Wednesday, 3 April 2019

Shahid Hussain ... A remarkable personality


Article # 11


میرے منجھلے چچا

شاہد حسین
کہاں سے لاوں ایسے لوگ ؟

تحریر:اظہر عزمئ
(ایک اشتہاری کی باتیں)






آپ سوچ رہے ہوں گے۔ یہ کوئی لکھاری ، فلسفی ہوں گے تو ایسا بالکل بھی۔ آج کا یہ مضمون میرے مرحوم چچا (ڈیڈی) کے بارے میں ہے جو انتہائی عملیت پسند ، مردم شناس ، زمانہ آگاہ  اور بے خوف طبعیت کے مالک تھے۔ اوائل عمر سے نہایت عبادت گذار ہو گئے تھے۔سال میں تین ماہ کے روزدار تھے۔ ویسے نماز روزہ تو ہم نے شروع سے دیکھا ۔  میانہ قد، کھلتی رنگت ، چہرے پر سفید داڑھی خوب ہی جچتی ۔ ہر پریشانی ، دکھ اور بیماری کا پامردی سے مقابلہ کرنے والے ،کسی بھی مرحلہ پر مایوسی سے کوسوں دور رہنے والے شخص تھے ۔حوصلہ ہارنا ان کی سرشت میں نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ میرے رول ماڈل تھے اور رہیں گے۔

چچا کی چند باتیں کمال کی تھیں۔ دھوکہ کھاتے تھے نہ دیتے تھے۔بیوقوف بنتے نہ بناتے تھے۔لچھے دار باتوں سے بہت دور رہتے۔خوشامد پسند بالکل نہ تھے۔ اپنے مسلک پر سختی سے کار بند تھے مگر مزاج صلح جوئی کا تھا۔ ایماندار اتنے کہ آپ آنکھیں بھی بند کر لیں تو چونی ادھر سے ادھر نہ ہو۔ ہر وقت ایک ہی بات ذہن میں رہتی کہ کوئی لمحہ ،کوئی بات پروردگار عالم سے پوشیدہ نہیں۔

مستحکم معاشی حالات کے بعد معاشی ابتری ہوئی تو خدا کے حضور عبادتوں کا سلسلہ دراز سے دراز ہوتا چلا گیا۔ بڑی بڑی مصیبتیں آئیں مگر حرف شکایت تو بہت دور کی بات چہرے کے تاثرات سے بھی شائبہ کی کوئی گنجائش نہ نکلتی۔ طبیعت میں حد درجہ قناعت تھی۔ معاشی طور پر آسودہ حال زندگی گذارنے کے بعد جب مالی مسائل کا سامنا ہوا تو اجھے وقتوں کی شاہ خرچی کی عادت مشکل سے جاتی ہے لیکن چچا نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا۔ برے وقتوں میں لوگ اپنے اچھے وقتوں کے ڈھول بہت پیٹتے ہیں مگر چچا نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ کبھی کوئی بات سے بات نکل آئے تو وہ الگ بات ہے۔

اخبار کا ایک حرف چاٹ لیتے۔ جب کاروبار تباہ ہوا تو دو چیزیں ہمیشہ اول وقت میں ادا کیں۔ ایک نماز اور دوسرے ابن صفی کے ناولز جو ان کا بڑا بیٹا اپنے پڑھنے کے لئے لایا کرتا تھا۔ ایک زمانہ میں پی ٹی وی کے ڈراموں اور گھر میں وی سی ار پر چلنے والی انڈین فلموں کے شوقین لیکن جیسے جیسے قربت پروردگار بڑھتی گئی پھر ساری توجہ مسجد اور سیاسی ٹاک شوز پر مرکوز ہو گئی۔

پیشہ ور زندگی کا آغاز بطور کلرک کیا اور پھر ترقی کرتے کرتے اسی بڑی سلک مل کے جنرل مینجر بن گئے۔ بہت اچھا وقت دیکھا ۔بچوں نے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصک کی۔ چچا حاضر جواب اور حاضر دماغ تھے۔ امارات کے بعد خب تنگ دستی دیکھی تو میرا خیال ہے دنیا اور آخرت کی ساری کتھا سمجھ گئے تھے۔ ہمت و برداشت کے آدمی تھے۔ انتقال سے ایک ماہ پہلے جب پھیپھڑوں میں بہت پانی جمع ہو گیا تو پانی نکالنے کے لئے گائے بھینس کو لگائے جانے والےبڑے انجیکشن سے بغیر اینیستھیزیا لگوائے بستر پر بیٹھکر پانی نکلوایا۔ ڈاکٹرز اس عمر میں ان کی ہمت کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔

آخر وقت تک دماغ پوری طرح حاضر رہا ۔ وہ ابھی نہ مرتے اصل میں انہیں ان کے جوان بیٹے کی ناگہانی موت کا غم لے گیا۔ 

اولاد کا  ہونا  بھی  بڑی  بخشش  رب  ہے
یہ سچ ہے مگر داغ بھی بیٹے کا غضب ہے

 بیٹے کی تدفین کے وقت انہوں نے جس کمال صبر کا مظاہرہ کیا وہ دیکھکر سب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مسلسل دعائیں پڑھتے رہے۔ بیٹے کے انتقال کے قریبا دو سال بعد ہی اسی قبرستان میں جا سوئے۔

میں نے پہلے بھی ایک جگہ لکھا کہ خوشیاں لے کر بیٹھتا ہوں اور غم آنکلتے ہیں۔ کیا کروں جن سے زندگی تھی وہ زیادہ تر زیر زمین ہیں۔ میرا قطعا ارادہ یہ سب باتیں کرنے کا نہیں تھا بلکہ ان کی حاضر جوابی کے قصے اور دلچسپ جملے آپ تک لہنچانے کا تھا۔

ایک مرتبہ ان کے چھوٹے صاحبزادے کو رات گئے کسی دوست کا فون آیا جن کے بیٹے کی موٹر سائیکل اور وہ تھانے میں تھا ۔چچا کے چھوٹے بیٹے کا کوئی جاننے والا اس تھانے میں تعینات تھا۔ اس خیال سے دوست نے اسے فون کیا۔  چچا کے بیٹے نے فون رکھ کر جانے کا ارادہ کیا تو چچا نے پوچھا کہ کہاں ۔بیٹے نے پوری بات بتائی تو چچا نے تاریخی جملہ کہا " آپ کے وہاں جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بس تھانہ کے باہر کھڑے لوگوں میں ایک اور فرد کا اضافہ ہو جائے گا "

ایک مرتبہ بقر عید کے موقع پر ان کے پوتے نے مسجد کی تعمیرکے لئے کھالیں جمع کیں۔ اس زمانہ میں کھالیں جمع کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ پوتے نے بالکل ساتھ والے پڑوسی کی قربانی کی کھال کی رسید پہلے ہی کاٹ دی مبادا کہیں کوئی اور نہ لے جائے۔ چچا اس معاملہ میں بہت سخت گیر تھے۔ اب سنیں جو مکالمہ پوتے سے ہوا۔

