Thursday, 11 March 2021

Shadi kar lejo oar sabzi gosht na lae oo.Article 77

 

شادی کر لیجو مگر سبزی گوشت نہ لائیو
دادا کی پوتے کو نصحیت مگر ہوا وہی !


تحریر : اظہر عزمی




"ایک بات بتائیں یہ آپ کے سارے بھائی اتنے چالاک اور ذھین ہیں ۔ آپ اتنے بے وقوف کیوں ہیں " ۔ یہ وہ جملہ بلکہ حملہ ہے جو بیوی کبھی نہ کبھی براہ راست شوہر کے دل و دماغ پر کرتی ہے ۔ ایک نکتے کے فرق سے بات کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے اور مجھے اسٹوڈنٹ لائف میں بسوں میں لکھا یہ شعر یاد آنے لگتا ہے ۔

ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا
ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
میں انسانی ذھانت کو چار خانوں میں تقسیم کرتا ہوں ۔ پیشہ ورانہ ذھانت ، دفتری ذھانت ( اس کا پیشہ ورانہ ذھانت سے دور پڑے کا واسطہ نہیں ) ، معاشرتی ذھانت ( معاشرے میں لوگوں سے ملنا ملانا ) اور گھریلو ذھانت ۔ میں نے بڑے سے بڑے ذھین مرد کو گھریلو ذھانت میں بدھو پایا ہے ۔
ہمارے ایک آفس کولیگ ہیں ۔ پیشہ ورانہ ذھانت ان پر ختم ہے لیکن گھر جا کر وہ ختم ہیں ۔ بیوی ان کی شاید انٹر پاس ہیں لیکن صاحب کے گھر میں انٹر ہوتے ہی صاحب کی ہر ڈگری فیل ہے ۔ آفس میں سب ان کی بات بڑے غور سے سنی جاتی ہے لیکن گھر میں وہ صرف سنتے ہیں ۔ اگر کبھی بولنے کی کوشش کریں تو ایک ہی جواب آتا ہے : آپ تو بس چپ ہی رہیں ۔ یہ سب باتیں مجھے کبھی پتہ نہ چلتیں اگر ایک دن ان کے گھر نہ چلا جاتا ۔ ابھی ان کے گھر جاکر بیٹھا ہی تھا کہ صاحب کی بیوی کی آواز آئی : سنیں ! مارکیٹ سے سبزی گوشت ہی لے آئیں ورنہ رات کے لئے پکنے کو کچھ نہیں ۔

صاحب اور میں پہلے سبزی والے کی دکان پر گئے ۔ پہلے صاحب نے ایک کلو آلو کا کہا اور ایک ایک آلو چیک کر کے ترازو میں ڈالتے گئے ۔ ایک ایک ٹماٹر کو اس طرح دبا کر دیکھا جیسے تھائی لینڈ کا مساج کر رہے ہوں ۔ پیاز کو دیکھا تو سبزی والے سے جل کر بولے : یہ تم پھر دو منہ کی پیاز اٹھا لائے ۔ سبزی والا نے کہا : سارا زور دو منہ کی پیاز پر چلتا ہے صاحب ۔ جس کو دیکھو دو چہرے لئے پھر رہا ہے ۔ ان سے کچھ نہیں کہتے ۔ لہسن ، ادرک ، ہری مرچ پر یہی چھان پھٹک رہی لیکن سب سے زیادہ دھیان ہرے دھنیے کی گڈی پر رہا ۔ اس طرح چیک کی جیسے 22 قیراط کی سونے کی چین خرید رہے ہوں ۔ میں واقعی بڑا حیران تھا کہ صاحب سبزیاں خریدنے میں جتنی عرق ریزی کرتے ہیں اتنا تو کسان انہیں اگانے میں نہ کرتا ہوگا ۔ میں نے ان کے اس سبزیانہ عشق کو عقل پر پرکھنے کی بڑی کوشش کی مگر کدو بھی نہ سمجھ پایا ۔

گوشت کی دکان پر پہنچے تو گائے کی ننگی ٹانگ پر بے دریغانہ ہاتھ رکھ دیا ۔ میری طرف دیکھ کر بولے : اگر گوشت پر ہاتھ لگانے پر اس میں چپک نہ ہو تو سمجھ لو گوشت پریشر کا ہے ۔ ایک کلو لیا تو تین پاو ہی پاو ہوگا ۔ مرغی لی تو ارشاد فرمایا کہ دو کلو سے زیادہ مرغی کٹوائی تو پھر گوشت میں کوئی ذائقہ نہیں ہوگا ۔ سمجھو ربڑ کھا رہے ہو ۔ صاحب مجھے متاثر کئے جارہے تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ پہلا شخص جو دفتر اور گھر دونوں جگہ کام کا ہے ۔
راستے میں ، میں نے صاحب سے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ سبزی خریدنے میں ایک ایک دانے پر اتنی گہری نظر ۔ آپ تو بڑے دانا شخص ہیں ۔ مسکرائے اور بولے : سبزی گوشت خریدنے میں ساری دانائی نکل جاتی ہے ۔ میں نے کہا : نکل جانے سے کیا مراد ہے ۔ بولے : گھر چل کر خود دیکھ لینا ۔
گھر پہنچے صاحب مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا گئے اور خود اندر چلے گئے ۔ گو کہ اندر سے آوازیں بہت ہلکی آرہی تھیں لیکن اگر بندہ ایمانداری سے کان لگا کر سنے تو سب سمجھ میں آجاتا ہے ۔

بیوی : یہ آلو کچرے سے اٹھا لائے کیا ؟
صاحب : ارے نہیں ۔ میں نے خود ایک ایک آلو چھانٹا ہے ۔
بیوی : یہ بتائیں آج کسی جلسے میں جانے کا پروگرام یے کیا؟
صاحب : میں بھلا وہاں کیوں جانے لگا ؟
بیوی : یہ ٹماٹر تو وھیں کام آئیں گے ۔ گھر میں تو کسی کام کے نہیں
صاحب : سبزی والے نے خود بتایا ہے تازہ ہیں ۔ صبح ہی لایا یے
بیوی : اس نے کہا اور آپ نے مانا ۔ چراغ سحری ہیں سارے ٹماٹر ۔ ٹمٹما رہے ہیں ۔ ہاتھ بھی لگایا تو پچکاری مار دیں گے
مجھے اندازہ ہو چلا تھا کہ باری باری جو سبزی برآمد ہورہی ہے اسی طرح بھابھی کے لائیو کمنٹس آتے جا رہے ہیں ۔ آواز آئی : اب آپ پھر سنگاپورین اٹھا لائے ۔ کسی کام کی نہیں یہ ۔ میں چونک گیا ہے یہ کب اور کیسے ہوا ؟ ۔ بھابھی نے لمحہ بھر میں میرا شک ہی دور کردیا : یہ دھلی دھلائی پھولی پھولی ہلکے زردی مائل رنگ کی ادرک بے مزا ہے ۔ پاکستانی ادرک ذرا سیاہی مائل اور سوکھی سوکھی سی ہوتی ہے ۔ مجھے سمجھ میں آگیا کہ صاحب کو ادرک کا بھی زیادہ ادراک نہیں ۔
بھابھی : یہ چھیچھڑے بلی کے لئے لائے ہیں کیا ؟
صاحب : کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔ چانپ کا گوشت ہے اچار گوشت کے لئے
بھابھی : چانپ سے زیادہ کانپ کا لگ رہا یے ۔اس سے ناں ، لاچار گوشت ہی بن سکتا ہے

بھابھی کے آخری جملے نے ڈرا دیا : اب اس سے تو غسل میت ہی ہوگا ۔

میں نے سوچا کیا صاحب کافور وغیرہ بھی خرید لائے ہیں ۔ اسی شش و پنج میں تھا کہ صاحب ڈرائنگ روم میں تشریف لے آئے ۔ چہرہ عرق ندامت سے تر بتر تھا ۔ میں نے آتے ہی پوچھا : یہ غسل میت کے لئے آپ کیا لے آئے ۔ بولے : مرغی
میں نے کہا کہ یہ کون سا غسل میت ہے جو مرغی سے ہوتا ہے ۔ کچھ لمحے مجھے دیکھتے رہے ، بولے : اصل میں بیگم مرغی کے سوپ کو غسل میت کہتی ہیں ۔

