Article 88
Thursday, 23 September 2021
Karachi kay aalmi mushairay , Hamara tehzibi wirsa . Article 88
والد صاحب ( کوثر سلطان پوری ) شاعر تھے اس لئے شعر کہنے کا نہ سہی لیکن شعری ذوق مجھ میں شروع سے تھا ۔ عمر کے لحاظ سے شعر سمجھ میں آتے گئے اور ہمارا شعری ذوق پروان چڑھتا گیا ۔ ایک زمانے میں مجھے یہ شعر جو فی الوقت ذہن میں آ رہے ہیں ، بہت پسند تھے ۔
ملنا تھا اتفاق ، بچھڑنا نصیب تھا
اسی طرح کی یہ غزل (حنا تیموری) :
اسی طرح یہ دل آفرین غزل (ریحانہ نواب) :
ان کیسٹوں کے ذریعے خمار بارہ بنکوں کی شاعری کا سرور ہمارے سر ایسا چڑھا کہ سالوں اس کے اثر میں رہے بلکہ اب بھی ہیں ۔ ایک مرتبہ کنور مہندی سنگھ بیدی سحر نے خمار صاحب سے کہا تھا کہ سرور چڑھتے اور خمار اترتے نشے کو کہتے ہیں ۔ آپ کی شاعری میں سرور ہے ۔ آج بھی خمار صاحب کی کئی غزلیں کئی بار سننے کے بعد بھی پہلی بار جیسا سرور دیتی ہیں ۔ خمار صاحب جگر مراد آبادی اسکول آف تھاٹ کے آخری مسلمہ شاعر تھے ۔ پہلا مصرعہ پڑھتے اور سامعین ان کی گرفت میں ہوتے ۔
میں نے کمال امروہوی کی مشہور غزل بہ زبان شاعر سنی جس وقت انہوں نے رات کے پچھلے پہر یہ غزل پڑھی تو ایک سماں باندھ گیا تھا ۔
اسی طرح بیکل اتساہی کی دیہات سے جڑی شاعری کسی اور ہی کیفیت میں لے جاتی ۔ سہل ممتنع میں شاعری اور اس پر ان کا ترنم دیوانہ کئے دیتا تھا ۔
Saas aur Sauce mein ziada farq nahin.Article 87
ARTICLE 87
·
Shared with Pub
ساس اور ساس (Sauce) میں زیادہ فرق نہیں
گھر میں نہ ہوں تو کھانوں اور باتوں میں مزا کہاں ؟
اردو میں اب زیر زبر پیش لگانے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اب ہم انگریزی الفاظ کو بھی اردو میں ہی لکھ دیتے ہیں ۔ ایسے میں کبھی بہت دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے اور ہمارا چلبلا ذہن چل پڑتا ہے ۔ گزشتہ دنوں گھر والوں نے سامان منگایا تو اردو میں چلی ساس لکھ دیا ۔ میں نے کہا کہ مرچوں والی ساس کہاں ملتی ہے ؟ جواب آیا : یہ انگریزی والا Sauce ہے لیکن اردو میں س پر پیش لگائے
بغیر پڑھیں تو اردو والی ساس بنتی ہے جس کے آگے ہر بہو کو پیش ہونا ہوتا ہے ۔
بات آئی گئی ہو جاتی اگر ہم ساس (اردو) زدہ نہ ہوتے ۔ انگریزی والے ساس میں 5 یا 6 مادر ساس ہیں اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں 1500 سے زائد ذیلی ساس پائے جاتے ہیں لیکن اردو والی ساس کے معاملے میں ماہر نفسیات اور سائنسدان ہنوز تحقیق میں مصروف ہیں ۔ کہتے ہیں جس طرح ہر شخص کے انگوٹھے کا فنگر پرنٹ مختلف ہوتا ہے اسی طرح ہر ساس اپنی ذات میں یگانہ و جداگانہ ہوتی ہے ۔ ماہر تجلیات خیالات ، تشکیکات ، مشکلات و تحقیقات ہوتی ہے ۔ مسدودات سازشات کی ڈگری ہر ساس کو گھر کے اپنے بچے یا بچی کے نکاح نامہ کے ساتھ تفویض کردی جاتی ہے ۔
چلی ساس لکھنے پر اب ہم نے اردو اورانگریزی ساس میں مماثلت تلاش کی اور حیران کن نتائج سامنے آئے کہ عقل دنگ رہ گئی ۔ مضمون کو مختصر کرنے کے لیے پہلے یہ دیکھا کہ پاکستان میں کتنے ساس زیادہ مقبول ہیں تو اس میں ہاٹ ساس ، گارلک ساس ، جنجر ساس ، سویا ساس ، بار بی کیو ساس اور تیزی سے مقبولیت پاتے ہوئے پیزا ساس ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی لاتعداد ساس ہیں ۔
کھانے باورچی خانے میں پکاتے ہیں جسے ہر ساس کا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ چاھے کچھ ہو جائے ساس سب پرداشت کر لے گی لیکن دارالحکومت میں کسی بہو کی حاکمیت کو غاصبانہ قبضہ سمجھتی ہے ۔ اس کے لیے اپنی تمام ساسانہ حکمت عملی بروئے کار لاتے ہوئے کسی کو خاطر میں نہیں لاتی ۔ کھانوں میں لذت و ذائقے کے لئے ساس ڈالے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی ساس ساس سے زیادہ ذائقہ نواز اور چٹپٹا نہیں ہوتا ۔ اکثر اوقات تو آنسو نکل آتے ہیں ۔ آئیں ! ذرا انگریزی ساس کے ساتھ اردو کی ساس کا تقابل پیش کرتے ہیں ۔
ہاٹ ساس : یہ ساس زرا بڑی عمر کی آتش ہسند ہوتی ہیں ۔ باتوں میں طنز کا تیکھا مزا ۔ تجربہ کار ، دانا ، اٹھک پھٹک اور حساب کتاب میں ماہر ۔ بہو سے دوبدو ، روبرو اور کو بہ کو گفتگو پر یقین کامل رکھتی ہیں ۔ بات مائل بہ تلخی ہو جائے تو بہ تو کلام کرتی ہیں ۔ کہیں بھی کسی بھی وقت کوئی آگ لگا سکتی ہیں ۔ گھر کا کوئی فرد بطور فائر بریگیڈ ساس کے آس پاس پایا جاتا ہے۔ میں نے سرکس میں ہی منہ سے آگ کا گولہ نکالتے دیکھا لیکن اکثر بہوئیں کہتی ہیں کہ ہمارے یہ " ساس سرکس " روز لگتا ہے ۔ بہوئیں کوشش کرتی ہیں کہ انہیں خود سے دور رکھا جائے لیکن یہ دوری کو پسند نہیں کرتی ہیں اور کسی بھی سادے سے معاملے پر کھڑا قیمے جیسا مرچوں والا ہنگامہ کر کے بڑے بڑوں کے منہ سے سی سی کی آوازیں نکلوا سکتی ہیں ۔
چلی ساس : کھانوں میں ہو تو ناک سے آنسو اور اگر اردو والی سامنے بیٹھی ہوں تو آنکھ سے آنسو ۔ بات بات پر مرچیں لگانا ان کا محبوب اور مجرب مشغلہ ہے ۔ کچھ کہو تو :
لو میں تو ایک لفظ نہ بولی ۔اب اگر تم پلک موتنی بنی ہو تو کیا ہم اپنے ہونٹ سلوا لیں ۔ زندہ ہیں تو بولیں گے بھی ۔ چپکی تو نہ بیٹھوں گی ۔ لڑکے کا نکاح پڑھوایا ہے ۔ نہ بولنے کی قسم تو نہ کھائی ۔
گارلک ساس : یہ ساس کھانوں میں ہو تو ذائقے کے ساتھ بلڈپریشر کنٹرول کرتا ہے ۔ کہتے ہیں صبح اگر دو جویں بغیر پانی کے کھا لیں تو جسم سے فاسد و حاسد مادہ باہر نکل جاتا ہے لیکن اگر یہی ساس اردو میں ہو تو صبح نہار منہ ان کے دو لقمے جملے سننے کے بعد سینے میں جلن شروع ہوجاتی ہے ۔ دن بھر بلڈپریشر کنٹرول کرنا محال ہو جاتا ہے ۔
جنجر ساس : یہ ساس بظاہر دھیما لگتا ہے لیکن اردو ساس خنجر اثر کا اعزاز رکھتی ہے ۔ ایک جملہ بہووں کا کلیجہ چیت دیتا ہے ۔۔ ہر جملے میں دھیمی آنچ پر لگا ایسا کاٹ دارحملہ ہوتا ہے کہ سننے والا حرف شکایت زبان پر نہ لا سکے لیکن دماغ سے دھواں اٹھنے لگے اور کٹ کھنا بن جائے ۔ جب ایسا ہو تو جنجر ساس کہتی ہیں :
