اور اپنے خاندان کی اعلی نسبی کا رونا روتا تو والدین کہتے کہ کل سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔یہ تو سیدھی سیدھی بے عزتی ہے ۔ سب کچھ میری موافقت میں تھا لیکن پھر ذہن نے پلٹ کھایا۔ یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ جب میں نے حالات اور مستقبل کا دور رس جائزہ لیا اور یہ طے کیا کہ یہاں سے بھاگ جانا اس وقت فرار پسندی سے زیادہ کچھ نہیں ۔اگر میں آج بھاگ گیا تو زندگی بھر نامساعد حالات دیکھنے ہی راہ فرار اختیار کروں گا ۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے زندگی بھر کے لئے تو ریسپشن کی سیٹ پر نہیں بٹھایا گیا ۔ یہ صورت حال وقتی ہے مگر یہی کل وقتی تجربہ بھی دے رہی ہے جو زندگی میں میرے بہت کام آئے گا ۔ اب میں اسی سیٹ پر ایک بالکل بدلا ہوا انسان تھا۔

میں نے طے کر لیا تھا کہ اس سیٹ پر نئی ملازمت تلاش کرنا آسان رہے گا ۔ اس زمانے میں (1988) میں ٹیلی فون ہی سب کچھ تھا ۔ کون تھا مجھے روکنے والا  اب میں  فارغ وقت میں ٹیلی فون ڈائریکٹری  میں سے مختلف ایڈورٹائزنگ ایجنسیز میں بے دھڑک فون ملا دیا کرتا اور وہاں  ملازمت سے متعلق پوچھتا ۔موقع ملتا تو وہاں کے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں بھی کسی سے بات کر لیا کرتا ۔ ملازمت ملے نہ ملے مگر ان کے ذہن میں کہیں نہ کہیں میرا نام پڑا رہ جاتا ۔فریڈرک صاحب سے بھی رابطہ اسی طرح ہوا تھا۔ انڈسٹری میں کافی افراد ایسے ہیں جن سے بعد میں میری بہت اچھی رفاقت رہی اور آج بھی ہے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ میری ان سے پہلے بات ٹیلی فون پر ہوئی جب میں ملازمت کی تلاش میں تھا ۔ 

خیر ایک دن ندیم فاروق پراچہ کو  فون ملا دیا ۔ اس کہا کہ تم نے بڑے موقع سے فون کیا ۔ ہمارے ہاں جگہ خالی ہے ۔ کل سیکنڈ ہاف میں آباد ۔میں تمہارا انٹرویو کرا دیتا ہوں ۔ اندھا کیا چائے دو آنکھیں ۔ہم دوسرے دن وہاں پہنچے ، انٹرویو ہوا اور اسی وقت چھ سو روپے اوپر ملازمت کی پیشکش کر دی گئی مگر شرط یہ رکھی گئی کہ فورا آنا ہے ۔

انکار کی گنجائش کہاں سے ہوتی ۔پہلی والی ایجنسی میں تو ہمارے بیٹھنے کی جگہ نہیں بن رہی تھی ۔ انٹرویو 14 تاریخ کو ہوا اور 15 سے ہم نے نئی ایجنسی جوان کر لی ۔ پرانی ایجنسی سے 14 دن کی تنخواہ لینے بھی نہیں گئے ۔ نہ انہوں نے پلٹ کر پوچھا اور نہ ہی ہم نے کبھی کوئی رابطہ کیا ۔ 

اگر میں حالات کے زیر اثر آکر فرار اختیار کرتا تو ممکن ہے یہ سب نہ لکھ رہا ہوتا ۔ واقعی ہم سب ٹی بیگ ہیں جنہیں ایک نہ ایک دن زندگی کے گرم پانی میں ٹی بیگ کی طرح اتر کر ڈبکیاں کھانی ہوتی ہیں ۔ میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ جو شخص زندگی میں برا وقت نہیں دیکھتا وہ اچھا وقت بھی نہیں دیکھتے ۔زندگی بس روٹین میں ہی چلتی رہتی ہے۔