میں نے سوچا کہ اب گھر کی راہ لے لی جائے ۔ میں جانے لگا تو بولے : میرے دادا نے مرتے مرتے ایک ہی بات کہی تھی ۔ میں نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا کہ کیا ۔ کہنے لگے : کہتے تھے شادی کر لیجو پر سبزی گوشت نہ لائیو ۔ ایک ہرے دھنیے کی گڈی بڑے سے بڑے بندے کو ذلیل کرادیتی ہے ۔

Monday, 8 March 2021

Social pages ko shehr ki diwarein na banaein.Article 76

 سوشل پیجز کی والز کو شہر کی دیواریں نہ بننے دیں 

تحریر : اظہر عزمی 

(میں کچھ عرصے سے مختلف سوشل پیجز پر اپنے مضامین  بھیج رہا ہوں ۔ وجہ بہت سیدھی سچی سی ہے کہ زیادہ لوگ پڑھیں اور ان کی رائے،  تبصرے اور تنقید سے تحریر میں بہتری کی صورت نکلے) ۔

میری ذہنی استعداد ، تعلیمی قابلیت اور مطالعہ اتنا نہیں کہ دقیق موضوعات ہر مضامین سپرد قلم کر سکوں ۔ اس لئے بہت عام سے موضوعات کا انتخاب کرتا ہوں ۔ کبھی کبھی وہ اتنے عام اور غیر اہم نظر آتے ہیں کہ اکثر لکھنے والے یہ سوچ کر کہ یہ بھی کوئی موضوع ہے قلم ہی نہیں اٹھاتے ۔ یہ گر میں نے ایڈورٹائزنگ سے سیکھا کہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھو بقول میر تقی میر " پر مجھے گفتگو عوام سے ہے " ۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف موضوعات پر ان گنت تراجم کئے ہیں لیکن اس طرف میرا دل لگا نہیں ورنہ ایک دقیق اور اختلافی موضوع پر دو چار مضامین کے تراجم سے ایک مضمون تیار کرنا آسان ترین اور بارعب کام ہے ۔ نیٹ پر سب دستاب ہے لیکن رونا آج بھی سارا Content کا ہی ہے جو کہ کمیاب ہے ۔ 

میں نے کتابوں سے زیادہ زندگی کو پڑھنے کی کوشش کی ہے ۔ بہت قریب سے زندگی  کے رنگ ڈھنگ دیکھے ہیں ۔ لوگوں کے رویوں میں اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کیا ہے ۔ دنیاداری میں لتھڑے یوئے لوگ دیکھے ہیں ۔ عبادت گزاروں کو مشغول دعا پایا ہے ۔ دولت کے غرور کی پگڑیاں پہنے اکڑی گردنوں والے سر دیکھے ہیں ۔ غربت کا ان دیکھا تاج پہنے خود داروں سے ملا ہوں ۔ حقوق العباد سے دلوں کو آباد رکھنے والے لوگوں کو  قریب سے دیکھا اور جانا ہے ۔ 

میری تمام تحریریں انتہائی سادہ اور آسان ہوتی ہیں ۔ یاد رفتگاں ایک ایسا موضوع ہے جس میں ہر ایک کہیں نہ کہیں خود کو موجود پاتا ہے ۔ میں گفتگو کے انداز میں لکھتا ہوں  کبھی کوئی گنجلک جملہ کسی بڑے فلسفی یا دانشور کا حوالہ نہیں دیتا ۔ جو دیکھا ( اور پرکھا ) بس اسی کو تحریر کر دیتا ہوں ۔ خاکہ نگاری سے ایک خاص شغف ہے ۔ اس کے لئے ان بڑے لوگوں کا انتخاب کرتا ہوں جو مشہور نہیں ۔ میں جانتا ہوں آج کا پڑھنے والے کسی ذہنی مشقت کے لئے تیار نہیں ۔ نصیحت میاں اسے پسند نہیں ۔ تحریر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ پہلے سمجھیں پھر سمجھائیں ۔ خود سمجھنے سے پہلے پڑھنے والے کو سمجھائیں گے تو وہ سمجھ جائے گا ۔

آج کل سوشل میڈیا ہر آن لائن لکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی بات ذرا سی دیر میں ہر جگہ پہنچ جاتی ہے ۔ جس طرح تھیٹر کو اداکار فوری رسپونس کا ذریعہ کہتے ہیں اسی طرح یہ سوشل میڈیا لکھاریوں نے کے لئے ہے ۔ ممکن ہے ابھی بڑے لکھنے والے اس طرف توجہ نہ دے رہے ہوں لیکن مستقبل میں سب کو اس پر اپنی تخلیقات آپ کوڈ کرنا ہوں گی ۔ 

میں نے 2-2001 میں یہی غلطی کی تھی ۔ ٹی وی چینلز آئے تو مجھے ایک دو بار ٹی وی چینل پر بلایا گیا ( ایک بار تو فائنل کر کے بھی نہ بلایا ) لیکن میں نے یہ جان کر کہ ایڈورٹائزنگ کی دنیا کا ان سے کیا مقابلہ ، موقع گنوادیا  لیکن اب مجھے اندازہ ہے کہ لکھنے والوں کو اسی جانب آنا ہوگا ۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ابھی یہ ابتدائی دور ہے ۔ کچھ مسائل ہیں ۔ کبھی کبھی لکھنے والوں کو بے جا اور بے مقصد تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ۔ جی جلتا ہے لیکن بہت جلد اس کی بھی از خود حد بندی ہو جائے گی ۔ سوشل میڈیا ابھی ایک بھیڑ چال کا شکار ہے کسی کو خبر نہیں کہاں جانا ہے ؟ کیا پڑھنا ہے ؟ تبصرے ،تنقید اور رائے کا اظہار کیسے کرنا ہے ؟ راستہ یہیں سے نکلے گا ۔ میں کتاب اور رسائل کا انکاری نہیں مگر سوشل میڈیا کی اہمیت کا ہوری طرح اقراری ہوں ۔ 

لکھنے والوں میں بھی اچھے برے کی تمیز وقت کے ساتھ ساتھ ہوگی ۔ اچھا لکھا سب کو ہر دور میں اچھا  لگتا ہے ۔ اچھی تخلیق کو کسی سیلز مین شپ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نام نہاد لکھاریوں پر بندر کے ہاتھ میں ناریل کی مثال صادق آتی ہے ۔ یہ لوگ شہرت طلبی کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ مواد ان کے پاس نام کو نہیں ۔ میرا اپنا تجربہ یہی رہا ہے کہ اگر آپ کی تحریر کو 100 لوگ پسند کر رہے ہیں تو بمشکل تمام 5 ہی لائک پر کلک کریں گے اور ان میں چار یا پورے پانچ وہ ہوں گے جو آپ کے جاننے والے ہوں گے ۔ آپ کی وال پر یہی صورت حال ہوتی ہے ۔ آپ اگر سوشل پیجز پر اپنی کوئی تحریر دیتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ جس مضمون کو پڑھنے کا دورانیہ 3 سے 4 منٹ ہے اس پر پہلے منٹ پر لائکس آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ پڑھنے والوں کی کون سی قسم ہے اور ایسا کیوں کرتی ہے ۔ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔ کمنٹس کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں کبھی صورتحال بہت خوش کن اور کبھی ناگوار ہو جاتی ہے اور یہی لکھنے والے کا امتحان ہوتا ہے ۔ میرا تجربہ ہے کہ بے مقصد تنقید کرنے والے بہت جلد اپنی راہ لیتے ہیں ۔

سب سے دلچسپ اور خوشگوار صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب کوئی راہ چلتا آپ کا جاننے والے کچھ فاصلے سے ہاتھ ہلا کر کہتا ہے " فکر نہ کریں ۔ ایک ایک مضمون پڑھ رہا ہوں آپ کا ۔۔۔ زبردست " ۔ 

میرا خیال ہے اگر سوشل میڈیا پر اچھے لکھنے والے سامنے نہیں آئیں گے تو پھر سوشل میڈیا کی والز شہر کی ان دیواروں کی طرح ہوں گی جو عامیانہ اشتہاروں سے بھری ہوتی ہیں جن میں عامل باباوں اور دیرینہ امراض کے معالج  حکیموں کی بہتات ہوتی ہے ۔

