Sunday, 14 April 2019

Frederick Nazareth "Oh ... really!". A great personality


Article # 16

Frederick Nazareth
"Oh ... really!

تنگ مگر سیدھے راستہ کا مسافر


تحریر : اظہر عزمی


ایک رات فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے فون اٹھایا۔ دوسری جانب سے کہا گیا کہ آپ سے صدر پاکستان بات کرنا چاھیں گے؟ انہوں نے قدرے حیرانی سے کہا "کون؟" اب جو دوسری آواز آئی وہ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی تھی۔ یہ کال ان صاحب کو ان کی والدہ کے انتقال پر کی گئی تھی۔صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ مجھے انتقال کے کافی دنوں بعد  آج ہی انتقال کی خبر ملی ہے۔ بہت افسوس ہوا۔  جن صاحبہ کے انتقال پر تعزیت کی گئی وہ سینٹ پیٹس اسکول کے سائنس ٹیچر Oswald B. Nazareth کی اہلیہ تھیں اور تعزیت وصول کرنے والے تھے ان کے بڑے صاحبزادے فریڈرک نزرتھ۔ جنرل پرویز مشرف O.B.Nazareth کے شاگرد تھے۔ ۔یہ واقعہ فریڈرک صاحب نے ایک دن روانی میں سنا دیا ۔ فریڈرک صاحب کے والد کے شاگردوں کی فہرست بہت طویل ہے جس میں سابق وزراء اعظم خان محمد جونیجو اور شوکت عزیز کے علاوہ متعدد وزراء،سفراء،جج صاحبان اور نہ جانے کون کون شامل ہے ۔ اپنے لڑکپن کے زمانے میں ایک دن فریڈرک نزرتھ نے اپنے والد سے کہا تھا کہ آپ ٹیچر کیوں بنے جبکہ خاندان کے لوگ دیگر شعبوں میں ملازمت کر کے پر آسائش زندگی گذار رہے ہیں۔ بیٹے کے اس سوال پر باپ نے بہت تحمل و پیار سے کہا تھا کہ میری ترجیح پیسے کمانا نہیں ۔ میری ترجیح انسانوں کی بہتری ہے۔ تم جس  شعبہ کا چاھو انتخاب کرو ۔بس ایمانداری کے تنگ مگر سیدھے راستہ پر چلتے رہنا کہ یہی سب سے بہترین راستہ ہے ۔ بیٹے نے باپ کی یہ بات ہمیشہ کے لئے ذہن میں بٹھا لی اور اسی تنگ مگر سیدھے راستے کا مسافر ہے۔

فریڈرک صاحب نے یہ باتیں ایک دن مجھے بتائیں تو میں سوچنے لگا کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ فریڈرک صاحب کا  حلقہ احباب بھی اتنا وسیع اور متنوع ہے کہ اگر وہ صرف گنوانے بیٹھ جائیں تو سامنے والا مرعوب ہی ہوتا چلا جائے۔میں نے ایک مرتبہ ان سے کہا تھا کہ سر آپ کا دوستی کا سرکل لندن سے لانڈہی تک پھیلا ہوا ہے تو اپنی بھاری بھرکم آواز میں قہقہ لگا کر رہ گئے۔

 میری پیشہ ور زندگی میں فریڈرک نزرتھ ان چند منتخب لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی حق گوئی اور اصول پسندی کا میں ہمیشہ معترف رہا ہوں۔90 کی دھائی کے ابتدائی سالوں میں فریڈرک صاحب، غفور شہزاد اور میں ایک ہی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے ایک  کمرے میں بیٹھا کرتے تھے۔ کام کے ساتھ ساتھ باتیں اور ہنسی مذاق چلتا رہتا ۔میں تجربے اور عمر میں فریڈرک صاحب سے چھوٹا تھا مگر یہ ان کی بڑائی تھی کہ انہوں نے کبھی مجھے چھوٹا نہ جانا بلکہ ہمیشہ کام میں حوصلہ افزائی کے لئے برابری کا درجہ دیا۔ یہ ان کی اعلی ظرفی اور خاندانی تربیت تھی ورنہ میرا ان سے کوئی تقابل نہیں تھا۔ فریڈرک صاحب کو چھوٹے بڑے سب فریڈی کہتے ہیں مگر میں انہیں کبھی بھی فریڈی کہنے کی جرات نہ کرسکا کیونکہ میرے دل میں ان کے لئے جو عزت واحترام ہے وہاں صاحب کہنا لازمی امر ہے۔

 فریڈرک صاحب کے والد کا تعلق منگلور جبکہ والدہ کا تعلق کراچی سے تھا .O.B.Nazareth  صرف 3 سال کی عمر میں کراچی آگئے تھے۔ فریڈرک صاحب قیام پاکستان سے دو ایک سال پہلے کراچی میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں سابق بندر روڈ (اب ایم اے جناح روڈ) پر جہاں سے ریگل کے لئے بسیں مڑتی ہیں اور جس کے کونے پر مڈوئے نامی اسپتال کی کئی منزلہ بلڈنگ ہے اس گھر میں بچپن گذرا۔ بتاتے ہیں کہ گھر بہت بڑا تھا۔ ریکیوزیشن کے تحت گھر کے تیسرے حصہ میں ان کی فیملی جبکہ  بقیہ دو حصوں میں سے ایک میں سرتاج عزیز (سابق وفاقی وزیر) رہا کرتے تھے جو اس وقت سرکاری ملازم تھے اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدے پر تھے جنہیں فریڈرک صاحب تاجی انکل کہا کرتے تھے۔ اسی طرح ان کی بہن مشہور ادیبہ محترمہ نثار عزیز بٹ کو سارو آنٹی کہا کرتے تھے۔ فریڈرک صاحب نے بتایا کہ ایک زمانے میں سابق کمشنر کراچی اے ٹی نقوی (ابو طالب نقوی)  بھی یہاں رہ چکے ہیں۔

 فریڈرک صاحب سے میری پہلی نظری ملاقات ایک جنازے میں ہوئئ۔جس ایڈورٹائزنگ ایجنسی (1992-3) میں ملازمت کر رہا تھا۔ وہاں کے اکاونٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک صاحب کے انتقال پر میں بھی آفس اسٹاف کے ساتھ وہاں گیا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آفس کے لوگ بہت عزت و احترام کے ساتھ ان سے مل رہے ہیں۔پتہ چلا کہ یہ فریڈرک ہیں جنہیں چھوٹے بڑے سب فریڈی کہہ رہے ہیں ۔ فریڈرک صاحب سے میری سمعی ملاقات 1988 میں بذریعہ ٹیلی فون ہو چکی تھی جو ان کو یقینا یاد بھی نہیں ہوگی ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں جس ایجنسی میں فاروق پراچہ صاجب کے ساتھ کام کیا کرتا تھا وہاں سے اس وقت کا ایک بڑا کلائنٹ جا چکا تھا۔ کام نہ دارد ، میرے کوچ کا سامان یوں کیا گیا کہ بھری گرمیوں میں جب ریسیپشنسٹ نہ آتی تو سیمنٹ کی شیٹوں کی چھت والے اس ریسیپشن پر مجھے بٹھا دیا جاتا (کبھی تفصیل سے بتاوں گا کہ اس بیٹھنے نے میری زندگی پر کیا اثرات مرتب کئے)۔صورت حال بہت تکلیف دہ تھی۔ میں ایسے موقع کو غنیمت جانتا اورٹیلی فون ڈائریکٹری سے ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے کریٹیو ڈائریکٹرز کو بلا کھٹکے فون ملا دیا کرتا اور ملازمت کا پوچھتا۔فریڈرک صاحب اس زمانے میں ایک بڑی ایجنسی میں کریٹیو ڈائریکٹر ہوا کرتے تھے۔ یوں میری ان سے پہلے گفتگو ہوئی۔ 

دوبارہ چلتے ہیں اسی ایجنسی میں جہاں ہم ملازمت کر رہے ہیں۔ یہ وہی ایجنسی ہے جہاں فریڈرک صاحب سے پہلی بار ٹیلی فون پر میری بات ہوئی تھی۔کچھ دنوں بعد سنا کہ فریڈرک صاحب اب اس ایجنسی میں واپس آرہے ہیں۔ اب فریڈرک صاحب،غفور شہزاد اور میں ایک ساتھ تھے۔ انعام الرحیم کی بھی یہاں پہلی ملازمت تھی۔