Tuesday, 20 August 2019



Article # 32
(In Roman Urdu/ Hindi)



Janazay gate se nikaltay hain

Laikin rooh to gate se andar nahi aati

Magar aik maa nahi manti

Writer: Azhar Azmi
(Aik ishtehari ki batein)



Yeh waqt bhi ajeeb hai. kahin khushion ke mailon mein Khanakti hansi hoti to kahin gamoon ki saf e maatam mein noha kinaan cheekhain aur dil cheer dainay wali shiskiyan rooh taq ko jhnjorh deti hain. waqt woh kuch kar guzarta hai ke hum sochen to saans ruki ki ruki reh jaye magar jab guzarti hai to saans chalti rehti hai. yahi karkhana e qudrat ki hikmat hai .


Meri aik Aziza hain. bewa hain. pehlay jawan beta do betay chore kar manon matti taley ja soya hai aur do teen saal mein baap ne isi qabrustan ki aik qabar ko abad kardiya .


Jab betay ka intqaal hoa to hamari yeh Aziza har jumaraat maghrib ke waqt ghar ke barray gate ka chhota pitt halka sa khol ke baith jaya karti theen. mumkin hai ab abhi aisa karti hon. aik din mein isi waqt un ke paas betha tha. mein ne be pardaghi ke khayaal se gate ka pitt bhairna chhah to bolein" nah beta yeh band nah kar woh aata hoga ". mein ne kaha aaye ga to darwaaza khut khatta le ga" bolein" ab darwaaza kahan khut khatata hai" mera khayaal tha ke woh apne chhootey betay ki baat kar rahi hon gi jis ke office se anay ka waqt ho chala tha. chand lamhay khamosh reh kar bolein" aaj jumaraat hai. dekh mein ne bead wala kamrah bhi saaf suthra kardiya hai" .


Mein ne kaha kis ki baat kar rahi hain. chhota beta to oopar rehta hai ". bolein" aaj jumaraat (Thursaday) hai. is ( barray betay ) ki rooh aaye gi. mein har jumaraat ko isi terhan gate ka pitt khula rakhti hon. darwaaza band dekh kar kahin chali nah jaye aur dekh is ka bead room bhi saaf suthra kar ke rakhdiya hai. aaye to kuch der aaraam kar le ". mein ne kaha ke aap andar hi baith jaya karen. bolein" nahi mein chahti hon ke jab woh gate se andar aaye to sab se pehlay mujhe dekhe ". mein ne kaha ke chalein woh dekh laita hoga magar aap kaisay dekhatii hon gi. barray yaqeen se kehnay lagen" woh jaisay hi aata hai mujhe pata chal jata. maa hon, khusbhoo ajati hai. chehra to har waqt meri nigahon mein rehta hai. aakhri baar woh isi gate se to bahar gaya tha. ab bta mere paas nahi aaye ga to kahan jaye ga" .


Ab mein un ko kya batata ke janazay gate se jaya karte hain. rooh ko kisi gate / darwazay kayi kahan zaroorat hoti hai lekin mein aik maa ki mohabbat gate har rokna nahi chahta tha. mera suber jawab day raha tha. is liye khamoshi se uth kar agaya. jatay jatay bolein" arrey ruk! kahan ja raha hai. woh aata hoga. tujy bhi dekhe ga to bohat khush hoga ". unhon ne itnay pyar se kaha ke kuch kahe bana jana buri baat thi. mein ne bahana kya ke mujhe aik zurori kaam yaad agaya. bolein" dekh ab yeh jumaraat jaye gi to agli jumaraat ki aas mein din ginu gi" .


Mein chahte hue bhi nah ruk saka aur num aankhon ke sath gali mein aa khara sun-hwa aur sochnay laga ke jin ke betay un ki aankhon ke samnay abdi rakhat safar bandh len woh zindah kaisay rehti hain? saans kaisay layte hain? jawab khud hi agaya inhi yadoon kay saharay geeti aur sanas laiti hain.

