Monday, 30 September 2019

قصہ ایک سیاسی پوسٹر کا جس نے ہمیں "شہر بدر" کردیا۔ آرٹیکل نمبر 40



Article # 40



قصہ ایک سیاسی پوسٹر کا 

جس نے ہمیں ’’شہر بدر‘‘ کر دیا



 اظہر عزمی

ایک اشتہاری کی باتیں


ہمارے کالج کے دن تھے اور دن رات ملک میں جنرل ضیا الحق کی حکمرانی تھی۔ سیاست پر پابندی اور “میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند” والے سیاست دان اور ورکرز پابند سلاسل تھے۔ پیپلز پارٹی حکومت کی خاص “مصلوب نظر ” تھی۔ ملک میں جو اصل جیالے تھے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔ باقی خاموش تھے یا اندرون خانہ جنرل ضیا کے پیچھے تھے۔ ان میں کچھ اپنی حلف برداری کی شیروانیاں سلوانے کے لئے درزی ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ یہ درزی اقتدار کی غلام گردشوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔
ابتلا کے اس دور میں بھٹو کے اصل جیالے جانوں کی پروا کئے بغیر حکومت کے سامنے سینہ سپر تھے۔ ان میں ایک نام کراچی کے مسرور احسن کا تھا۔ ہماری ان سے واقفیت تو دور کی بات کبھی دور کی سلام دعا بھی نہ رہی البتہ ان کے ایک رفیق اور پارٹی ورکر اسد نقوی ہمارے چھوٹے بھائی وجاہت عباس (بزمی) کے قریبی دوست تھے۔ اسد کو ہم بچپن سے دیکھ رہے تھے۔ سیدھا سادا لڑکا، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے سیاست آ لپٹے گی۔
مسرور احسن جیل چلے گئے۔ اسد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مسرور بھائی کی رہائی کے لئے ایک پوسٹر لکھنا ہے۔ خیال رہے کہ ابھی ہم خود کالج میں پڑھ رہے ہیں۔ ۔ سیاست کا ہمیں بچپن سے شوق تھا مگر سیاست دانوں سے قربت یا سیاست میں عملی طور پر حصہ کبھی نہیں لیا۔ اسد نے کہا اور ہم نے پوسٹر لکھ دیا۔ ہمارا خیال تھا کہ اسد کا یہ جذباتی رویہ ہے جو کہ وقتی ہے اور نہ ہی پوسٹر نے چھپنا ہے۔ پوسٹر کے لئے پہلے رہا کرو کا روایتی نعرہ لکھا اور اس کے بعد دو شعر داغ دیئے جو اللہ جانے کس کے تھے:
جذبات کے اظہار پہ پہرے نہ بٹھاو
خاموش رہو گے تو گھٹن اور پڑھے گی
گو منزل مقصود ابھی دور ہے لیکن
رک جائے مسافر تو تھکن اور بڑھے گی
ایک دن کیا دیکھتے ہیں کہ یہ پوسٹر دیواروں پر چسپاں ہو چکا ہے۔ ہم تو ڈر گئے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ والد صاحب کے علم میں اگر ہماری یہ کارروائی آگئی تو پہلے “چھترول” یہیں ہوجائے گی۔ وہ تو خیر جو ہونی تھی سو ہونی تھی (یہ بات کبھی والد صاحب کے علم میں ہی نہیں آئی)۔ اصل جان یہ نکلی جارہی تھی کہ اگر پوسٹر کی چھان بین ہوئی تو صاحب السطور کا نام بھی آئے گا۔ ہم کوئی حبیب جالب تو نہ تھے جو کہہ اٹھتے:
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
سوچا کیا کریں؟ پہلے اپنے آپ کو خوب ہی برا بھلا کہا کہ ضرورت کیا تھی یہ سب کرنے کی۔ محلے میں تعزیتی اشتہارات لکھ کر اپنا شوق پورا کر لیا کرو۔ علاقہ میں مختلف تنظیموں کے مجلے چھپتے رہتے ہیں وہاں اپنے فن کے جوہر دکھا دیا کرو۔ اتنا ڈرتے ہو تو پھر یہ سب لکھتے کیوں ہو۔ بڑا دماغ لڑایا۔ دوستوں نے بھی مشورہ دیا کہ کارزار سیاست کی تم دھوپ بھی نہیں سہہ سکتے چے جائیکہ کہ قید و بند۔ جن سے مشورہ لیا وہ ہم سے چار ہاتھ زیادہ ڈرپوک نکلے۔
ذہن میں میں آیا کہ خیر چاھتے ہو تو خیرپور چلو۔ والدہ کو کہا کہ بہت دنوں سے ماموں سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ والدہ خوش ہوگئیں کہ پہلی دفعہ بھانجے کو ماموں کی یاد ستائی اور یوں ہمیں خیرپور میرس جانے کے لئے کرایہ و دیگر اخراجات کی مد میں چند روپے دے دیئے گئے۔ اب ہماری منزل مقصود ہمارے ماموں کا گھر خیرپور میرس تھا۔

کچھ دن وہاں رہے لیکن چھوٹے شہر میں تو دن کاٹے نہیں کٹتا۔ طبیعت بھر گئی۔ کراچی کا خیرپور میرس سے کوئی موازنہ ہی نہیں گو کہ یہاں کہ لوگ بہت مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ ماموں کا گھر شہر کے بیچوں بیچ شاھئ بازار میں تھا۔ دو قدم بھرے اور شہر کے مرکز اور سب سے با رونق مقام پنج گلہ پہنچ گئے۔ بس یہی وجہ ہے کہ چھوٹے شہروں میں کوئی فاصلہ فاصلہ ہی نہیں ہوتا اسی لئے وقت رکا رہتا ہے۔ کراچی میں ہوں اور ایک چکر ٹاور کا بس میں لگا لیں۔ پھر دیکھیں وقت کیسے پر لگا کر اڑتا ہے اور آپ کہیں آنے جانے کے قابل نہیں رہتے۔
چلیں واپس چلتے ہیں اپنے مسئلے کی طرف، کراچی سے باہر نکلے تو ڈر کم ہوا اور یہ احساس ہوا کہ جتنا ڈر رہے ہیں۔ اس ڈر کے ساتھ کراچی میں بہ حفاظت رہ سکتے ہیں۔ اب خیرپور کاٹنے کو دوڑنے لگا۔ ہم پندرہ دن رہنے کے لئے گئے تھے جب ہم نے پانچویں دن صبح ناشتے پر رات سکھر ایکسپریس سے واپس کراچی جانے کا مژدہ سنایا تو ماموں ممانی منہ دیکھتے رہ گئے۔ ماموں کم گو تھے۔ بس اتنا ہی بولے:
’’کچھ دن اور رک جاتے تو اچھا تھا‘‘
ممانی بولیں:
’’اے بھیا، ہم نے تو سنا تھا ماموں کی محبت میں تڑپے جا رہے تھے۔ یہ پانچواں سورج کیا چڑھا۔ ماموں کی ساری محبت دھری کی دھری رہ گئی۔‘‘
اب کسی جذباتی تقریر کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ رات افضال رکشہ والے کے ساتھ اسٹیشن آئے اور اگلی صبح کراچی پہنچ کر اپنی خود ساختہ “شہر بدری” کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