دیکھئے اتنی باتیں ہو گئیں ۔یہ نہیں بتایا کہ فریڈرک دیکھنے میں کیسے ہیں ؟ قد لمبا ہے۔رنگ انگریزوں والا گورا ، جسم متناسب۔عمر کا پوچھیں گے تو جتنی وہ بتاتے ہیں اس سے 10 سال کم از کم چھوٹے لگتے ہیں۔ لوگ بدن چور ہوتے ہیں۔ فریڈرک صاحب عمر کے معاملے میں خاصے چور واقع ہوئے ہیں۔فریڈرک صاحب نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ۔ مختلف اداروں میں ملازمت کرنے کےبعد 1978 میں ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ڈائریکٹ " کریٹیو ڈائریکٹر " کے طور پر ملازمت اختیار کی جو آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کا ابتدا میں ہی اعتراف تھا۔ فریڈرک صاحب کے بقول کچھ افراد کو اعتراض بھی تھا۔

 فریڈرک صاحب جب صبح آفس آتے تو ہاتھ میں کوئی کتاب لازمی ہوتی۔لنچ بکس جس میں دو سینڈوچز ہوتے ہمراہ ہوتے۔ دوپہر کو ہمیں بھی کھانے کا کہتے مگر میں اور شعیب روزانہ کیفے لبرٹی( طارق روڈ) کے پیچھے کیفے رحمن میں کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔  فریڈرک صاحب کھانے اور کھلانے دونوں کے شوقین ہیں۔

فریڈرک صاحب میری طرح لیفٹ ہینڈر ہیں۔ کمپیوٹر اس وقت نہیں آیا تھا۔ اس زمانے کی خاص بات یہ تھی کہ بیشتر کریٹیوز پینسل سے لکھا کرتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اپنا لکھا خود سے بہتر کرنے یا بفرمائش کلائنٹ تبدیل کرنا پڑتا تھا۔ فریڈرک صاحب  اپنا الٹا ہاتھ اس طرح گھما کر لکھتے ہیں ، لگتا ہے کہ کوئی ان کے سامنے بیٹھ کر لکھ رہا ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں کے بارے میں، میری رائے کی کیا اہمیت ہے لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ اگر کلائنٹ کی بریف نہیں بدلی ہے تو پھر فریڈرک صاحب کی کاپی کو چھیڑنے سے بہتر ہے کہ کسی شیر کے منہ سے نوالہ چھین لیا جائے۔ فریڈرک صاحب کو خاض طور پر اپنے تخلیقی کاموں کی خود نمائی بالکل پسند نہیں اس لئے جو ادھر ادھر سے پتہ چل گیا یا جو کبھی انہوں نے کسی قصہ کہانی کے ذیل میں بتا دیا بس اتنا ہی معلوم ہے ۔ اپنے وقتوں کی بڑی بڑی Campagins فریڈرک صاحب کے زور قلم کا نتیجہ ہیں۔ کمرشلز لکھے بھی اور ڈائریکٹ بھی کئے۔ اس ضمن میں بیرون ملک جانا بھی ہوا۔

 جیسا کہ پہلے تحریر کیا کہ دوست، احباب بہت ہیں۔ آرٹ، ادب کے دلداہ ہیں۔اس لئے اپنا ایک مخصوص سرکل ہے جس کا ان کی پروفیشنل لائف سے میرے خیال میں کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ شخصیت اس وقت تک بہت سادہ اور آسان ہے جب تک انہیں سامنے والے کی ریا کاری اور منافقت کا پتہ نہ چل جائے۔ ذرا سی دیر میں حساب کتاب برابر کر دیتے ہیں وہ بھی اتنی شائستگی کے ساتھ کہ متاثرہ شخص کو گھر جا کر احساس ہو۔لگی لپٹی رکھتے نہیں،پیٹھ پیچھے برائی کرتے نہیں تو اب ایسے لوگ تو بدتمیز اور منہ پھٹ ہی کہلائیں گے مگر فریڈرک صاحب ان باتوں کی پروا کہاں کرتے ہیں۔ مزاج میں سادگی اور انکساری ہے اس لئے ہر ملنے والا یہ سمجھتا ہے کہ فریڈرک صاحب صرف ان کے قریبی دوست ہیں۔ 

بقول محسن صدیقی:
حسن  ظن میں ہو  مبتلا   محسن
وہ تو ہنس کر سب ہی سے ملتا ہے

آپ کا مسئلہ  بھی عجیب ہے۔ بڑوں (مالی طور پر) کی چھوٹی سی چھوٹی بات پکڑ لیتے ہیں اور چھوٹوں کی بڑی سے بڑی بات پر صرف نظر کر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے تو ان سے بے دھڑک بات کرتے ہیں جبکہ بڑوں کا دل دھک دھک کرتا رہتا ہے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ اگر پڑھے لکھے نہ ہوتے تو لیبر لیڈر ہوتے اور اپنی بے باکانہ طبیعت اور باغیانہ خیالات  کے باعث نہ جانے کتنی مرتبہ ملازمت سے ہاتھ پیر سب دھو چکے ہوتے۔

 جس معاشرے میں احمق سے احمق بھی انگریزی بولے تو اپنے آپ کو برتر سجھنے کے خبط میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ عمل وہ زیادہ دھڑلے سے اس وقت کرتا جب سامنے انگریزی سے عدم واقفیت والا موجود ہو تاکہ جو چاھے سو بولے مگر پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ فریڈرک صاحب ایسے کسی خبط میں مبتلا نہیں ۔ انسان سے اس زبان میں بات کرتے ہیں جس میں دونوں کو سہولت ہو ۔ میں نے اکثر انگریزی کا بھرم مارنے والوں کو فریڈرک صاحب سے اردو میں بات کرتے دیکھا ہے۔

 فریڈرک صاحب کسی قسم کی احساس کمتری کا شکار نہیں۔ اس لئے کبھی جھوٹ بول کر  کسی کو شکار کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بلا کم و کاست ہر بات بتا دیتے ہیں۔ ایک دفعہ سردیوں کے دن بہت اچھا کوٹ پہن کر آئے ۔میں نے اس خیال سے کہ باہر جاتے رہتے ہیں ،خرید لیا ہوگا۔ بولے Used خریدا ہے۔ ساتھ قیمت بھی بتادی۔میں نےکہا"مذاق کر رہے ہیں" بولے "ایسا بالکل بھی نہیں ۔جس نے پوچھا اس کو یہی بتایا۔"

فریڈرک صاحب اردو بولنے کے دلداہ ہیں۔ بہت بہتر اور روانی سے بولتے ہیں اور پڑھ بھی لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ لطف اس وقت آتا ہے جب آپ غصے میں ہوں اور اردو بول رہے ہوں۔ان کے مخصوص جملے ہیں۔قسم خدا پاک کی، میرا تو ماتھا گھوم گیا، مجھے تو غصہ چڑھ گیا۔ فریڈرک صاحب کا حس مزاح قیامت کا ہے۔ خاص طور پر جب گفتگو اردو میں ہو رہی ہو۔ ایسے ایسے جملے اور استعارے استعمال کرتے ہیں کہ اہل زبان گھوم کر رہ جائیں۔ ناموں کو شخصیت کے لحاظ سے تبدیل کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں۔ ایک صاحب ہوا کرتے تھے گل فراز۔ فریڈرک صاحب جس کام کا کہتے اس کے کرنے میں دیر سویر ہو جاتی تو بہانہ بازی کرتے۔ فریڈرک صاحب نے ان کا نام رکھا "فل فراڈ"

 فریڈرک صاحب ہر سال سیاحت پربیرون ملک جاتے ہیں اور بطور ثبوت تصویریں فیس بک پر اپ لوڈ کردیتے ہیں۔ اسٹیج پر انگریزی ڈراموں میں اداکاری کر چکے ہیں۔ فوٹوگرافی کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں۔اچھے فوٹو گرافر ہیں۔ آواز کا یہ ہے کہ ایک مرتبہ کسی ٹی وی ڈرامہ میں جواہر لال نہرو کے لئے آپ کی آواز لی گئی۔ آج بھی مصروف ہیں۔ ڈاکیومینٹریز بناتے ہیں۔ فریڈرک صاحب سب کے کام آنا چاھتے ہیں لیکن کسی سے اپنے کام کے لئے کہنا ان کی سرشت میں نہیں۔  چند سال پہلے آپ کو آنکھ کا آپریشن کرانا پڑ گیا ۔مجھے کال کرکے کہا " عزمی ۔۔۔ کیا آپ مجھے ایک favour دے سکتے ہیں؟"  میں نے کہا " سر  favour کیا ہوتا ہے ؟ آپ حکم کریں۔" بولے "مجھے آپ کو گھر سے آہریشن کے لئے اسپتال لے جانا ہوگا" میں نے اسے اپنا اعزاز جانا ۔شاید اپنے طور پر یہ واحد favour انہوں نے لیا ہوگا اور نہ جانے کتنا سوچنے کے بعد میرا نام فائنل ہوا ہو گا۔