Saturday, 10 August 2019

میرا اینٹی لائس کا ایک ٹی وی کمرشل جو انڈیا میں کاپی ہوا ۔آرٹیکل # 38






آرٹیکل # 38

میرا اینٹی لائس کا ایک ٹی وی کمرشل 
جو انڈیا میں کاپی ہوا۔



تحریر : اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)

اگر آپ کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے بالخصوص شعبہ تخلیق  سے ہے تو پھر تیار رہیں جہاں انڈیا کا کوئی اچھا ایڈ آیا ۔ آپ کو سب سے پہلے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا ۔

"ایک بات بتائیں ان لوگوں کے ایڈز ( ٹی وی کمرشلز ) اتنے سیدھے ، سچے اور سادے کیوں ہوتے ہیں ؟ آپ لوگوں کا دماغ نہیں چلتا کیا ؟"

کبھی کبھی تو ایک طولانی اور لاحاصل بحث کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ آپ لاکھ تاویلیں دیتے رہیں ۔ اپنی مجبوریاں بتاتے رہ جائیں مگر سامنے والا کان دھرنے کو ہی تیار نہیں ہوتا ۔آخر میں جواب میں یہی کہتا ہے کہ بھائی یہاں وہاں سب کچھ ایک جیسا ہے ۔آپ کچھ بھی کہو ۔ہمارے پہلے کے ٹی وی اشتہار کسی طرح ان سے کم نہ تھے اور ساتھ ساتھ کوئی مشہور ٹی وی جنگلز گنگنائے لگتا ہے ۔

میں اس بات سے قطعا انکاری نہیں ہوں کیونکہ ٹی وی دیکھنے والے کو جو اچھا ہوتا ہے وہی اچھا لگتا ہے ۔ وہ اس کی سائنس اور فلسفہ میں نہیں پڑتا ہے۔ 

آج دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ سب کو سیکنڈوں میں سب پتہ چل جاتا ہے ۔ گذرے زمانہ کے لئے بھی آرکائیوز کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فنون لطیفہ خاص طور ٹی وی کمرشلز کی چوریاں تو اب پکڑی گئی ہیں اور خیر سے پکڑی جا رہی ہیں مگر اب معاملہ چوری اورسینہ زوری کا ہوگیا  ہے ۔ یہ سارا کریڈیٹ انٹرنیٹ کو جاتا ہے کہ جس نے بہت کچھ طشت از بام کردیا ہے ۔ بڑے بڑے قابل اتباع  طرم خان جن کا کبھی توتی بولتا تھا اگر آج پکڑے جاتے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے۔ مگر کس تھانے میں بند ہوتے۔ کون سی دفعہ لگتی ۔ بات دفع کرو پر آکر ختم ہوجاتی ۔ 

 یہ تو ہمارے مصائب و آلام  ہوگئے مگر ہم جیسے لوگوں کی ساری خوشیاں بھی یہاں رکھی ہیں ۔عام افراد کو شاید اندازہ نہ ہو کہ جب کوئی اشتہار خاص طور پر ٹی وی اشتہار مشہور ہوتا ہے۔ زبان زد عام ہوتا ہے۔ اس کی کوئی ایک لائن محاورے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے ، اس کا جنگل عوام سے سند قبولیت حاصل کرتا ہے۔ لڑکیاں تفریح کے طور شادی بیاہ میں گاتی ہیں۔ راہ چلتے بچے گنگناتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں ،اس میں اپنے Additions بمطابق حالات کر رہے ہوتے ہیں تو پردے کے پیچھے چھپے اس کریٹیو کی خوشیاں دنیا کے کسی ترازو میں نہیں تولی جاسکتیں۔ بڑے سے بڑا ڈیپارٹمنٹ اسٹور اس کی قیمت نہیں بتا سکتا ۔ کسی بھی بینک سے دولت کا یہ چیک کیش نہیں کرایا جاسکتا۔ سرور و کیف کی اس منزل تک دنیا کا کوئی مہنگے سے مہنگا نشہ نہہں لے جاسکتا ۔