چچا: آپ نے وقت سے پہلے کھال کی رسید کاٹ دی ہے۔ بکرا ابھی تک آیا نہیں۔
پوتا : جی ذیڈی (چچا کو سب ڈیڈی کہتے تھے)
چچا: مگر ابھی تو بکرا آیا ہی نہیں
پوتا:  کوئی بات نہیں
چچا: اگر فرض کریں وہ بکرا نہ لا سکے ،رسید کٹ چکی ہے  تو کیا آپ اپنے کھال دیں  گے؟

ہمارے چچا قیامت کے مزاج دان تھے ۔ بڑے بیٹے کا نویں جماعت کا نتیجہ آیا تو شام کو اپنی اہلیہ کے ساتھ کہیں سے گھر آرہے تھے۔ رزلٹ کا علم نہیں تھا ۔ اس زمانہ میں نویں کے 5 پیپرز ہوا کرتے تھے۔ راستہ میں اہلیہ سے بولے "اگر صاحب زادے 4 میں پاس ہوئے تو گھر پر اور اگر 3 میں ہوئے تو بھائی ( ہمارے والد کو بھائی کہا کرتے تھے۔ ہمارا اور ان کا گھر ایک ہی گلی میں ہے) کے ہاں ہوں گے۔صورتحال اس سے زیادہ خراب تھی۔ اس لیے فاصلے کا مزید بڑھنا ضروری تھا۔اب وہ ہمارے گھر نہ تھے بلکہ ہمارے چھوٹے چچا کے ساتھ بہانہ سے شادی میں شرکت کے لئے حیدر آباد جا چکے تھے۔ بارات تو وہ نمٹا آئے لیکن گھر پر چچا ان کے رزلٹ پر دعوت ولیمہ کا کھانا کھولنے ہی والے تھے کہ عین وقت پر ہمارے والد صاحب پہنچ گئے اور دعوت ولیمہ منسوخ کردی گئی ۔ یہ حقیقت ہے کہ چچا کے آگے کسی کی نہیں چلتی تھی لیکن اپنے بڑے بھائی (میرے والد) کے آگے ان کی آواز بھی نہیں نکلتی تھی۔ کہاں سے لاوں ایسے لوگ؟

ایک مرتبہ گھر میں بہت کاٹھ کباڑ جمع تھا تو چچی نے کہا کہ گھر میں بہت کاٹھ کباڑ ہوگیا ہے ؟ تو بیوی کو مسکرا کر دیکھتے رہے۔ بات سمجھ میں آگئی تھی۔ اہلیہ سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے۔ حج پر جانے لگے تو ڈبڈبائی آنکھوں سے صرف ایک بات سب سے کہی کہ اس (اہلیہ) کا خیال رکھنا۔ کوئی تکلیف نہ ہو ۔ اہلیہ کو اپنے ہاتھوں سے پابندی کے ساتھ دوا کھلاتے۔اپنے سے زیادہ ان کا خیال رکھتے۔

ایثار و قربانی کا یہ عالم تھا ۔انتہائی مالی پریشانیوں کے دن تھے۔ ایک مشترکہ مکان تینوں بھائیوں کا تھا۔ والد صاحب اور چچا دونوں چھوٹے بھائی کے حق میں دست بردار ہوچکے تھے۔ مکان بکا تو چھوٹے چچا نے  بھائی کی مالی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا حصہ لے لیں تو بولے جہاں مجھ پر اتنے تنکوں کا بوجھ ہے اس سے کیا فرق پڑے گا۔ تم اپنا مکان خریدو۔

سب سے مزے کا واقعہ جسے شاید میں بغیر آواز پوری طرح بیان نہ کر پاوں وہ بہت مزے کا ہے۔ چچا کے بڑے صاحبزادے (اب منوں مٹی تلے سو رہے ہیں) کا صبح آفس جانا ایک مرحلہ ہوا کرتا۔ پہلی آواز بہت پیار سے دیتے "نجمی بیٹا اٹھ جائیں"۔ دوسری آواز 5 منٹ بعد آتی ۔اب آواز میں ہلکی سی سختی ہوتی " میاں اٹھ جاو" نجمی صاحب کی طرف سے کوئی جواب نہ آتا۔ اب جو آواز آخری اور حتمی ہوتی"او بھائی اٹھ جا۔ صاف بتادو آفس جانا ہے کہ نہیں" اس عزت افزائی کے بعد اٹھنا لازم تھا۔

میرا خیال ہے اب میرا قلم اٹھا لینا بھی ضروری ہوگیا ورنہ آپ لوگ بور ہوجائیں گے۔  ممکن آپ لوگ یہ خیال کریں کہ میں یہ آرٹیکلز شاید کسی تعریف و توصیف کے لیے کرتا ہوں ۔ میں دراصل ان بڑے لوگوں کو آپ کے سامنے لانا چاھتا ہوں جو مشہور نہیں ہیں لیکن سب کے لئے قابل مثال و تقلید ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی اپنے سادہ اور مشکل اصولوں کے تحت گذاری ہے۔

آئے ، ٹھہرے اور  روانہ ہو  گئے
زندگی کیا ہے؟ سفر کی بات ہے

حیدر علی جعفری

Monday, 1 April 2019

Tum nay bhi yaad aana hae ... 2 shairon ka pur mazaha hashar nashar



Article # 10

یوں  ہی بیٹھے  بیٹھے  یاد  آیا

دو اشعار کا  پرمزاح  حشر  نشر


تحریر : اظہر عزمی

(ایک اشتہاری کی باتیں)


کبھی کبھی زندگی میں کوئی گذرا پل ، کوئی گذرا واقعہ بڑا مزہ دیتا ہے لیکن مجھے دو آشعار جو اپنے ہم عمر مرحوم چچا زاد بھائی اطہر حسین نجمی سے سننے کو ملے ہمیشہ یاد رہیں گے۔

ادب سے اسے کوئی لگاو نہ تھا۔ایک روز میں شکیل بدایونی کی غزل پڑھ رہا تھا جس کا یہ شعر بہت مشہور ہے :

جو نقاب رخ اٹھا دی تو یہ قید بھی لگا دی
اٹھے ہر نگاہ  لیکن کوئی  بام  تک نہ پہنچے

اردو سے اس کا لینا دینا اخبار کی خبروں کی حد تک تھا۔اب جو اس نے شعر کا تیا پانچا کیا ہے ، وہ سن لیں۔

جو نقاب رخ اٹھا دی  تو یہ  قید بھی لگا دی
اٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی "باپ " تک نہ پہنچے

میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ۔میں نے کہا بھائی بام لکھا ہے۔ بولا بام (وہ ابگریزی والا سمجھ رہا تھا۔ اردو کا بام علم میں ہی نہیں تھا ) تو باپ کو دیکھنے کے بعد ہی آئے گا جب لگے گئی ٹھکائی ۔لگتا ہے شاعر وائی وا میں تو تیز ہے لیکن پریکٹیکل  میں پکا پکا   فیل ہے۔

اسی طرح ایک دن پھر ایک شعر پڑھنے کو دیا۔

نہ اتنی تیز چلے سر پھری  صبا سے کہو
گلی میں  ایک ہی  پتہ دکھائی دیتا  ہے

ان کی استدلالی سوچ نے کیا گل کھلایا وہ بھی سن لیں۔

نہ اتنی  تیز چلے سرپھری  صبا سے کہو
گلی میں ایک ہی "لڑکا" دکھائی دیتا ہے

میں نے کہا لڑکا کہاں سے آگیا ؟ بولے جب گلئ کی باولی لڑکی "صبا" اکیلی نکلے گی تو پتہ اس کا کیا کر لے گا ۔ ایک لڑکے کو دیکھ کر ہی گلی سے تیز تیز جائے گی ۔

(وہ اپنے حصہ کا مزاح دے کر چلا گیا ہے ۔ کیا کروں خوش ہونے بیٹھتا ہوں اور غم آ نکلتے ہیں۔ میں جانتا ہوں وہ کبھی نہیں آئے گا ۔ بس ایسے ہی بیٹھے بیٹھے یاد آنے لگے گا۔

(تم نے بھی یاد آنا ہے ، آنا تو ہے نہیں )

Saturday, 30 March 2019

Ep-2, Advertising mein aana kaisay hoa? (An autobiography of a Creative)





ایڈورٹائزنگ میں آنا کیسے ہوا ؟

قسط دوئم

Article # 9

اشتہارات ہیں زمانہ کے 


محلہ کی عورتین اور ہم پر رحم بھری نظریں

پہلی بار کسی لڑکی نے پیار سے لیا ہمارا پورا نام



تحریر : اظہر عزمی


(ایک اشتہاری کی باتیں)

 گذشتہ سے پیوستہ ۔۔۔

بخاری صاحب کی اس غیر متوقع تعریف سے ہم ساتویں آسمان پر پہبچ چکے تھے ۔ مرزا صاحب نے بخاری صاحب سے کہا " نظر چاہیئے تخلیق کار ڈھونڈ نے کے لئے " ۔ اپنے لئے تخلیق کار کا لفظ سنا تو حیرت ہوئی کہ کیا یہ ہم ہیں؟ اپنی حرکتوں کے باعث یم تو تکلیف کار مشہور تھے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ کہ ہمیں کرنا کیا ہوگا ؟بخاری صاحب نے جاتے جاتے ہمیں دو تین اخباری اشتہار (پریس ایڈ) تھمائے اور کہا کہ ان اشتہاروں میں جو متن (کاپی) ہے اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا کیپشن ،باڈی کاپی اور پنچ لائن لکھکر لاو۔ انگریزی کی یہ اصطلاحات پہلی بار کانوں میں پڑی تھیں۔ مرزا صاحب اور میں ساتھ کمرے سے نکلے ۔

 میں نے جانے کے لئے ان سے ہاتھ ملایا۔دو قدم چلا ہوں گا کہ مرزا صاحب کی بھاری بھرکم آواز آئی "رکو"۔ ہم رک گئے۔مرزاصاحب اپنے ہاتھوں ہماری دریافت سے بہت خوش تھے۔ واپس پلٹے تو بولے "چلو تمھیں کیف بنارسی سے بھی ملوا دیتا ہوں۔ مجھے لے کر کیف بنارسی کے پاس پہنچے ۔ کیف بنارسی مشہور شاعر تھے اور غالبا کریٹیو ڈیپارٹمنٹ کے انچارج تھے۔

خیر مرزا صاحب نے بخاری صاحب والا پورا قصہ سنا دیا۔ کیف بنارسی صاحب بڑی شفقت سے ملے اور بولے کہ ہمیں ٹرینی کاپی رائٹرز کی ضرورت ہے۔ ایک دو ہفتے میں اخبار میں ویکینسی کا ایڈ آجائے گا۔ اب ہمیں پتہ چلا کہ جو کام ہمیں کرنے کے لئے دیا گیا ہے ۔اس کے کرنے والے کو کاپی رائٹر کہا جاتا ہے۔ شاہراہ فیصل سے U4 پکڑی اور ٹکر ٹکر چلتی ویگن میں گھر کے لئے سوار ہوگئے۔ راستہ بھر بخاری صاحب کے دیئے ایڈ دیکھتے رہے۔ ویگن تو خیر کیا چلنی تھی لیکن اب ہمارا دماغ قینچی کی طرح چل رہا تھا ( جو افراد اس شعبہ سے منسلک ہیں وہ جانتے ہیں کہ سوچتے وقت ایک ایڈیٹنگ مشین قینچی کی طرح ذہن میں چلتی رہتی ہے)

گھر پہنچے تو والدہ نے پوچھا "لگ گئی ملازمت؟" ہم  تخلیق کار کہنے پر جاب ملنے سے زیادہ خوش تھے۔اپنی ہوا میں تھے۔بولے "امی ، جاب تو ہاتھ میں رکھی ہے ۔" ہماری والدہ بھی ہماری والدہ ہیں بولیں "اچھا ذرا ابنا ہاتھ تو دکھا" ۔ پھر بولیں" زیادہ پڑھی لکھی تو نہیں مگر اتنا جانتی ہوں۔جب تک لڑکی کا نکاح نہ ہو جائے اور لڑکے کو ملازمت کا رقعہ نہ مل جائے سمجھو دونوں گھر ہی میں ہیں "۔ ہم چڑ گئے اور بولے "آپ کو نہیں پتہ ، بس ایک ہفتہ کی بات ہے"۔ ماں نے یقین دیکھا تو بے روزگار کی ماں نے جھولی پھیلائی اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا "آمین"۔ادھر امی نے آمین کہا اور ہم چڑھ دوڑے اپنی دو چھتی پر اور بیٹھ گئے اشتہار لکھنے ۔  بمشکل ایک گھنٹہ لگا ہوگا اور ہم نے کام تمام کردیا ۔لگا یہ تو سب سے پرلطف اور آسان ترین کام ہے۔ دل چاھا کہ پر لگیں اور بخاری صاحب کے پاس ابھی پہنچ جائیں مگر انہوں نے تو دوچار روز میں آنے کا کہا تھا۔