26 -27 سال کا تعلق ہے ۔بہت کچھ ہے لکھنے کو ۔  بس یہی کہوں گا کہ کچھ لوگ پہلی ملاقات میں دل میں اتر جاتے ہیں اور کچھ پہلی ملاقات میں  ہی دل سے اتر جاتے ہیں۔فریڈرک صاحب دل میں اتر جانے والی شخصیت ہیں۔اگر کبھی آپ کی ملاقات ہوجائے تو آپ کا دل میری اس بات کی گواہی دے گا۔

میں جب انہیں بتاوں گا کہ آپ پر آرٹیکل لکھا ہے تو پہلے ایک زوردار قہقہہ لگائیں گے اور پھر کہیں گے ۔۔۔
                                                                Oh ... really


Wednesday, 10 April 2019

پہلے ٹی وی والےگھر میں فلم دیکھنے کون کون آتا تھا؟ 70 کی دھائی کی باتیں


Article # 15
چند ایک پاکستانی فلمیں جو ہم نے دیکھیں

ٹی وی والے گھر میں فلم دیکھنے کون کون آتا ؟



تحریر: اظہر عزمی

(ایک اشتہاری کی باتیں)


کوئی بہت ہی بڑا عابد و زاہد ہی ہوگا جو یہ کہہ دے کہ اس نے بچپن میں کوئی فلم ہی نہیں دیکھی۔ پہلے پی ٹی وی پر اتوار
 کو دوپہر میں پاکستانی فلم آتی تھی جس کے لئے پہلے سے تیاریاں مکمل کر لی جاتیں۔ فوتگی کے علاوہ ہر پروگرام بعد کے لئے رکھ لیا جاتا ۔ اکثر گھروں میں دوپہر کا کھانا پہلے ہی پکا لیا جاتا۔ گھر گھر ٹی وی نہیں تھا ۔ اس لئے جس جس گھر میں ٹی وی ہوتا ہے۔ اس گھر کی عورتیں گھر کی اوپری صفائی پر دھیان دیتیں اور آنے والیوں کی اندورنی نظروں پر نظر رکھتیں۔ 

فلمیں دیکھنے کی شوقین لڑکیاں اور عورتیں جس عورت  کے گھر ٹی وی ہوتا اس سے دوستی گانٹھ لیتیں۔ چھوٹے موٹے سلائی کڑھائی کے کام بھی کردیا کرتیں اور ساتھ ساتھ سنا بھی دیتیں "ارے اس گھر کو تو ہم اپنا ہی گھر سمجھتے ہیں"۔ یہ تو چھوڑیں خاندان کے وہ رشتہ دار جو مہینوں سالوں میں منہ دکھاتے وہ بھی اتوار کو نہ صرف اپنا منہ لے آتے بلکہ دوپہر کا کھانا منہ تک بھر کے تناول کرتے

جہاں ٹی وی رکھا ہوتا اس کی اتوار کے لئے وی آئی پی صفائی ہوتی۔گھر والی صفائی کرتے ہوئے بڑبڑاتی جاتی" ایک تو شیطان کی آنت ٹی وی کیا گھر میں آیا ہے ۔روز روز کوئی نہ کوئی بہانے بہانے سے ڈرامہ دیکھنے چلا آتا ہے۔ گھر نہ ہوگیا سینما گھر ہوگیا"۔بات صحیح تھی شام سے رات تک کوئی نہ کوئی ٹی وی والے گھر میں آدھمکتا۔یہ میں آپ سے 70 کی دھائی کی باتیں کر رہا ہوں۔

ٹی وی والے گھر کی عورت صفائی ستھرائی کرتی تو دوسری طرف فلم دیکھنے کے لئے آنے والی بچیاں ٹافیاں،سپاریاں اور دیگر چیزیں رات یا پھر صبح صبح خرید کر رکھ لیتیں کہ فلم دیکھتے ہوئے چپکے چپکے کھائیں گے۔ سہلیاں کوشش کرتیں کہ ساتھ ساتھ بیٹھیں اور جہاں موقع ملے کھی کھی کرتی رہیں ، ڈانٹ کھاتی رہیں۔ بچے اور جوانوں کے لئے نیچے سفید یا کسی اور رنگ کی چادر بچھا دی جاتی۔ بڑی عمر کے مرد و خواتین کرسیوں اور صوفہ پر براجمان ہوتے۔  ٹی وی کی گھر والی فلم سے زیادہ یہ دیکھتی کہ آنے والی عورتوں (جن میں سے دو ایک آگ لگاوا ہوتیں) میں سے کس کی نظر گھر کے کس حصہ پر ہے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ فلم کے بعد اس کے گھر کی ایک فلم چلنی ہے جس میں اس کے پھوڑپن کو فلم کی بڑی اسکرین کی طرح بڑھا چڑھا پیش کیا جائے گا۔ 

فلم دیکھنے بھی بڑے ڈرامے ہوتے۔ ہیروئن پر کوئی ظلم ہو رہا ہوتا تو ہیروئن سے زیادہ دیکھنے والیوں کا حال پروین شاکر کے اس مصرعہ جیسا ہوتا

اور ہم نے روتے روتے ڈوپٹہ بھگو لئے

اسی طرح قہقہہ بھی خوب نکلتے۔ ایسے میں چھوٹی لڑکیوں کو عورتیں چٹکیاں مارتیں۔اگر وہ تب بھی نہ مانتیں تو کوئی بڑی عمر کی عورت ڈانٹتے ہوئے کہتی "بڑی بے کہنے کی ہوتی جارہی ہیں یہ لڑکیاں۔اب اگر  کوئی ہنسی تو ساری بتیسی نکال  کر رکھ دوں گی"۔ فلم  میں اگر اس وقت کے حساب سے کوئی ایسا ویسا منظر آجاتا تو بزرگ پہلو بدلنے لگتے یا پھر کھنکھارنے لگتے۔ اب تو خیر زمانہ ہی بدل گیا جو کچھ فلموں میں اب دکھایا جا رہا ہے،اس وقت کے بزرگ ہوتے تو ٹی وی ہی توڑ دیتے۔ میں نے تو اب یہ دیکھا کہ فلم میں کوئی ایسا ویسا منظر اجائے تو بڑی عمر کے لوگ وہاں سے اٹھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ باقی تو کوئی اٹھنے کا سوچتا بھی نہیں۔ فلموں کو چھوڑیں پہلے ہم انڈیا ڈراموں کی بے حیائئ کا رونا روتے تھے۔اپنے ڈرامے دیکھکر آپ بلاتامل کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ ہم کسی سے کم نہیں۔

یہ امتحان ہر ہفتہ ہوتا ۔کہیں نہ کہیں گھر کی صفائی ستھرائی میں کوئی کمی رہ ہی جاتی اور ٹی وی والی کو کوئی نہ کوئی کسی کا تبصرہ سنا ہی دیتی۔ بیوی شوہر سے کہتی کہ میں اتوار کے اتوار اس شو سے تنگ آگئی ہوں ۔ شوہر سمجھاتا "ارے دو ڈھائی کی تو بات ہے ۔کیا لیتے ہیں۔ فلم دیکھتے اور چلے جاتے ہیں۔" بیوی کا تو پارہ چڑھ جاتا "کیا لیتے ہیں ، کیامطلب ؟ ارے میری جان لے لیتے ہیں۔ وہ منہ بسورتی روتی گاتی ہیروئن سے زیادہ تو میری جان عذاب میں ہوتی ہے۔ صفائی ستھرائی کرو اور پھر کسی نہ کسی کو پانی پلاتی رہو۔ اور وہ جو آپ کی چچی امی ہیں ناں۔ چائے پیئے بغیر تو جیسے فلم دیکھنا گناہ ہے۔ ان کے گھر جاو تو بھوٹے منہ پانی کا نہیں پوچھتیں ۔۔۔ اور وہ منیر خالو ۔۔۔۔ارے شوگر کے مریض ہیں تو گھر میں بیٹھیں۔گھڑی گھڑی پانی اور پھر واش روم ۔پانی بھی صحیح طرح نہیں بھاتے۔ کبھی واش روم میں بو جا کر سونگھیں۔ (برا سا منہ بنا کر ڈوپٹہ کا کونہ ناک پر رکھ لیتیں)۔

دیکھیں بات شروع کی تھی فلم دیکھنے سے اور لے کے بیٹھ گیا گھروں میں فلم دیکھنے کی کہانیاں۔ ماضی کا یہی تو مسئلہ ہے بات شروع کرنا اور پھر اس کو ایک ڈگر پر رکھنا خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔

زندگی میں پہلی فلم جو ہم نے نایاب سینما ناظم آباد میں اپنے والد اور چھوٹے بھائی بزمی کے ساتھ دیکھی وہ تھی روڈ ٹو سوات ۔  یہ فلم پورے محلہ میں مشہور تھی جس میں موٹر سائیکل کے کمالات  بچوں میں بڑے مقبول تھے۔ فلم اس وقت تو بہت ہلکی سی یاد ہے۔ بعد میں جب بڑے ہوئے تو ایک بار پوری فلم دیکھی کہ بچپن کا سرمایہ تھی۔ اتنا یاد ہے کہ ہم دونوں بھائی والد کے ہاتھ پکڑے جارہے ہیں۔

روڈ ٹو سوات کے اداکاروں میں کمال ، نسیمہ خان ،مقصود ملک (موٹر سائیکلسٹ) ،ماہ پارہ، لہری اور حنیف شامل تھے۔ اس فلم کا دو گانے مجھے آج بھی یاد ہیں۔ 1۔ چلے ہیں دل والے روڈ ٹو سوات 2۔ یہ ادا یہ ناز یہ انداز آپ کا دھیرے دھیرے پیار کا بہانہ بن گیا۔ یہ فلم غالبا 1970 میں ریلیز ہوئی تھی۔

یہ سینما ہال کی پہلی فلم تھی۔ اس کے بعد طویل تریں وقفہ یا بندش ہی کہہ لیں۔ میٹرک کے بعد عرشی سینما (اب ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ نیچے دکانیں اور اوپر فلیٹ بن چکے ہیں) عائشہ منزل میں فلم بندش دیکھ کر یہ بندش ختم ہوئی جب والد صاحب نے کہا کہ تم اب اپنے چچا زاد ( اطہر نجمی ) اور ماموں زاد بھائی (فضل عباس عرف دنی )کے ساتھ فلم دیکھنے جا سکتے ہو۔ فلم بندش (ریلیز 1980)  واقعی بہت اچھی ،صاف ستھری فلم تھی جس کے ستارے  ندیم شبنم ، غیر ملکی اداکارہ ڈائینا کرسٹینا ، طالش ،علاوالدین اور طلعت حسین  تھے۔ ڈائریکٹر نذر الاسلام تھے۔اس فلم کے بھی دو گانے پہت مشور ہوئے۔ موسئقار روبن گھوش تھے۔
اچھا اچھا لاگو رے (نیرہ نور ،اے نیر)
سونا نہ چاندی نہ کوئی محل ( اخلاق احمد)
یہ فلم لگاتار دو دن دیکھی۔

اب آتے پہلی ہندوستانی فلم جو جناب ہم نے وی سی آر پر نہیں بلکہ سینما کی سلور اسکرین پر دیکھی۔ ہندوستان کے ایک اداکار شیخ مختار تھے انہوں نے ایک وہاں ایک فلم بنائی نورجہاں ، شیخ صاحب اس کے فلم کے پروڈیوسر بھی تھے وہ پاکستان آئے ۔یہاں حکومت سے بات کی اور ہندوستانی فلموں پر پابندی کے باوجود اس فلم کی خصوصی طور پر اجازت دے دی گئی۔ سلور اسکرین پر ہمارے ہوش میں پہلی ہندوستانی فلم تھی ۔ مجمع ٹوٹ پڑا اور ہم بھی ۔ فلم واقعی بہت شاندار تھی کیوں نہ ہوتی اس میں مینا کماری (نورجہاں) جو تھیں۔ ان کے مقابل تھے پردیپ کمار (شہزادہ جہانگیر)۔ شیر افگن کا کردار لحیم شحیم شیخ مختار نے ادا کیا تھا۔ ہندوستان میں یہ فلم 1967 میں ریلیز ہوئی۔ یہاں سالوں بعد سینما کی زینت بنی اور خوب چلی۔ 

اس کے بعد اطہر نجمی اور فضل عباس دنی کے ساتھ عرشی سینما ہی میں ٹینا (محمد علی،بابرہ شریف، فیصل،وسیم عباس وغیرہ) اور ہانگ کانگ کے شعلے (جاوید شیخ ،بابرہ شریف ، مصطفی قریشی، رنگیلا  اور ادیب)۔لیجئے جناب ! اپنے وقتوں کی کامیاب تریں فلم آئینہ کا ذکر نہ کروں تو گناہ کے زمرے میں آجاوں گا۔ مجھے بھی یہ فلم دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ آئینہ شاید پاکستان کی  فلمی تاریخ میں کسی بھی ایک سینما (اسکالا)  پر سب سے زیادہ عرصہ  لگی رہنے والی فلم کا اعزاز رکھتی ہے۔

یقین جانیئے بس پوری زندگی یہی چند ایک فلمیں یا ایک دو انگریزی فلمیں سینما ھال میں دیکھی ہیں جو میرا خیال ہے بہت زیادہ "قابل تعریف" ریکارڈ نہیں۔ یہ میرا" اثاثہ کمتری " ہے ۔بس جو کچھ دیکھا ہے وہ سب  انگلیوں پر یاد ہے ۔ ہمارے زمانہ میں فلم دیکھنا ایک ایونٹ ہوا کرتا تھا۔ سینما ہال فیش شو کا منظر پیش کیا کرتے تھے۔  کچھ لڑکے اور لڑکیاں تو ہیرو ہیروئن سے زیادہ سج دھج کر آتے ۔ کچھ لوگ جو فیملی کے ساتھ آتے پہلے سے بکنگ کرا لیتے ۔ چھڑے چھانٹ یا لڑکوں کا گروپ فلم شروع ہونے سے پہلے آتا اور لائن میں لگ کر یا دھکم پیل سے ٹکٹ خریدتا ۔ ٹکٹیں بلیک میں فروخت بھی کی جاتیں۔ ھال میں ٹکٹیں خریدنے والی لائن کو سیدھا رکھنے کے لئے اکثر سینما گھروں میں مکرانی بھائی موجود ہوتے ۔کبھی کبھی ناخوشگوار صورت حال بھی پیش آجاتی ۔  80 کی دھائی میں ملک بھر میں انڈین فلموں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔ ایسے میں پاکستانی فلمیں کو دیکھتا۔ شاید پاکستانی سینما کسی حد تک مقابلہ کر جاتا مگر رہی سہی کسر جنرل ضیا کے زمانے کہ سخت پالیسیوں نے کردی۔

اب کراچی کا پرانا سینما کلچر ختم ہوگیا ہے۔ نئے نئے سینما ھالز بن گئے ہیں مگر ابھی تک ان سینما ھالز میں فلم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ دیکھیں کب نصیب یاوری کرے اور کوئی پاس مل جائے ۔اپنے پلے سے تو فلم دیکھنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ ویسے بھی اب دو ڈھائی گھنٹے کی فلم دیکھنے کی ہمت بھی نہیں رہی ہے۔

Monday, 8 April 2019

Hamari hazir jawabi aur mulazmat ki hathon hath paishkash


Article # 14


ہماری حاضر جوابی اور ملازمت کی ہاتھوں ہاتھ پیشکش

تحریر:  اظہر عزمی

(ایک اشتہاری کی باتیں)