اے لو بھیا ، میں نے ایسا کیا کہا کہ تم کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہو ؟ اب زبان کو تالا تو ڈالنے سے رہے ۔
سویا ساس : یہ ساس بظاہر سویا ہوا لگتا ہے لیکن اردو میں ہو تو بہت چوکس اور چوکنا ہوتا ہے ۔ سب پر نظر ہوتی ہے ۔بہو کی حرکات و سکنات سے مبینہ ممکنات تک سب کا توڑ اور اس کے لیے گھر والوں سے جوڑ توڑ کے لیے ذہن پھرکنی کی طرح گھومتا ہے ۔
بار بی کیو ساس : اردو میں یہ ساس ویسے تو بہو پر صدقے واری ہوتی ہے لیکن اکیلے میں بس نہیں چلتا کہ بہو کو کسی پر صدقے واری کر کے جان چھڑا لیں ۔ یہ ساس ذرا ماڈرن اور نئے زمانے کے چال چلن سے واقف ہوتی ہے ۔ بوڑھی ساسوں سے قدرے جوان اور فیشن ایبل ۔ کپڑے اور میک اپ میں بہو سے برابر کا مقابلہ کرتی ہیں ۔
پیزا ساس : یہ ساس کی سب سے نئی قسم ہے ۔ اس ساس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں کئی فلیورز آگئے ہیں ۔ کالج ، یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ۔ کسی اچھے کالج ، یونیورسٹی میں پڑھانے والی یا پھر کسی اچھی کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ۔ اتنی اچھائیوں کے بعد وہ کتنی اچھی ہیں ۔ یہ صرف بہو ہی بتا سکتی ہے ۔ یہ war میں کوئی وار ہلکا نہیں کرتی ہیں ۔ شستہ ، شائستہ اور برجستہ جملہ پھینکنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔
ماں لیں کھانوں میں انگریزی اور گھروں میں اردو کی ساس سے زندگی میں مزا ہے ۔ گھر کی ساری رونق ساس سے ہے ۔دو دن گھر میں نہ ہوں تو گھر سونا سونا لگتا ہے ۔ گھر کاٹ " " کھانے " کو دوڑتا ہے ۔ میری مانیں تو ( بہوئیں) انہیں اپنا استاد مان لیں کیونکہ کل آپ نے بھی ساس بننا ہے ۔ ساس سے تعلقات کو خشک گوار رکھنے کی بجائے خوش گوار رکھیں ۔
Monday, 6 September 2021
Karachi ki chowrangian aur nukar. Article 86
Article 86
کراچی کی چورنگیاں ، چوک اور نکڑ
کہیں کھو گئے ، ہم بڑے یو گئے
تحریر : اظہر عزمی
کوئی مانے نہ مانے مگر میرا بچپن یہ کہتا یے کہ کراچی چورنگیوں کا شہر تھا ۔ کتنے بس اسٹاپ ان سے منسوب تھے ۔ ہر دو تین کلو میٹر کے فاصلے ہر سرسبز ، ماحول دوست چورنگیاں کراچی والوں کے لئے شام کو پارک ہوا کرتی تھیں ۔ والد صاحب یر دوسرے تیسرے روز ہمیں سر شام ناظم آباد پہلی چورنگی لے جایا کرتے جہاں ہم گھنٹوں کھیلتے ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک کے بے لگام گھوڑے نے ان چورنگیوں کو روندھ ڈالا ۔ پہلے چورنگیاں چھوٹی ہوئیں اور پھر چورنگی کراچی کی زندگی سے نکل گئیں ۔ اب جو چورنگیاں بچی ہیں وہاں کراچی والوں کے لئے ماضی کی یادیں رہ گئی ہیں ۔
چورنگی کے علاوہ بازاروں اور محلوں میں جہاں دو سڑکیں ایک دوسرے کو کراس کریں یا چار راستے آکر ملیں اسے چوک کہا جاتا ہے ۔ چوک ہر چھوٹا سا چبوترا بنا یو تو محلے کے بے فکرے یہاں بیٹھ جاتے ہیں ۔ گلی کے کونے کو نکڑ کہا جاتا ہے ۔ کچھ نکڑوں ہر دکان بھی ہوتی جہاں شام کو محلے کے بزرگ بھی آکر کھڑے ہوجایا کرتے ۔ دکان والا اپنی دو ایک کرسیاں باہر ڈال دیا کرتا جس میں ایک کرسی کے چوتھے پائے کو کیلیں ٹھونک کر قابل بیٹھ بنایا جاتا جو بھی بیٹھتا اپنا وزن محفوظ حصے پر ڈالے رکھتا ۔ دوسری کرسی کی حالت بھی نا گفتہ با ہوتی ایک نہ ایک کیل بیٹھنے والے کو احساس دلاتی رہتی کہ ذرا ادھر ادھر ہوئے تو ایسے چبھوں گی کہ کسی کو بتا بھی نہ پاو گے ۔ اب حالت و واقعات پر گفتگو بگھاری جاتی ۔ پہلے کونے والے گھر پر ذرا سنجیدہ طبع اور لئے دیئے رہنے والے نکڑ ہر کرسیاں بچھا کر بھی بیٹھا کرتے تھے ۔ نکڑ تو آج بھی ہیں لیکن کچھ حالات اور کچھ اسٹیٹس کے باعث یہ نکڑ چند ایک علاقوں میں رہ گئے ہیں ۔ ان تمام نکڑوں کے کردار بھی بہت دلچسپ یوتے تھے ّّّّ__________________________________________________________________________اگر آگے پڑھنا چاھیں تو ۔۔۔۔
نکڑ والے خالو اور منوں بھائی کی درخواست یہ ہمارے بچپن کے دن تھے ۔ سکون کا زمانہ تھا لوگوں کو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا جنون نہ تھا نہ یی ایک دوسرے سے حسد اور کینہ تھا ۔ سب اپنے اپنے حال میں خوش تھے اور کھا کما رہے تھے ۔ آپا دھاپی نہ تھی ۔ پرانے محلے میں جب ھوش سنبھالا تو گلی کے ایک نکڑ کو سر شام آباد دیکھا ۔ پہلے گلی گلی سڑکیں نہ تھیں ۔ گلیاں کچی ہوا کرتی تھیں ۔ شام کو پہلے نکڑ پر ہلکی سی جھاڑو دینے کے بعد پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تو ایک سوندھی خوشبو فضا کو مہکا دیتی ۔
اس کے بعد لکڑی کی کھٹ کھٹ کر کے بند ہونے والی تین کرسیاں آتیں اور پھر ایک مخصوص وقت پر نکڑ والے خالو ہاتھ منہ دھو کر ، بیچ کی مانگ نکالے کرتے پائجامے میں آکر بیٹھتے اور کچھ دیر بعد گلی کے مصور میاں اور شکور پھوپھا ان دو کرسیوں پر براجمان ہوجاتے ۔ لیجئے ! نکڑ والے خالو ایک تین کرسی والا دربار سج گیا ۔ دروازے ہر خس کی ٹٹی پڑی ہوتی جس پر ایک مخصوص وقت پر ٹرے میں سجے چائے کے تین کپ آجاتے ۔
نکڑ والے خالو کی ملازمت اس وقت ایک باہر کی کمپنی میں تھی ۔ کلرک سے اوپر کی ہوسٹ تھی ۔ آمدن نسبتا اچھی تھی ۔ گھر والے بتاتے ہیں ایک زمانے میں ٹائی کوٹ آور ہیٹ لگا کر سائیکل پر دفتر جایا کرتے تھے ۔ سائیکل کا ہونا اس وقت آج کی مہنگی گاڑی جیسا تھا ۔ پڑھے لکھے نفیس آدمی تھے لیکن تھے سیدھے اور اس پر غصے کے تیز ۔ انگریزی اس وقت تک صرف ان ہی کو آتی تھی ۔ کوئی تار آجائے تو نکڑ والے خالو کے آنے کا انتظار ۔۔۔ اور اس وقت تک جس گھر میں تار آیا ہوتا وہ سوچ سوچ کے ہلکان ہوئے جاتے ، اللہ جانے کیا لکھا ہے ؟ سو سو طرح کے وسوسے آتے ۔ خاندان کے تمام بوڑھے بوڑھیوں کو بند آنکھوں کے ساتھ کہیں جاتے دیکھا جاتا ۔ نکڑ والے خالو کے انتظار میں اس گھر کا ایک فرد پہلے ہی نکڑ پر کھڑا ہوتا ۔ ابھی خالو گھر میں بھی نہ گھستے کہ تار سے خوشیوں کی جلترنگ یا غم کی شہنائی بجتی اٹھتی ۔