شام کو والد صاحب کو روداد سنائی ۔بہت خوش ہوئے۔مغرب سے پہلے صفدر مرزا کے پاس پہنچ گئے اور اپنی تعریفوں کا ایفل ٹاور کھڑا کردیا۔آج سوچتا ہوں تو ہنسی آتی ہے لیکن میں آپ کو بتاوں ایسئ موقعوں پر ایسا ہی کرنا چاہیئے۔کام کچا ہو تو ہو بندہ دھن کا پکا ہونا چاہیئے۔

اب دن کاٹے نہیں کٹ رہے تھے بلکہ اب تو کاٹنے کو دوڑ رہے تھے ۔لیجئے ہفتہ گذر گیا۔ہمت جواب دے گئئ۔ جنگ اور ڈان چھانتے رہ گئے مگر اشتہار کا دور دور تک پتہ نہیں ۔پھر پہنچ گئے صفدر مرزا کے پاس اور غصہ سے بولے "بھائی وہ اشتہار تو نہیں آیا"۔صفدر مرزا بھی تفریح کے موڈ میں تھے بولے " چلو اخبار کے دفتر چلتے ہیں۔ شاید چھپنے سے رہ گیا ہو" صفدر کا یہ روزگارانہ مذاق ایک آنکھ نہ بھایا ۔ موڈ آف دیکھکر بولا " ایسی جلدی کیا اگلے ہفتے آجائے گا "۔میں نے کہا خالو سے پوچھو تو بولا ابو کیا اہم ڈی لگے ہیں۔ کل آفس جائیں گے تو پتہ چلے گا۔

میں نے آپ سے کہا تھا کہ ابھی دلدر دور نہ ہوئے تھے۔ ٹھوکریں باقی تھیں۔ خالو سے تو روز ایک بات پوچھئ نہ جاسکتی تھی۔ صفدر مرزا کی روز شام میں جان کھاتے کہ خالو سے پوچھو۔ وہ یہی کہتا کہ ابو کہہ رہے ہیں کہ ایڈ غالبا کسی وجہ سے رک گیا ہے اور ویسے بھی عزمی کے نہ ہونے سے ایجنسی کے کام رک گئے ہیں ، صبر کریں جب بھئ ایڈ آیا انہی ہی کو رکھیں گے ۔ بات تو قابل اطمینان تھی  مگر ہم اپنے بے صبرے پن کا کیا کریں ۔ بہرحال ہم کو نشہ لگ چکا تھا ۔ اخبار/میگزین کا کوئی اشتہار ہو ہم دوبارہ اپنا کیپشن اور کاپی لکھنے بیٹھ جایا کرتے ۔ والد بھی کبھی کبھئ پوچھ لیتے " ہاں میاں مرزا صاحب کیا کہہ رہے ہیں " ۔ہم بتا دیتے ۔دوسرا ہفتہ آیا ، تیسرا آیا مگر ہماری ملازمت کا سندیسہ اب اندیشوں میں گھرتا چلا جا رہا تھا۔ دو چھتی والی کمرے میں اللہ تعالی سے گفتگو کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہتھا  ھر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ ایک دن خالو نے ہم سے براہ راست گفتگو کی اور بتایا کہ وہاں اندورنی سیاست چل رہی ہے۔ آنا کانی سے کام لیا جا رہا ہے۔ تمھاری ملازمت مشکل ہے اور یہ کہ ٹرینی کاپی رائٹر کا ایڈ بھی نہیں آئے گا۔ مرزا صاحب گفتگو بہت محتاط کیا کرتے تھے۔ 

خالو نے کہا کہ تم پریکٹس جاری رکھو۔ انہوں نے مجھے ایک اور تجربہ کار کاپی رائٹر درپن صاحب کے پاس بیھیج دیا۔ بولے میں انہیں فون کردوں گا۔تم ان سے ان کی جائے ملازمت پر ملتے رہو۔ درپن صاحب کا پورا نام سعید رضا درپن تھا۔ نہایت سادہ طبعیت  اور خاموش طبع شخص تھے۔ میرا خیال ہے بوجوہ عمر ان میں  ایک گوناں گوں اطمینان تھا ۔ ان کے پاس ہفتہ کے ہفتہ جایا کرتا تھا۔ درپن صاحب آدھا دن ایک ایجنسی میں اور آدھا دن دوسری ایجنسی میں ہوتے۔ مایوسی کے گہرے سائے پھر دل و دماغ پر چھائے جا رہے تھے۔ گھر میں جو تھوڑی سی عزت ملنا شروع ہوئی تھی۔ اس میں 
نظر یاتی کمی کے آثار  ظاہر ہونے شروع ہوگئے تھے ۔ والدہ نے روز پیسہ دیتے ہوئے ہاتھ کھینچنا شروع کردیا تھا مگر ہم بھی اس ہنر میں یکتا تھے۔ روز کا سودا سلف لانا تو ہماری ذمہ داری تھی اور اس میں روزانہ بارہ آنے (75 پیسہ) یا روپیہ مارنا ہمارا لئے فرض لازم تھا۔ بات یہ تھی کہ النور اسپتال کے گیٹ سے ذرا ہٹ کر ایک چھولے والا کھڑا ہوتا تھا جو بارہ آنے کی چھولے کی پلیٹ اور اگر پاپڑی ڈلوائیں تو چار آنے اس کے۔ گویا ایک روپے کی عیاش!ی کے لئے گھر کے پیسوں سے ایک روپے کا کھانچہ تو جائز تھا۔بے روزگاری میں یہ گھریلو چوریاں سب کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے وہ گھر کو گھر نہیں سمجھتے

اس کے بعد پیسے لینے میں ذرا مشکل ہوتی تو پریشانی کی کیا بات ہے۔ صفدر مرزا ہیں ناں ۔صفدر مرزا اودھ کے اجداد لکھنو (اودھ) سے تعلو رکھتے تھے جس کے ایک والی آصف الدولہ کے لئے مشہور تھا "جس کو نہ دے مولا ، اس کو دے آصف الدولہ " تو صاحبو ہمارے آصف الدولہ صفدر مرزا  یعنی کہ صفدر الدولہ تھے۔ روز روتے گاتے ڈانتے برا بھلا کہتے مگر کچھ نہ کھلا پلا دیتے۔ پیٹ بھرا رہتا مگر ذہن اندیشوں میں گھرا رہتا کہ اللہ جانے ملازمت کب ملے گی۔ یہ بات عقل میں آگئی تھی اگر اس شعبہ میں آئے تو چل جاوگے ۔اگر کہیں اور فٹ ہوئے تو زندگی بھر مس فٹ رہوں گے اور ہر ملازمت سے چل چلاو چلتا رہے گا ۔ ابھی ملازمت پر "چڑھے" بھی نہیں تھے مگر یہ خیال دماع پر چڑھ دوڑا تھا:
ا
کیا کروں گا جو ایڈورٹائزنگ میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