والد مرحوم کوثر سلطان پوری بتاتے تھے کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارا خاندان بھارت میں ہی رہا لیکن گاندھی کے قتل کے بعد ہمارے خاندان کو ان کے آبائئ قصبہ میں جائے اماں نہ ملی۔ سو رات کے اندھیرے میں ایک ہندو ڈاکٹر نے اپنے گھر کے تہہ خانے میں پناہ دی اور علی الصبح اسٹیشن پہنچ کر عازم پاکستان ہوئے۔ کراچی میں لائنز ایریا پہلا مسکن ٹھہرا کیونکہ مہاجرین کی اکثریت پہلے یہیں آیا کرتی تھی۔ اس کے بعد پھر کہیں اور منتقل ہوتی۔
کراچی آئے تو بے سر و سامانی کا عالم تھا۔ گھرکے افراد نے ملازمت کی نہیں تھی لیکن اب خانداں غلاماں (یعنی ملازمت کرنے والے) میں شامل ہو چکے تھے۔
یہ تو ہوا ابتدائیہ ۔ خانداں غلاماں میں شامل ہو چکے تھے اس لئے سب لگ گئے چھوٹی موٹی ملازمتوں پر گو کہ بعد میں خانداں کے لوگوں نے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی بھی کی۔ ملازمت کے حصول کے لئے ہمارا قصہ بڑا دلچسپ اور تلخ رہا۔ B.Sc کرنے کے بعد صبح شام والد اور چھوٹے چاچا کی جانب سے ہماری کلاس کا اہتمام ہوتا اور یہی کہا جاتا کہ ان کی عمر کے سب لڑکے ملازمت کر رہے ہیں اور صاحبزادے ہیں کہ گھر میں بیٹھے ہیں۔ ہمارا یہ تھا کہ کلرکی کرنی نہیں تھی اور معقول ملازمت مل نہیں رہی تھی۔
کسی نے کہا گھر میں عورتوں کو بلا کر سورہ مزمل پڑھو ۔ غیب سے ملازمت کا انتظام ہو جائے گا۔ امی ہماری روز روز کی کلاس سے تنگ آگئیں تھیں۔ سو بھیا انہوں نے محلے کی عورتوں کو بلا کرفوری طور پر سورہ مزمل شروع کردی۔ ہم بھی عجیب اذیت میں تھے۔ دو چھتی پر جا کر روز ہی اللہ سے گلے شکوے ہوتے۔ اس زمانے میں ہم نے بڑا تاریخی جملہ کہا تھا " جوان لڑکی کا رشتہ نہ آنا اور جوان لڑکے کو ملازمت نہ ملنا برابر کے دکھ ہیں "۔
قصہ مختصر ہمیں ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں جاب مل گئئ مگر طبیعت شروع سے سیلانی رہی ہے اس لئے اس ایجنسی سے دل جلد ہی بھر گیا ۔سوچا بڑی ایجنسی میں جائیں گے تو نام بھی ہوگا اور دام بھی اچھے ملیں گے۔ بڑی تگ و دو کے بعد ایک ریفرینس نکال کر ایک بڑی ایجنسی میں انٹرویو کے لئے صبح 9 بجے بلا ہی لیا گیا۔ ہماری ظاہری صورت حال یہ کہ 6 فٹ سے نکلتا قد اور جسم پر گوشت کی قلیل مقدار اور اس پر چہرے پر 120 گز میں رہنے والوں کی چھاپ۔ شیو کرنے کے ہم شروع سے چور ۔اب آپ خود سمجھ لیں ۔ہم کیسے لگتے ہوں گے؟ (ویسے صورت حال آج بھی بہت زیادہ مختلف نہیں)۔ اب یہ بھی مت سمجھ لیجے گا کہ ہم باکل ہی ناکارہ تھے۔ اس زمانے میں ہم حاضری جواب بلکہ صحیح بتاوں مسخرے زیادہ تھے۔
صبح سویرے سب سے اچھی پینٹ شرٹ نکالی۔ ایک دو دن کا شیو تھا ۔ پہنچ گئے انٹرویو دینے ٹھیک 9 بجے۔ اوقات ہی کیا تھی ؟ کاپی رائٹر ۔۔۔۔ تجربہ ، چند ماہ وہ بھی چھوٹی سی ایجنسی کا۔ صبح 9 بجے کے بیٹھے بیٹھے دوپہر ایک بجے کہا گیا کہ اپ آپ MD کے پاس انٹرویو کے لئے چلے جائیں۔ ہم عجیب گھبراہٹ اور پیٹ میں ہلکی ہلکی گڑ گڑ کے ساتھ MD صاحب کے کمرے کے باہر پہنچے۔ دروازہ Knock کیا۔ ?May I come sir کا روایتی جملہ بولا ۔اللہ جانے آواز اندر گئئ یا گلے میں ہی پھنسی رہ گئئ۔ جواب میں اندر سے بھاری بھرکم آواز آئئ۔ Come in. ہم نے دروازہ کھولا تو کمرہ AC کی وجہ سے یخ بستہ تھا۔ہم پہلے سے ٹھنڈے تھے کہ پتہ نہیں کیا سوال جواب ہو جائیں۔
کمرہ کیا تھا ؟ 60 گز کا گھر تھا بڑے بڑے ہردے۔ بڑی سے میز کہ سامنے والے سے ہاتھ ملانے کے لئے ہاتھ بھی نہ پہنچے۔ MD صاحب نے نہ تو ہم سے ہاتھ ملایا اور نہ ہی بیٹھنے کو کہا۔ ایک نظر اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پوچھا "آپ انٹرویو کے لئے آئے ہیں؟" میں نے کہا "جی"۔MD صاحب نے ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائئ اور گویا ہوئے " انٹرویو کے لئے آئے ہیں بغیر شیو کئے۔"پتہ نہیں حاضری جوابی کی صلاحیت اس حالت میں کہاں سے عود کر بلکہ میرا خیال ہے کودکر آ گئ۔ میں نے بغیر کسی وقفہ کے جواب دیا "سر صبح 9 بجے میں شیو کر کے ہی آیا تھا"۔یہ جملہ سننا تھا کہ MD صاحب نے زور کا قہقہہ مارا۔انہیں معلوم تھا کہ میں 9 بجے سے انٹرویو کے لئے موجود تھا۔ اب سارا منظر نامہ تبدیل ہوچکا تھا۔ ہاتھ ملایا۔ کرسی پر بٹھایا۔ لہجہ قریب قریب دوستانہ تھا۔ بولے میں نے بہت انٹرویو کئے ہیں مگر اتنا برجستہ جواب وہ بھی تم جیسے New Comer سے نہیں سنا۔ Creative افراد کو ایسا ہی ہونا چاہیئے۔
وہ بھی ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ پوچھنے لگے کہاں کے رہنے والے ہو ۔ میں نے کہا والد آگرہ کے پاس ایک قصبہ کے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنا بتایا کہ وہ کہاں کے ہیں۔
اپنے سکریٹری کو انٹرکام کر کے بلایا اور میں بغیر کسی ڈگری اور Experience Certificate طلب کئے۔ آدھے گھنٹے میں کریٹیو ڈیپارٹمنٹ کی ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ ملازمت کا انتظام ایک جملہ پر ہو چکا تھا۔ یہ الگ بات کہ میں نے اس وقت یہ ملازمت نہیں کی اور ایک دو گھنٹے بعد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ یہ قصہ پھر کبھی اور سہی۔

Sunday, 7 April 2019

ماں ۔۔۔ منفی سے مثبت کھوجنے والی


Article # 13



ماں ۔۔۔۔ منفی سے مثبت کھوجنے والی



تحریر :اظہر عزمی

(ایک اشتہاری کی باتیں)


ماں کی اس سے بڑی عظمت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب العزت نے خود کو 70 ماوں سے زیادہ محبت کرنے والا کہا ۔ بے غرضی ،بے نیازی اور ایثار جیسی صفات کی حامل ماں دنیا کی کوئی ڈگری نہ رکھتی ہو لیکن وہ ایک ایسی درسگاہ ہے ، وہ ایک ایسی معلمہ ہے جو اپنی اولاد کو زندگی  کی حقیقتوں کا ، سچائی کا ہر سبق یاد کراتی ہے۔ وہ کمسنی میں اولاد کی منفی باتوں سے مثبت کھوج لیتی ہے ۔ وہ ہر بات کا جواب دیتی ہے جو کسی کورس کا حصہ نہیں ہوتی۔ جو کہیں نہیں پڑھائی جاتی۔

ایک بچے نے رات کے پچھلے پہر ماں سے پوچھا :

ماں جب دیئےمیں تیل ختم ہوجائے گا تو کیا اندھیرا ہوگا ؟

ماں نے ایک لمحے کا توقف کئے بغیر بڑی سادگی سے بیٹے کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
بیٹا جب دیئے میں تیل ختم ہوجائے گا تو سویرا ہو گا ۔  


Thursday, 4 April 2019

Safdar Mirza ... My dearest n nearest


Article # 12

صفدر مرزا

جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے



تحریر: اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)



80 کی پورئ دھائی اور 90 کے ابتدائی سالوں میں ، میں اس کے کونے کے مکان کی پتلی گلی کے لوھے کے گیٹ کے پاس جا کر اونچی آواز میں کہتا "صفدر"۔کچھ لمحوں میں جواب آتا "آرہا ہوں"۔ کچھ دیر میں وہ آجاتا اور پھر وھیں گھنٹے گھنٹے کھڑے ہو کر دنیا جہان کی باتیں ہوتیں۔زیادہ میں ہی بولتا وہ اچھا سامع تھا اور ہے۔