ہم بڑے ہوتے گئے اور خالو جوانی سے ادھیڑ عمری میں قدم رکھتے گئے ۔ خالو نکڑ والے سیاست کے رسیا تھے اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھتے ۔ اس زمانے میں ڈان اخبار پڑھا کرتے تھے ۔ روزانہ کی بنیاد ہر عالمی حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد خالو کی سرکردگی میں قائم تین رکنی بہت دور رس فیصلے کرتی جس میں فیصلہ سازی کے لیے فیصلہ کن کردار خالو کا ہوتا ۔ اگر مصور میاں اور شکور پھوپھا کہیں اپنا پلڑا بھاری کرنا چاھتے تو خالو ڈان کی مار مارتے اور دوران گفتگو ایک دو لائنیں انگریزی کی بول کر بات کی ختم کر دیا کرتے ۔
سب سے دلچسپ مرحلہ اس وقت آتا جب محلے کا کوئی شخص ان سے انگریزی میں درخواست لکھوانے آتا ۔ جب کوئی درخواست لکھوانے آتا تو خالو کے چہرے پر تفاخر کا ایک ہی الگ ہی رنگ آتا ۔ پہلے کسی بڑے وکیل کی طرح آنکھیں بند کر کے کیس سنتے پھر اس کے بھید جاننے کے لیے اعتراضات کے نکات اٹھاتے ۔ جب مکمل تسلی و تشفی ہو جاتی تو قلم چل پڑتا ۔
روشنائی (Ink) والے اپنے مخصوص پین سے درخواست لکھتے ۔ اس وقت ایسا سناٹا یوتا جیسے جج صاحب کسی قتل کے ملزم کا فیصلہ لکھ رہے ہوں ۔ سب کی نظریں پیپر پر ہوتیں ۔ خالو جب ان کی طرف دیکھتے تو سب پیچھے ہو جاتے ۔ خالو کو جب اردو کا مدعا انگریزی میں لکھتے ہوئے صحیح الفاظ کے چناو میں دقت ( میرا خیال ہے ) پیش آتی تو وہ پین کو جھٹکتے جس کے چھینٹے دائیں جانب بیٹھے درخواست گزار کے کپڑوں ہر آتے مگر اس وقت کس میں بولنے کی تاب تھی ۔ خالو بڑی عرق ریزی سے پیپر ہرانگریزی اور درخواست گزار کے کپڑوں پرانک ریزی کے دریا بہا دیتے ۔ کوئی بھی زخص شخص کپڑوں ہر چھینٹے دیکھ کر با آسانی بتا سکتا تھا کہ درخواست کس قدر مشکل تھی جسے خالو نے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا ۔ جس طرح آج ڈاکٹر مہنگی لکھ دے تو مریض کو یقین آجاتا ہے اب علاج یقینی ہے ۔ اسی طرح لوگ کپڑوں پر چھینٹے دیکھ کر درخواست کی قبولیت کا اندازہ لگا لیا کرتے ۔ اگر درخواست گزار کے کپڑوں پر چھینٹے کم ہوتے تو لوگ کہتے تھے کہ خالو انگلیاں قلم کر کے لکھتے ہیں ۔ درخواست میں جھوٹ کا کھوٹ ہے بھائی ۔ دیکھ لینا اب اس کے چھینٹے بعد میں پڑیں گے ۔ یوں سمجھ لیں وہ درخواست نہ ہوتی درخواست گزار کا کریکٹر سرٹیفیکٹ ہوتا ۔
ہم نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد خالو کو ایک درخواست لکھتے دیکھا ۔ پہلے درخواست گزار منوں بھائی کی ہوری بپتا سنی ۔ اس میں چند قابل پکڑ باتیں پکڑیں ۔اس کے بعد درخواست لکھنا شروع کر دیا ۔ خالو نے درخواست لکھنے اور منوں بھائی کے کپڑوں پر پڑے چھینٹے دیکھنے کے بعد منوں بھائی سے نیچے دستخط کرنے کو کہا ۔ منوں بھائی ذرا حجتی قسم کے آدمی تھے ۔ آنکھیں پھاڑ کر ہونقوں کی طرح ہوچھ بیٹھے : کیا لکھا ہے ؟ ۔خالو نے بڑے اطمینان سے کہا : ریاض شاہد کی فلم زرقا دیکھی ہے ؟ منوں بھائی نے ناں میں سر ہلایا ۔ خالو بولے : وہ لکھی ہے ۔ منوں بھائی نے حیرت سے دیکھا ۔ خالو نے تنک کر کہا : میاں کیا ہو گیا ہے جو تم نے کہا وہی لکھدیا ہے ۔
منوں بھائی نے سکھ کا سانس لیا ، اصرار کیا : پھر بھی کچھ تو بتا دیں ۔ خالو نے لحاظ میں گنگنائے کے انداز میں ہوں ہوں کرتے انگریزی پڑھی اور پھر بتا دیا ۔ منوں بھائی نے کہا : میں نے یہ کب کہا تھا ؟ اب گویا آپ نے خالو چھیڑ دیا : نہیں اپنے گھر سے لایا یوں ۔ میرے دماغ میں کیڑا کلبلا رہا تھا ۔ اسے کاغذ پر منتقل کردیا ہے ۔ کہنے اور لکھنے میں فرق ہوتا ہے ۔ منوں بھائی چٹے ان پڑھ اور کوڑے مغز تھے : یہ تو کوئی نہ بات ہوئی ؟ خالو نے درخواست منوں بھائی کو تھمائی : یہ لو اور اب میرے پاس درخواست لکھوانے نہ آنا ۔ منوں بھائی نے درخواست لی اور چل دیئے ۔ ابھی دو قدم گئے تھے کہ خالو نے آواز دی : سنو ۔ ہم سمجھے کہ خالو درخواست میں تبدیلی کے لئے تیار ہو گئے ہیں ۔ منوں بھائی آئے تو ہین ان کی طرف بڑھایا : یہ ہیں اپنے ساتھ لے جاو جب دماغ نام کرنے لگے تو اسی پیج ہر جہاں میں نے بتایا ہے وہاں دستخط کردینا ۔ کسی اور رنگ کے پین سے دستخط کئے تو یہ اصول کے خلاف بات ہے ۔ منوں بھائی نے ہین لیا ۔ خیال تھا کہ وہ چلے جائیں گے لیکن نہ جانے ان کی عقل میں کیا آئی کہ انہوں نے وھیں دستخط کئے اور ہین واپس کر کے چل دیئے ۔ خالو سے ہاتھ ملاتے ہوئے منوں بھائی کی آنکھوں میں لکھی معذرت اور شکریہ دونوں صاف پڑھے جا رہے تھے ۔
Maan ko awal rakhein .Article 85
Article 85
ماں کو اول رکھیں ورنہ آپ نامکمل ہیں
" میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے "
تحریر : اظہر عزمی
حج بیت اللہ اور عمرے میں سعی کا ذکر آئے تو مسلمانوں کے ذہنوں میں فورا دو چھوٹی پہاڑیوں "صفا" اور "مروہ" کا نام آتا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سیّدہ ہاجرہ اور ننھے اسماعیل کو کھانے پینے کی کچھ چیزوں کے ساتھ مکہ مکرمہ کے ریگستان میں چھوڑ دیا تھا ۔
کچھ وقت کے بعد ماں بیٹے کے پاس موجود اشیاء ختم ہو گئیں ۔ ننھے اسماعیل کو بلا کی پیاس تھی ۔ اس پر سیدہ حاجرہ صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئیں کہ شاید اپنے اور اپنے بیٹے کو بھوک اور پیاس سے بچانے کے لیے کچھ مل جائے ۔ سیدہ ہاجرہ وہاں سے اُتریں اور پھر مروہ کی پہاڑی پر چڑھ دوڑیں ۔ اسی طرح سات مرتبہ کیا ۔ یہ ماں کی مامتا تھی جو پرودگار عالم کو اتنی پسند آئی کہ اسے حج اور عمرے کا رکن بنا دیا ۔۔ __________________________________________________________________________________ماں تو اول و آخر ماں یے ۔ اولاد کے لیے سعی ( کوشش ) اس کی سرشت میں ہے ۔ ماں جیسا کوئی ہے نہ ہو سکتا ہے ۔ پروردگار عالم نے اپنے کتنے ہی اوصاف ماں کو عطا کر دیئے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ مخلوق سے اپنی محبت کا پیمانہ بھی ماں کو بنایا ہے ۔ پروردگار عالم ستر ماوں سے زیادہ ہم سے پیار کرتے ہیں ۔ انسان کے تمام اعمال کے نتیجے میں ملنے والے صلے " جنت " کو ماں کے پیروں تلے رکھ دیا ۔ وہ چاھتا تو پیروں کے اوہر رکھ دیتا ۔ ہاتھ یا ماتھے پر رکھ دیتا ۔ پرودگار نے اولاد کو ماں کا مقام بتا دیا ۔ وہ جنت جس کے لئے تم لاکھ جتن کرتے ہو ۔ وہ ماں کے پیروں کے نیچے ہے ۔ جنت حاصل کرنا کتنا مشکل تھا اگر ماں نہ ہوتی ۔