Friday, 20 September 2019

ہم سب ثی بیگ ہی تو ہیں ۔ آرٹیکل نمبر 39

Article # 39



ہم سب ٹی بیگ ہی تو ہیں۔
تلخ تجربات ، مشکل حالات آپ کو بنا دیتے ہیں ۔

تحریر : اظہر عزمی 
(ایک اشتہاری کی باتیں)




کچھ عرصہ سے مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی ٹی بیگ والی چائے کا رواج چل پڑا ہے جسے عرف عام میں لوگ تعویز والی چائے بھی کہتے ہیں ۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک جگہ جانے کا اتفاق ہوا توٹبیگ والی چائے میرے سامنے رکھ دی گئی ۔ میے ٹی بیگ سے رنگ ،خوشبو اور ذائقہ کشید کرنے کے لئے اسے بار بار  گرم پانی میں ذبکیاں دینے لگا ۔ اس کا رنگ کھلتا چلا گیا اور خوشبو نے بھی اپنا رنگ جما دیا ۔ پہلے ہی گھونٹ میں ذائقہ بھی بہتر لگا ۔  ایک دم خیال آیا کہ ہم سب بھی تو ٹی بیگ ہی ہیں ۔ انگریزی میں Hot Water سے مراد مشکل حالات ہوتے ہیں ۔ اگر آپ  اردو میں اسی معنی کے ساتھ بات سمجھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب تک آپ مشکل حالات کا سامنا نہیں کریں گے آپ خود کو پرکھ نہیں پائیں گے۔ اپنے آپ کو دریافت نہیں کر پائیں گے ۔ 

بات تو دل کو لگی مگر پھر ذہن میں آیا کہ میرے اپنے پاس اس کے لئے کوئی حوالہ بھی ہے ۔ ذہن کو ٹٹولا۔ تو پھر وہی 1988 نکل کر سامنے آگیا ۔ پھر میں سوچنے لگا کہ اس سال نے میرے سوچ کے زاوئیے بدل دیئے ۔ زندگی کو بند گلی سے نکال کر عملیت پسندی کی شاہراہ کا مسافر بنا دیا۔ جذباتیت کی جگہ عملیت نے لے لی۔ عزت کے نام پر قائم نام نہاد خیالات  اپنی موت آپ مرنے لگے ۔ پھر اور بھی بہت کچھ سمجھ میں آنے لگا ۔ منافقت اور مصلحت ، سیاست اور حکمت ، قناعت اور کاہلی ، انا اور عزت نفس کے درمیان کا بال برابر کا فرق  شعور کے Magnifying Glass لگا کر بہت بڑا لگنے لگا۔

 آئیے ! ٹی بیگ کے حوالے کے لئے چلتے ہیں ایک ہفتے چلنے والی اپنی پہلی ملازمت کے بعد اپنی دوسری جائے ملازمت پر ۔ابھی تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا سب سے بڑا کلائنٹ چلا گیا ۔ اب پتہ نہیں یہ ہمارے نیک قدموں کا کیا دھرا تھا یا ایجنسی کا برا وقت ہی شروع ہوچکا تھا۔ایک بڑے کلائنٹ پر چلنے والی ایجنسیز ایک دم ہی نیچے آتی ہیں ۔ کاسٹ کٹنگ کی باتیں شروع ہوتی ہیں ۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مشورہ وہ ملازمین دیتے ہیں کہ جو بڑی بڑی تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں ۔ چھری چلتی ہے تو کم تنخواہ والے نئے ملازمین یا نچلے درجے کے اسٹاف پر  جو کئی سالوں سے کم آمدن پر گھر کا راشن پورا کر رہے ہوتے ہیں ۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ زندگی میں پہلی مرتبہ ہم یہاں پہلے نمبر پر آگئے۔ تذلیل کا سنہرا موقع ہاتھ دکھانے کو تیار تھا ۔ مسئلہ یہ رہا کہ جو صاحب لائے تھے ان کی وجہ سے براہ راست تو کچھ نہ کہا گیا لیکن اوچھے ہتھکنڈے کا استعمال کیا گیا  یعنی کہ ہمیں گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ٹین والی چھت کے استقبالیہ (ریسیپشن) پر  ریسیشنسٹ کم ٹیلی فون آپریٹر کی جگہ پر بیٹھنے کا کہہ دیا گیا گو کہ اس کام کے لئے پہلے سے خاتون  موجود تھیں  ۔ اب اللہ جانے اس خاتون کو حالات کا اندازہ ہوگیا تھا ۔اس نے تنخواہ لی اور پھر آفس کا منہ نہ دیکھا اور ہمیں اس عہدہ جلیلہ پر ہونق افروز کر دیا گیا ۔ مانا کہ ہم شعبہ تخلیق میں نووارد تھے مگر اس تکلیف کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ تخلیق کاری میں ہمارے لیے یہ تخریب کاری چھپی ہو گی کبھی نہ سوچا تھا ۔ سوچتے بھی کیسے ؟ ہمیں تو تخلیق میں سوچ کے نئے دروازے وا کرنے کے لئے رکھا گیا تھا ۔

اب تک تو لکھتے ہوئے مجھے بھی لطف آرہا ہے ۔ قلم اپنا ہی مذاق اڑاتے ہوئے بہت چہچہا رہا ہے لیکن اس کے بعد اذیت ، شرمندگی ، خجالت اور نہ جانے کون کون سے لفظوں نے دماغ کو ماوف کرنا شروع کردیا ۔ 8 گھنٹے کی ملازمت کیا تھی کوئے ملامت تھی ۔ اب افتخار عارف کا مصرعہ یاد آرہا ہے۔

رزق واجب ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

ہم محفل گریز ، تنہائی پسند اور اکھڑ پیدائشی ہیں اس لئے اس کام کے لئے  انتہائی ناموزوں تھے۔ آفس کے لوگ آتے جاتے عجیب نظروں سے دیکھتے تو خود سے بڑی شرمندگی ہوتی ۔ وزیٹرز کا آنا زہر لگتا ۔ بھائی جب ایجنسی میں کام نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے تو آتے کیوں ہو ؟ مگر ہماری سنتا کون؟