یہ گفتگو اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر لیتی جب ہم ان سے رات کیفے گلستان (جو اب للی میرج بیبکوئٹ بن گیا ہے) واٹرپمپ جا کر نہاری کھلانے کی فرمائش کرتے ۔ پہلے تو صاف انکار پھر ہماری غربت کا طعنہ حالانکہ وہ جانتے تھا کہ یہ طعنہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کافی دیر ہم بھی ملتجیانہ اور کبھی دوستانہ انداز میں اصرار کرتے رہتے۔ اکثر اوقات صفدر  مان جاتا۔  مئی یا جون 1988 تک ہماری بے روزگاری کا زمانہ تھا جبکہ صفدر مرزا میکینیکل میں ڈبلومہ کرنے کے بعد شپ یارڈ میں سرکاری ملازمت کر رہے تھے۔ بعد ازاں آپ نے بی ٹیک بھی کر لیا۔

صفدر سے ہماری دوستی کب ہوئی یہ تو یاد نہیں لیکن کب ختم ہوگی ؟ یہ تو زندگی کے خاتمے پر ہی ممکن ہے۔ صفدر کا لغوی مطلب ہے صف میں در آنے والا۔ صفوں کی صفیں الٹ دینے والا۔ بہادر۔ جری۔نڈر ۔دلیر۔ جھوٹ نہیں بولوں گا میں نے صفدر کو بظاہر صف الٹتے نہیں دیکھا البتہ نماز کی صف میں رکوع و سجود میں دیکھا۔ نماز کی باقاعد
گی سے ادائیگی آپ کے معمولات میں شروع سے شامل ہے۔

صفدر مرزا کے خد و خال کچھ یوں ہیں۔ درمیانہ قد۔ متناسب جسم۔ گندمی رنگت۔ گول چہرہ۔ ہلکی داڑھی اور نظر کے چشمے کی پیچھے جھانکتی  زندگی سے بھرپور آنکھیں۔ گفتگو کرتے ہوئے لفظوں کی ادائیگی  میں اٹکن  یہ سب مل کر بنتی ہے صفدر مرزا کی لکھنوی شخصیت۔ بچپن میں صفدر مرزا کرتا پاجامہ پہنتے ہوں گے تو لکھنو کے بانکے ہی لگتے ہوں گے۔

صفدر مرزا ذات کے مغل ہیں۔ ان کے ابا و اجداد کب وارد ہندوستان ہوئے؟ تاریخ کے اوراق کچھ بتائیں تو بتائیں صفدر مرزا نے اس موضوع پر لب کشائی نہیں کی۔میں اتنا تو ضرور کہہ سکتا ہوں کہ صفدر مرزا کھانے میں گائے،بکرے اور مرغی کی چیر پھاڑ کے عادی ہوں تو ہوں لیکن اپنے جد اعلی چنگیز خان کی طرح فتح پرستی میں انسانوں کے ساتھ اس عمل کے سخت مخالف ہیں۔

صفدر مرزا خود شہرت یافتہ نہیں ہیں مگر ان کے والد صاحب دلاور مرزا مرحوم چغتائی آرٹ کے مسلمہ مصور تھے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں آپ کے فن پاروں کی نمائش ہوئی۔ میر ،غالب اور اقبال کے اشعار پر آپ کی پینٹنگز یگانہ رہیں۔ دلاور مرزا اورینٹ ایڈورٹائزنگ میں سالوں آرٹ ڈائریکٹر رہے۔ میری زندگی پر تو ان کا بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ہی مجھے ایڈورٹائزنگ میں لانے کی وجہ بنے۔

صفدر مرزا سے جب ہماری دوستی بڑھی تو ان کی مذھب کی طرف طبیعت پوری طرح سکہ بند مسلمان ہو چکی تھی۔ ہمارا یہ تھا کہ ہم سقہ بند(مطلب جتنا عام مسلمان ہونے کے لئے  علم کی پیاس ضروری ہے بس وہی کافی ہے) مسلمان تھے اور رہے۔ چھٹی کے دن (ہفتہ) ہم دونوں اردو بازار اور صدر کتابیں خریدنے جاتے۔ پتہ نہیں کون کون سی مذہبی یا مذھب سے قریب تر کتابیں تلاش کرتے پھرتے۔ ہم اس کوشش میں مصروف رہتے کہ مذھب سے ہٹ کر کوئئ ادبی کتاب مل جائے جسے ہم پڑھ سکیں۔ پیسے تو ہمارے پاس ہوتے نہ تھے۔ بڑی بڑی مشکل سے صفدر مرزا کو اپنے مطلب کی کتاب کے لئے گھیرتے اور یہ ثابت کرنے کی سعی حاصل کرتے کہ اس کتاب میں مذھب موجود ہے۔ صفدر مرزا سب جانتے ۔خوب سنانے کے بعد ایک کتاب ہماری مرضی کی لے لیتے مگر ایک شرط کے ساتھ کہ جو کتابیں میں لے رہا ہوں تم کو پڑھنی ہوں گی۔ ہم فورا راضی ہو جاتے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ دیتے کتاب پڑھنے کو دی جاتی۔ہم بھی خاص خاص حصے پرھتے اور  اظہار خیال کرتے۔صفدر مرزا کو اندازہ تھا کہ ہم کرتے کیا ہیں پھر انہوں نے کتاب کے خاص خاص حصوں پر  لائنیں لگا کر دینی شروع کردیں کہ کسی طرح ہم کتابوں میں ان کے ہم مزاج ہو جائیں۔

صفدر مرزا یہاں بھی ناکام رہے ہم نے ان لائنوں کے باوجود ان کی لائن نہ پکڑی۔ صفدر مرزا ابتدا سے روایتی مولویوں اور ذکروں سے کبیدہ خاطر رہے۔ اب ان کی حالیہ پوسٹیں دیکھ کر لگتا ہے بات کافی آگے بڑھ چکی ہے۔ شروع شروع میں تو ہم نے کمنٹس کئے لیکن بعد میں خود پر نو کمنٹس کا بورڈ لگا دیا۔ صفدر مرزا سمجھ رہے ہوں گے کہ ادھیڑ عمری میں ہم ان کے ہم رکاب ہو جائیں گے تو ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا۔

ایک مرتبہ ہم نے گلی والوں کے ساتھ ہاکس بے پکنک پر جانے کا پروگرام بنایا۔ والد والدہ خیرپور گئے ہوئے تھے۔ شام ہو گئئ۔ صبح پکنک پر جانا ہے۔ جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں۔ پہنچ گئے صفدر مرزا کے پاس ۔نکالو ہماری پکنک کے پیسے۔ بے نقاط سنائیں۔ کیا کیا نہیں کہا۔ ہم بھی ڈھیٹ بنے سنتے رہے اور پیسے لے کر ہی گئے۔کبھی سوچنے بیٹھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کتنا یقین اور مان تھا صفدر پر کہ وہ مایوس نہیں کرے گا۔

ایک وقت وہ بھی گذرا کہ صفدر ہماری تفریح بازی سے نالاں ہوئے اور ہمیں سب کے سامنے سنا دیں۔ ہم بھی اکڑ گئے۔ بات چیت بند۔ لوگ حیران کہ روز گھنٹوں بات کرنے والوں کو کیا ہوا۔ ہماری جاب لگ گئی تھی۔ ہمارے بھی پر لگ گئے تھے۔ ایک ماہ یا اس سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا۔ ایک دن دونوں شام کو آفس سے واپسی پر سہراب گوٹھ کے اسٹاپ پر ساتھ اترے۔ ریل کی پٹری کی طرح ساتھ چل رہے تھے مگر دونوں ہی خاموش یہاں صفدر مرزا پھر مجھ سے بازی لے گیا اور خود ہی آواز دے کر بات شروع کردی ۔ ناراضی کیا تھی محبت کا لاڈ تھا۔اس نے مجھے منا لیآ اور میں من گیا۔

صفدر مرزا باشرع ہیں۔ عزاداری کے بارے میں اپنا مخصوص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ مذہبی احتجاج میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ ایسے موقعوں پر آپ خاص طور پر جاگرز پہن کر شریک مظاہرہ ہوتے مبادا کہیں مظاہرہ شکن قوتوں کے شکنجے میں نہ آجائیں۔ ایسے موقعوں پر آپ کا گھر سے نکلنا اور پھر دوستوں کی جملہ بازی خوب ہی مزہ دیتی لیکن صفدر مرزا مسکرا کر ہر جملے کو سہہ جاتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر پکڑے گئے تو مار نہیں سہہ پائیں گے۔