ماں پر بہت لکھا گیا ہے اور جتنا لکھا گیا ہے اتنا ہی کم لکھا گیا ہے ۔ ماں پر بڑھاپا آجائے تو اس کا مزاج بچوں جیسا ہو جاتا ہے ۔ ایک ایک بات کو بار بار دھرانا ۔ کسی ایک بات ہر بتائے بغیر خفا ہوجانا ۔ ہر بات میں جلدی کرنا ۔ بیٹھے بیٹھے اداس یا خوش ہوجانا ، اپنی کہی بات کہہ کر بھول جانا اور اس ہر یہ کہنا کہ میں بھولتی کچھ نہیں ، ہزار بار کے سنائے قصے سنانا ۔ خاندان اور محلے میں کسی کا انتقال یو جائے تو اس غمگین کیفیت کے ساتھ بتانا جیسے اللہ نہ کرے گھر میں کچھ ہو گیا ہو ۔ بڑھاپا جسم و دماغ پر آتا مگر یہ بھی کتنی عجیب ہے اس کی محبت کا جذبہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا جاتا ہے ۔کبھی کہیں نہ جانے پر اصرار اور کبھی ایسا کہ کسی کے ہاں جانا ہو تو وقت سے پہلے تیار ۔ ایک دن ماں کے پاس نہ بیٹھو اور اگر دور رہتے ہو اور ان سے ملنے نہ جاو تو رقت آمیز گلے شکوے ۔
ماں : بیٹا تم تو ہمیں بھول ہی گئے ۔ کب سے شکل نہیں دکھائی ۔ میں نے عدیل ( چھوٹا بیٹا ) سے کہا تھا ذرا فون تو کرو ۔ وہنہیں آتے نہ آئیں مگر ہم تو پوچھ لیں ۔۔۔ کیسے ہیں ؟
آپ : امی پرسوں رات ہی تو آیا تھا ۔
ماں : ہاں تم گئے ہو اور رات ایسی طبیعت خراب ہوئی ہے کہ پوچھو مت ۔ وہی ٹانگوں کا درد ۔ جب سے بستر پر پڑی ہوں اور اٹھی نہیں ۔
آپ : دوا تو کھا رہی ہیں آپ ؟
ماں : ارے یہ دوا شوا اب کسی کام کی نہیں ۔ بس تم آجایا کرو ۔ میں سمجھوں گی دوا کھا لی ۔
آپ : وہ اصل میں کل آجاتا ۔ شاہ زیب کو رات سے بہت تیز بخار ہے ۔ دفتر سے آٹے ہی اسے ڈاکٹر کے لے گیا تھا ۔
ماں : میرے شزو کو بخار یے اور مجھے پتہ ہی نہیں ۔ بہو نے بھی فون نہ کیا ۔ ذرا میری بات کراو ۔آپ کال ملا کر دیتے ہیں ۔
ماں : ہللو ۔۔۔ میں بات کر رہی ہوں ۔ ہاں وہ شزو کیسا ہے ؟ بخار آ گیا ہے ۔ تم نے بتایا ہی نہیں ۔
بہو : وہ امی ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ بس گلا ٹھسا ہوا یے ۔ ہورے سینے میں جکڑن ہے اسی لیے بخار آگیا ۔ ڈاکٹر کو دکھا دیا ہے ۔
ماں : اچھا ذرا میری اس سے بات تو کراو ۔
ماں : ہللو ۔۔۔ میرے شزو کو بخار آگیا ۔ ہوتا : دددا ۔۔۔ امی مجھے ناں ۔ کھانا نہیں دے رہی ہیں ۔ آپ آجائیں ۔
ماں : بخار میں کھانا نہیں کھاتے ۔ جب بخار اترے گا تو جو کہے گا کھا لینا ۔ میں تجھے خود بنا کر دوں گی ۔
پوتا : نہیں ناں ۔ مجھے ابھی کھانا ہے ۔۔۔ زنگر برگر
ماں : یہ نگوڑ مارا زنگر ٹنگر نہ نکلے تیرے دماغ سے پوتا : دددا آپ آجائیں ناں ۔ ماں : بس سمجھ میں ابھی آئی پر زنگر ٹنگر نہ دینے کی
موبائل بیٹے کو دیتے ہی دوسری بہو کو آواز دی جاتی ہے : ارے شہناز ذرا میری چادر تو لے آئے ۔
آپ : ( حیرت سے ) چادر کیوں ؟ ماں : تیرے ساتھ تیرے گھر جو چل رہی ہوں ۔
آپ : کیا ہو گیا ہے ؟ چلا آپ سے جا نہیں رہا ۔ دوسری منزل تک سیڑھیاں کیسے چڑھیں گی ۔
شہناز چادر لے آتی ہے ۔ بیٹھے بیٹھے چادر اوڑھتی ہیں ۔ شہناز بھی حیران ہے اور جیٹھ سے پوچھتی ہے : بھائی امی کہاں جارہی ہیں ۔ ان سے تو واش روم جانا دوبھر ہے ۔
آپ : ارے میں نے کب کہا ۔ بس انہوں نے شاہ زیب سے بات کی ہے ۔ ہلکا سا بخار ہے ۔ گھر جانے کا کہہ رہی ہیں ۔
ماں کا رعب سامنے آ گیا : ارے تیرے کہنے سے کیا ہوتا ہے ۔ اب تو مجھے بتائے گا کہ مجھے شزو کے پاس جانا ہے کہ نہیں ۔
آپ : امی ۔۔۔ وہ ۔۔۔ آپ ۔۔۔ سمجھ نہیں رہی ہیں ۔
ماں : سب سمجھ رہی ہوں ۔ چڑھ جاوں گی تیری سیڑھیاں ۔ کیا پہلے نہیں چڑھی ۔۔۔ چل!اور کسی ایک نہ چلی ۔ ماں چل دی ۔
ماں یونہی تو ماں نہیں ہوتی ۔ وہ اس عمر میں پوتے کی ایک آواز پر جا رہی ہے اور ہم ہیں کہ کوئی معمولی سا کام پڑ جائے تو سوچتے ہیں ماں سے کل مل لیں گے ۔ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ وہ آپ کے آنے کے وقت سے بہت پہلے آپ کا انتظار شروع کر دیتی ہے ۔ آپ نہیں آتے تو اس پر کیا گزرتی ہے ۔ ماں کو اول رکھیں کیونکہ اس کے بغیر آپ نہ مکمل ہیں ۔
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی یے میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی یے ( منور رانا)
اور جب ماں دنیا میں نہیں ہوتی یے تو آپ سب کے ہوتے ہوئے بھی اکیلے ہوتے ہیں ۔ ایک ایسا اکیلا پن جس کو رات کی تنہا سسکیاں اور آنکھوں میں نوحہ کناں نمی محسوس کرتی ہے ۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے نظروں سے صدقے اتارتی اور زیر لب دعائیں کرتی ماں کا حصار نہ جانے دن بھر آپ کو کتنی مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا ہے ۔
ماں تیرے بعد بتا ، کون لبوں سے اپنے وقت رخصت میرے ماتھے پہ دعا لکھے گا
حضرت موسی علیہ السلام کلیم اللہ تھے ۔ کوہ طور پر خدائے بزرگ و برتر سے ہم کلام یوتے تھے ۔ جب آپ والدہ کی رحلت کے بعد کوہ طور گئے تو غیب سے آواز آئی : اے موسی ( علیہ السلام ) ذرا سنبھل کر اب تمھارے لیے دعا کرنے والے لب خاموش ہوچکے ہیں ۔
" ماں سے ملیں کیونکہ ماں دوبارہ نہیں ملے گی "
Aaj shab e Ashur hae. Article 84
Article 84
آج شب عاشور ہے ۔ چراغ بجھا دیا جائے گا
اہل مکہ کا گریز اور کربلا کے شہداء
حسین (ع) سے چاہیئے
یا حسین (ع) چاہیئے ؟
تحریر : اظہر عزمی
میں کوئی مولانا نہ عالم ، خطیب نہ ذاکر ، تاریخ داں نہ تجزیہ نگار اس لئے نواسہ رسول امام حسین ( آپ چاھیں تو علیہ السلام پڑھ لیں یا رضی اللہ تعالی عنہ ۔ بس مقام امام حسین کو سمجھیں ) کو کبھی کسی مذہب ، مسلک ، عرب کی مخصوص قبائلی گروہ بندی و عصبیت وغیرہ کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی اتنی عظیم المرتبت شخصیت سے متعلق کسی خانے ، پیمانے یا میزان کی ضرورت ہے ۔ حق و باطل کے معرکے میں یہ سوال بھی اٹھا دیا جاتا ہے کہ حق پر کون تھا ؟ میری دانست میں صرف یہ دیکھ لیں کہ صبر کہاں تھا ۔ یہ صبر بر بنائے مجبوری نہ تھا ۔ بقائے دین کے لئے صبر اختیاری تھا ۔