Aaj kay dour mein do bachaey aur chohttay rishtay.Article 75

 آج کے دور میں دو بچے 
رشتوں سے چھوٹتے جا رہے ہیں 

تحریر : اظہر عزمی 

سالوں پہلے کی بات ہے ۔ آفس میں کم بچے ، خوشحال گھرانا کی بحٹ شروع ہوگئی ۔ مخالفت و موافقت میں دلائل آنے لگے ۔ ایک نوجوان جو دو بچوں کے حق میں زور شور سے دلائل دے رہا تھا ، مخالفین کو کافی زچ کر رہا تھا ۔ مخالفین میں سے ایک نے اس سے پوچھا : تمھارا نمبر کون سا یے ؟ ۔ اس نے کہا : تیسرا ۔ مخالف نے برجستہ کہا : پھر آپ تو چپ ہی ہوجائیں ۔ بحث تو خیر تمام یو گئی لیکن میں نے اپنے خاندان میں ارد گرد دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بچے دو ہی اچھے کا سلوگن کام کر رہا یے ۔

گزشتہ دنوں ایک صاحب سے خاندان اور رشتوں کی بات چلی تو انہوں نے ایک عجیب بات کردی جس ہر میرا ذہن کبھی گیا ہی نہیں تھا ۔ کہنے لگے : خاندان رشتوں سے استوار یوتے ہیں ۔ آپ کی زندگی ماں باپ کے ساتھ بہن ، بھائی ، چاچا ، پھوپھی،  ماموں اور خالہ کے قریبی رشتوں کی سے سجی ہوتی یے ۔ یہ گلدستہ نامکمل یو تو زندگی کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں ۔ کہنے لگے : دو بچوں سے یہ گلدستہ کہیں کہیں نامکمل سا رہ جاتا ہے ۔ میرے دو لڑکے ہیں ۔ ان کی کوئی بہن نہیں ۔ اب یہ کیا جانیں ۔ بہن کا پیار ۔  میرے گھر کا سارا ماحول مردانہ یے ۔ بیوی نے شروع شروع میں تو چوڑیاں ، میک آپ کا سامان رکھا لیکن جیسے جیسے بچے بڑے ہوئے ۔ انہوں نے ماں سے سب چھڑوا دیا اور بیوی نے بھی بچوں کی خوشی کو اپنا جانا ۔ بڑے بیٹے کا حال یہ ہے کہ ماں ہاتھوں میں مہندی لگا لے تو کہتا ہے مجھے مہندی سے گھن آتی ہے ۔

مزید بتانے لگے : بیوی کے ہاتھ میں ایک چوڑی نہیں ہوتی ۔ عید ہر میرے کہنے پر ایک آدھ درجن چوڑی لے آتی ہے ۔ گھر میں بمشکل تمام ایک لپ اسٹک  ہوتی ہے ۔ تہوار یا شادی ہر کہیں آنا جانا ہو تو وہی ایک لپ اسٹک لگا لیتی ہے ۔ لپ اسٹک اتنی کم استعمال ہوتی ہے کہ سوکھ جاتی ہے پھر وہ سوئی سے لپ اسٹک نکال کر بمشکل تمام لگاتی  ہے ۔ اس پر چھوٹا بیٹا کہتا ہے : آپ یہ سب کیوں کرتی ہیں ۔ آپ تو بس میری مماں ہیں اور یہ کہہ کر ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیتا ہے ۔

میں نے کہا : اس میں ایسی کون سے بات ہے ۔ بہن نہ سہی تو نہ سہی ۔ گھر میں خوشی اور اطمینان تو ہے ۔ بولے : جن گھروں میں بہنیں نہیں ہوتیں وہاں سناٹا ہوتا ہے ۔ ہمارے گھر میں کیا ہے ؟ لڑکے اکثر گھر میں نہیں ہوتے ۔ ہوتے ہیں تو موبائل پر ہوتے ہیں ۔ گھر میں زندگی تو بیٹی سے ہوتی ہے ۔ لڑکوں کا کیا ہے آپ گھر میں کچھ لائیں یا نہ لائیں ، ان کو پروا ہی نہیں ۔ جیسے زندگی گزر رہی ہے ، گزر رہی ہے ۔ بس کھانے میں ایک سے ایک دیئے جاو ۔

 بیٹی ہو تو گھر کے لئے کچھ نہ کچھ لانے کا کہتی رہتی ہے ۔ کچھ نہ ہو تو گھر کی سیٹنگ ہی ادھر ادھر کرتی رہتی ہے ۔  صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہے ۔ گھر گھر لگتا ہے ۔ ہمارے پڑوس کے گھر میں تین بیٹیاں ہیں ۔ جاو تو طبیعت خوش ہو جاتی ہے ۔ اگر گھر میں بہن ہوتی تو ان دونوں کی ایک نہ چلنے دیتی اور یہ دونوں اجڈ گنوار بھی ذرا انسان بن جاتے ۔ آپ کو اندازہ نہیں آج کل لڑکے پلانا گھوڑے پالنے جیسا ہے ۔ باگیں بظاہر ضرور آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں یا آپ یہ سمجھتے ہیں لیکن آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ذہن میں کیا چل رہا یے ۔

 مجھے لگا کہ انہیں بیٹی کی کمی کا شدت سے احساس ہے مگر اب کچھ ہونے کی گنجائش نہ تھی ۔ کہنے لگے : تم نے کبھی غور کیا ہے ان دونوں کی کوئی بہن نہیں ہے تو پھر ان کو بھانجے کا پتہ ہو گا نہ بھانجی اور نہ ہی یہ کسی کے ماموں ہوں گے ۔ جب ان دو لڑکوں  کے بچے ہوں گے تو انہیں کیا معلوم کہ پھوپھی جیسا محبت کرنے والا رشتہ کیا ہوتا ۔ زندگی تو رشتوں سے سجی یے اور ان کی خوشبو سے مہک رہی ہے ۔ یہ زندگی میں کتنے اہم  رشتوں سے واقف ہی نہ ہوں گے ۔

میں نے کہا کہ جن کے دونوں لڑکیاں ہوں گی تو پھر وہ چچاوں کو ، چچازاد بہن بھائیوں کو کیا جانیں گی ۔ بولے : ہاں ایسا یی یے ۔ مسائل ان کے بھی کم و بیش ایسے ہی ہوں گے ۔ میرے کاندھے ہر ہاتھ رکھ کر بولے : بھائی میں تو بس ایک بات جانتا ہوں ۔ بچے  بہت نہ سہی مگر اتنے تو ہوں کہ قریبی رشتوں کو پہچانیں ۔ بچے دو ہی اچھے سے سب کچھ اچھا نہیں ہورہا ۔ ہم قریبی رشتوں سے چھوٹتے جارہے ہیں ۔ 

یہ کہہ کر وہ تو چلے گئے اور میرا ذہن اس طرف چل پڑا اور سوچنے لگا کہ دو سے زیادہ بچوں کے لئے بڑی تاویلیں دی جاتی ہیں ۔ اشتہاروں میں میاں بیوی اور ایک لڑکا لڑکی دکھائے جاتے ہیں ( مگر ایک لڑکے اور ایک لڑکی کا ہونا یقینی تو نہیں ) ۔ بچوں کی پرورش ، تعلیم ، وسائل کی کمی نہ جانے کون کون سے نکتے نکال لئے جاتے ہیں مگر جن کی زندگی کے لئے ہم یہ سب کرتے ہیں انہیں زندگی میں کچھ رشتوں سے یکسر محروم بھی تو کر رہے ہیں ۔

Maan baap bhi kitnay dilshasp hotay hain.Article 74

 ماں باپ بھی کتنے دلچسپ ہوتے ہیں 

بات بات ہر تکرار مگر اسی میں سارا پیار

تحریر : اظہر عزمی 

والدین اولاد کے لئے ہوتے ہیں لیکن خود تو میاں بیوی ہوتے ہیں ۔ دنیا کا پہلا رشتہ جس کے بعد ہر رشتہ بنا ۔ جب اولاد جوان ہوجائے اور یہ ادھیڑ عمر یا بڑھاپے میں قدم رکھنے لگیں تو دیکھیں یہ بات بہ بات گزرے دنوں میں کیسے چپکے سے داخل ہو کر نہ جانے یادوں کی کس کس پگڈنڈی پر محو سفر ہوجاتے ہیں ۔ کہیں خوشیوں کی برکھارت تو کہیں چھوٹے موٹے اختلافات کی محبت آمیز دھوپ  ، کہیں بچوں کی پیدائش کے حسین لمحات یا پھر اپنا گھر بنانے کی مشکلات ۔ کسی نہ کسی بہانے نوک جھونک شروع کر دیتے ہیں اور اسی میں چہکار ، مہکار  ، انکار ، اقرار سب ہوتا ہے ۔ بہت معصوم لگتے ہیں چھوٹے بچوں کی طرح  ۔ جانتے یہ بھی ہیں جتنی بھی تکرار کر لیں جو گزر گیا سو گزر گیا 