صفدر مرزا کی آبائئ انجمن ظفر الایمان ہے جو کبھی کبھی مجھے ان کے مذہبی خیالات سے کمپرومائز کرتی دکھائئ نہیں دیتی مگر تمام تر باتوں کے باوجود ان کے اندر کا انجمن باز زندہ تھا۔ کیا کیا جائے۔لاکھ عالم فاضل بن جایئے بچپن کی خو بو تھوڑی جاتی ہے۔ صفدر مرزا کے خاندان میں نوحہ پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے بچوں کا کھانا کھانا۔ والد،بھائئ چچیرے بھائئ سب اس فن میں طاق ہیں۔ انجمن نوحہ خوانی کر رہی ہو اور شبہ ہو کہ طرز ٹوٹ رہی ہے یا پڑھنے والے کی آواز میں دم ہلکا پڑ رہا ہے تو خاندان کا کوئئ بھی فرد کہیں بھی کھڑا ہو آواز میں آواز ملا دیتا تھا۔ صفدر مرزا  بھی خاندان کی اس روایت کے امین رہے ہیں۔اب قیام چونکہ کینیڈا میں ہے اس لئے اس امانت داری سے متعلق حتمی رائے دینے سے مکمل طور پر انکاری ہوں۔ صفدر مرزا کی آواز اس وقت تک بہت اچھی ہوتی کہ جب تک وہ ساتھ پڑھ رہے ہوں اور یہ پتہ نہ چلے کہ اس میں سے صفدر مرزا کی آواز کون سی ہے۔

صفدر مرزا بچپن میں خاصے گول مٹول رہے ہوں گے لیکن یہ بتانا مشکل ہے کہ ان پر بچپن آیا بھی تھا کہ نہیں ۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ وہ اس عمر کیا باتیں کیا کرتے ہوں گے؟ کس قسم کے بچکانہ مذاق کیا کرتے ہوں گے۔ ان باتوں سے یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ ان میں میں حس مزاح ہی نہیں۔ ہے اور بہت ہے مگر اوندھا سیدھا مذاق ان کا مزاج نہیں۔

صفدر مرزا کے لئے کہنے کو اور اس کے بعد ان سے سنے کو بہت کچھ ہے۔ بس اتنا کہہ دوں کہ فی زمانہ شرافت ان پر ختم ہے۔

بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن 
جو  میرا  دوست  ہے مجھ سے  بڑا  ہے

                                     (اطہر نفیس)

Wednesday, 3 April 2019

Shahid Hussain ... A remarkable personality


Article # 11


میرے منجھلے چچا

شاہد حسین
کہاں سے لاوں ایسے لوگ ؟

تحریر:اظہر عزمئ
(ایک اشتہاری کی باتیں)






آپ سوچ رہے ہوں گے۔ یہ کوئی لکھاری ، فلسفی ہوں گے تو ایسا بالکل بھی۔ آج کا یہ مضمون میرے مرحوم چچا (ڈیڈی) کے بارے میں ہے جو انتہائی عملیت پسند ، مردم شناس ، زمانہ آگاہ  اور بے خوف طبعیت کے مالک تھے۔ اوائل عمر سے نہایت عبادت گذار ہو گئے تھے۔سال میں تین ماہ کے روزدار تھے۔ ویسے نماز روزہ تو ہم نے شروع سے دیکھا ۔  میانہ قد، کھلتی رنگت ، چہرے پر سفید داڑھی خوب ہی جچتی ۔ ہر پریشانی ، دکھ اور بیماری کا پامردی سے مقابلہ کرنے والے ،کسی بھی مرحلہ پر مایوسی سے کوسوں دور رہنے والے شخص تھے ۔حوصلہ ہارنا ان کی سرشت میں نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ میرے رول ماڈل تھے اور رہیں گے۔

چچا کی چند باتیں کمال کی تھیں۔ دھوکہ کھاتے تھے نہ دیتے تھے۔بیوقوف بنتے نہ بناتے تھے۔لچھے دار باتوں سے بہت دور رہتے۔خوشامد پسند بالکل نہ تھے۔ اپنے مسلک پر سختی سے کار بند تھے مگر مزاج صلح جوئی کا تھا۔ ایماندار اتنے کہ آپ آنکھیں بھی بند کر لیں تو چونی ادھر سے ادھر نہ ہو۔ ہر وقت ایک ہی بات ذہن میں رہتی کہ کوئی لمحہ ،کوئی بات پروردگار عالم سے پوشیدہ نہیں۔

مستحکم معاشی حالات کے بعد معاشی ابتری ہوئی تو خدا کے حضور عبادتوں کا سلسلہ دراز سے دراز ہوتا چلا گیا۔ بڑی بڑی مصیبتیں آئیں مگر حرف شکایت تو بہت دور کی بات چہرے کے تاثرات سے بھی شائبہ کی کوئی گنجائش نہ نکلتی۔ طبیعت میں حد درجہ قناعت تھی۔ معاشی طور پر آسودہ حال زندگی گذارنے کے بعد جب مالی مسائل کا سامنا ہوا تو اجھے وقتوں کی شاہ خرچی کی عادت مشکل سے جاتی ہے لیکن چچا نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا۔ برے وقتوں میں لوگ اپنے اچھے وقتوں کے ڈھول بہت پیٹتے ہیں مگر چچا نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ کبھی کوئی بات سے بات نکل آئے تو وہ الگ بات ہے۔

اخبار کا ایک حرف چاٹ لیتے۔ جب کاروبار تباہ ہوا تو دو چیزیں ہمیشہ اول وقت میں ادا کیں۔ ایک نماز اور دوسرے ابن صفی کے ناولز جو ان کا بڑا بیٹا اپنے پڑھنے کے لئے لایا کرتا تھا۔ ایک زمانہ میں پی ٹی وی کے ڈراموں اور گھر میں وی سی ار پر چلنے والی انڈین فلموں کے شوقین لیکن جیسے جیسے قربت پروردگار بڑھتی گئی پھر ساری توجہ مسجد اور سیاسی ٹاک شوز پر مرکوز ہو گئی۔

پیشہ ور زندگی کا آغاز بطور کلرک کیا اور پھر ترقی کرتے کرتے اسی بڑی سلک مل کے جنرل مینجر بن گئے۔ بہت اچھا وقت دیکھا ۔بچوں نے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصک کی۔ چچا حاضر جواب اور حاضر دماغ تھے۔ امارات کے بعد خب تنگ دستی دیکھی تو میرا خیال ہے دنیا اور آخرت کی ساری کتھا سمجھ گئے تھے۔ ہمت و برداشت کے آدمی تھے۔ انتقال سے ایک ماہ پہلے جب پھیپھڑوں میں بہت پانی جمع ہو گیا تو پانی نکالنے کے لئے گائے بھینس کو لگائے جانے والےبڑے انجیکشن سے بغیر اینیستھیزیا لگوائے بستر پر بیٹھکر پانی نکلوایا۔ ڈاکٹرز اس عمر میں ان کی ہمت کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔

آخر وقت تک دماغ پوری طرح حاضر رہا ۔ وہ ابھی نہ مرتے اصل میں انہیں ان کے جوان بیٹے کی ناگہانی موت کا غم لے گیا۔ 

اولاد کا  ہونا  بھی  بڑی  بخشش  رب  ہے
یہ سچ ہے مگر داغ بھی بیٹے کا غضب ہے

 بیٹے کی تدفین کے وقت انہوں نے جس کمال صبر کا مظاہرہ کیا وہ دیکھکر سب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مسلسل دعائیں پڑھتے رہے۔ بیٹے کے انتقال کے قریبا دو سال بعد ہی اسی قبرستان میں جا سوئے۔

میں نے پہلے بھی ایک جگہ لکھا کہ خوشیاں لے کر بیٹھتا ہوں اور غم آنکلتے ہیں۔ کیا کروں جن سے زندگی تھی وہ زیادہ تر زیر زمین ہیں۔ میرا قطعا ارادہ یہ سب باتیں کرنے کا نہیں تھا بلکہ ان کی حاضر جوابی کے قصے اور دلچسپ جملے آپ تک لہنچانے کا تھا۔

ایک مرتبہ ان کے چھوٹے صاحبزادے کو رات گئے کسی دوست کا فون آیا جن کے بیٹے کی موٹر سائیکل اور وہ تھانے میں تھا ۔چچا کے چھوٹے بیٹے کا کوئی جاننے والا اس تھانے میں تعینات تھا۔ اس خیال سے دوست نے اسے فون کیا۔  چچا کے بیٹے نے فون رکھ کر جانے کا ارادہ کیا تو چچا نے پوچھا کہ کہاں ۔بیٹے نے پوری بات بتائی تو چچا نے تاریخی جملہ کہا " آپ کے وہاں جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بس تھانہ کے باہر کھڑے لوگوں میں ایک اور فرد کا اضافہ ہو جائے گا "