کربلا کا پیغام ہمہ گیر اور آفاقی ہے ۔ اس لئے اسے سمجھنے ، نتیجہ اخذ کرنے اور راہ عمل متعین کرنے کے لئے اول و آخر انسانیت کی اشد ضرورت ہے ۔ انسانیت ہر مذہب بالخصوص الہامی مذاہب کی اساس ہے ۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا اسلامی تعلیمات میں انسانیت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ حقوق العباد کیا ہے ؟ انسانیت ہی تو ہے ۔ تعصب کی تمام تر عینکیں لگانے کے بعد بالاخر ہر صاحب انصاف شخص یہ کہے گا یا کم از کم یہ ضرور سوچے گا کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا اسوہ امام حسین ع ہے ۔ لاکھ اختلافی حوالے موجود ہوں ۔ دلائل و تاویلات کے انبار لگا دیں مگر واقعہ کربلا کے ہونے سے تو انکار ممکن نہیں جو ظلم وہاں روا ہوا وہ جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ امام عالی مقام سے یزید کی کوئی ذاتی جنگ نہیں تھی ۔ اسی لئے جب گورنر مدینہ نے امام عالی مقام سے بیعت کا کہا تو امام عالی مقام نے ارشاد فرمایا : مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا ۔ یہ ایک آفاقی پیغام ہے جس کو ہم ذاتی اغراض و مقاصد کے کسی خانے میں نہیں رکھ سکتے ۔
مولانا ابو اعلی مودوی کا یہ بیان انمٹ رہے گا ۔ ایک شخص نے مولانا مودودی سے سوال کیا : جب سب لوگوں نے یزید کی بیعت کر لی تھی تو امام حسین نے کیوں نہیں کی؟مولانا مودودی نے فرمایا : آپ کا سوال ہی درست نہیں ۔ سوال اس طرح ہونا چاہیئے کہ جب امام حسین نے یزید کی بیعت نہیں کی تو باقی لوگوں نے کیوں کی ؟ اس سوال سے دیگر سوالات بھی ذہن میں آتے ہیں ۔ جب امام عالی مقام نے بقائے دین کے لئے مدینہ چھوڑا تو باقی لوگوں نے کیوں نہ چھوڑا ۔ امام عالی مقام نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا تو باقیوں نے ایسا کیوں نہ کیا ۔
بعض کتب میں روایت ہے کہ امام عالی مقام نے اپنے بچپن میں ایک شخص کو بفضل خدا 7 بیٹے ہونے کی دعا دی تھی ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان 7 بیٹوں میں سے ایک بیٹا معرکہ کربلا میں امام عالی مقام کے جاں نثاروں میں شامل ہے ۔ امام عالی مقام سب کے لئے جود و سخا ہیں ، عطا ہی عطا ہیں ۔ کہتے ہیں امام عالی مقام نے کبھی کسی کے سوال کو رد نہیں کیا ۔ بس ایک سوال بیعت فاسق تھا جس کا انکار کیا وہ بھی ذات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف بقائے دین کے لیے ۔
چلیں ! مکہ چلتے ہیں امام عالی مقام نے سوال بیعت کے بعد 27 رجب کو مع اہل خانہ و دیگر افراد مدینہ سے کوفہ کا رخ کیا ۔ راستے میں مکہ مکرمہ قیام کیا ۔ لوگوں سے ملے ۔ اہل مکہ کو ساتھ چلنے کو کہا ۔ کچھ افراد ساتھ بھی ہوئے لیکن اکثریت خاموش رہی ۔ امام عالی مقام نے اتمام حجت کیا تاکہ تاریخ کے صفحات پر کوئی یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ ہم تو لاعلم رہے ۔ نواسہ رسول امام عالی مقام کی قبولیت دعا سے سب واقف تھے ۔ مکہ میں کربلا جانے سے گریزاں کتنے ہی افراد نے امام عالی مقام سے اپنے لئے انفرادی دعائیں کرائیں ۔ امام عالی مقام نے سب کے لئے دست دعا کو بلند کیا اور یہ افرآد اپنی دعاوں / مرادوں کو پا گئے ۔
چلیں ! کربلا چلتے ہیں شب عاشور ہے ۔ امام عالی مقام نے جاں نثاروں کو بلایا ۔ جانتے تھے کہ صبح کی پو پھٹتے دونوں طرف نمازیں ادا کرنے کے بعد معرکہ حق و باطل سجے گا اور عصر عاشور تک کربلا کی زمین سرخ ہو جائے گی ۔ لوگ لشکر جمع کرتے ہیں ۔ لشکریوں کو روکتے ہیں مگر امام عالی مقام نے تو کچھ اور ہی کردیا ۔ سب سے کہا کہ فوج یزید میرے خون کی پیاسی ہے ۔ جس کو جانا ہے چلا جائے ۔ یہ کہہ کر امام عالی مقام نے چراغ بجھا دیا تاکہ کسی جانے والے کو خفت یا شرمندگی کا سامنا نہ ہو ۔ چراغ دوبارہ روشن کیا تو 71 کے 71 روشن چہرے جہاں تھے وہیں موجود تھے ۔ پائے استقامت میں کوئی جنبش نہ تھی اور پھر روز عاشور ریگزار کربلا پر شہادتوں کے وہ سرخ گلاب کھلے کہ اسلام کے چمن کو تا قیامت کے لیے گل و گلزار کر گئے ۔
میں کربلا جانے سے گریزاں اہل مکہ اور کربلا کے شہداء کو دیکھتا ہوں تو ایک یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اہل مکہ کو امام عالی مقام سے جتنا اپنا حسب استطاعت چاہیئے تھا انہوں نے لے لیا ۔ کربلا کے شہداء کو امام عالی مقام چاھیئے تھے ۔ اس لئے انہوں نے امام عالی مقام سے کچھ نہیں مانگا بلکہ یہی کہا کہ 70 مرتبہ بھی اگر مار کر زندہ کئے جائیں تو آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے ۔ امام عالی مقام نے اہل مکہ کی حاجات کے لئے دست دعا بلند کیا س طرح ان افراد کی تمام دعائیں مستجاب ہوئیں ۔ اب امام عالی مقام کی نظر میں ان شہداء کا مقام سوچیں ۔ کیا کیا عطا نہ کیا ہوگا ۔
آج شب عاشور ہے ۔ امام عالی مقام کسی وقت چراغ بجھا دیں گے ۔ آئیں ! خود کو خیمہ امام عالی مقام میں محسوس کریں اور فیصلہ کریں کہ آپ امام عالی مقام کی دعوت کے باوجود کربلا نہ جانے والے اس دور کے اہل مکہ میں سے ہیں یا شہدائے کربلا کی فکر کے پیروکار ؟
میں کوئی مولانا نہ عالم ، خطیب نہ ذاکر ، تاریخ داں نہ تجزیہ نگار اس لئے نواسہ رسول امام حسین ( آپ چاھیں تو علیہ السلام پڑھ لیں یا رضی اللہ تعالی عنہ ۔ بس مقام امام حسین کو سمجھیں ) کو کبھی کسی مذہب ، مسلک ، عرب کی مخصوص قبائلی گروہ بندی و عصبیت وغیرہ کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی اتنی عظیم المرتبت شخصیت سے متعلق کسی خانے ، پیمانے یا میزان کی ضرورت ہے ۔ حق و باطل کے معرکے میں یہ سوال بھی اٹھا دیا جاتا ہے کہ حق پر کون تھا ؟ میری دانست میں صرف یہ دیکھ لیں کہ صبر کہاں تھا ۔ یہ صبر بر بنائے مجبوری نہ تھا ۔ بقائے دین کے لئے صبر اختیاری تھا ۔