اولاد ان کی باتیں سنکر اکثر بور یو جاتی یے لیکن وہ نہیں جانتی کہ یہی قصے اور باتیں ہی تو ان کی زندگی کا حسین ترین  سرمایہ ہیں ۔ کسی گزرے قصے پر آپ کو لگے گا کہ شاید صورت حال کشیدگی کی طرف بڑھ جائے گی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں تھکتے نہیں ۔ بچے اگر بیچ میں صلح صفائی کے لئے بول پڑیں تو یہ بھی انہیں قبول نہیں کیونکہ گفتگو کا مزا جاتا رہتا ہے بلکہ الٹا ڈانٹ دیتے ہیں ۔ میاں آپ کون ہوتے ہیں ہمارے بیچ بولنے والے ۔ بہتر یہی ہوتا ہے جب یہ دونوں ماضی کے قصے  لے کر بیٹھ جائیں تو آپ وہاں سے اٹھ ہی جائیں 

رات کو نماز عشاء کے بعد ابو ڈائننگ ٹیبل ہر اکیلے کھانا کھا رہے ہیں ۔ امی ساتھ والی کرسی ہر بیٹھی ہیں ۔ کچھ بھی ہوجائے ابو جب تک کھانا نہ کھا لیں ۔ امی نہیں اٹھیں گی ۔ رات کے کھانے پر روز نہیں تو ہر تیسرے چوتھے روز کوئی نہ کوئی ایسی بات نکل آتی ہے جو یاد رفتگاں کی کسی پگڈنڈی پر لے جاتی ہے 

ابو :  ( پہلا نوالہ لیتے ہی ) اتنا عرصہ ہو گیا تمھیں کھانا پکانا نہ آیا ۔ بس کھانا تو ہماری اماں پکایا کرتی تھیں ۔ ایک سے دو روٹی زیادہ ہی کھا لیا کرتا تھا 

امی : تب ہی تو شادی پر اتنے موٹے تھے ۔ شیروانی کے بٹن ٹوٹے جا رہے تھے ۔  ویسے برا مت منائیے گا بالکل بابا ( سسر ) کی طرح بات کرنے لگے ہیں ۔ کچھ بھی پکا لو فی نکالے بنا تو آپ کا کھانا ہضم ہی نہیں ہوتا 

ابو : فی نکالنے کی کیا بات ہے ۔ تم خود چکھ لو 

امی : (چڑ کر ) مجھے کوئی ضرورت نہیں چکھنے وکھنے کی 

ابو : 30 سال ہونے کو آئے مگر تمھاری تنک کر بات کرنے کی عادت گئی نہیں 

امی ؛ تو آپ کون سا لفظوں میں شہد گھولنے لگے ہیں 

ابو : ہاں تو یہ بات تو شادی سے پہلے دیکھنی تھی ناں 

امی : (ہلکا سا پلو سر پر لیتے ہوئے ) اللہ نہ کرے جو میں شادی سے پہلے آپ سے بات کرتی 

ابو : ہاں تو 2 سال منگنی رہی ۔ تمھاری اماں اور بہنا تو ہر  ہفتے آ ٹپکتی تھیں ۔ آنہوں نے نہیں بتایا 

امی  : کوئی نہیں ۔ ایسے گرے پڑے بھی نہیں تھے ۔ کوئی مرے نہیں جا رہے تھے ۔ دو رشتے اس وقت بھی آئے ہوئے تھے میرے ۔ آپ کی امی ہی پہلی دفعہ آئیں تھیں کالی چادر اوڑھے ہمارے ہاں 

ابو : ہاں تو پھر سب سے اچھے تو ہم تھے ناں 

امی  : بس ٹھیک ہی تھے ۔ اب ایسے کوئی کوہ  قاف کے شہزادے بھی نہ تھے  

ابو : تو شہزادی تو تم بھی نہ تھیں 

امی : میں نے ایسا کب کہا ۔ بیکار کی باتیں مت کریں ۔ لڑنے کا ویسے ہی دل چاہ رہا ہے تو بتادیں

ابو : لڑنے والے ہوتے تھے تو تمھارے ساتھ 30 سال نہ گزار لیتے خاموشی سے 

امی : خوف خدا کریں ۔ خاموش رہنے والے ایسے ہوتے ہیں 

ابو : ہماری اماں تو یہی کہتے کہتے دنیا سے گزر گئیں بارات والے دن جو ارشد نے رومال منہ ہر رکھا پھر بولتے ہوئے نہ دیکھا  

امی : بس میرا منہ نہ کھلوائیں ۔ میرے سامنے تو کبھی نہ کہا

ابو : ابھی ذرا کھانا کھا لوں پھر تمھیں بارات والی تصویر دکھاتا ہوں رومال والی 

امی : اپنی عمر دیکھیں اور شادی کی تصویریں ۔۔۔ اونہہ 

ابو : شادی تھوڑی کر رہے ہیں ۔ شادی کی تصویریں ہی تو دیکھ رہے ہیں ۔ بچے بھی دیکھ لیں گے کہ باپ کتنا اسمارٹ تھا 

امی : کئی بار دیکھ چکے ہیں وہ اور معاف کیجئے گا آپ کے لئے تو بچوں نے کبھی تعریف کا ایک لفظ بھی نہیں کہا   

ابو : ارے وہ تمھارے لحاظ میں خاموش رہتے ہیں ۔ یاد نہیں مسعود بچپن میں مجھ سے کیا کہا کرتا تھا " ابو آپ نے امی سے ہی شادی کیوں کر لی ؟

امی : ہاں تو آپ نے تو بچوں کو کبھی ہاتھ لگایا نہیں ۔ جو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرے گا بچے تو اسی کے گن گائیں گے 

ابو : گن تو ایک زمانے میں سب ہی گایا کرتے تھے ۔ پرانے محلے کی برابر والی تو اپنی بھانجی کا کہتی رہ گئیں میرے لئے مگر ہماری اماں نہ مانیں ورنہ تم نہ ہوتیں ۔ 

امی :  تو کس نے روکا تھا کر لیتے 

ابو : (چھیڑتے ہوئے) کیسے کر لیتے ؟ غریبوں کی دعائیں بھی تو لینی تھیں 

امی : اوہو ! ذرا امیروں کو تو دیکھیں ۔ یہ بتائیں یہ آپ کی چچی نے تو ہمارا رشتہ توڑنے کی ہر ترکیب آزما لی تھی ۔ وہ تو ہماری اماں نے کہا  جب ہاں کہہ دی تو کہہ دی ۔ اب آگے لڑکی کا نصیب ۔

ابو : منع ہی کردیتیں تو اچھا تھا ۔ کم ازکم یہ سیٹھا سیٹھا بد مزا  کھانا تو نہ ملتا 

امی : اتنی عمر ہو گئی ہے چھوڑ دیں یہ شکرا پن ۔ کل کلاں کو بہو ، داماد آئیں گے تو کیا ان کے سامنے بھی یہ دکھڑا روئیں گے ؟ اور ایک بات بتائیں دنیا جہان کی باتیں کر لیں گے مگر تان کھانے ہر ہی آکر ٹوٹتی ہے  

ابو : ( پلیٹ کا سالن ختم ہوچکا ۔ پلیٹ آگے بڑھاتے ہوئے) 

تھوڑا سالن ذرا اور لا دو ۔

امی : ( ہنستے ہوئے ) اچھا سیٹھے سالن پر یہ حال ہے

ابو  : سنو تھوڑا  نمک بھی ڈالتی لانا 

امی : کوئی نہیں ۔ پھر رات بھر وہم کرتے پھریں گے کہ بلڈ پریشر ہو گیا ۔ بچوں کو سوتے سے جاگنا مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا 