میں دو تین دن میں ہی  اس صورت حال سے بہت کبیدہ خاطر ہو گیا ۔ ہمت جواب دینے لگی۔  ایک دن مصمم ارادہ کیا کہ بس آج آخری دن ہے ۔کل سے پھر گھر گھسنے ہوجائیں گے۔ میرے پاس ملازمت چھوڑنے کی بہت واضح وجہ موجود تھی ۔ گھر والوں کو بتاتا اور اپنی اور اپنے خاندان کی اعلی نسبی کا رونا روتا تو والدین کہتے کہ کل سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔یہ تو سیدھی سیدھی بے عزتی ہے ۔ سب کچھ میری موافقت میں تھا لیکن پھر ذہن نے پلٹ کھایا۔ یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ جب میں نے حالات اور مستقبل کا دور رس جائزہ لیا اور یہ طے کیا کہ یہاں سے بھاگ جانا اس وقت فرار پسندی سے زیادہ کچھ نہیں ۔اگر میں آج بھاگ گیا تو زندگی بھر نامساعد حالات دیکھنے ہی راہ فرار اختیار کروں گا ۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے زندگی بھر کے لئے تو ریسپشن کی سیٹ پر نہیں بٹھایا گیا ۔ یہ صورت حال وقتی ہے مگر یہی کل وقتی تجربہ بھی دے رہی ہے جو زندگی میں میرے بہت کام آئے گا ۔ اب میں اسی سیٹ پر ایک بالکل بدلا ہوا انسان تھا۔

میں نے طے کر لیا تھا کہ اس سیٹ پر نئی ملازمت تلاش کرنا آسان رہے گا ۔ اس زمانے میں (1988) میں ٹیلی فون ہی سب کچھ تھا ۔ کون تھا مجھے روکنے والا  اب میں  فارغ وقت میں ٹیلی فون ڈائریکٹری  میں سے مختلف ایڈورٹائزنگ ایجنسیز میں بے دھڑک فون ملا دیا کرتا اور وہاں  ملازمت سے متعلق پوچھتا ۔موقع ملتا تو وہاں کے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں بھی کسی سے بات کر لیا کرتا ۔ ملازمت ملے نہ ملے مگر ان کے ذہن میں کہیں نہ کہیں میرا نام پڑا رہ جاتا ۔فریڈرک صاحب سے بھی رابطہ اسی طرح ہوا تھا۔ انڈسٹری میں کافی افراد ایسے ہیں جن سے بعد میں میری بہت اچھی رفاقت رہی اور آج بھی ہے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ میری ان سے پہلے بات ٹیلی فون پر ہوئی جب میں ملازمت کی تلاش میں تھا ۔ 

خیر ایک دن ندیم فاروق پراچہ کو  فون ملا دیا ۔ اس کہا کہ تم نے بڑے موقع سے فون کیا ۔ ہمارے ہاں جگہ خالی ہے ۔ کل سیکنڈ ہاف میں آباد ۔میں تمہارا انٹرویو کرا دیتا ہوں ۔ اندھا کیا چائے دو آنکھیں ۔ہم دوسرے دن وہاں پہنچے ، انٹرویو ہوا اور اسی وقت چھ سو روپے اوپر ملازمت کی پیشکش کر دی گئی مگر شرط یہ رکھی گئی کہ فورا آنا ہے ۔

انکار کی گنجائش کہاں سے ہوتی ۔پہلی والی ایجنسی میں تو ہمارے بیٹھنے کی جگہ نہیں بن رہی تھی ۔ انٹرویو 14 تاریخ کو ہوا اور 15 سے ہم نے نئی ایجنسی جوان کر لی ۔ پرانی ایجنسی سے 14 دن کی تنخواہ لینے بھی نہیں گئے ۔ نہ انہوں نے پلٹ کر پوچھا اور نہ ہی ہم نے کبھی کوئی رابطہ کیا ۔ 

اگر میں حالات کے زیر اثر آکر فرار اختیار کرتا تو ممکن ہے یہ سب نہ لکھ رہا ہوتا ۔ واقعی ہم سب ٹی بیگ ہیں جنہیں ایک نہ ایک دن زندگی کے گرم پانی میں ٹی بیگ کی طرح اتر کر ڈبکیاں کھانی ہوتی ہیں ۔ میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ جو شخص زندگی میں برا وقت نہیں دیکھتا وہ اچھا وقت بھی نہیں دیکھتے ۔زندگی بس روٹین میں ہی چلتی رہتی ہے۔

Tuesday, 20 August 2019



Article # 32
(In Roman Urdu/ Hindi)



Janazay gate se nikaltay hain

Laikin rooh to gate se andar nahi aati

Magar aik maa nahi manti

Writer: Azhar Azmi
(Aik ishtehari ki batein)



Yeh waqt bhi ajeeb hai. kahin khushion ke mailon mein Khanakti hansi hoti to kahin gamoon ki saf e maatam mein noha kinaan cheekhain aur dil cheer dainay wali shiskiyan rooh taq ko jhnjorh deti hain. waqt woh kuch kar guzarta hai ke hum sochen to saans ruki ki ruki reh jaye magar jab guzarti hai to saans chalti rehti hai. yahi karkhana e qudrat ki hikmat hai .


Meri aik Aziza hain. bewa hain. pehlay jawan beta do betay chore kar manon matti taley ja soya hai aur do teen saal mein baap ne isi qabrustan ki aik qabar ko abad kardiya .


Jab betay ka intqaal hoa to hamari yeh Aziza har jumaraat maghrib ke waqt ghar ke barray gate ka chhota pitt halka sa khol ke baith jaya karti theen. mumkin hai ab abhi aisa karti hon. aik din mein isi waqt un ke paas betha tha. mein ne be pardaghi ke khayaal se gate ka pitt bhairna chhah to bolein" nah beta yeh band nah kar woh aata hoga ". mein ne kaha aaye ga to darwaaza khut khatta le ga" bolein" ab darwaaza kahan khut khatata hai" mera khayaal tha ke woh apne chhootey betay ki baat kar rahi hon gi jis ke office se anay ka waqt ho chala tha. chand lamhay khamosh reh kar bolein" aaj jumaraat hai. dekh mein ne bead wala kamrah bhi saaf suthra kardiya hai" .


Mein ne kaha kis ki baat kar rahi hain. chhota beta to oopar rehta hai ". bolein" aaj jumaraat (Thursaday) hai. is ( barray betay ) ki rooh aaye gi. mein har jumaraat ko isi terhan gate ka pitt khula rakhti hon. darwaaza band dekh kar kahin chali nah jaye aur dekh is ka bead room bhi saaf suthra kar ke rakhdiya hai. aaye to kuch der aaraam kar le ". mein ne kaha ke aap andar hi baith jaya karen. bolein" nahi mein chahti hon ke jab woh gate se andar aaye to sab se pehlay mujhe dekhe ". mein ne kaha ke chalein woh dekh laita hoga magar aap kaisay dekhatii hon gi. barray yaqeen se kehnay lagen" woh jaisay hi aata hai mujhe pata chal jata. maa hon, khusbhoo ajati hai. chehra to har waqt meri nigahon mein rehta hai. aakhri baar woh isi gate se to bahar gaya tha. ab bta mere paas nahi aaye ga to kahan jaye ga" .