کربلا کا پیغام ہمہ گیر اور آفاقی ہے ۔ اس لئے اسے سمجھنے ، نتیجہ اخذ کرنے اور راہ عمل متعین کرنے کے لئے اول و آخر انسانیت کی اشد ضرورت ہے ۔ انسانیت ہر مذہب بالخصوص الہامی مذاہب کی اساس ہے ۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا اسلامی تعلیمات میں انسانیت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ حقوق العباد کیا ہے ؟ انسانیت ہی تو ہے ۔ تعصب کی تمام تر عینکیں لگانے کے بعد بالاخر ہر صاحب انصاف شخص یہ کہے گا یا کم از کم یہ ضرور سوچے گا کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا اسوہ امام حسین ع ہے ۔ لاکھ اختلافی حوالے موجود ہوں ۔ دلائل و تاویلات کے انبار لگا دیں مگر واقعہ کربلا کے ہونے سے تو انکار ممکن نہیں جو ظلم وہاں روا ہوا وہ جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔
یہ حقیقت ہے کہ امام عالی مقام سے یزید کی کوئی ذاتی جنگ نہیں تھی ۔ اسی لئے جب گورنر مدینہ نے امام عالی مقام سے بیعت کا کہا تو امام عالی مقام نے ارشاد فرمایا : مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا ۔ یہ ایک آفاقی پیغام ہے جس کو ہم ذاتی اغراض و مقاصد کے کسی خانے میں نہیں رکھ سکتے ۔
مولانا ابو اعلی مودوی کا یہ بیان انمٹ رہے گا ۔ ایک شخص نے مولانا مودودی سے سوال کیا : جب سب لوگوں نے یزید کی بیعت کر لی تھی تو امام حسین نے کیوں نہیں کی؟
مولانا مودودی نے فرمایا : آپ کا سوال ہی درست نہیں ۔ سوال اس طرح ہونا چاہیئے کہ جب امام حسین نے یزید کی بیعت نہیں کی تو باقی لوگوں نے کیوں کی ؟ اس سوال سے دیگر سوالات بھی ذہن میں آتے ہیں ۔ جب امام عالی مقام نے بقائے دین کے لئے مدینہ چھوڑا تو باقی لوگوں نے کیوں نہ چھوڑا ۔ امام عالی مقام نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا تو باقیوں نے ایسا کیوں نہ کیا ۔
بعض کتب میں روایت ہے کہ امام عالی مقام نے اپنے بچپن میں ایک شخص کو بفضل خدا 7 بیٹے ہونے کی دعا دی تھی ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان 7 بیٹوں میں سے ایک بیٹا معرکہ کربلا میں امام عالی مقام کے جاں نثاروں میں شامل ہے ۔ امام عالی مقام سب کے لئے جود و سخا ہیں ، عطا ہی عطا ہیں ۔ کہتے ہیں امام عالی مقام نے کبھی کسی کے سوال کو رد نہیں کیا ۔ بس ایک سوال بیعت فاسق تھا جس کا انکار کیا وہ بھی ذات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف بقائے دین کے لیے ۔
چلیں ! مکہ چلتے ہیں
امام عالی مقام نے سوال بیعت کے بعد 27 رجب کو مع اہل خانہ و دیگر افراد مدینہ سے کوفہ کا رخ کیا ۔ راستے میں مکہ مکرمہ قیام کیا ۔ لوگوں سے ملے ۔ اہل مکہ کو ساتھ چلنے کو کہا ۔ کچھ افراد ساتھ بھی ہوئے لیکن اکثریت خاموش رہی ۔ امام عالی مقام نے اتمام حجت کیا تاکہ تاریخ کے صفحات پر کوئی یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ ہم تو لاعلم رہے ۔ نواسہ رسول امام عالی مقام کی قبولیت دعا سے سب واقف تھے ۔ مکہ میں کربلا جانے سے گریزاں کتنے ہی افراد نے امام عالی مقام سے اپنے لئے انفرادی دعائیں کرائیں ۔ امام عالی مقام نے سب کے لئے دست دعا کو بلند کیا اور یہ افرآد اپنی دعاوں / مرادوں کو پا گئے ۔
چلیں ! کربلا چلتے ہیں
شب عاشور ہے ۔ امام عالی مقام نے جاں نثاروں کو بلایا ۔ جانتے تھے کہ صبح کی پو پھٹتے دونوں طرف نمازیں ادا کرنے کے بعد معرکہ حق و باطل سجے گا اور عصر عاشور تک کربلا کی زمین سرخ ہو جائے گی ۔ لوگ لشکر جمع کرتے ہیں ۔ لشکریوں کو روکتے ہیں مگر امام عالی مقام نے تو کچھ اور ہی کردیا ۔ سب سے کہا کہ فوج یزید میرے خون کی پیاسی ہے ۔ جس کو جانا ہے چلا جائے ۔ یہ کہہ کر امام عالی مقام نے چراغ بجھا دیا تاکہ کسی جانے والے کو خفت یا شرمندگی کا سامنا نہ ہو ۔ چراغ دوبارہ روشن کیا تو 71 کے 71 روشن چہرے جہاں تھے وہیں موجود تھے ۔ پائے استقامت میں کوئی جنبش نہ تھی اور پھر روز عاشور ریگزار کربلا پر شہادتوں کے وہ سرخ گلاب کھلے کہ اسلام کے چمن کو تا قیامت کے لیے گل و گلزار کر گئے ۔
میں کربلا جانے سے گریزاں اہل مکہ اور کربلا کے شہداء کو دیکھتا ہوں تو ایک یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اہل مکہ کو امام عالی مقام سے جتنا اپنا حسب استطاعت چاہیئے تھا انہوں نے لے لیا ۔ کربلا کے شہداء کو امام عالی مقام چاھیئے تھے ۔ اس لئے انہوں نے امام عالی مقام سے کچھ نہیں مانگا بلکہ یہی کہا کہ 70 مرتبہ بھی اگر مار کر زندہ کئے جائیں تو آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے ۔ امام عالی مقام نے اہل مکہ کی حاجات کے لئے دست دعا بلند کیا س طرح ان افراد کی تمام دعائیں مستجاب ہوئیں ۔ اب امام عالی مقام کی نظر میں ان شہداء کا مقام سوچیں ۔ کیا کیا عطا نہ کیا ہوگا ۔
آج شب عاشور ہے ۔ امام عالی مقام کسی وقت چراغ بجھا دیں گے ۔ آئیں ! خود کو خیمہ امام عالی مقام میں
محسوس کریں اور فیصلہ کریں کہ آپ امام عالی مقام کی دعوت کے باوجود کربلا نہ جانے والے اس دور کے اہل مکہ میں سے ہیں یا شہدائے کربلا کی فکر کے پیروکار ؟
حسین ع سے چاہیئے یا حسین ع چاہیئے ؟
Wednesday, 28 July 2021
Yousuf khan se Dilip Kumar . Shaks se shaksiat ka safar.۔ Article # 83
Article # 83
یوسف خان سے دلیپ کمار
شخص سے شخصیت کا سفر
تحریر : اظہر عزمی
اب تو فلم دیکھے ایک زمانہ ہو گیا ۔ جب لڑکپن سے نوجوانی میں قدم رکھ رہے تھے تو وہ زمانہ بلا شرکت غیر امیتابھ بچن کا تھا ۔ ان کی شخصیت کا جادو واقعتاًسر چڑھ کر بول رہا تھا جس کو دیکھو بیچ کی مانگ نکالے امیتابھ بچن بنا پھرتا ۔ بس ایک میرے چچا تھے جو ایک ہی بات کہتے کہ امیتابھ اچھا اداکار ہے مگر دلیپ کمار کو follow کرتا ہے ۔ اینگری ینگ مین کا کانسپٹ دلیپ کمار نے دیا ہے ۔ اداکاری کی ابجد سے اس وقت تو بالکل بھی واقف نہ تھے ۔ امیتابھ کے بال ، آواز ، لمبا قد اور ڈریسنگ کے ساتھ قیامت کی ڈائیلاگ
ڈلیوری کے آگے ہمیں اپنے چچا کی بات سمجھ میں نہ آتی ۔
جب ذرا عمر کے سال بڑھے اور دلیپ کمار کی فلمیں بالخصوص گنگا جمنا ، دیوداس اور مغل اعظم دیکھیں تو دلیپ کمار ذہن میں آنے شروع ہو گئے ۔ اس کے بعد کرانتی اور سودا گر دیکھی ۔ امیتابھ کے مقابل تو دلیپ کمار کبھی کسی فلم میں نہ آئے تھے اس لیے ہمارا ذہن تقابل نہیں کر پارہا تھا ۔