ابو : (پیار سے دوبارہ نمک ہر اصرار کرتے ہیں ) 

بس  ۔۔ بہت تھوڑا سا

امی : کوئی نہیں ، ایک ذرہ بھی نہیں ۔۔۔ دوا کھائیں گے نہیں ۔ نمک بھر بھر کر دیئے جاو ۔ اسی لئے تو کھانے پر ساتھ بیٹھتی ہوں اور اتنا سنتی ہوں 

انہیں ان کی یادوں میں جینے دیں ۔ گزرے دن ہی تو ان کا سرمایہ ہیں ۔ اب یہ دن لوٹ کر نہ آئیں گے لیکن ان کو یاد کر  خوشی سے سرشار تو ہوا جا سکتا ہے 

ماں باپ کی یہ باتیں شاید ابھی اچھی نہ لگیں لیکن بعد میں بہت یاد آئیں گی جب آپ ان کی عمروں کو پہنچ جائیں گے ۔

Thursday, 18 February 2021

Mera purana mohulla ... kia kia yaad karon. Article 73



   میرا پرانا محلہ ۔۔۔ کیا کیا یاد کروں

تحریر  : اظہر عزمی

حصہ اول 


جون ایلیا نے کہا تھا 

دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی

تھا   آباد   محلہ   سارا ،  ہر   دروازہ   زندہ   تھا

پہلے صرف جون ہی کے نہیں بلکہ ہر محلے کا یہ حال تھا ۔ آپ جھوٹے منہ کوئی بات کہہ دیتے پھر دیکھیں آپ کے حکم کی تعمیل میں کیا کیا جتن نہ کئے جاتے ۔ وہ لڑکے بھئ جو گھر میں ہل کر پانی نہ پیتے وہ بھئ محلے میں کسی  کام کو منع نہ کرتے ۔

میں گیٹ باہر کھڑا ہوں ۔ سامنے سے ظفر موٹر سائیکل پر آرہا ہے ۔ صاف لگ رہا ہے کہ جلدی میں یے ۔ اس نے سر ہلا کر سلام کیا اور میں نے رکنے کا اشارہ کیا ۔ رک گیا : بولیں بھائئ ۔ میں نے پوچھا : کہاں جا رہے ہو ۔ بولا : اسٹاپ تک  ۔ میں نے پیسے ہاتھ میں تھماتے یوئے کہا :  پہلے آدھا کلو دھی دے جا ۔ اس نے بے چوں و چرا پیسے لئے اور چلا گیا ۔ 

رات کے دو ڈھائی بج رہے ہیں ۔ بقرعید والے دن اپنی اوقات اور پیٹ سے بڑھ کر مصالحے والے کچے پکے تکے کھا لئے ۔ رات کو دو ڈھائی بجے پیٹ نے فوڈ پوائزن کا بگل بجا دیا ۔ میں نے بھی گلی کا ایک گیٹ بجا دیا ۔ انتخاب رات کے سونے کے سرکاری لباس میں باہر نکل آیا یعنی پرانی سی شرٹ اور نیچے شلوار ۔  بتایا کہ ہیٹ میں درد ہے ۔ اسپتال لے چلو ۔ بغیر کسی وقفے کے ، کسی کو بتائے اور لباس تبدیل کئے بغیر نتخاب اپنی موٹر سائیکل ہر اسپتال لے گیا ۔ دوا دلائی ، انجیکشن لگوایا ۔ گلی میں آئے تو آدھی گلی مع عورتوں کے جاگی ہوئی تھی ۔ مجھے تو کچھ نہ کہا لیکن انتخاب کی کلاس ہو گئی : کم سے کم بتا کر تو جاتے ۔ ہوری گلی پریشانی ہے ۔ والد اور والدہ نے مجھ سے کہا کہ تم تو بتا کر جاتے ۔ گیٹ کھولا اور چل پڑے ۔ وہ تو بچہ ہے ۔ تم نے کہا اور وہ کسی کو بتائے بغیر نکل پڑا ۔ انتخاب کے والد نے کہا : ارے اس کی تو طبیعت خراب تھی ۔ اصل میں غلطی انتخاب کی ہے ۔

یہ تھا میرا پرانا محلہ ۔ کوئی پریشانی کوئی مشکل کوئی کام بس ایک آواز دیں ۔ شفقت  ، لحاظ ، رواداری ، آشک شوئی ، دلجوئی ، بے غرضی ،  تسلی ، دلاسا ، تڑپ میرے پاس الفاظ ممکن ہے کم پڑ جائیں مگر ان لوگوں کی تعریف نہ یو پائے ۔ چھوٹی سی چھوٹی بات پر حاضر ۔ کوئی بڑی بات ہو جائے تو آپ سے پہلے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ۔حال یہ تھا کہ روکنا پڑتا کہ بس اس سے آگے نہ جانا ۔ 

ایک دوسرے کے گھروں سے کھانے پینے کی چیزوں کا تبادلہ روز کا معمول تھا ۔ دوپہر کو پڑوس کا لڑکا  پیالے میں ڈھکا سالن لئے چلا آ رہا ہے : خالہ وہ ابو آج دوپہر کو آ گئے ہیں ۔ امی نے آلو بینگن پکائے تھے دوپہر میں  ۔ امی کہہ رہی ہیں کہ یہ سالن لے لیں اور جو آپ کے پکایا ہے وہ دے دیں ۔ ہماری امی پلنگ سے اٹھ کر باورچی خانے کی طرف جاتے کہتیں :  رک ذرا دیکھ تو لوں ہنڈیا  میں کچھ بچا بھی ہے کہ نہیں ۔ ہنڈیا دیکھ کر لڑکے سے کہتیں ۔ سالن زیادہ نہیں مگر اتنا ہے کہ ایک جن آرام سے کھا لے گا ۔ سالن پلیٹ میں دیتیں تو لڑکا اپنے آلو بینگن آگے بڑھاتا ۔ امی ہاتھ کے اشارے سے کہتیں : نا بیٹا تیری اماں کے ہاتھ کی سبزی میری سمجھ میں نہ آتی ۔ واپسی لے جا اور سن ( دو انڈے سالن کی پیالے پر رکھی پلیٹ پر رکھ کر کہتیں : یہ بھی لے جا ، اگر سالن سمجھ میں نہ آئے تو ماں سے کہیو ۔ یہ انڈے تل کے دے دے تیرے باوا کو ۔

اسی طرح ماچس ، چائے کی پتی ، پسی مرچیں ، ہلدی  ، گرم مصالحہ وغیرہ مانگنا عام سی بات تھی ۔ بس ایک نمک دیتے ہوئے امی چڑ جایا کرتی تھیں : اے زبیدہ ، کتی بار سمجھایا ہے نمک مت مانگا کر کسی کے گھر سے ۔ رزق کم ہو جاتا ہے دینے والے گھر کا ۔ مانگنے والی پڑوسن کہتی : خالہ وہ بس ذہن میں نہیں رہا ۔ ہنڈیا چڑھی ہے تو نمک کے نہ ہونے کا خیال آیا ۔ امی تڑاخ سے کہتیں : تیرا ذہن ہے یہ نائی کی دکان ۔جب تک گراھک آئے نا ، نائی استرے کو ہاتھ لگائے نا ۔ باورچی خانہ تو عورت کا سب کچھ ہوتا ہے  تو کیسی ہے جسے باورچی خانے کا پتہ ہی نہیں ۔ امی بے نقاط سناتیں مگر مجال ہے جو ماتھے پر شکن آجائے اور زبیدہ خالہ اپنی چیز لے کر ہی ٹلتیں .