Ab mein un ko kya batata ke janazay gate se jaya karte hain. rooh ko kisi gate / darwazay kayi kahan zaroorat hoti hai lekin mein aik maa ki mohabbat gate har rokna nahi chahta tha. mera suber jawab day raha tha. is liye khamoshi se uth kar agaya. jatay jatay bolein" arrey ruk! kahan ja raha hai. woh aata hoga. tujy bhi dekhe ga to bohat khush hoga ". unhon ne itnay pyar se kaha ke kuch kahe bana jana buri baat thi. mein ne bahana kya ke mujhe aik zurori kaam yaad agaya. bolein" dekh ab yeh jumaraat jaye gi to agli jumaraat ki aas mein din ginu gi" .


Mein chahte hue bhi nah ruk saka aur num aankhon ke sath gali mein aa khara sun-hwa aur sochnay laga ke jin ke betay un ki aankhon ke samnay abdi rakhat safar bandh len woh zindah kaisay rehti hain? saans kaisay layte hain? jawab khud hi agaya inhi yadoon kay saharay geeti aur sanas laiti hain.

Saturday, 10 August 2019

میرا اینٹی لائس کا ایک ٹی وی کمرشل جو انڈیا میں کاپی ہوا ۔آرٹیکل # 38






آرٹیکل # 38

میرا اینٹی لائس کا ایک ٹی وی کمرشل 
جو انڈیا میں کاپی ہوا۔



تحریر : اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)

اگر آپ کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے بالخصوص شعبہ تخلیق  سے ہے تو پھر تیار رہیں جہاں انڈیا کا کوئی اچھا ایڈ آیا ۔ آپ کو سب سے پہلے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا ۔

"ایک بات بتائیں ان لوگوں کے ایڈز ( ٹی وی کمرشلز ) اتنے سیدھے ، سچے اور سادے کیوں ہوتے ہیں ؟ آپ لوگوں کا دماغ نہیں چلتا کیا ؟"

کبھی کبھی تو ایک طولانی اور لاحاصل بحث کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ آپ لاکھ تاویلیں دیتے رہیں ۔ اپنی مجبوریاں بتاتے رہ جائیں مگر سامنے والا کان دھرنے کو ہی تیار نہیں ہوتا ۔آخر میں جواب میں یہی کہتا ہے کہ بھائی یہاں وہاں سب کچھ ایک جیسا ہے ۔آپ کچھ بھی کہو ۔ہمارے پہلے کے ٹی وی اشتہار کسی طرح ان سے کم نہ تھے اور ساتھ ساتھ کوئی مشہور ٹی وی جنگلز گنگنائے لگتا ہے ۔

میں اس بات سے قطعا انکاری نہیں ہوں کیونکہ ٹی وی دیکھنے والے کو جو اچھا ہوتا ہے وہی اچھا لگتا ہے ۔ وہ اس کی سائنس اور فلسفہ میں نہیں پڑتا ہے۔ 

آج دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ سب کو سیکنڈوں میں سب پتہ چل جاتا ہے ۔ گذرے زمانہ کے لئے بھی آرکائیوز کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فنون لطیفہ خاص طور ٹی وی کمرشلز کی چوریاں تو اب پکڑی گئی ہیں اور خیر سے پکڑی جا رہی ہیں مگر اب معاملہ چوری اورسینہ زوری کا ہوگیا  ہے ۔ یہ سارا کریڈیٹ انٹرنیٹ کو جاتا ہے کہ جس نے بہت کچھ طشت از بام کردیا ہے ۔ بڑے بڑے قابل اتباع  طرم خان جن کا کبھی توتی بولتا تھا اگر آج پکڑے جاتے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے۔ مگر کس تھانے میں بند ہوتے۔ کون سی دفعہ لگتی ۔ بات دفع کرو پر آکر ختم ہوجاتی ۔ 

 یہ تو ہمارے مصائب و آلام  ہوگئے مگر ہم جیسے لوگوں کی ساری خوشیاں بھی یہاں رکھی ہیں ۔عام افراد کو شاید اندازہ نہ ہو کہ جب کوئی اشتہار خاص طور پر ٹی وی اشتہار مشہور ہوتا ہے۔ زبان زد عام ہوتا ہے۔ اس کی کوئی ایک لائن محاورے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے ، اس کا جنگل عوام سے سند قبولیت حاصل کرتا ہے۔ لڑکیاں تفریح کے طور شادی بیاہ میں گاتی ہیں۔ راہ چلتے بچے گنگناتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں ،اس میں اپنے Additions بمطابق حالات کر رہے ہوتے ہیں تو پردے کے پیچھے چھپے اس کریٹیو کی خوشیاں دنیا کے کسی ترازو میں نہیں تولی جاسکتیں۔ بڑے سے بڑا ڈیپارٹمنٹ اسٹور اس کی قیمت نہیں بتا سکتا ۔ کسی بھی بینک سے دولت کا یہ چیک کیش نہیں کرایا جاسکتا۔ سرور و کیف کی اس منزل تک دنیا کا کوئی مہنگے سے مہنگا نشہ نہہں لے جاسکتا ۔

ذرا سوچیں ! جب یہ نشہ شراب کی پرانی بوٹل میں پڑوس (انڈیا)  سے نکل آئے تو نشہ کیسا دو آتشہ ہوجاتا ہوگا۔ یہ 2014 کی بات ہے ۔ میں ان دنوں شارجہ میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ مقیم تھا ۔ فارغ وقت زیادہ تر ٹی وی دیکھ کر گذرتا ۔ یہاں کوئی 200 کے قریب بھانت بھانت کے چینلز آیا کرتے ۔ انڈین چینلز بھی کافی آیا کرتے۔  کبھی کبھی بہت اچھی انڈین فلمیں آیا کرتیں لیکن بات وہئ تھی کہ دل بہت زیادہ فلموں کی طرف مائل نہ رہا تھا ۔

ایک دن میں کوئی انڈین فلم دیکھ رہا تھا جو پھولن دیوی یا اس سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی ۔ فلم ایک ایسی لڑکی کے اردگرد گھومتی جو زیادتی کا شکار ہوئی اور پھر  پوری فلم میں سر پر پٹی باندھ کر انتقام کی آگ میں اندھی رہی ۔ یہ فلم خاصی دلچسپ تھی ۔ نام مجھے بالکل بھی یاد نہیں ۔ فلم کے وقفہ کے دوران اشتہار چلتے ۔کوئی اچھا اشتہار ہوتا تو دیکھ لیتا ورنہ ریموٹ جیسا قاتل میرے ہاتھ میں تھا ۔ دوران فلم ایک وقفہ آیا تو ایک ایسا اشتہار چلا جو مانوس مانوس سا لگا ۔ اشتہار ایک اینٹی لائس لوشن ( سر کی جوئیں اور لکھیں مار) کا تھا جس میں اسکول کے بچے بچیوں کو دکھایا گیا تھا ۔ جب ٹی وی کمرشل  میں یہ لائن آئی:

سر سے سر ملا
جووں اور لیکھوں کو نیا گھر ملا 

توسب کچھ میری ذہن کے پردے پر چلنے لگا ۔ ارے یہ تو وہ میرا وہ ٹی وی کمرشل تھا جو میں نے 90 کی نصف دھائی میں لکھا تھا اور  پاکستان میں کافی چلا تھا ۔ میں حیران تھا اور ہوں کہ یہ اس  زمانہ کا اشتہار ہے جب انٹر نیٹ پاکستان میں نہیں آیا تھا شاید انڈیا میں  بھی نہ آیا ہو ۔ جو اپنا کاپی شدہ انڈین کمرشل میں نے دیکھا اس کا پرنٹ بھی بتا رہا تھا کہ یہ  وہاں کا بھی پرانا  کمرشل ہے۔ 

ایٹی لائس لوشن کا یہ کمرشل تو 30 سکینڈ میں ختم ہوگیا پھر میں نے نیٹ پر اپنا یہ ایڈ سرچ کرنا شروع کردیا کہ یو ٹیوب وغیرہ پر مل جائے مگر نہیں صاحب دور دور تک نام ونشان نہیں پھر میں نے انڈیا کے اینٹی لائس کے ایڈز دیکھے مگر کوئی پتہ نہیں چلا ۔ سوچتا ہوں اس زمانہ میں یہ ایڈ کاپی کیسے ہوا ؟ حوالہ کے لئے ایڈ کی دو  لائنیں بھی لکھ دی ہیں ۔ ممکن ہے یہ ایڈ کسی کو یاد ہو ۔ یقینا یہ کوئی ایوارڈ وننگ ایڈ نہ تھا مگر صرف حوالہ کے لئے بتا دیا ہے  کہ ہم بھی کاپی ہوتے ہیں ۔

Wednesday, 7 August 2019

Woh baarishon mein phone karne walay kia hue? Roman Urdu / Hindi Article # 37



Article # 37


Woh baarishon mein phone karne walay kya hue ?






Writer : Azhar Azmi

( Aik ishtihari ki bateen )


Barish subah se horahee thi aur waqt ke sath sath is ki shiddat barhti chali jarahi thi.Shaam ko baba ka phone agaya .

Haan miyan ... abhi taK office mein ho ?


Jee baba !


Bas ab ghar anay ki karo.Sara shehar jhal thal ho raha hai. Ghutnon ghutnon pani jama hai .



Jee mujhe pata hai



Kia pata hai. Bahar nikal kar roadon ka haal dekha hai. Abhi mein bari mushkilon se ghar pouncha hon. Tumhare ilawa sab bachay ghar aa chukay hain .


Aap fikar nah karen. Mein kisi nah kisi terhan aa jaon ga.


Kaisay aa jaon ga. Road par basoon Rikshaon ka naam o nishaan nahi aur aik baat to batao yeh gari ghar par sajaaney ke liye li hai kya? Itnay pesey hain ke raksha taxi mein Aasako .


Ho jayen ge


Jaib mein hon gay to hon gay. Barish ka zamana hae.Ghar se ziyada paisay le kar nikla karo. Tumhari yeh bay dehayani ki aadat jaye gi nahi .


Baba mein ne kaha naan ho jayen gay. Office mein koi motorcycle wala kahin rastay mein utaar day ga .


Keh diya hai iss se. Kahin woh tumhen chore hi nah aeye .


Jee jee keh diya hai



Suno tumhari maa ne aalo bharay parathay pakay hain. Tum aa jao gay to pakoray bhi tal lein gay. Barish ruk jaye to biwi bachon ko le kar aa sako to ajana. Ghar pahunchte hi phone karna ke ghar poanch gaye .

________________________________________________

Abhi kuch der hi guzri thi ke telephone operator ne kaha ke aap ki wife ka phone hai.


Arrey aap abhi tak office mein hain ?


Bas niklny ki kar raha hon. baba ka phone bhi aaya tha. ammi ne aalo bharay parathay aur pakoray pakaye hain .


Ahcha to kya seedhay wahein jayen ge? Aur mein ne jo aalo ka kasa aur poriyan bana kar rakhi hain. Pehlay batana tha.


Pehlay kya batata. Abhi bataya hai baba nay.


Baba ka phone do martaba yahan bhi aa chuka hai. Aap ka pooch rahay they.Paanch martaba office cal kar chuki hon. Ab kahin ja kar number mila hai. Aap ko to khayaal hi nahi aata. Ghar mein biwi bachay akailey hon ge .


Arrey bas. .. kiya btaon call karne ki soch raha tha.


Aacha sunen. Phir mein bachon ko bhi tayyar kara deti hon. Apni gaari par hi chalein gay ?


Haan bhai barish mein kon si sawari miley gi .


To yeh gaari ghar mein khari karne ke liye li hai kya? Ajeeb aadmi hain aap bhi. Ghar mein gaari hai aur sahib basoon mein aa ja rahay hain. Mein to kehti hon baich hi den .


Baba bhi yahi keh rahay they .


Aacha bas phone rakhen aur anay ki karen. Sunen wapsi par thori der ke liye ammi ke haan bhi ho lein gay.


Haan bhai Mecca jayen to Madinah jana to bantaa hai.

________________________________________________

Barish aaj bhi hora hee hai. roadon par pani bhi bohat jama hoga. Woh office mein hai aur mobile phone iss ke haath mein hai. Aik isharay mein call mil sakti hai laikin woh jaanta hai ab yeh calls nahi ayen gi. Zamana agay chala gaya hai. iss ke chahnay walay yeh log aisi jagah ja soye hain jahan technology tamam tar taraqqi ke bawajood nahi poanch sakti 

Daant bhari mohabbat ke sath, halki si narazgi mein rachi mohabbat ke sath.


Woh baarishon mein phone karne walay kya hue ?

Wednesday, 31 July 2019

2D. My first bus route. I love you. Article# 36


Article # 36


2D ... I love you.