اب بھائی دعائے مزمل برائے فراخی رزق چاچی کے کہنے ہر شروع ہوئی اور محلہ کی عورتیں وقت مقررہ ہر آ پہنچتیں مطلب ہماری بے روزگاری اب زبان زد عام تھی ۔ کہیں سے گذرتے تو عورتیں رحم بھری نظروں سے دیکھتیں ۔کچھ تو راہ چلتے گیٹ پر بلا لیتیں اوز اضافی وظیفہ بتانے لگ جاتیں۔ ہم سب سنتے اور آسمان کی طرف دیکھ کر رہ جاتے ۔ دو ایک تو ایسی تھے جن کے اپنے لڑکے ہم سے عمر میں بڑے تھے اور جوتیاں چٹخاتے پھر رہے تھے ۔ وہ وہ آزمودہ اور روزگار آمد چلے بتاتیں جیسے ان کے لڑکے کہیں کے ایم ڈی لگے ہوئے ہیں۔

کچھ خواتین نے تو حد ہی کردی بولی "اللہ جانے کب نوکری لگے ،کب شادی اور بچے ہوں گے؟" ذرا سوچیں ایک نوکری کی بات کس طرح گلی گلی گئی۔یہاں بے روزگاری سے چہرہ مرجھایا جا رہا تھا اور ادھر نہ صرف سہرے کے بھول بلکہ بچوں کے برتھ ڈے ہار ڈسکس ہونا شروع ہوگئے تھے۔

 بعد میں جب ہم برسرروزگار ہو گئے اور شادی کے بندھن میں باندھ دیئے گئے تو پتہ چلا کہ ہاں محلہ کی ایک خاتون یہی منصوبہ بندی کئے بیٹھی تھیں۔ ہمارے ساتھ پوری زندگی ایک قباحت رہی ۔کسی لڑکی نہ ہمیں آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا البتہ ہمارا چہرہ مہرے اور خاندانی حماقت نے ہمیں "آئیڈیل داماد" کے طور پر ہمیشہ پروموٹ کیا ۔وہ تو شادی کے بعد کھلا کہ آئیڈیل شوہر تو ثابت ہوئے مگر عورتیں جتنا احمق سمجھ رہی تھیں ایسا بالکل بھی نہیں تھا میں سمجھتا ہوں کہ گائے کےگوشت کا گلنا اور داماد کا قابو میں رہنا اپنے وقت پر ہی پتہ چلتا ہے۔ قصائی اور گھر والوں کی تعریف میں کچھ نہیں رکھا

فدرت کو ایک دن رحم آہی گیا، ابر رحمت جوش میں آہی گیا۔ ہنارے چچا بھی ہمارئ گلی میں رہتے ہیں۔ایک دن ہم گھر میں تھے کہ ہماری چھوٹی چچازاد بہن دوڑی دوڑی آئی اور بولی "ببا بھائی آپ کا فون آیا ہے"۔ (یہ وہ زمانہ تھا کہ جب  گھر میں فون لگوانا ناممکن تھا)۔ اندھا کیا چاھے دو آنکھیں ۔ہم نے بستر سے مثل ہرن چوکڑی بھری اور پہنچ گئے چچا کے ۔ ہم اس خوش فہمی میں تھے کہ کال مرزا صاحب کی ایجنسی سے ہوگی ۔کریڈل اٹھایا ۔ دوسری طرف سے ایک لڑکی کی آواز تھی "اظہر حسین عزمی بات کر رہے ہیں ؟" کسی لڑکی کے منہ سے پہلی بار اتنے پیار سے اپنا نام لیتے سنا تھا۔ ہم پہلے تو اپنا نام سنکر شرما سا گئے لیکن پھر حواس درست کرتے ہوئے کہا "جی"

اب اس سے آگئے تمہارا بھی ذکر آئے گا۔ا
  
باقی آئندہ

Friday, 29 March 2019

Paan hamari zindagi mein laya kon? An informative article


29 March 2019

Article # 8


خاندان تھے تو پاندان تھے
پان ہماری زندگیوں میں لایا کون؟
حصہ دوئم




تحریر :  اظہرعزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)