ذرا سوچیں ! جب یہ نشہ شراب کی پرانی بوٹل میں پڑوس (انڈیا)  سے نکل آئے تو نشہ کیسا دو آتشہ ہوجاتا ہوگا۔ یہ 2014 کی بات ہے ۔ میں ان دنوں شارجہ میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ مقیم تھا ۔ فارغ وقت زیادہ تر ٹی وی دیکھ کر گذرتا ۔ یہاں کوئی 200 کے قریب بھانت بھانت کے چینلز آیا کرتے ۔ انڈین چینلز بھی کافی آیا کرتے۔  کبھی کبھی بہت اچھی انڈین فلمیں آیا کرتیں لیکن بات وہئ تھی کہ دل بہت زیادہ فلموں کی طرف مائل نہ رہا تھا ۔

ایک دن میں کوئی انڈین فلم دیکھ رہا تھا جو پھولن دیوی یا اس سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی ۔ فلم ایک ایسی لڑکی کے اردگرد گھومتی جو زیادتی کا شکار ہوئی اور پھر  پوری فلم میں سر پر پٹی باندھ کر انتقام کی آگ میں اندھی رہی ۔ یہ فلم خاصی دلچسپ تھی ۔ نام مجھے بالکل بھی یاد نہیں ۔ فلم کے وقفہ کے دوران اشتہار چلتے ۔کوئی اچھا اشتہار ہوتا تو دیکھ لیتا ورنہ ریموٹ جیسا قاتل میرے ہاتھ میں تھا ۔ دوران فلم ایک وقفہ آیا تو ایک ایسا اشتہار چلا جو مانوس مانوس سا لگا ۔ اشتہار ایک اینٹی لائس لوشن ( سر کی جوئیں اور لکھیں مار) کا تھا جس میں اسکول کے بچے بچیوں کو دکھایا گیا تھا ۔ جب ٹی وی کمرشل  میں یہ لائن آئی:

سر سے سر ملا
جووں اور لیکھوں کو نیا گھر ملا 

توسب کچھ میری ذہن کے پردے پر چلنے لگا ۔ ارے یہ تو وہ میرا وہ ٹی وی کمرشل تھا جو میں نے 90 کی نصف دھائی میں لکھا تھا اور  پاکستان میں کافی چلا تھا ۔ میں حیران تھا اور ہوں کہ یہ اس  زمانہ کا اشتہار ہے جب انٹر نیٹ پاکستان میں نہیں آیا تھا شاید انڈیا میں  بھی نہ آیا ہو ۔ جو اپنا کاپی شدہ انڈین کمرشل میں نے دیکھا اس کا پرنٹ بھی بتا رہا تھا کہ یہ  وہاں کا بھی پرانا  کمرشل ہے۔ 

ایٹی لائس لوشن کا یہ کمرشل تو 30 سکینڈ میں ختم ہوگیا پھر میں نے نیٹ پر اپنا یہ ایڈ سرچ کرنا شروع کردیا کہ یو ٹیوب وغیرہ پر مل جائے مگر نہیں صاحب دور دور تک نام ونشان نہیں پھر میں نے انڈیا کے اینٹی لائس کے ایڈز دیکھے مگر کوئی پتہ نہیں چلا ۔ سوچتا ہوں اس زمانہ میں یہ ایڈ کاپی کیسے ہوا ؟ حوالہ کے لئے ایڈ کی دو  لائنیں بھی لکھ دی ہیں ۔ ممکن ہے یہ ایڈ کسی کو یاد ہو ۔ یقینا یہ کوئی ایوارڈ وننگ ایڈ نہ تھا مگر صرف حوالہ کے لئے بتا دیا ہے  کہ ہم بھی کاپی ہوتے ہیں ۔

عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91

Article # 91 رنج و مزاح  عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں  تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...