رمیش سپی کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم شکتی میں دلیپ کمار اور امیتابھ آمنے سامنے تھے ۔ فلم بہت غور اور احتیاط سے دیکھی ۔ اداکاری کی تو خیر کیا سمجھ میں آتی لیکن انسانی نفسیات اور رشتے کی پہچان ہو چکی تھی ۔ اس فلم میں دلیپ کمار اور امیتابھ بچن باپ بیٹے بنے ۔ دلیپ کمار پولیس آفیسر اور امیتابھ بچن اینگری ینگ سن بنے ۔
شکتی میں دلیپ کمار اور امیتابھ کی اداکاری کا موازنہ تو ناقدین یا فن اداکاری کے ماہرین کی کر سکتے ہیں لیکن فلم کے ایک سین میں جب دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کے درمیان گھر پر ایک جذباتی سین تھا ۔ امیتابھ کے بھرپور طویل مکالمہ کے جواب میں دلیپ کمار نے اپنے ماتھے پر انگلی کو پھیر ( ایسا عموما ہم سوچتے ہوئے کرتے ہیں ) کر بطور والد چہرے کے جو جامع ترین تاثرات دیئے تھے وہ امیتابھ پر بازی لے گئے تھے ۔ اسی فلم کے لیے فلم فیئر ایوارڈ بھی دلیپ کمار کے حصے میں آیا تھا ۔
عام طور پر اداکار اسکرپٹ کے علاوہ اجھا بول نہیں پاتے ۔ چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر کا مطالعہ بہت واجبی سا ہوتا ۔ دلیپ کمار ایک وسیع المطالعہ شخص تھے ۔ ان کی گفتگو سن کر ایسا لگتا کہ آپ کسی اداکار سے نہیں بلکہ دانشور کی باتیں سن رہے ہیں ۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ عموما ہیرو کا کردار کرنے والے اداکار اپنی جاذبیت اور مقبولیت قائم نہیں رکھ پاتے ۔ دلیپ کمار عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اور بھی قدآور ہوتے چلے گئے ۔ امیتابھ بھارت کے دوسرے ایسے اداکار ہیں ۔
میں آج بھی امیتابھ کا مداح ہوں لیکن دلیپ کمار کی اداکاری اور شخصیت کا دیوانہ ہوں ۔ چہرے پر ایک عجیب سا اجلا پن تھا ، گفتگو کرتے تو لفظ موتی بن کر نکلتے اور شخصیت کو جگمگا دیتے ۔ شخص سے شخصیت بننے کی اگر کوئی کامیاب مثال ہے تو وہ دلیپ کمار کی ہے ۔ دلیپ کمار نے بے ہنگم اچھل کود ، غیر شائستہ مکالموں اور نازیبا حرکات و سکنات کے بجائے رموز اداکاری کو سمجھا اور اسے اعتبار و معیار بخشا ۔ اداکاری میں جو عزت و احترام دلیپ کمار نے کمایا ہے ۔ آج اور آنے والے دور کا بڑے سے بڑا اداکار اس کی آرزو کرے گا ۔
نہ جانے کیوں ، کانوں میں یہ گیت گونجنے لگا
سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں
Thursday, 17 June 2021
Real Story " The Fighting Train " .Article 82
سچے واقعے ہر مبنی " دی فائٹنگ ٹرین "
دو باراتیں آمنے سامنے اور میں بطور مہمان اداکار
تحریر : اظہر عزمی
دی برننگ ٹرین فلم ہمارے زمانے کی ایک مشہور فلم تھی لیکن یہ خبر نہ تھی ک دی فائٹنگ ٹرین بھی بنے گی جس میں ، ہم بھی بطور مہمان اداکار شریک ہوں گے ۔ فلم کی شوٹنگ کسی سیٹ پر نہیں بلکہ اصل ٹرین میں ایک رات میں بغیر کسی ری ٹیک کے مکمل ہو جائے گی ۔ فلم کی اسٹوری خود بخود بنے گی اور وہ وہ ٹرننگ پوائنٹ آئیں گے کہ بڑے سے بڑے اسٹوری رائٹر کا ذہن بھی ان بلندیوں ، باریکیوں اور تاریکیوں کو چھو نہ سکے گا ۔ برجستہ ڈائیلاگ اور ان کی بے ساختہ ادائیگی کسی ڈائریکٹر کی محتاج نہ ہو گی ۔ فائٹنگ سین مکمل اوریجنل
ہوں گے اور بیک گراونڈ سے ڈھشوں ڈھشوں کی آواز نہ آئے گی ۔
میں اتنی کہانیاں کیوں کر رہا ہوں ۔ سیدھے سیدھے فلم کے اسکرپٹ پر کیوں نہیں آجاتا ۔
فلم کا ایک مہمان اداکار اظہر عزمی ایک چہلم میں شرکت کے لئے رات کی ٹرین سکھر ایکسپریس سے خیرپور میرس جا رہا ہے ۔ دسمبر کی کڑکتی سردی ہے ۔ کمپارٹمنٹ کھچا کھچ بھرا ہے ۔ گیٹ کے ساتھ ایک دیگ رکھی یے ۔ کمپارٹمنٹ میں ایک بارات بھی جا رہی یے ۔ ٹرین وقت مقررہ سے آدھے گھنٹے لیٹ چلتی ہے ۔ کمپارٹمنٹ کے مسافروں کو سردی نے خاموش کردیا ہے ۔ بس بارات کے لڑکوں کی چہکتی آوازیں ٹرین میں زندگی کا احساس دلا رہی ہیں ۔ سیٹوں والے سیٹوں پر باقی ٹرین کے فرش ہر لپیٹے لپاٹے پڑے ہیں ۔
ابھی جنگ شاھی آیا تھا کہ ٹرین میں کچھ گہما گہمی محسوس ہوئی ۔ یہ سوچ کر کہ ٹرین رکنے والی ہو گی مگر نہیں ٹرین تو پٹریوں پر زناٹے کے ساتھ ہوا کا سینہ چیرتی رواں دواں یے ۔ آوازیں بڑھ رہی ہیں جن میں گالیوں کی گرماہٹ محسوس ہورہی ہے ۔ نیچے کے مسافر ایک دم ہڑبھڑا کر اٹھ بیٹھے جیسے کوئی کتا ان کے برابر آکر لیٹ گیا ہو ۔ میں ( مہمان اداکار ) بھی برتھ سے ٹرین کی ارتھ پر آگیا ۔ اندازہ ہوا کہ ابھی کچھ دیر پہلے فائٹنگ سین ہوا ہے اور جو مار نہ پایا اب وہ گالیوں کی مار دے رہا ہے ۔ کمپارٹمنٹ میں ہر طرف سراسیمگی ہے ۔ آدھ کھلی آنکھوں کے مسافر حیران و پریشان ہیں ۔ اتنی دیر میں ایک لڑکے کی آواز آتی : چھوڑنا نہیں کسی کو ۔ جانتے نہیں ہیں کن سے پنگا لیا ہے ۔
میں نے ساتھ کھڑے ایک نامعلوم نوجوان مسافر سے معلومات لیں تو پتہ چلا کہ ہمارے کمپارٹمنٹ کی بارات سکھر جا رہی ہے اور دوسرے کمپارٹمنٹ کی بارات کراچی سے لڑکی وداع کر کے سکھر واپس جا رہی ہے ۔ نامعلوم نوجوان مسافر بھی سکھر کا ہے ۔ اس نے بتایا کہ اس بارات کے لڑکے ٹرین میں ادھر ادھر گھوم رہے تھے ۔ برابر والے کمپارٹمنٹ سے گزرے تو برتھ پر سوئی لڑکی سے ایک دو بار کاندھا لگ گیا ۔ کمپارٹمنٹ کے لڑکوں کو یہ کاندھے بازی اچھی نہ لگی اور ہمارے کمپارٹمنٹ کی بارات کے لڑکوں کو کوٹ دیا بلکہ اچھا خاصا دھو دیا ۔
واقعے کی گرمی نے سردی کو موٹا لحاف آوڑھا دیا تھا ۔ شدت کم ہوگئی تھی ابھی جھگڑا تھما نہیں تھا ۔ میں دوسرے کمپارٹمنٹ گیا تو عجب تماشا دیکھا ۔ ایک بزرگ ایک نوجوان لڑکے کو دھبا دھب مار رہے تھے اور اسے مارتے مارتے ہمارے کمپارٹمنٹ میں لے آئے ۔ پتہ چلا کہ یہ ہمارے کمپارٹمنٹ کا دولھا ہے ۔ " دولھگی " کے جوش میں لڑنے گیا تھا ابھی لڑکوں نے سلامی دینا شروع کی تھی کہ باپ نے وہاں آکر دھنائی کر دی ۔ لڑکے پیچھے ہٹ گئے کہ جب گھر کا آدمی یہ کام کر رہا ہے تو ہم اپنے ہاتھ کیوں گندے کریں ۔ ویسے بھی اس سے قبل دوسرے کمپارٹمنٹ والے ہمارے لڑکوں کی توقع سے زیادہ منہ تک خاطر و مدارت کر چکے تھے ۔ اس لئے ہمارے لڑکوں کے سینوں میں انتقام کے شعلے دھک رہے تھے ۔ دولھا کا سوکھا سڑا بھائی آپے سے باھر ہورہا تھا ۔ بلیوں اچھل رہا تھا ۔ جب بھی چھوڑو تو سیدھا کھڑا ہو جاتا ۔ میں نے دولھا کی حالت دیکھی تو کہا :