بغیر کسی قطع و برید کے پاندان پر لکھ دیا ۔ لوگوں نے پسند کیا تو سوچا اتنے عرصے سے پان کھارہا ہوں تو کیوں نہ حق پان ادا کردوں۔پان کی تاریخ پیکوں سے بھری پڑی ہے۔پہلے پان دان کے ساتھ پیک دان لازم تھا ۔یہ اس زمانے کی باتیں ہیں جب پان کھانے والے Peak پر ہوا کرتے تھے۔ راجہ۔ مہاراجہ۔ نوابین۔ روساء کے ایک اشارے پر ملازم پیک دان لئے بھاگتے مبادا کہیں وہ کسی کے منہ یا اپنے لباس پر ہی نہ تھوک دیں۔
ہندوستان میں پان کی ابتدا کیسے ہوئئ تو صاحبو ۔ ہندو تاریخ بتاتی ہے کہ پان تو کرشنا جی بھی کھایا کرتے تھے لیکن پان کے اجزائے ترکیبی کیا تھے ؟ اس کا سراغ نہ مل سکا۔ کیا صرف پان کا پتہ چبایا کرتے تھے؟ تاریخ خاموش ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر جو پان ہم کھا رہے ہیں اس کی وجہ پیدائش اور کبھی نہ ختم ہونے والی لالی عمریا کی تاریخ کتنی پرانی ہے؟
مغل بادشاہوں کی سرشت میں عورت اور حکومت سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک مغل بادشاہ تھے جہانگیر ۔ان کی ایک اہلیہ تھیں نورجہاں ۔ ان کے پہلے شوہر شیر افگن کو جہانگیر نے ادھر ادھر کیا اور بن بیٹھے نور جہاں کے کل جہاں۔ ہر بات پر مشورہ ۔ہر بات پر رائے۔ سمجھ لیں بادشاہ سلامت نورجہاں کے کولھے سے لگے بیٹھے رہتے۔امور حکومت میں سارے فیصلے نورجہاں کے ہاتھوں انجام پاتے۔ نورجہاں کے فیصلوں میں عقل ودانش جھلکتی اور باتوں سے پھول جھڑتے مگر ہائے قدرت کی ستم ظریفی۔ ذہین۔حسین مگر منہ سے بدبو آیا کرتی تھی۔ جہانگیر کی سمجھ میں کچھ نہ آتا ۔گھنٹوں گزارنے ہیں نور جہاں کے ساتھ ۔اب بغیر ک منہ کی عورت بھی بھلا کس کامکی۔ جتنی بھی ذھین ہو بات تو منہ سے کرے گی اور منہ سے آتی ہے بدبو۔
ایک دن بادشاہ کا سونگھنے والا پارہ جواب دے گیا۔ کہا بلائو سارے حکیموں کو تاکہ تدبیر کریں اس بد بو کی۔ بادشاہ کا حکم سر آنکھوں پر ( سر آنکھوں پر نہ ہو تو سر ہاتھوں میں نہ آجائے)۔ باشادہ نے مسئلہ بتایا اور کہا کہ حل مجھے ہر حال میں درکار ہے۔ تم نے بہت کشتے۔ خمیرے۔ دوائیں ۔آلائیں ۔بلائیں بنا لیں ۔ اب دافع بدبو بناو ورنہ دفع ہو جاو۔ حکیموں کی لگ گئیں دوڑیں ۔جنگل جنگل اور نہ جانے کہاں کہاں مارے مارے پھرے ایک حکیم نسخہ لے ہی آیا۔حکیم جو نسخہ لایا اس میں مرکزی حیثیت پان کے پتے کی تھی یعنی سب کچھ اس کے اوپر ہی رکھ دیا جاتا۔ پہلے پتے پر چونے کی تہہ لگائی جاتی پھر کتھے کی اس کے بعد کتری ہوئی چھالیہ کے چند دانے اور بھر ہوتی لونگ۔ چھوٹی الائچی۔ سونف۔ ناریل وغیرہ ۔ یہ تمام اجزائے ترکیبی بد بو دور کرنے کے ساتھ ساتھ مقوی دماغ و ہاضمہ تھے۔نسخہ کامیاب رہا اور نورجہاں سر سے منہ کو ہوتی ہوئی پوری کی پوری جہانگیر کے من میں سما گئی ۔اب اس کے مشورے اور بھی سر چڑھ کر بولنے لگے۔
اب نقلم نقلئ یہ پان اودھ اور حیدرآباد دکن جا پہنچا اور تہذیب کا حصہ بن گیا۔ نوابین اودھ اور حیدرآباد دکن نے تو اس میں چاندی کے ورق لگا کر ساتویں آسمان پر بٹھا دیا۔ خوشی کا کوئی موقع اس کے بغیر نامکمل تھا۔ رشتہ سے لیکر شادی تک دلہن دولہا کے بعد کوئی اہم ہوا ۔ حیدرآباد دکن نے تو اس سے رشتوں کی پہچان کرانی شروع کردی۔ شادی کے دوسرے روز دلہن کے سامنے پاندان رکھ دیا جاتا ۔ دلہن باری باری سب کو گھونگھٹ کاڑھ کر پان دیتی تو سسرال کے لوگوں کا تعارف اور رشتہ بتایا جاتا۔ دلہن سے جو رشتے میں چھوٹا ہوتا وہ خود دلہن کو آداب کرتا ۔نام بتاتا اور پان لے کر الٹے پیروں واپس ہوجاتا ۔رشتے اور عمر میں بڑے لوگوں کے پاس دولہا کہ بہنیں دلہن کو لے جاتیں۔ دلہن پان پیش کرتی اور تعارف حاصل کرتی۔
پان پیش کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے تھے۔ خوب صورت چمکتی نقش ونگار والی طشتری میں پان پیش کئے جاتے جس سے مہمان کے لئے عزت و احترام کا اظہار ہوتا ہے۔ مردانے میں پان بھجوانے ہوں تو کسی بچے کو سر کے بالوں سے لےکر پیر کی جوتی تک دیکھا جاتا۔ بتا دیا جاتا کہ طشتری سیدھے ہاتھ میں رکھنا۔ زیادہ تبڑ تبڑ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب تک باوا یا دادا نہ کہیں چپکے کھڑے رہنا۔
پان کھانے کے بھی آداب ہوا کرتے تھے ۔ چھوٹے کا بڑوں کے سامنے پان کھانا بد تہذیبی مانا جاتا۔ سیدھے ہاتھ سے پان کھائیں اور الٹا ہاتھ منہ پر رکھیں۔ کھلا منہ نظر آجانا اخلاقیات کے خلاف تھا۔جن کو یہ آداب نہیں آتے لوگ تاڑ جاتے کہ آدمی خاندانی نہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے کبھی کبھی گھر کے مرد ٹچے کا لفظ بطور طنز استعمال کر لیا کرتے۔ بغیر اجازت پاندان کو ہاتھ لگانا کسی طور جائز نہ
   تھا۔
گذرے وقتوں میں پان کا پیشہ تنبولن کیا کرتی تھی۔ پھر پان نے بازار کا رخ کیا۔ جا بہ جا دکانیں کھل گئیں۔ اب کہاں کے پان اور کہاں کی تنبولن ۔ تنبولن کا لفظ اب لغت میں ہی رہ گیا ہے۔
طوائفوں نے پان کو شہرت دوام بخشی اور کوٹھے پر آنے والوں کے لئے عزت و احترام کا پیمانہ بنا دیا۔ جس کو جتنی عزت دینا مقصود ہوتی پان اتنی ہی انداز دلربائی سے نذر کیا جاتا۔

Thursday, 28 March 2019

Kia Baap Zindagi Mein Phela Villian ... In Roman Urdu



Article # 7 ... Roman Urdu

KIa yeh sach hai ?


Baap zindagi mein phela Villian hota hai.




Written by: Azhar Azmi

(Aik ishtihari ki batain)




Ho sakta hai bohat se afraad ko meri yeh baat achi nah lagey lekin agar woh kuch lamhay maazi mein palat kar dekhen to shayad woh kisi hadd taq mere hum khayaal ho jayen.Ab woh takleef da baat bhi sun lijiye" zindagi mein phela Villian koi aur nahi aap ka apna baap hota hai ".Wazahat kardoon is se morad filmon wala vln nahi hai .

Jab aulaad larakpan ya baloghat ki Umar mein azaadi ki be simt,be iradah,lahasil aur waqt guzari ke liye aawara parwaaz urna chahti hai to jo shakhs aap ke run way par "naan" ka ishara liye khara hota hai woh puranay khayalat ka haamil, nai duniya se bay khabar, zalim aur jabir baap hota hai.Woh anay janey ka puchta hai.Duniya ki aounch neech samajhata hai.Parhnay ka kehta hai,zindagi mein waqt aur auqaat mein rehne ki ahmiyat samajhata hai.Gharz har woh baat karta hai jo aap ke khayaal mein outdated hoti hai.Aap ko doston ka har woh baap broadminded aur update lagta hai jo apne bachon ko chhoot day kar rakhta hai aur aap apne baap ko achhot samajhney lagtay hain .