اسکول ، کالج کے آتے جاتے رستوں پر
میری زندگی کا پہلا بس روٹ




تحریر : اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)

کراچی میں طبقہ اشرافیہ کے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر تمام اہل کراچی کسی نہ کسی وقت میں بس اور ویگن کے مسافر رہے ہیں۔ میرا دعوی ہے کہ مڈل کلاس طبقہ اشرافیہ (جی ہاں ان میں بھی کلاسز ہوتی ہیں ) کے بچے بھی دوران طالب علمی خاص طور پر 80 کی دھائی تک ان بسوں اور ویگنوں کے مسافر رہے ہیں ۔ اب تو بسیں اور ویگنیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں اور ان کی جگہ چنجی لے رہی ہے۔ کراچی کی بسوں ویگون کا اپنا کلچر رہا ہے جس سے اہل کراچی سے بہت لطف اندوز بھی ہوئے ۔ روز کے چھگڑے ، روز کی تفریح ۔ چلتی بس سے اترنا اور اترنا اور اس پر کنڈیکٹر کا ڈھب ڈھب کرنا ۔ مسافر کو ذرا سے بھی خطرہ ہونا تو پوری بس کا چلانا " او بھائی پائیلٹ زرا ہلکی کر لے ، کیا مارے گا"۔

کراچی بڑا شہر ہے اس لئے کوئی شخص یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ ہر بس ویگن میں سفر کر چکا ہے۔ ہر ایک کی زندگی میں مخصوض بسیں ویگنیں رہی ہیں۔ ہماری زندگی فیڈرل بی ایریا اور گلشن اقبال میں گذری  ہے ۔ فیڈرل بی ایریا میں رہتے ہوئے ملازمت کا آغاز کیا اور دفتر سے گاڑی نل گئی ۔ بعد میں ذاتی گاڑی زندگی میں آگئی۔ اس لئے 90 کی ابتدائی دھائی کے بعد سفر کا اتفاق کم کم ہوا۔ اسکول کالج اور ملازمت کے ابتدائی سالوں میں بسیں ویگنیں میرے سفر کا ذریعہ رہیں۔ چلتے ہیں یاد رفتگاں کی طرف اور ملواتے ہیں اپنی پہلی سفری محبت  ٹو ڈی بس سے ۔ میں سارا تذکرہ 1975 سے 1984 تک کا کررہا ہوں۔

 صاحبو ! جب زندگی میں ساتھ چلنے والوں کا ذکر خیر کرتا رہتا ہوں تو اس غریب نے کیا گناہ کیا ہے کہ اس بے زبان سے آنکھیں پھیر لوں ۔ میرے برے وقتوں کی دمساز رہی ہے تو کسی مرحلہ پر مجھے بھی تو اس کا دم بھرنا لازم تھا سو وہ وقت آگیا ہے ۔اب یہ الگ بات ہے کہ اسکول کالج کی تپتی دوپہروں میں حبس زدہ ماحول میں بھانت بھانت کے پسینوں کی خوشبووں نے کئی دفعہ ہماری سانس ہی روک دیں ۔ بہرحال برے وقتوں کی اس بس کا قرض اتارنا بھی فرض سمجھتا ہوں حالانکہ ہمیشہ کرایہ دے کر ہی منزل رسید ہوا ہوں ۔

2D

بھٹو صاحب کے زمانے میں جب قومیانے کی ابتدا ہوئی تو اس کے چھینٹے کراچی کے کماو پوت بس روٹس پر بھی پڑے ۔ سندھ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن قائم کی گئی اور بڑا میدان ناظم آباد 
  سے چلنے والا  یہ روٹ بھی بحق سرکار چلا گیا ۔  ناچار یہ بس ٹو ڈی کے روٹ پر آئیں اور روٹ نورانی مسجد گراونڈ بلاک 20 فیڈرل بی ایریا  براستہ گلبرگ ، پیپلز چورنگی ، علامہ رشید ترابی روڈ ، امام بارگاہ سجادیہ/ ضیاالدیں اسپتال ، مجاہد کالونی (پرانا روٹ پر بعد میں یہ کالونی اسٹاپ میں نہیں آتی تھی )، پیٹرول پمپ ،ناظم آباد چورنگی ، گولیمار (موجودہ گلبہار) ، گرومندر ، سولجر بازار ، صدر اور ٹاور قرار پایا ۔ پہلے یہ ایک مخصوص رنگ یعنی ڈارک گرے کی تھیں جن میں ایک ریڈ پٹی ہوتی تاکہ آپ دور سے پہچان لیں اور سوار ہونے کے لئے گمر کس لیں۔

سنا ہے کہ  ٹو ڈی بسیں ٹرانسپورٹ انجمن کے رہنما ارشاد بخاری کی تھیں جو کہ ابتدا میں بہت صاف ستھری اور آرام دہ سیٹوں پر مشتمل ہوا کرتی تھیں ۔ بعد میں یہ ہوا کہ جب آپ سفر سے فارغ ہوتے اور بس سے اتر کر دو چار قدم چلتے تو احساس ہوتا کہ سفری دکھ کس کس طرح جسم میں سرایت کر گیا ہے ۔ انگریز بھی کتنا عجیب ہے جہاز میں بیٹھو تو اسے Jet lag کہتا ہے (میں پہلے Jet Leg سمجھتا تھا) اسے کیا پتہ ہماری بسوں کا جیٹ لیگ کہاں کہاں تک اپنے اثر کو چھوڑ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی گورے نے ہماری بسوں میں سفر کے بعد دافع درد گولیوں کا سوچا نہیں ۔ حکیمان شہر جو دنیا کے ہر مرض کا علاج دیواروں پر کئے پھرتے ہیں وہ بھی خاموش ہیں۔  آپ نے کولہو کا بیل سنا ہوگا ۔اگر بس کا سفر لمبا ہو اور شروع میں ہی سیٹ جیسی نعمت مل جائے تو آپ کولھوں کے بیل بن جاتے ہیں۔

خیر جب یہ بسیں اس نئے روٹ پر آئیں تو طالب علموں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ یہ واحد روٹ  تھا کہ جو سیدھا ناظم آباد کے تعلیمی اداروں سے ہوتا ہوا جاتا تھا  ورنہ اس سے قبل ناظم آباد جانے کے لئے دو بسیں بدلنا پڑتیں اور صبح کے وقت یہ ایک مشکل ترین کام تھا کہ آپ دو بسیں بدل کر وقت پر اسکول کالج پہنچ جائیں ۔ صبح اور دوپہر میں ان بسوں میں خوب ہی دھکم پیل ہوتی کیونکہ ان اوقات میں یہ مکمل طور پر اسٹوڈینٹس کا روٹ تھا ۔ وجہ یہ تھی کہ جتنے اسکول اور کالجز اس روٹ پر آتے اگر بندہ روز صرف ان کے پاس سے گزر جائے تو بیچلرز کر لے۔

صبح اس شہزادی کے بڑے نخرے ہوتے اور کیوں نہ ہوتے ایک سے ایک مہ وش ،نازنین اس کی مسافرہ جو ہوتی ۔ شہزادی نورانی مسجد سے چلتی تو گلبرگ آکر رک جاتی اور پیچھے آنے والی دوسری شہزادی کا انتظار کرتی۔ لڑکے بڑی دھب دھب کرتے " چلا دے بھائی اسکول کالج کو لیٹ ہورہے ہیں۔ پوری بس کچھا کھچ بھری ہے ۔اب کیا اپنے سر بٹھائے گا "۔ کبھی ڈرائیور چلا دیتا اور کبھی نہ چلاتا تو تو تتکار ہوجاتی اور گالیوں کے تبادلہ ہوجاتا ۔ یہ بس کم از کم 45 منٹ میں ہمیں ناظم آباد لا پھینکتی۔ ہمارا اسکول پہلی چورنگی ناظم آباد پر تھا ۔اسکول کے بعد جب کالج پہنچے تو پھر یہ ہماری ہمراہی تھی۔ بس یوں سمجھ لیں ہماری تعلیمی زندگی میں اس نے بڑا ساتھ دیا ہے یہ الگ بات ہے کہ بہت بہت رو رو کر ۔