ایک مرتبہ بقر عید کے موقع پر ان کے پوتے نے مسجد کی تعمیرکے لئے کھالیں جمع کیں۔ اس زمانہ میں کھالیں جمع کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ پوتے نے بالکل ساتھ والے پڑوسی کی قربانی کی کھال کی رسید پہلے ہی کاٹ دی مبادا کہیں کوئی اور نہ لے جائے۔ چچا اس معاملہ میں بہت سخت گیر تھے۔ اب سنیں جو مکالمہ پوتے سے ہوا۔

چچا: آپ نے وقت سے پہلے کھال کی رسید کاٹ دی ہے۔ بکرا ابھی تک آیا نہیں۔
پوتا : جی ذیڈی (چچا کو سب ڈیڈی کہتے تھے)
چچا: مگر ابھی تو بکرا آیا ہی نہیں
پوتا:  کوئی بات نہیں
چچا: اگر فرض کریں وہ بکرا نہ لا سکے ،رسید کٹ چکی ہے  تو کیا آپ اپنے کھال دیں  گے؟

ہمارے چچا قیامت کے مزاج دان تھے ۔ بڑے بیٹے کا نویں جماعت کا نتیجہ آیا تو شام کو اپنی اہلیہ کے ساتھ کہیں سے گھر آرہے تھے۔ رزلٹ کا علم نہیں تھا ۔ اس زمانہ میں نویں کے 5 پیپرز ہوا کرتے تھے۔ راستہ میں اہلیہ سے بولے "اگر صاحب زادے 4 میں پاس ہوئے تو گھر پر اور اگر 3 میں ہوئے تو بھائی ( ہمارے والد کو بھائی کہا کرتے تھے۔ ہمارا اور ان کا گھر ایک ہی گلی میں ہے) کے ہاں ہوں گے۔صورتحال اس سے زیادہ خراب تھی۔ اس لیے فاصلے کا مزید بڑھنا ضروری تھا۔اب وہ ہمارے گھر نہ تھے بلکہ ہمارے چھوٹے چچا کے ساتھ بہانہ سے شادی میں شرکت کے لئے حیدر آباد جا چکے تھے۔ بارات تو وہ نمٹا آئے لیکن گھر پر چچا ان کے رزلٹ پر دعوت ولیمہ کا کھانا کھولنے ہی والے تھے کہ عین وقت پر ہمارے والد صاحب پہنچ گئے اور دعوت ولیمہ منسوخ کردی گئی ۔ یہ حقیقت ہے کہ چچا کے آگے کسی کی نہیں چلتی تھی لیکن اپنے بڑے بھائی (میرے والد) کے آگے ان کی آواز بھی نہیں نکلتی تھی۔ کہاں سے لاوں ایسے لوگ؟

ایک مرتبہ گھر میں بہت کاٹھ کباڑ جمع تھا تو چچی نے کہا کہ گھر میں بہت کاٹھ کباڑ ہوگیا ہے ؟ تو بیوی کو مسکرا کر دیکھتے رہے۔ بات سمجھ میں آگئی تھی۔ اہلیہ سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے۔ حج پر جانے لگے تو ڈبڈبائی آنکھوں سے صرف ایک بات سب سے کہی کہ اس (اہلیہ) کا خیال رکھنا۔ کوئی تکلیف نہ ہو ۔ اہلیہ کو اپنے ہاتھوں سے پابندی کے ساتھ دوا کھلاتے۔اپنے سے زیادہ ان کا خیال رکھتے۔

ایثار و قربانی کا یہ عالم تھا ۔انتہائی مالی پریشانیوں کے دن تھے۔ ایک مشترکہ مکان تینوں بھائیوں کا تھا۔ والد صاحب اور چچا دونوں چھوٹے بھائی کے حق میں دست بردار ہوچکے تھے۔ مکان بکا تو چھوٹے چچا نے  بھائی کی مالی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا حصہ لے لیں تو بولے جہاں مجھ پر اتنے تنکوں کا بوجھ ہے اس سے کیا فرق پڑے گا۔ تم اپنا مکان خریدو۔

سب سے مزے کا واقعہ جسے شاید میں بغیر آواز پوری طرح بیان نہ کر پاوں وہ بہت مزے کا ہے۔ چچا کے بڑے صاحبزادے (اب منوں مٹی تلے سو رہے ہیں) کا صبح آفس جانا ایک مرحلہ ہوا کرتا۔ پہلی آواز بہت پیار سے دیتے "نجمی بیٹا اٹھ جائیں"۔ دوسری آواز 5 منٹ بعد آتی ۔اب آواز میں ہلکی سی سختی ہوتی " میاں اٹھ جاو" نجمی صاحب کی طرف سے کوئی جواب نہ آتا۔ اب جو آواز آخری اور حتمی ہوتی"او بھائی اٹھ جا۔ صاف بتادو آفس جانا ہے کہ نہیں" اس عزت افزائی کے بعد اٹھنا لازم تھا۔

میرا خیال ہے اب میرا قلم اٹھا لینا بھی ضروری ہوگیا ورنہ آپ لوگ بور ہوجائیں گے۔  ممکن آپ لوگ یہ خیال کریں کہ میں یہ آرٹیکلز شاید کسی تعریف و توصیف کے لیے کرتا ہوں ۔ میں دراصل ان بڑے لوگوں کو آپ کے سامنے لانا چاھتا ہوں جو مشہور نہیں ہیں لیکن سب کے لئے قابل مثال و تقلید ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی اپنے سادہ اور مشکل اصولوں کے تحت گذاری ہے۔

آئے ، ٹھہرے اور  روانہ ہو  گئے
زندگی کیا ہے؟ سفر کی بات ہے

حیدر علی جعفری

Monday, 1 April 2019

Tum nay bhi yaad aana hae ... 2 shairon ka pur mazaha hashar nashar



Article # 10

یوں  ہی بیٹھے  بیٹھے  یاد  آیا

دو اشعار کا  پرمزاح  حشر  نشر


تحریر : اظہر عزمی

(ایک اشتہاری کی باتیں)


کبھی کبھی زندگی میں کوئی گذرا پل ، کوئی گذرا واقعہ بڑا مزہ دیتا ہے لیکن مجھے دو آشعار جو اپنے ہم عمر مرحوم چچا زاد بھائی اطہر حسین نجمی سے سننے کو ملے ہمیشہ یاد رہیں گے۔

ادب سے اسے کوئی لگاو نہ تھا۔ایک روز میں شکیل بدایونی کی غزل پڑھ رہا تھا جس کا یہ شعر بہت مشہور ہے :

جو نقاب رخ اٹھا دی تو یہ قید بھی لگا دی
اٹھے ہر نگاہ  لیکن کوئی  بام  تک نہ پہنچے

اردو سے اس کا لینا دینا اخبار کی خبروں کی حد تک تھا۔اب جو اس نے شعر کا تیا پانچا کیا ہے ، وہ سن لیں۔

جو نقاب رخ اٹھا دی  تو یہ  قید بھی لگا دی
اٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی "باپ " تک نہ پہنچے

میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ۔میں نے کہا بھائی بام لکھا ہے۔ بولا بام (وہ ابگریزی والا سمجھ رہا تھا۔ اردو کا بام علم میں ہی نہیں تھا ) تو باپ کو دیکھنے کے بعد ہی آئے گا جب لگے گئی ٹھکائی ۔لگتا ہے شاعر وائی وا میں تو تیز ہے لیکن پریکٹیکل  میں پکا پکا   فیل ہے۔

اسی طرح ایک دن پھر ایک شعر پڑھنے کو دیا۔

نہ اتنی تیز چلے سر پھری  صبا سے کہو
گلی میں  ایک ہی  پتہ دکھائی دیتا  ہے

ان کی استدلالی سوچ نے کیا گل کھلایا وہ بھی سن لیں۔

نہ اتنی  تیز چلے سرپھری  صبا سے کہو
گلی میں ایک ہی "لڑکا" دکھائی دیتا ہے

میں نے کہا لڑکا کہاں سے آگیا ؟ بولے جب گلئ کی باولی لڑکی "صبا" اکیلی نکلے گی تو پتہ اس کا کیا کر لے گا ۔ ایک لڑکے کو دیکھ کر ہی گلی سے تیز تیز جائے گی ۔

(وہ اپنے حصہ کا مزاح دے کر چلا گیا ہے ۔ کیا کروں خوش ہونے بیٹھتا ہوں اور غم آ نکلتے ہیں۔ میں جانتا ہوں وہ کبھی نہیں آئے گا ۔ بس ایسے ہی بیٹھے بیٹھے یاد آنے لگے گا۔

(تم نے بھی یاد آنا ہے ، آنا تو ہے نہیں )

عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91

Article # 91 رنج و مزاح  عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں  تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...