Dost aap ke baap ke liye kehte hain" yaar tumhara baba kis zamane ki paidaiesh hai? gaon se aaya hai? maghrib ki namaz brhhkr so jata hai.Usay samgha ab zindagi maghrib ke baad shuru hoti hai. raat baara bujey to larke ghar se bahar nikaltay hain." jab aap raat gay ghar janey ka kehte hain to dost haath pakar kar bithatay hain" yaar topi kara daina.Waisay bhi woh ab so gaya hoga ".(aap un jumlon mein ikhlaqi aitbaar se ro o badal kar satke hain)




Ab onhaein yeh kon betaye ke bachon ke walidain sotay nahi hain.Bistar par hon bhi to karvatein badal rahay hotay hain. khud ko samgha rahay hotay hain. naye zamane se lartay lartay hum qadam ho rahay hotay hain. Watch inhen zeher lag rahi hoti kyunkay woh inhein waqt bta rahi hoti hai jo aulaad ki kalayi aur un ke dil o dimagh se bandhi hoti hai.Har tik tik par dil dhuk dhuk aur darwazay par dastak ka gumaan hota hai.Mobile par kitni martaba number mlitay mlitay reh jata hai. ghar aakar gussa nah ho. Apne gussa ko woh khud bhi qanotiat ka naam dainay lagta hai. apni aulaad ke liye apne aap se larta hai. is ko sahih saabit karne lagta hai magar phir andar ka dara sehma baap bahar aa nikalta hai. Ghussa mein ajata hai. kehta hai" aaj aajay saaf saaf keh dun ga. yahan yeh sab nahi chalay ga. sudhar jao warna apna thikana kahin aur karlo" aur jab woh ghar aata hai to khamoshi se gate khol deta hai.Chahta ke woh is ki khamoshi se mere saaray ghussa ko samajh le.Baita yeh nahi jaanta ke subah baap ko ghar chalanay ke liye dhalti umar main daftar jana hai. woh is shair ki amli Tafseer hai. bakol mairaaj Faiz abadi



Mujh ko thaknay nahi deta yeh zaroorat ka pahar


Mere bachay mujhe boorha nahi honay dete



Aulaad samjhti hai ke baap ko jhansa day den gay. maa se sifarish kara len gay.Samnay se khamoshi se nazar bacha kar guzar jayen. woh ahmaq hain woh nahi jantay ke ahmaq se ahmaq baap bhi aulaad ke muamlay mein ahmaq nahi hota. bas woh




nojawani ke mun zor ghoray ko jagah deta hai. aulaad ka aqli TV agar 32 inch ka hai to baap ka 72 inch ka hota. woh chehra dekh kar tumhara sach jhoot bta day .


Aulaad ko shayad yeh pata hi nahi hota ke jis Umar se woh guzar raha hai baap woh Umar guzar kar aaya hai. duniya badli hai. rishte to nahi badlay insani sarshat to nahi badli. yeh duniya mukafaat amal hai. aaj jo boya ja raha hai, kal wohi kaata jaye ga. phir yeh nah kehna ke zamana kitna badal gaya. zamana hum hi bdalty hain aur rotay hain. bilkul aisay hi jaisay kisi faqeer tabiyat shakhs ne kaha tha ke dozakh mein koi aag nahi hogi sab apne apne hissa ki le kar ayen ge .



Mein aap ko apni zindagi ka aik waqea sunataa hon. jab mein naya naya advertising mein naya to raat 12 ya 1 bajna roz ka mamool tha. mere waalid sahib mere ghar nah anay par raat gay taq gali mein teheltay rehtay hain. jab mein aata to sath andar atay. gali mein baithy larke is baat par mera mazaq uratay. mein walida se halki awwaz mein roz hi yeh kehta" jab abbu ko pata hai ke mein der se aata hon to bahar gali mein kyun teheltay hain ". waalid suna liya karte aur khamosh hi rehtay. aik din bolay : jab aap sahib aulaad hon ge to pouchon ga" .




Meri shadi hui. 2 bachay hue.School janey lagey. woh van se school aaya jaya karte. aik din mein office nahi gaya. biwi se poocha" bachay kab school se atay hain ?. Biwi ne kaha ke siwa do bujey. meri nazar gharri par thi. siwa do baj gay aur phir aik aik minute bhaari hota gaya. meri pareshani barhti chali jarahi thi. biwi ni kaha bhi ke atay hon ge magar mujh se sabr nah hoa meri rahaish third flour par thi. dhai bujey neechay utar aaya. van aayi to van walay ko bhi khoob sunaya .




Bay charah kehta reh gaya ke traffic jaam tha magar usay kya pata tha ke mera dimagh kitna jaam ho raha tha. zehan mein kya kuch tha jo nahi araha tha. jab mein bachon ko oopar le kar charh raha tha to socha kya yeh pagal pan tha to dil ne kaha nahi yeh baap pan tha jo mere waalid ko tha jo har baap ko hota hai magar aulaad usay samajh nahi paati. waqai waalid ne sahih kaha tha" jab sahib aulaad ho ge to pouchon ga ". abbu mein aap se moazrat khuwa hon. ab mein nahi jaanta ke mere baad anay wali nasal yeh moazrat kehna ya shayad sochna bhi zurori samjhay gi ke nahin.

Kia Baap Zindagi Mein Phela ولن Hota Hae?


28 March 2018
Article # 7

کیا یہ سچ ہے 

باپ زندگی میں ہہلا " ولن " ہوتا ہے ۔


تحریر :اظہر عزمی
(ایک اشتہاری کی باتیں)



ہوسکتا ہے بہت سے افراد کو میری یہ بات اچھی نہ لگے لیکن اگر وہ کچھ لمحے ماضی میں پلٹ کر دیکھیں تو  شاید وہ کسی حد تک میرے ہم خیال ہو جائیں ۔ اب وہ تکلیف دہ بات بھی سن لیجئے "زندگی میں ہہلا ولن کوئی اور نہیں آپ کا اپنا باپ ہوتا ہے"۔وضاحت کردوں اس سے مراد فلموں والا ولن نہیں ہے۔

جب اولاد لڑکپن یا بلوغت کی عمر میں آزادی کی بے سمت، بے ارادہ ،لاحاصل اور وقت گذاری کے لئے آوارہ پرواز اڑنا چاھتی ہے تو جو شخص آپ کے رن وے پر "ناں" کا اشارہ لئے کھڑا ہوتا ہے وہ پرانے خیالات کا حامل ، نئی دنیا سے بے خبر ،ظالم اور جابر باپ ہوتا ہے۔وہ آنے جانے کا پوچھتا ہے۔ دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتا ہے۔ پڑھنے کا کہتا ہے ،زندگی میں وقت اور اوقات میں رہنے کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ غرض ہر وہ بات کرتا ہے جو آپ کے خیال میں Outdated ہوتی ہے۔ آپ کو دوستوں کا ہر وہ باپ Broadminded اور Update لگتا ہے جو اپنے بچوں کو چھوٹ دے کر رکھتا ہے اور آپ اپنے باپ کو اچھوت سمجھنے لگتے ہیں۔