نورانی مسجد کے اس آخری اسٹاپ پر ان بسوں کا ہوٹل تھا۔ پہلے یہی ہوا کرتا تھا۔ جہاں آخری اسٹاپ ہوتا وہاں چھابڑی ہوٹل لازمی تھا۔ ہم اسکول میں تھےتو ہمیں شرارت سوجھی۔ دوپہر کو جب سب بس سے اتر گئے تو ہم نے اپنا بلیک مارکر نکالا۔ پہلے بس کے اندر زگ زیگ کر کے بس کا روٹ کے مشہور اسٹاپ لکھے ہوتے ہیں ہم نے ٹاور کے بعد زگ زیگ کر کے دہلی ، آگرہ وغیرہ لکھنا شروع کردیا۔ حشمت واٹر مین نے ہمیں دیکھ لیا۔ حشمت ایک بوڑھا شخص تھا جو لنگڑا کر کے چلا کرتا تھا۔ واٹرمین کا کام یہ ہوتا کہ جب بس اسٹاپ پر آئے تو اس میں پانی ڈالے۔اب گراونڈ میں وہ ہمارے پیچھے بھاگا ۔ہم کہاں اس کے ہاتھ کہاں تھے۔ بس یہ ہوا کہ صبح کے وقت اس سے چہرہ چھپا کر کھڑے ہوتے۔

نارتھ ناظم آباد میں نیاز منزل اور ظفر منزل کے بیس بیس قدم سے دو اسٹاپ ہیں۔ نیاز منزل کے سامنے جہاں اب میڈیکل کالج ہے اس کے عقب میں لڑکیوں کا مشہور کمپری ہینسیو اسکول ہے۔ پرائیوٹ اسکول اور کالج کا  دور دورہ شروع نہ ہوا تھا۔ صبح اور دوپہر بس پر نازنینوں کا قبضہ ہوتا گو کہ اکثر لڑکے چاھتے کہ یہ قبضہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے ۔ دوپہر کو کنڈیکٹر یہ کرتا کہ ناظم آباد کی کالج کی لڑکیوں کو مردانہ حصہ میں آخری سیٹوں پر بٹھا لیتا ۔ کچھ لڑکوں کے مزے آجاتے ۔گیٹ ہی نہ چھوڑتے کنڈیکٹر لاکھ کہے۔ جھگڑتے مگر صاحب ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی ۔ گیٹ پر لہراتے رہتے اور اپنی کرتب اور جملہ بازی سے لڑکیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے۔

کچھ لڑکیاں چلبلی سی ہوتیں کبھی کبھار کسی جملہ پر ہنس دیتیں ۔ بس اب سمجھیں لڑکوں میں بہتر سے بہتر جملہ پھینکنے کا مقابلہ شروع ہوجاتا جس میں کبھی بدتہذیبی کا عنصر بھی شامل ہو جاتا۔ کچھ لڑکے تو اتنا آگے پڑھتے اور کنڈیکٹر سے کہتے کہ اس طرف لڑکی کا کرایہ مجھ سے لے لو۔ کنڈیکٹر ایسا عموما نہ کرتا ۔ کمپری ہینسیو اسکول جب آتا تو پھر تو پوری بس پر لڑکیوں کا قبضہ ہوتا ۔ لژکوں اور بڑی عمر کی مسافروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو جاتی۔ اب لڑکیوں کی کھی کھی شروع ہو جاتی ۔ ہم جیسے نظر جھکاو ایک طرف ہو جاتے۔ عاشق مزاج لڑکوں کی تو لاٹری کھل جاتی

جس طرف آنکھ اٹھاوں تیری تصویراں ہیں۔ تو صاحبو اس طرح ٹو ڈی سے ہمارے ماضی کی یادیں وابستہ ہیں۔ ہم کالج کے لئے میٹرک بورڈ آفس کے اسٹاپ پر اترا کرتے ۔ کالج کے دنوں میں بھی یہی سب چلتا رہا۔ یقین سے کہہ رہا ہوں

کسی لڑکی نے دیکھا نہ آنکھ بھر کا مجھے
گذر  گئی ہر ایک  بس  اداس کر کے مجھے

 ہماری تو خیر دیکھنے کی ہمت ہی نہ ہوتی تو پھر ہمیں  کوئی کیوں دیکھتا ۔ واجبی سی شکل و صورت اس پر لڑکیوں کو دیکھ کر سمٹ جانے کی بیماری۔ اگر کوئی لڑکی دیکھ لیتی تو شاید ہم بس سے ہی اتر جاتے۔

جس طرح ہر گھر کا ایک فیملی ڈاکٹر ہوا کرتا ہے اسی طرح ہر ایک کی ایک فیملی بس ہوا کرتی تھی   ہماری پرانی رہائش گاہ بھی ٹو ڈی کی رینج میں تھی اس لئے یہ ہماری فیملی بس تھی۔ اب تو شہر میں لاکھوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں آ چکی ہیں۔ آج سے بیس پچیس سال پہلے سب ہی بسوں میں سفر کیا کرتے۔ اپر مڈل کلاس بھی سینہ چوڑا کر کے بس میں بیٹھتے کوئی جاننے والا مل جاتا تو ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلا لیا کرتے۔ خوش ہوتے کہ سفر اچھا کٹ جائے گا۔ محلہ ،خاندان اور گھر کے قصے چھڑ جاتے تو آس پاس موجود لوگ پوری توجہ سے سنتے ظاہر یہ کرتے کہ اس طرف دھیان ہی نہیں۔ بھائی بات یہ تھی کہ انہیں بھی تو اپنا سفر کاٹنا ہوتا۔ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ ایک ٹکٹ میں دو دو مزے جو مل رہے ہوتے۔ پہلے کنڈیکٹر کے پاس ایک مخصوص بیگ نما چمڑے کا تھیلا ہوا کرتا جس میں مختلف ٹکٹوں کے پیسے لکھے ہوتے۔ پیسے لے کر وہ ٹکٹ کاٹ کر دیتا جو اس بات کا ثبوت ہوتا کہ آپ نے ٹکٹ لے لیا ہے۔ بعد میں یہ تمام سلسلہ ختم ہوگیا۔ اب تو وہ ٹکٹ لیتا ہے اور اللہ اللہ خیر سلا ۔