محلہ کیا تھا ایک خاندان ہوا کرتا تھا ۔ دکھ سکھ ، غمی خوشی سب سانجھا ہوتا ۔ لیجئے محلے کی ایک لڑکی ثمینہ کا رشتہ آرہا ہے ۔ آج پہلی بار لڑکے کے گھر سے چند عورتیں لڑکی دیکھنے آرہی ہیں ۔ رشتے کی بات بھی محلہ کی ایک خاتون رضیہ باجی نے اپنے دور پرے کے رشتے داروں میں چلائی ہے ۔ محلے کی ساری عورتوں کو اس رشتے کا پتہ ہے ۔ لڑکی کی ماں ثریا نے ثمینہ کی ایک چچی رخسانہ اور اپنی شادی شدہ بھانجی شمو کو بھی بلا رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ محلے کی ایک جہاں دیدہ آپا صغری کو بھی خصوصی دعوت پر آئی ہیں کہ ان کی نظر بہت تیز ہے اور وہ بیٹھی چڑیا کے پر گن لیتی ہیں  ۔ محلے کی جن خاتون رضیہ باجی نے رشتے کی بات چلائی ہے ان کا آنا تو ہر صورت میں بنتا ہے ۔ وہ اس رشتے کی ماڈریٹر ہیں جن کا کام لڑکی ثمینہ اور لڑکے کے گن گن کے گن بتانا ہیں ۔ 

 لڑکے والیوں کو سہ پہر میں آنا ہے  ۔ گھر میں خوب گہما گہمی ہے ۔ گھر میں بلائی گئی عورتیں ہلکی سی لپ اسٹک اور تبت سنو کریم مل کر اور ساٹن کے چمکیلے جوڑے پہنے ثریا کے گھر پہلے سے آگئی ہیں ۔ لڑکی کی ماں ثریا ہی تیار نہیں ہوئی ہیں ۔ لڑکی کی چچی رخسانہ کہتی ہیں : لو بھیا کوئی لڑکی کی ماں کو دیکھے گا تو کیا کہے گا ۔ جھاڑ جھنکار بنی پھر رہی ہیں ۔  بھابھی آپ آپ جائیں اور تیار یو جائیں ۔ کوئی کام ہو تو بتا دیں ۔ آپا صغری کو اپنی اہمیت اور حیثیت کا اندازہ ہے ۔ ثمینہ کو رشتے والیوں کے سامنے آنے ، بیٹھنے اور بات کرنے کے طور طریقے بتا رہی ہیں : ثمینہ سن ! یہ بھی نہ ہو کہ تو چپ کی بیٹھی رہے اور نہ ہی چبڑ چبڑ بولتی رہیو ۔ رضیی باجی آپا صغری کو بتاتی ہیں  : اے صغری آپا ، لڑکے کی چچی امی قیامت کی ہیں ۔ ان کی تالو سے زبان نہیں لگے ہے ۔ وہ بہت کریدا کریدی کریں گی ۔  آپا صغری تنک کر بولیں : وہ لڑکی سے اکیلے میں تھوڑی ملیں گی ۔ ہم بھی تو ہوں گے ۔ 

لڑکے والیاں آئیں تو لڑکی والیاں نے ان ہر اخلاقیات کے ٹوکرے برسا دیئے ۔ بڑھ بڑھ کر گلے ملیں ۔ آپ جناب کی وہ گردان ہوئی کہ اللہ کی پناہ ۔ آپا صغری چچی امی کو پہلے ہی تاڑ گئیں ۔ لڑکے والیاں ایک مٹھائی کا ڈبہ بطور شگن ساتھ لائی ہیں ۔ لڑکی کی ماں نے کہا : ارے اس کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔ لڑکے کی چچی امی نے پہلی باضابطہ انٹری دی : کیوں نہ لاتے ۔ کوئی اچھا تھوڑی لگے ہے خالی ہاتھ آنا ۔ آپا صغری نے کہا : یہ تو آپ صحیح کہہ رہی ہیں چچی امی ۔ چچی امی کہنے پر صورت حال میں ہلکا سا ٹوئسٹ آ گیا ۔ چچی امی کو یہ بات ناگوار گزری کیونکہ آپا صغری کسی طرح چچی امی سے چھوٹی نہیں ۔ رضیہ باجی نے صورت حال کو سنبھالا اور چچی امی سے بولیں : اصل میں آپا صغری کو آپ کا نام معلوم نہیں ۔ آپ کے آنے سے پہلے میں انہیں بتا رہی تھی کہ لڑکے کی چچی امی جب تک ہاں نہ کہہ دیں سمجھو بات پکی نہیں ہوئی ۔ آپا صغری نے بات کو مزید سنبھالا : اصل میں مجھے آپ کے نام کا پتہ نہیں تھا ۔ رضیہ نے چچی امی کا کہا اور وہی میرے منہ سے نکل گیا ۔ ویسے آپ کا نام کیا ہے ؟ چچی امی تو خاموش رہیں لیکن ساتھ آنے والی ایک خاتون نے کہا کہ انہیں نورجہاں کہتے ہیں ۔ آپا صغری نے فورا کہا : ماشاء اللہ اور تحسین آمیز خوشامدی نظروں سے انہیں دیکھا ۔ معاملہ قابو میں آ گیا ۔

ثریا کبھی باورچی خانہ جائیں تو کبھی مہمانوں میں آکر بیٹھ جائیں ۔ جاتے جاتے کمرے میں اکیلی بیٹھی ثمینہ پر ایک اچٹتی نظر ڈالیں ۔ کچھ سمجھ میں نہ آئے تو اس کا دوپٹہ ہی صحیح کر دیں ۔ ثمینہ تنک کر رہ جائے ۔ مھمانوں میں آئیں تو آدھی بات سنتیں اور ہاں میں پورا منہ ہلائیں ۔ کچھ دیر بعد لڑکی کو بلایا گیا اور اس کے لئے گھر میں مھینوں سے استعمال نہ ہونے والی چائے کی ٹرالی کو استعمال میں لایا گیا جس کے ایک ٹوٹے پہیے سے مستقل کڑ کڑ کی آواز آرہی تھئ اور ثریا کا دم اٹکا تھا کہ کب یہ پہیہ ٹرالی سے رشتہ منقطع نہ کر لے ۔ ثمینہ پورا دوپٹہ سر پر لئے ٹرالی کے ساتھ اندر آئی تو لڑکے والیوں نے ایک نظر میں اس کا جائزہ لے لیا ۔ ثمینہ خاموشی سے ایک کونے ہر سمٹ کر بیٹھ گئی ۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد چچی امی نے ثمینہ کو چھیڑا : اب ہمیں چائے بنا کر بھی دو گی ۔ یہ ایسے ہی بیٹھی رہو گی ۔ سب نے فرمائشی قہقہہ لگایا ۔ آپا صغری ثمینہ سے بولیں : ارے بیٹا سب کو چائے بسکوٹ اور سموسے دو ۔ ثمینہ کے چائے بنانے کے دوران لڑکے والیوں کی نظروں سے اندازہ ہو گیا کہ لڑکی انہیں اچھی لگی ہے ۔ چائے بسکوٹ اور سموسے کھانے کے دوراں کچھ اور جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ لڑکے کی ماں ویسے تو خاموش ہی رہیں ۔ بس کہا تو اتنا کہ چائے تو بہت اچھی بنائی ہے ثمینہ نے ، ہمارے ابراہیم کو بھی ایسی ہی چائے پسند ہے ۔ سموسوں کا تو وہ دیوانہ ہے ۔ شمو  نے فورا کہا : یہ سموسے ثمینہ نے بنائے ہیں ۔ کھانا تو ایسا بناتی ہے کہ جو کھائے انگلیاں چاٹتا رہ جائے ۔

چلتے چلتے چچی امی اور لڑکے کی ماں نے بہت لہک کر ثمینہ کو گلے لگایا جس سے ثریا ، رضیہ باجی ، چچی رخسانہ ، شمو اور آپا صغری کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ لڑکے والے گئے تو رضیہ باجی نے آپا صغری سے کہا : آپا یہ کیا کیا ۔ انہیں چچی امی کہہ دیا ۔ دیکھا نہیں تھا چہرے پر کیسا رنگ آیا تھا ۔ آپا صغری نے معذرتانہ لہجے میں کہا : بس کیا کرتی منہ سے نکل گیا ۔ خیر چھوڑو ۔ بس اب تم دیکھنا ایک دو دن میں ہاں ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا تیسرے دن رضیہ باجی نے خبر دی کہ لڑکے والوں نے ہاں کردی ہے ۔ ثریا نے خبر لانے پر رضیہ باجی کو گلے سے چمٹا لیا ۔ محلے میں مٹھائی کیا بٹی ایک ایک عورت مبارکباد دینے آپہنچی ۔ خوشی ایسی کہ لگتا ہر گھر میں رشتہ ہوا ہے ۔ آپا صغری نے ثریا کے گھر آکر شکرانے کے نفل پڑھے اور ثمینہ کی خوب ہی بلائیں لیں اور بے اختیار خوشی سے آنکھیں نم ہو گئیں

ایسا تھا میرا پرانا محلہ !   