دوست آپ کے باپ کے لئے کہتے ہیں "یار تھارا بابا کس زمانے کی پیدائش ہے ؟ گاوں سے آیا ہے ؟ مغرب کی نماز بڑھکر سوجاتا ہے۔ اسے سمجھا اب زندگی مغرب کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ رات بارہ بجے تو لڑکے گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ " جب آپ رات گئے گھر جانے کا کہتے ہیں تو دوست ہاتھ پکڑ کر بٹھاتے ہیں " یار ٹوپی کرادینا ۔ویسے بھی وہ اب سو گیا ہوگا"۔ (آپ ان جملوں میں اخلاقی اعتبار سے رو و بدل کر سکتے ہیں۔)

اب انہہں یہ کون بتائے کہ بچوں کے والدین سوتے نہیں ہیں۔ بستر پر ہوں بھی تو کروٹیں بدل رہے ہوتے ہیں۔ خود کو سمجھا رہے ہوتے ہیں۔ نئے زمانے سے لیٹے لیٹے ہم قدم ہو رہے ہوتے ہیں۔ گھڑی انہیں زہر لگ رہی ہوتی کیونکہ وہ انہہں وقت بتا رہی ہوتی ہے  جو اولاد کی کلائی اور ان کے دل و دماغ سے بندھی ہوتی ہے۔ ہر ٹک ٹک پر دل دھک دھک اور دروازے پر دستک کا گمان ہوتا ہے۔ موبائل پر کتنی مرتبہ نمبر ملتے ملتے رہ جاتا ہے۔ گھر آکر غصہ نہ ہو۔ اپنے غصہ کو وہ خود بھی قنوطیت کا نام دینے لگتا ہے۔ اپنی اولاد کے لیے اپنے آپ سے لڑتا ہے۔ اس کو صحیح ثابت کرنے لگتا ہے مگر پھر اندر کا ڈرا سہما باپ باہر آنکلتا ہے۔ غصہ میں آجاتا ہے۔کہتا ہے "آج آجائے صاف صاف کہہ دوں گا۔ یہاں یہ سب نہیں چلے گا۔ سدھر جاو ورنہ اپنا ٹھکانہ کہیں اور کرلو" اور جب وہ گھر آتا ہے تو خاموشی سے گیٹ کھول دیتا ہے۔ چاھتا کہ وہ اس کی خاموشی سے میرے سارے غصہ کو سمجھ لے۔ بیٹا یہ نہیں جانتا کہ صبح باپ کو گھر چلانے کے لئے ڈھلتی عمرمیں دفتر جانا ہے ۔ وہ اس شعر کی عملی تفسیر ہے۔ بقول معراج فیض آبادی

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا  پہاڑ 
میرے   بچے  مجھے  بوڑھا  نہیں  ہونے   دیتے

اولاد سمجھتی ہے کہ باپ کو جھانسا دے دیں گئے۔ ماں سے سفارش کرا لیں گئے۔ سامنے سے خاموشی سے نظر بچا کر گذر جائیں۔ وہ احمق ہیں وہ نہیں جانتے کہ احمق سے احمق باپ بھی اولاد کے معاملے میں احمق نہیں ہوتا ۔بس وہ 
نوجوانی کے منہ زور گھوڑے کو جگہ دیتا ہے ۔ اولاد کا عقلی ٹی وی اگر 32 انچ کا ہے تو باپ کا 72 انچ کا ہوتا۔ وہ چہرہ دیکھکر  تمہارا سچ جھوٹ بتا دے۔

اولاد کو شاید یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ جس عمر سے وہ گزر رہا ہے باپ وہ عمر گذار کر آیا ہے۔ دنیا بدلی ہے۔ رشتے تو نہیں بدلے انسانی سرشت تو نہیں بدلی۔یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ آج جو بویا جا رہا ہے ،کل وہی کاٹا جائے گا ۔ پھر یہ نہ کہنا کہ زمانہ کتنا بدل گیا۔زمانہ ہم ہی بدلتے ہیں اور روتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی فقیر طبعیت شخص نے کہا تھا کہ دوزخ میں کوئی آگ نہیں ہوگی سب اپنے اپنے حصہ کی لے کر آئیں گے۔

میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ جب میں نیا نیا ایڈورٹائزنگ میں نیا تو رات 12 یا 1 بجنا روز کا معمول تھا۔ میرے والد صاحب میرے گھر نہ آنے پر رات گئے تک گلی میں ٹہلتے رہتے ہیں۔ جب میں آتا تو ساتھ اندر آتے۔ گلی میں بیٹھے لڑکے اس بات پر میرا مذاق اڑاتے۔ میں والدہ سے ہلکی اواز میں روز ہی یہ کہتا "جب ابو کو پتہ ہے کہ میں دیر سے آتا ہوں تو باہر گلی میں کیوں ٹہلتے ہیں "۔ والد سنا لیا کرتے اور خاموش ہی رہتے ۔ایک دن بولے: جب آپ صاحب اولاد ہوں گے  تو پوچھوں گا"۔

میری شاری ہوئی۔ دو بچے ہوئے ۔ اسکول جانے لگے۔ وہ وین سے اسکول آیا جایا کرتے۔ایک دن میں آفس نہیں گیا۔ بیوی سے پوچھا " بچے کب آسکول سے آتے ہیں؟ ۔ بیوی نے کہا کہ سوا  دو بجے۔ میری نظر گھڑی پر تھی۔ سوا دو بج گئے اور پھر ایک ایک منٹ بھاری ہوتا گیا۔ میری پریشانی بڑھتی چلی جارہی تھی ۔ بیوی نی کہا بھی کہ آتے ہوں گے مگر مجھ سے صبر نہ ہوا  میری رہائش تھرڈ فلور پر تھی۔  ڈھائی بجے نیچے اتر آیا ۔ وین آئی تو وین والے کو بھی خوب سنایا ۔

 بے چارہ کہتا رہ گیا کہ ٹریفک جام تھا مگر اسے کیا پتہ تھا کہ میرا دماغ کتنا جام ہورہا تھا۔ ذہن میں کیا کچھ تھا جو نہیں آرہا تھا۔ جب میں بچوں کو اوپر لے کر چڑھ رہا تھا تو سوچا کیا یہ پاگل پن تھا تو دل نے کہا نہیں یہ باپ پن تھا جو میرے والد کو تھا جو ہر باپ کو ہوتا ہے مگر اولاد اسے سمجھ نہیں پاتی ۔ واقعی والد نے صحیح کہا تھا "جب صاحب اولاد ہو گے تو پوچھوں گا "۔ابو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ اب میں نہیں جانتا کہ میرے بعد آنے والی نسل یہ معذرت کہنا یا شاید سوچنا بھی ضروری سمجھے گی کہ نہیں

عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں . Article 91

Article # 91 رنج و مزاح  عمر بڑھ جائے تو ایک محترمہ سے بچ کر رہیں  تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک دوست بہت دلچسپ ہیں ۔ گفتگو میں آخر تک تجسس و ...