سہرا باندھے بنا سالوں سے سلامی لینا اچھا شگون نہیں ۔ جو منہ کی حالت ہے آر سی مصحف ہوا تو بیوی نے چیخ مار کر اٹھ جانا یے ۔
تازہ تازہ پٹے دولھا کی چوٹوں کا درد ابھی ٹھاٹے مار رہا تھا۔ اس لئے میری بات کو چھوٹی سی لہر سمجھ کر محسوس ہی نہ کر پایا ۔
اسی دوران میرا نامعلوم نوجوان مسافر میرے پاس آیا اور بولا : ابھی دیکھو اتنی رات ہو گئی ۔ سارے غریب مسافر جاگ گئے ہیں ۔ ان کو بھوک لگی ہوگی ۔ یہ سب لوگ پھڈے میں لگے ہیں ۔ اتنی مار کھانے کے بعد کھانا کیا کھائیں گے ۔ آپ کو بولو تو یہ بریانی مسافروں میں بانٹ دوں ۔ میں نے اسے بڑی حیرت سے دیکھا : تو کیا مجھے دولھا کا چاچا سمجھ رہا ہے ۔ بول : آپ سمجھدار لگ رہے یو ۔ اس لئے پوچھ لیا ۔ میں نے کہا : تیری مرضی ۔ بڑا ہوشیار تھا ، بولا: اصل میں مجھے دیگ چاھیئے ۔ خالی ہو گی تو اٹھانے میں آسانی ہو گی ۔ میں اسے دیکھتا رہ گیا ۔ ہنسا ، کہنے لگا : یہ فائٹ سکھر تک جائے گی اور میں دیگ لے کر فلائٹ ہو جاوں گا ۔
سکھر والی بارات اس لئے بھی بھاری تھی کہ وہ اپنے شہر جا رہی تھی ۔ دوسرا یہ کہ ان کے بقول بدتمیزی کا قرض مع سود اتارنا لازم تھا ۔ بزرگ ان کے ساتھ نہیں تھے ۔ اس لیے انہیں اوپن گراونڈ ملا ہوا تھا ۔ انہوں نے اپنا حساب تو چکتا کر دیا تھا لیکن پھر بھی دل بھرا نہیں تھا ۔ ہمارے کمپارٹمنٹ والے تو خوردہ ریٹ پر زخم خوردہ تھے ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ٹرین میں ریسلنگ کی جگہ بالکل بھی نہ تھی اور اکثر لاتیں گھونسے ان کو پڑے جو کسی بارات میں شامل ہی نہیں تھے ۔ بیگانے کی شادی میں عبد اللہ دیوانے تو سنا تھا مگر بیگانے کی لڑائی میں عبد اللہ مار کھائے پہلی بار دیکھا تھا ۔ لوگ ٹکٹ لے کر تماشا دیکھتے ہیں مگر انہوں نے تو ٹکٹ دے کر مار کھائی تھی ۔
جانے کا جرم کی کھائی ہیں لاتیں یاد نہیں
اب صورت حال یہ بنی کہ جب رات کی خاموشی کو توڑتی سیٹی بجاتی ٹرین کسی اسٹیشن پر رکتی تو دونوں گروپ نیچے اترتے تاکہ باقاعدہ لڑائی کا آغاز ہو سکے ۔ ابھی گریبانوں تک ہاتھ پہنچے ہوتے کہ سیٹی بج جاتی اور متحارب گروپ سوار ہو جاتے ۔ ہم اپنے کمپارٹمنٹ تھے لیکن برابر والے کمپارٹمنٹ کی طرف بھی آ جا رہے تھے ( ہمیں تو اپنی رات گزارنی تھی ) ۔ غیر جانبدار مسافروں نے حالات کی سنگینی اور لڑائی کے بعد ہونے والی رنگینی کو دیکھتے ہوئے دونوں گروپس کو یہ صائب مشورہ دیا کہ لڑائی آپ کا پیدائشی حق ہے مگر ٹرین کی کم وسعتی اس کار خیر کو انجام دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے فی الوقت کوئی بیچ کی راہ نکل لی جائے ۔
دونوں گروپوں سے مذاکرات کے لیے ایک تین رکنی مصالحتی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ہم بھی شامل تھے ۔ دونوں طرف سے نمائندہ افراد کو طلب کیا گیا لیکن یہاں بھی کشیدگی برقرار رہی ۔ بارہا ایسا لگا کہ مذکرات کا ڈول ڈالا نہ جا سکے گا ۔ الزامات اور جوابی الزامات لگائے جاتے رہے ۔ کچھ گفتگو آپ بھی سن لیں ۔
سکھر : ایک باری کاندھا مارا ۔ برداشت کر لیا ۔ ناں اشٹاپ تو نہیں چلتا ناں ۔
کراچی: ہاں تو اس کے پیر برتھ سے باہر کیوں جا رہے تھے
سکھر : ابے تو کیا تیری بہن کی بارات جا رہی تھی جو تم لوگ بار بار چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔ ہیں
کراچی : اوئے بہن تک نہ پہنچیو ۔ یہیں گاڑ دوں گا ۔
سکھر : تو گاڑے گا ۔۔۔ تو ۔۔۔ شکل دیکھ آئینے ۔ دیکھ تیرا حلیہ کیسے ٹائٹ کر دیا ہے ۔ سکھر پہنچ پھر تیری مرہم بٹی کا خرچہ اور بڑھاتا ہوں ۔
مصالحتی کمیٹی کے ایک صاحب نے دوسرے گروپ سے کہا :
بھائی یہ آپ کے شہر مہمان ہو کر جارہے ہیں ۔ آپ کے شہر کی لڑکی ان کی بہو بنے گی ۔ کیا اچھا لگے کہ آپ مہمانوں کے ساتھ یہ برتاو کریں ۔ گفتگو اثر کر گئی لیکن ایک لڑکا آگ ٹھنڈی کرنے کے موڈ میں نہیں تھا :
چچا کیا ایسے لوگوں کو منہ لگا لیں ۔ ہم تو اپنے شہر کی لڑکی ایسوں کو تو مر کر نہ دیں ۔ چھچھورے ہیں سارے کے سارے
دولھا کا سوکھا سڑا بھائی اکڑ گیا : چھچھورا ہو گا تو
وہ لڑکا بھی اکڑ کر کھڑا ہو گیا ، بولا : ویسے تو سب چھچھورے ہیں لیکن تو چھیچھڑا ہے ۔
دوسرا بولا : یہ تو چھیچھڑے کا بھی چھیچھڑا ہےب۔ اسے تو کوئی بلی بھی منہ نہ لگائے ۔
سب زیر لب مسکرا دیئے ۔ دونوں گروپ پھر منہ ڈر منہ آگئے ۔ بات پھر بگڑ رہی تھی ۔ صاف لگا کہ دونوں پارٹیاں صلح کے موڈ میں نہیں ۔ بہرحال اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ مقابلہ سکھر میں ہو گا ۔ دونوں گروپ ایک دوسرے کے کمپارٹمنٹ میں نہ آئیں گے ۔
جب وقتی سیز فائر ہوا تو کمپارٹمنٹ کے باراتیوں کو بھوک لگی ۔ اب جو دیگ کھولی تو آدھی دیگ خالی تھی اور ایک بھی بوٹی نہ تھی ۔ ایک آواز آئی : ابا آدھی بریانی گئی ۔
میں چپ چاپ بیٹھا رہا ۔ نامعلوم نوجوان سافر مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔ اب میں انہیں کیا بتاتا کہ سکھر پر پوری دیگ بھی غائب ہو سکتی ہے ۔ میں تو صبح سات بجے خیر سے خیرپور میرس اتر گیا ۔ اب پتہ نہیں سکھر کس طرح باراتیں اتری ہوں گی اور کس کس کے کاندھے اترے ہوں گے ۔
( یہ تصویر بطور ریفرنس لگائی ہے )
Subscribe to:
Posts (Atom)
عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91
Article # 91 رنج و مزاح عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...
-
Article #1 ایڈورٹائزنگ میں آنا کیسے ہوا ؟ اشتہارات ہیں زمانہ کے ! قسط اول تحریر :اظہر عزمی لکھنے کا مرض بچپ...
-
Article # 52 بیوی ہے جس کا نام ۔۔۔ اسی بیوی کے نام ایک گدگداتی اور کسمساتی تحریر تحریر : اظہر عزمی (ایک اشتہاری کی باتیں) ...