Wednesday, 10 February 2021

ایک مریض کی زندہ درگور تعزیت ۔ آرٹیکل # 72

 ایک مریض کی زندہ در گور تعزیت

آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے

تحریر : اظہر عزمی

 

ہمارے ہاں کسی بیمار کی عیادت اور اس سے ہمدردی میں ، ہم  وہ کچھ کر جاتے ہیں کہ مریض کی رہی سہی جان بھی نکال دیتے ہیں ۔ گفتگو سے لگتا ہے کہ مزاج ہرسی کے بجائے پرسے کے لئے آئے ہیں ۔ مریض کو " قریب القبر " کی خبر دینے  کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتے ہیں ۔ اسے اس درجہ آمادہ موت کرتے ہیں کہ مرض سے نہ مرے تو کم از کم خودکشی کو  "خودخوشی" جانتے ہوئے ایک چانس تو لے ہی لے ۔ مریض کے کھانے کے لئے پھل ساتھ لاتے ہیں مگر سینے میں ا
یسے ایسے پھل اتار جاتے ہیں کہ وہ خود کہہ اٹھے ۔

آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے 

کل اسپتال میں داخل اپنے ایک دوست ریاض بھائی کی عیادت کو گیا تو اس دوران ان  کے سسرال کی دو خواتین اور ایک مرد آگئے ۔ میں نے اٹھنا چاھا تو ریاض بھائی نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا اور بولے : تم ہو گئے تو جلدی چلے جائیں گے ۔ میں نہ چاھتے ہوئے بھی کرسی کھسکا کر دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد دو خواتین چادر اوڑھے اور ان کے ساتھ ایک صاحب کمرے میں داخل ہوئے ۔ دونوں خواتین جو کہ 50 کے پیٹے میں ہوں گی اور صاحب ان سے کچھ سال بڑے ہوں گے ۔ دونوں خواتیں نے میری موجودگی کو عیادت جیسی عبادت میں مخل ہونے  کا تاثر دیا بلکہ ریاض بھائی  کے ساتھ ذرا سا ترچھی کرسیوں کے ساتھ بیٹھیں بلکہ ایک نے تو اپنی چادر کا پلو دانت میں ہی دبا لیا تھا تاکہ میرے دیکھنے کے امکانات ہی ختم ہوجائیں ۔اب انہیں کوئی بتائے کہ ایسی صورت حال اور عمر کے اس حصے میں آواز سے بھی ایک تصویر بنتی یے جو کبھی دھوکا نہیں دیتی چاھے ظاہری شکل کیسی ہی کیوں نہ ہو ۔ وہ تو جب انہوں نے عیادتی جملے بولنے کے لئے زبان کھولی تو چادر دانتوں سے نکل بھاگی اور لگا جیسے مجھ سے کہہ رہی یو " آپ سے کیا پردہ " ۔ خیر پھر انہوں نے میرے ہونے نہ ہونے کو خاطر میں کہاں رکھا ۔  سیانوں کا کہنا ہے کہ موت سے پہلے عیادت کے نام پر سب سے زیادہ تعزیتی قبریں خواتین کھودتی ہیں ۔

خیر کمرے میں آتے ہی پہلے تو ایک خاتون نے پھلوں کا شاپر بیڈ کے ساتھ والی ادویات کے لئے مخصوص ٹیبل ہر رکھ دیا ۔ شاپر میں آج کل کے موسمی پھلوں کا  منہ تک قبضہ تھا ۔ شاپر میں جگہ جگہ پھوڑے نکلے ہوئے تھے ۔ کینووں کی بہتات نے کیلوں کی سانس روک کر انہیں آدھ موا کردیا تھا ۔ دو کیلے شاپر کی منڈیر پر جاں بلب تھے اور شاپر پھاڑ کر نکلنے کو تیار تھے ۔ امرود نظر تو آرہے تھے مگر صاف لگ رہا تھا امرود اپنی سخت مزاجی کے کینووں کی بالادستی بلکہ چیرہ دستی سے بہت تنگ ہیں ۔

۔دوسری خاتون نے دس روپے کے نوٹ سے ریاض بھائی کے  ہاتھوں ، ماتھے اور کاندھوں کو چھلانے کے بعد سر پر اس نوٹ کو گھما کر صدقہ نکالا اور کچھ پڑھ کر ان پر پھونکا ۔ کچھ دیر میں اندازہ ہوگیا کہ دونوں نند بھاوج ہیں اور ساتھ آنے 
والے نند کے بڑے بھائی اور بھاوج کے شوہر نامدار ہیں گو کہ انہوں نے اپنا نام نہیں بتایا ۔ ویسے نام کچھ بھی رکھ لیں شوہر سے زیادہ  بے ضرر اور ہضم کوئی اور نام نہیں ۔  آئیں ! ذرا عیادت کا حال بھی سن لیں ۔

نند ریاض بھائی سے کسی قدر خفگی سے گویا ہوئیں اور بول               چلی گئیں 

ریاض بھائی ۔ حد ہوگئی غیریت کی ۔ کسی نے بتایا ہی نہیں کہ آپ اسپتال میں ہیں ۔ وہ تو کل ثریا سے بات ہوئی تو پتہ چلا ۔ میں تو ڈر گئی ۔ میں نے سوچ لیا تھا کل ضرور جاوں گی اسپتال ، ورنہ کل کلاں کو کچھ ہوگیا تو کہنے کو بات رہ جائے گی ۔ رات سے آپ کے لئے دعائیں کر رہی ہوں ۔ انہوں نے محلے کی مسجد میں بھی اعلان کرادیا یے ۔ ہر نماز میں آپ کے لیے دعائے صحت ہ
ورہی ہے ۔ 
اس کے بعد مریض کے چہرے ہر ایسی افسوسانہ اور قبرانہ نظر ڈالی کہ ریاض بھائی کو لگا کہ سامنے موت کا فرشتہ بیٹھا ہے ۔
بھاوج کہاں پیچھے رہنے والی تھیں ۔ رہی سہی کسر انہوں نے  ہوری کردی بلکہ دو ہاتھ آگے نکل گئیں : نہیں بھیا ، احتیاط بہت ضروری ہے ۔ 
نند کو مخاطب کرتے ہوئے  : وہ میں نے بتایا تھا ناں مشفق بھائی کا ۔ رات سوئے اور صبح آنکھ ہی نہیں کھلی ۔
پھر ریاض بھائی سے مخاطب ہوئیں : رات کو کوئی گھر والا رکتا یے کہ نہیں ؟
ریاض بھائی نے کہا : یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ باھر بیٹھنا پڑتا ہے ۔
نند نے پھر آگے بڑھ کر ریاض بھائی کے اوسان خطا کرنے کی پوری کوشش کی : اے بھیا ، اب یہ اسپتال والے بتائیں گے کہ فائدہ نقصان کیا ہے ۔ یاد نہیں آپ کی شادی کے تورس سال صداقت خالو کا کیا ہوا تھا ۔ رات اسپتال سے بیوی بچے گئے ۔ رات کو ان کی طبیعت خراب ہوئی ۔ لونڈے لپاڑے ڈاکٹر تھے اسپتال میں ۔ سنبھالا ہی نہیں گیا ان سے ۔ چٹ ہوگئے صداقت خالو  ۔ صبح بڑا لڑکا آیا تو مرے باپ کی شکل دیکھی ۔ 
اسی دوران راونڈ پر ڈاکٹر آگیا ۔ اس کے ساتھ نازک اندام ، آنکھوں میں شرارت بھری نرس کمرے میں آگئی ۔ ڈاکٹر ہاوس جاب پر تھا ۔ دونوں خواتین نرس کو دیکھ کر جلی مری جا رہی تھیں ۔ چیک اپ کے بعد دونوں چلے گئے ۔ نند نے پھر گند گھولنے کی کوشش کی ۔ اب یہ جو اسپتال والے چھوکرے چھوکرے سے سستے سستے سے ڈاکٹر رکھ لیتے ہیں اوپر سے یہ چلبلی نرسیں ۔ مریض کو انہوں نے خاک دیکھنا ہے ۔ خاک ہی ڈالتے ہوں گے ۔ 
ریاض بھائی کو اب اپنی بیماری کی شدت اور موت سے قربت کا اندازہ ہو چلا تھا ۔ ڈاکٹر کا آپریشن ، صبح شام  کے وزٹ اور اس پر یہ یقین دلانا کہ آپ کچھ دن بعد گھر ہوں گے ۔ سب بیکار تھا ۔ ہفتوں کا علاج پر خرچہ ، اہل خانہ کی تیمارداری سب ان نند بھاوج کی دس منٹ کی عیادت سے ہلکے  نکلے  ۔ جاتے جاتے بھاوج بولیں : فکر نہ کرنا بھیا ، اللہ تنکے میں جان ڈالنے والا ہے لیکن لکھی کو کون ٹال سکتا ہے بھلا ۔ پریشان بالکل بھی نہ ہونا ، اللہ بہتر کرے گا ۔ اور ویسے بھی ایک بات بتا دوں بچے سب کے پل جاتے ہیں ۔ وہ سب کا پالن ہار ہے ۔ تم اس کی بالکل بھی فکر نہ کرنا ۔ 
اس پوری تیمارداری میں صاحب نے ایک لفظ نہ بولا ۔ بس آتے جاتے مصافحہ کیا ۔ جب عیادت گزار چلے گئے تو ریاض بھائی کی حالت قابل دید تھی ۔ میں نے پوچھا کیسی لگی عیادت ؟ بولے : عیادت کے نام ہر زندہ تعزیت وہ بھی اپنی ، آج دیکھی ہے ۔ مجھے اندازہ ہو چلا تھا کہ مریض کس درجہ موت آگاہ ہو چلا ہے ۔ میں نے جاتے جاتے کہا : بس تم دیکھنا کل صبح تمھیں اسپتال والے ڈسچارج کردیں گے ۔ ریاض بھائی نے کہا : دیکھیں ڈسچارج  کرانے کون آتا ہے ۔ گھر والے یا فرشتہ ! 
میں  نے حوصلہ دیا تو گنگنائے لگے 
آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے

Tuesday, 8 September 2020

Article # 71اٹکل بچو فلسفیوں اور انڈا پھینٹو دانشورں سے بچو

Article # 71

 

 اٹکل بچو فلسفیوں اور انڈا پھینٹو دانشوروں سے بچو !

تحریر: !ظہر عزمی 



میں زندگی میں بہت سے لوگوں سے ملا یوں ۔ ایڈورٹائزنگ میں ہونے کے ناطے بڑے بڑے " کڑی ایٹیو " سے پالا پڑا ہے ۔ آس کے علاوہ عام زندگی میں بھی بڑے بڑے اٹکل بچو  فلاسفی اور انڈا پھینٹو دانشور عذاب جاں بنے رہے ہیں ۔ میں کم از کم اپنے تجربے کی بنیاد ہر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں اب تک جتنے بھی ناکام لوگوں سے ملا یوں ان میں ایک بڑی تعداد  انہی اٹکل بچو فلاسفئوں اور انڈا پھینٹو دانشوروں کی رہی ہے ۔ یہ مسلسل اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ انہیں کوئی "کام" کا آدمی مل جائے اور اپنا حلقہ ارادت بڑھاتے جائیں۔


 کل میری ملاقات ایک ایسے ہی شخص سے یو گئی ۔ میرے دماغ میں تو خیر اس نے کیا ڈالنا تھا مگر میرے سر میں درد کر گیا ۔ پہلے تو میں ایسے لوگوں کی گفتگو سن کر احساس کمتری میں مبتلا ہو جایا کرتا تھا مگر اب خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں ان کی "باتوں" کے لئے دونوں کانوں بیک وقت استعمال کرتا ہوں ۔


ایسے افراد کا مطالعہ بڑا واجبی سا ہوتا ہے وہ بھی یک طرفہ مراد یہ ہے کہ یہ صرف موافقت والے مضامین  پڑھتے ہیں اور اچھل کود شروع کردیتے ہیں ۔ کتاب پڑھ لیں تو دماغی ہاضمہ جواب دے جاتا ہے ۔ چند ایک مضامین پڑھ کر ہی یہ علامہ بن جاتے ہیں ۔ چرب زبان یوتے ہیں اس لئے نئے سننے والوں پر بڑی کاری ضرب لگاتے ہیں ۔ مزاجا ضدی اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں ۔ بحث میں ذلیل سے زیادہ تذلیل ہر یقین رکھتے ہیں ۔ بڑے بڑے یونانی،  فرانسیسی اور انگلستانی ناموں اور موٹے موٹے رٹے رٹائے الفاظ کا ذخیرہ ان کے پاس ہوتا یے ۔ اپنا وقت کیا زندگی ضائع کر چکے ہوتے ہیں اور اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے نا پختہ ذہنوں کو اپنا ہمنوا بنا کر ان کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں ۔ ان کے ذہن کو مقفل کر کے سمجھتے ہیں کہ ان کے پیروکار اور مدح سراوں میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ 


یہ چائے کے ایک کپ پر طوفان کھڑا کر دیتے ہیں لیکن ان کی اپنی زندگی مکمل سکوت کا شکار ہوتی ہے ۔ گفتگو میں ایسے ایسے فالسے ( فلسفے) ، توریاں (تھیوریاں) ،اور شکر قندیاں (مثالیں) وغیرہ لے کر آتے ہیں کہ ذہن کو جتنا پکا لیں کچھ بھی نہیں پک پاتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساتھ بیٹھنے والا زندگی بھر ذہنی قبض یا پھر پیچش  کا شکار ہو جاتا ہے  ۔


اصل فلسفی اور دانشور تو کم گو ہوتے ہیں ۔ مخصوص افراد سے گفتگو کرتے ہیں ۔ دانشور وہ شخص ہوتا ہے جو معاشرے کی حقیقت کے بارے  تنقیدی سوچ  ، تحقیق اور عکاسی میں مشغول رہتا ہے اور معاشرے کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے تجاویز پیش کرتا ہے ۔۔ فلسفی نکتہ ور ہوتا ہے ۔ یہ مطالعہ کے ساتھ کسی نتیجے ہر پہنچنے سے قبل تجزیہ کو لازم جانتا ہے ۔ یر بات کو عقل و دانش کی کسوٹی  ہر پرکھتا ہے ۔ یہ کسی ہر روب جمانے کی خاطر غور وفکر نہیں  کرتا ۔


۔دوسری جانب یہ رعب جماو ! اگر صبح کو کچھ پڑھ لیں تو شام تک پورے شہر میں الٹیاں کرتے پھرتے ہیں ۔ اگر  سننے والے کی گردن ہاں ہاں کی گردان کر رہی ہے تو ان سے شفیق کوئی نہیں اور اگر آپ نے کوئی نکتہ یا سوال اٹھا دیا تو ان سے زیادہ رکیک حملہ آور کوئی نہیں ۔ 


ہم بچوں کو اچھے برے کی تمیز سکھااتے ہیں ۔ اس کے پاس بیٹھو اس کے پاس نہیں ۔ یاد رکھیں ! اس معاشرے کی تباہی میں جاھلوں سے زیادہ پڑھے لکھوں کا ہاتھ ہے اور اس میں سب سے زیادہ تعداد ان  اٹکل بچو فلسفیوں اور انڈا پھینٹو دانشوروں کی ہے جو گلی گلی مارے مارے پھرتے ہیں ۔ اپنے بچوں کو ان سے بچائیں ۔ علم و حکمت کے نام پر ذہنوں کو ناکارہ کرنے کا کام سب سے زیادہ یہی اٹکل بچو فلسفی اور دانشور کر رہے ہیں ۔ یہ مستقبل کے معمار ذہنوں کو ناکارہ کر کے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل پر کاری ضرب لگاتے ہیں ۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں کہ جو راسخ العقیدہ نوجوانوں کو ناسخ العقیدہ بنانے کی سر توڑ  کوششیں کرتے ہیں ۔ انہیں کوئی نہیں پکڑتا جو ذہن کھا جاتے ہیں ، نسل کھا جاتے ہیں ۔




 

عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91

Article # 91 رنج و مزاح  عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں  تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...