ایک عرصہ ہوگیا ٹو ڈی  سڑک پر نہیں دیکھا ۔  نورانی مسجد سے روٹ آگے کر کے انٹرنیشنل اسٹوڈیو کے سامنے گراونڈ کے سروس روڈ پر منتقل کردیا گیا تھا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ روٹ اب گراونڈ ہو گیا ہو ۔مجھ جیسے کتنے لوگوں کے لئے یہ محض ایک روٹ نہ تھا بلکہ  یادوں کی ایک ایسی پگڈنڈی ہے جس پر سفر کبھی ختم نہ ہوگا ۔ پرانے یار اور پرانی بس کا روٹ بھی بھلا بھول جانے کی چیز ہے۔ گنے چنے پیسوں کے ساتھ اس بس پر سفر نے مجھے یادوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔

سڑک اور بس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دوران سفر کیا ہورہا ہوتا ہے۔ اس کی نہایت خوبصورت اور سفاکانہ (بیک وقت)  حقیقت عزیز من عمران شمشاد نے اپنی نظم "سڑک " میں بیان کی ہے ۔اس کا ابتدائی کا ٹکڑا سنیں ۔

سڑک

سڑک مسافت کی عجلتوں میں
گھرے ہوئے سب مسافروں کو
بہ غور فرصت سے دیکھتی ہے
کسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہے
کسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہےے

کسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا
کسی کا جوتا کسی کی چپل چبا رہا ہے
کسی کے پیروں میں آرہا ہے کسی کا بچہ
کسی کا بچہ کسی کے شانے پہ جارہا ہے
کوئی ٹھکانے پہ کوئی کھانے پہ جارہا ہے
حبیب دستِ رقیب تھامے
غریب خانے پہ جارہا ہے

(عمران شمشاد میرے لئے آخری دو مصرعہ تبدیل کردو تو مزہ آجائے)
حبیب دست کتاب تھامے
کالج پڑھنے کو جا رہا ہے






Tuesday, 30 July 2019

وہ بارشوں میں فون کرنے والے کیا ہوئے ۔ آرٹیکل # 37

Article # 37


وہ بارشوں میں فون کرنے والے کیا ہوئے ؟

تحریر : اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)




بارش صبح سے ہورہی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت بڑھتی چلی جارہی تھی۔ شام کو بابا کا فون آگیا۔

ہاں میاں ۔۔۔ ابھی تک آفس میں ہو ؟

جی بابا !

بس اب گھر آنے کی کرو۔ سارا شہر جھل تھل ہورہا ہے۔ گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہے۔

جی مجھے پتہ ہے

کیا پتہ ہے ۔باہر نکل کر روڈوں کا حال دیکھا ہے۔ ابھی میں بڑی مشکلوں سے گھر پہنچا ہوں ۔ تمھارے علاوہ سب بچے گھر آچکے ہیں۔

آپ فکر نہ کریں ۔ میں کسی نہ کسی طرح آجاوں گا

کیسے آجاو گے ۔ روڈ پر بسوں ٹیکسیوں کا نام و نشان نہیں اور ایک بات تو بتاو یہ گاڑئ گھر پر سجانے کے لئے لی ہے کیا ؟ اتنے پیسے ہیں کہ رکشہ ٹیکسی میں آسکو۔

ہو جائیں گے

جیب میں ہوں گے تو ہوں گے۔ بارش کا زمانہ گھر سے زیادہ پیسے لے کر نکلا کرو۔ تمھاری یہ بے دھیانی کی عادت جائے گی نہیں ۔ 

بابا میں نے کہا ناں ہو جائیں گے۔ آفس میں کوئی موٹر سائیکل والا کہیں راستے میں اتار دے گا۔

 کہہ دیا ہے اس سے۔ کہیں وہ تمھیں چھوڑ ہی نہ آئے۔

جی جی کہہ دیا ہے

سنو تمھاری ماں نے آلو بھرے پراٹھے پکائے ہیں ۔ تم آجاو گے تو پکوڑے بھی تل لیں گے۔ بارش رک جائے تو بیوی بچوں کو لے کر آسکو تو آجاتا ۔ گھر پہنچتے ہی فون کرنا کہ گھر پہنچ گئے۔
________________________________________________

ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی کہ ٹیلی فون آپریٹر نے کہا کہ آپ کی وائف کا فون ہے 

ارے آپ ابھی تک آفس میں ہیں ۔

بس نکلنے کی کررہا ہوں ۔بابا کا فون بھی آیا تھا۔ امی نے آلو بھرے پراٹھے اور پکوڑے پکائے ہیں۔

اچھا تو کیا سیدھے وہیں جائیں گے ؟ اور میں نے جو آلو کا کسہ اور پوریاں بنا کر رکھی ہیں۔ پہلے بتانا تھا

پہلے کیا بتاتا ۔ابھی بتایا ہے بابا نے 

بابا کا فون دو مرتبہ یہاں بھی آچکا ہے ۔ آپ کا پوچھ رہے تھے

پانچ مرتبہ افس  کال کر چکی ہوں۔اب کہیں جا کر نمبر ملا ہے۔آپ کو تو  خیال ہی نہیں آتا ۔گھر میں بیوی بچے اکیلے ہوں گے۔

ارے بس  ۔۔۔ کیا بتاوں کال کرنے کی سوچ رہا تھا 

اچھا سنیں ۔ پھر میں بچوں کو بھی تیار کرا دیتی ہوں ۔اپنی گاڑی پر ہی چلیں گے ؟

ہاں بھائی بارش میں کون سی سواری ملے گی۔

تو یہ گاڑی گھر میں کھڑی کرنے کے لئے لی ہے کیا ؟ عجیب آدمی ہیں آپ بھی ۔گھر میں گاڑی ہے اور صاحب بسوں میں آ جا رہے ہیں۔ میں تو کہتی ہوں بیچ ہی دیں۔

بابا بھی یہی کہہ رہے تھے۔

اچھا بس فون رکھیں اور آنے کی کریں ۔ سنیں واپسی پر تھوڑی دیر کے لئے امی کے ہاں بھی ہو لیں گے

ہاں بھائی مکہ جائیں تو مدینہ جانا تو بنتا ہے 
________________________________________________

بارش آج بھی ہورہی ہے۔ روڈوں پر پانی بھی بہت جمع ہوگا ۔ وہ آفس میں ہے اور موبائل فون اس کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اشارے میں کال مل سکتی ہے لیکن وہ جانتا ہے اب یہ کالز  نہیں آئیں گی ۔ زمانہ آگے  چلا گیا ہے ۔ اس کے چاھنے والے یہ لوگ ایسی جگہ جا سوئے ہیں جہاں ٹیکنالوجی تمام تر ترقی کے باوجود نہیں پہنچ سکتی ۔

ڈانٹ بھری محبت کے ساتھ ، ہلکی سی ناراضگی میں رچی محبت کے ساتھ ۔

وہ بارشوں میں فون کرنے والے کیا ہوئے۔
_____________________________________________

عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91

Article # 91 رنج و مزاح  عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں  تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...